... loading ...
مغربی ذرائع ابلاغ اور حکومت کے ایما پر باقاعدہ ادائیگی کرکے تیار کرائی جانے والی سروے رپورٹوں سے قطع نظر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر رواں کھاتوں کے بڑھتے خسارے کا سامنا ہے جس کا فوری سدباب نہ کیا گیا تو مشکلات ایک مرتبہ پھر سر پر آن کھڑی ہوں گی۔ پاکستان میں معیشت کو جس سب سے بڑے بحران کا سامنا رہا ہے وہ ہے بیرونی ادائیگیوں اور آمدنی میں توازن قائم کرنا، جس کو معیشت کی زبان میں رواں کھاتوں کا خسارہ کہا جاتا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کو مرچنڈائز (پرچون فروشی) کی تجارت میں سال بہ سال 35 فیصد نقصان کا سامنا ہے، جب کہ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں یہ خسارہ 20 ارب 20 کروڑ ڈالرتک پہنچ گیا۔پاکستان کو یہ خسارہ مختلف اقسام کی اشیاکی خرید و فروخت اور درآمدات و برآمدات کی مد میں ہوا۔تجارتی خسارے کی ایک وجہ برآمدت میں کمی اور حکومت کی لبرل تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے بڑھتی درآمدات بھی ہیں۔اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ پاکستانی معیشت میں ہونے والی تبدیلی اور بہتری کے ساتھ ساتھ ملک میں قائم ہونے والے مثالی امن کو بھی سراہ رہے ہیں اور یہ ایک بڑی حد تک درست بھی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ، افراط زر اور شرحِ سود کی کم ترین شرح اور دیگر میکرو اکنامک اعشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔
ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 01-2000 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 1 ارب 52 کروڑ 7 لاکھ ڈالر تھا، جو 2015-2014 میں بڑھ کر22 ارب 15 کروڑ 9 لاکھ ڈالر ہوگیا، جب کہ 2014-2015 میں 45 ارب 8 کروڑ 26 لاکھ ڈالر کی درآمدات کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس فروری تک پاکستان کا تجارتی خسارہ 2 ارب 80 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا، 15-2014 میں یہ خسارہ 22 ارب 15 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا جبکہ 15-2014 میں پاکستان کا امپورٹ بل 45 ارب 85 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا جبکہ فروری تک اس میں خسارہ 2ارب 80 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا جبکہ ایک سال کے دوران 87.88 فیصد اضافہ ہوا۔ایک انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور خصوصاًسڑکوں کی بحالی کے حوالے سے سرمایہ کاری میں اضافے کی وجہ سے مشینری اور آلات کی درآمدات بڑھیں، جب کہ گزشتہ 8 ماہ کے دوران برآمدات میں 13 ارب 3 کروڑ 18 لاکھ روپے کی کمی ہوئی۔فروری میں بیشتر چیزوں کی برآمدات میں 8 اعشاریہ 29 فیصد کی کمی دیکھی گئی، تاہم کپڑے اور دیگر ٹیکسٹائل چیزوں کی برآمدات میں اضافہ ہوا، جب کہ جنرلائیزڈ اسکیم آف پرفرنسز(جی ایس پی) کے تحت گارمنٹس اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی یورپ میں برآمدات شروع کی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ برس ہی پاکستان نے 3 سالہ اسٹریٹجک ٹریڈ پالیسی کا آغاز کیا تھا، جس کے ذریعے حکومت نے 2018 تک برآمدات کا سالانہ ہدف 35 ارب ڈالر مقرر کیا تھا۔اسٹریٹجک ٹریڈ پالیسی 2018-2015 کے تحت وزارت
تجارت نے مصنوعات کے ڈزائن کو بہتر کرنے، جدت کی حوصلہ افزائی، برانڈنگ اور سرٹیفکیشن کی سہولت، نئی مشینری لگانے اور پلانٹس کو اپ گریڈ کرنے کی حوصلہ افزائی سمیت زراعت سے منسلک مشینری اور پلانٹس کو اپ گریڈ کرنے کے لیے نقد انعامات اور مقامی ٹیکس پر چھوٹ دینے جیسے اعلانات بھی کیے۔
رواں مالی سال میں ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 120 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا اور فروری سے جولائی تک مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔اسٹیٹ بینک (ایس بی پی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ سے زر مبادلہ کی شرح پر دباؤ پڑتا ہے اور ملک کے بیرونی شعبے متاثر ہوتے ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے غیرملکی فنڈز استعمال کر رہا ہے۔مالی سال 2017-2016 کے پہلے 8 ماہ میں تجارتی خسارہ 15 ارب 40 کروڑ ڈالر ہوگیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 26.8 فیصد زیادہ ہے۔خسارے کے بڑھ جانے کی ایک وجہ درآمدات میں اضافہ ہے، جس میں 11.2 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ اسی مدت کے دوران برآمدات میں 2 فیصد کمی ہوئی۔جولائی تا فروری تک کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح کے حساب سے 2.6 فیصد رہا، جب کہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ خسارہ 1.3 فیصد تھا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں بھی اسی عرصے میں 2.5 فیصد کمی ہوئی، کیوں کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو تیل کی کم قیمتوں نے اپنے مالی اخراجات کم کرنے پر مجبور کردیا ہے، جس کی وجہ سے خلیجی ممالک میں رہائش پذیر پاکستانی سخت متاثر ہوئے اور ان کی آمدنی کم ہوگئی۔گزشتہ8 ماہ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور امریکہ سے بھجوائی جانے والی ترسیلات میں بالترتیب 6.8 فیصد، 1.6 اور 2.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔
حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران گورنراسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا نے سال 2017-2016 کے آغاز میں ہی درآمدات کے بڑھنے پرملک بھر میں ظاہر کئے جانے والے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ 6 ارب ڈالر کے سامان کی درآمدات سے آگے چل کر برآمدات میں اضافہ ہوگا اور تجارتی خسارہ کم ہوگا۔ایک طرف اسٹیٹ بینک کے گورنر درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی پر ملک بھر میں پائے جانے والے خدشات کی نفی کررہے تھے جبکہ اس صورت حال پر اسٹیٹ بینک کی گھبراہٹ کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ اسٹیٹ بینک نے حال ہی میں غیر ضروری اشیاجیسے موبائل فونز اور دیگر اشیا کی درآمد پر 100 فیصد کیش مارجن کا نفاذ کا اعلان کیا تھا۔درآمد کنندگان کو اب بینکوں کو 400 غیر ضروری اشیاکے سلسلے میں لیکویڈیٹی پیش کرنی پڑے گی، جس کی وجہ سے ملک میں سالانہ 8 ارب 50 کروڑ ڈالر کی درآمدات کم ہوجائیں گی۔علاوہ ازیں حکومت نے بھی برآمدی شعبوں جیسے ٹیکسٹائل اور کپڑوں جیسی مقامی صنعتوں کے لیے سہولتوں کا اعلان کیا ہے، مگر برآمدات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔
سبسڈی پیکیجز کے سلسلے میں حال ہی میں حکومت نے ٹیکسٹائل، کپڑوں، اسپورٹس، سرجیکل، لیدر اور کارپٹ سیکٹر کے لیے 180 ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے، جو 30 جون 2018 سے نافذ العمل ہوگا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکہ اور یورپ میں تجارت مخالف جذبات کی وجہ سے برآمدات کو کسی حد تک چیلنجز درپیش ہوں گے، کیوں کہ یہ ممالک پاکستانی برآمدات کی بڑی مارکیٹس
ہیں۔اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جی 20 ممالک نے اکتوبر 2015 سے مئی 2016 تک 145 نئی مختلف تجارتی پابندیاں لگائیں جو ماہانہ تقریباً 21 پابندیاں ہوتی ہیں، یہ پابندیاں 2009 میں مانیٹرنگ مشقیں شروع کرنے کے بعد سب سے زیادہ سخت اور بڑی پابندیاں تھیں۔
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...