وجود

... loading ...

وجود

پسند کی شادی دو صو بائی وزراء میں جنگ ، حکومت اور پی پی قیادت پریشان

بدھ 22 مارچ 2017 پسند کی شادی دو صو بائی وزراء میں جنگ ، حکومت اور پی پی قیادت پریشان

کہتے ہیں کہ محبت اندھی ہوتی ہے وہ یہ نہیں دیکھتی کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے اور اسی محبت کے نام پر نوجوان لڑکے لڑکیاں بہک جاتے ہیں۔گھر سے بھاگ کر پسند کی شادی کر لیتے ہیں مگر آنے والے وقت اور نتائج سے بے خبر ہوتے ہیں۔ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کا المیہ یہ رہا ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے بھی یہاں کاروکاری کا رواج تھا جس کے نتیجہ میں انگریز حکومت کو اعلان کرنا پڑا کہ اگر کسی نے اپنی عورت قتل کی تو اس مرد کے پورے گھر کو ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعہ قتل کرا دیا جائے گا اور پھر جیکب آباد کے ایک بلوچ نوجوان نے اپنی بیوی قتل کی تو انگریز حکومت نے اس کے پورے خاندان کے 9 افراد کو قتل کر دیا، تب اس علاقہ میں عورتوں کا قتل عام ختم ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی یہ ظلم جاری رہا جس سے ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ مرد اور عورتیں موت کے منہ میں چلے گئے ۔ ضلع سکھر میں آج سے 13 سال قبل شائستہ عالمانی اور بلخ شیر مہر نے پسند کی شادی کیا کی، علاقے میں جلتی پر تیل چھڑک دیا۔ 7 افراد بے گناہ قتل ہوگئے۔ اس وقت علی محمد مہر سندھ کے وزیراعلیٰ تھے اور انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ لڑکا اور لڑکی قبائلی سرداروں کے حوالے کیے جائیں تاکہ دونوں کو قتل کیا جاسکے اور یہ قصہ یوں تمام کر دیا جائے لیکن اس وقت کے ایس ایس پی صدر ثناء اللہ عباسی اور اسلام آباد کے ایک صحافی کی کوششوں سے یہ جوڑابچ گیا اور بعد میں دونوں یورپ چلے گئے جہاں وہ خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر چھوٹے موٹے واقعات ہوتے رہے، اب پھر ضلع سکھر اور ضلع گھوٹکی میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ علی محمد مہر کی ماموں زاد بہن جگنو مہر نے صوبائی وزیر جام مہتاب ڈاہر کے بھانجے تیمور ڈاہر سے پسند کی شادی کرلی ، بس پھر کیا تھا،ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ۔ ایک طرف سابق وزیراعلیٰ علی محمد مہر، ان کے بھائی علی گوہر مہر،راجا خان مہر اس لڑکی کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے سرگرم ہیں تو دوسری جانب صوبائی وزیر جام مہتاب ڈاہر اپنے بھانجے کو بچانے کے لیے دن رات کوششیں کرر ہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جگنو مہر کے والد علی بخش مہر نے بھی ڈاہر قبیلے میں شادی کی تھی، یوں جگنو مہر نے اپنے کزن کے ساتھ پسند کی شادی کی ہے جس پر علاقے کے وڈیرے ان کے خون کے پیاسے بن چکے ہیں اور وہ ملک کے مختلف علاقوں میں چھپتے پھر رہے ہیں۔ اس پورے قصے کا علم آصف علی زرداری اوروزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو بھی ہوگیا ہے اور دونوں نے فریقین کو تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے مگر مہر خاندان نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے ڈاہر خاندان کے لیے زمین تنگ کر دی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ رینجرز کے دستوں نے اوباڑو شہر میں آصف علی شاہ نامی ایک نوجوان کو صرف اسی بنا پر گرفتار کیا ہے کہ آصف شاہ
نے جگنو مہر اور تیمور ڈاہر کو بھگانے میں اپنی گاڑی فراہم کی تھی۔ اس وقت ضلع گھوٹکی اور ضلع سکھر میں ڈاہر قبیلہ کے سیکڑوں افراد اپنے گھر چھوڑ کر بے گھر ہوچکے ہیں ا ور وہ در در کی ٹھوکر یں کھا رہے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ ان کا کیا قصور ہے؟ دونوں رشتے میں کزن ہیں تو دونوں خاندانوں کے سربراہ آپس میں بیٹھ کر معاملات طے کر یں۔
علی گوہر مہر اس وجہ سے بھی پریشان ہیں کہ ضلع گھوٹکی میں ان کے دو مخالفین نادر اکمل لغاری اور سردار خالد احمد خان لوندنے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اگر انہوں نے قبائلی جھگڑا کرنے کی کوشش کی تو پھر آئندہ ڈہر کی، اوباڑو والی قومی اسمبلی کی نشست ان کے ہاتھ سے چلی جائے گی۔ کیونکہ باقی سارے سیاسی مخالفین اب پی پی میں آچکے ہیں۔
پورے ضلع میں ایس ایس پی مسعود بنگش نے پولیس کو الرٹ کر دیا ہے اور مختلف علاقوں میں پولیس کا گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے اور اب بھی خطرہ ہے کہ مہر، ڈاہر قبائل میں خون ریزی نہ شروع ہو جائے۔ صورتحال جو بھی ہو لیکن شائستہ عالمانی اور بلخ شیر مہر والے قصہ کی یاد دوبارہ تازہ ہوگئی ہے اور دونوں اضلاع میں خوف کی صورتحال برقرار ہے کیونکہ جب قبائلی جھگڑے ہوتے ہیں تو نہ صرف خونریزی بڑھ جاتی ہے بلکہ کئی علاقوں میں نظام ِزندگی مفلوج ہوکر رہ جاتاہے،پھر حکومتی ادارے بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ اور جب تک دیگر قبائلی سردار درمیان آکر صلح کے لیے فریقین کو راضی نہ کرلیں اس وقت تک کئی علاقے اس جنگ کی زد میں ہوتے ہیں۔ اس طرح دو کزن کی شادی نے دو قبائل کو ایک دوسرے کا دشمن بنالیا ہے اور حکومت سندھ بے بس نظر آ رہی ہے۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر