وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتیں اجارہ داری کے خواہاں اوپیک اور شیل اختلاف بھُلا کر مل بیٹھے

هفته 18 مارچ 2017 عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتیں اجارہ داری کے خواہاں اوپیک اور شیل اختلاف بھُلا کر مل بیٹھے

عالمی منڈی میں تیل قیمتوں میں کمی کے رجحان میں تسلسل نے تیل کی دنیا کے دو بڑے امریکی اورخلیجی بلاکس شیل اور اوپیک کو جو گزشتہ 2 سال سے تیل کی منڈی پر اجارہ داری کیلیے باہم دست وگریبان نظر آرہے تھے باہم سرجوڑنے پر مجبور کردیا۔ہیوسٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتہ ہیوسٹن میں اوپیک کے سربراہ امریکی شیل کمپنیوں کے حکام ایک ڈنر پر ایک ہی ٹیبل پر جمع ہوئے اور انھوں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان پر تشویش کے اظہار کے ساتھ ہی اس صورت حال سے نمٹنے کیلیے ممکنہ حکمت عملی پر کم وبیش ایک گھنٹہ غور کیا۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں دونوں گروپوں کے رہنمائوں نے اس حوالے سے باہم صلاح ومشورے جاری رکھنے اور کسی مشترکہ حکمت عملی پر غور کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میںدعویٰ کیا ہے کہ ہیوسٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اوپیک یعنی ’’آرگنائزیشن آف پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز ‘‘ کے سیکریٹری جنر ل محمد بارکندو نے اپنے وفد کے ساتھ شیل کمپنیوں کے کم وبیش 20 اعلیٰ حکام کے ساتھ ڈنر کیا۔ ان کے اس ڈنر میں امریکا کی شیل کمپنیوں کے کم وبیش 20 اعلیٰ حکام کے علاوہ اسکاٹ شیفیلڈ آف پائنیئرنیچرل ریسورسز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ،ہیس کارپوریشن کے جون ہیس، چیزا پیک انرجی کے رابرٹ لائولر اورکونچو ریسورسز کے ٹم لیخ بھی شریک تھے۔اطلاعات کے مطابق اس ڈنر میں شریک تمام لوگوں سے اس ملاقات کو خفیہ رکھنے کا عہد لیاگیاتھا اور یہ وعدہ کیاگیا تھا کہ اس ملاقات میں ہونے والی بات چیت کو منظر عام پر لانے سے گریز کیاجائے گا۔
اطلاعات کے مطابق امریکا میںشیل کمپنی کے قیام میں مدد دینے والی معروف شخصیت اورتیل کی عالمی منڈی کے کرتا دھرتا مارک پاپا بھی شریک تھے،رازداری برقرار رکھنے کی غرض سے ہیوسٹن کے نواح میں واقع ایک معروف ہوٹل میں ہونے والی اس ملاقات اور ڈنر میںہیلی برٹن کمپنی کے صدر جیف ملر بھی موجود تھے۔ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں اصولی طورپر اس پر اتفاق کیاگیا اوریہ بات طے پائی کہ تیل کی منڈی کو متوازن رکھنے کی کوشش کی جائے گی اور چھوٹے سرمایہ کاروں کو بھی فائدہ اٹھانے کاموقع فراہم کیاجائے گاتاکہ تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں سے سب ہی فائدہ اٹھاسکیں اور تیل پیدا کرنے والے ممالک اور تیل کے کاروبار سے منسلک سرمایہ کاروں دونوں کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔
اس ملاقات کے حوالے سے معلومات رکھنے والے حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ملاقات کے دونوں فریقوں میں مکمل افہام وتفہیم کا ماحول قائم نہیں ہوسکا کیونکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رہنما تیل کی قیمتوں میں کمی کے رجحان کو روکنے کیلیے تیل کی پیداوار میں کمی کرنے پر تیار نہیں ہوئے جبکہ شیل کمپنیوں کے عہدیداروں کااصرار تھا کہ تیل کی پیداوار میں کمی کیے بغیر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو سنبھالا دینا ممکن نہیں ہوسکتا۔
اس ملاقات میں شریک تیل کمپنیوںپائنیئر ،چیز پیک،ہیس اور کونچو ریسورسز کے ترجمان اس ملاقات کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے کے حوالے سے دستیاب نہیں ہوسکے یا ملاقات سے قبل ہونے والے وعدے کو نبھانے کیلیے کچھ بولنے سے گریز کے لیے غائب ہوگئے۔اس حوالے سے ڈنر میں شریک مارک پاپا سے بھی رابطہ نہیں ہوسکا جبکہ ہیل برٹن نے اس حوالے سے کوئی بات کرنے سے صاف انکار کردیا۔اوپیک ذرائع کاکہناہے کہ امریکا کے شیل گروپ تیل کی منڈی میں مقابلے میں آنے والی نئی قوت ہے جوتیل کے روایتی سپلائیرز کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے قیمتوں کی پیشگوئی کرتی ہے۔گزشتہ مئی سے امریکا کے شیل گروپس نے تیل کی تلاش اور تیل نکالنے کاکام تیز کردیاہے کیونکہ اس گروپ کی کوشش ہے کہ تیل کی پیداوار کو پہلی مرتبہ 9 ملین گیلن یومیہ تک پہنچادیاجائے۔
دوسری طرف توانائی سے متعلق بین الاقوامی ادارے نے گزشتہ روز یہ اعلان کیا ہے کہ وہ 2022 تک تیل کی پیداوار 1.4 ملین بیرل تک محدود رکھے گی خواہ تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک ہی محدود کیوں نہ ہوجائے۔توانائی سے متعلق بین الاقوامی ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فیتھ بائرل کا کہناہے کہ ہمیں دوسری مرتبہ امریکا کی جانب سے تیل کی فراہمی میں اس طرح اضافہ دیکھنے کو مل رہاہے۔
شیل کمپنیوں کاموقف یہ ہے کہ اب اوپیک کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تیل سے ددلت پیدا کرنے کیلیے اس کی قیمت میں اضافہ دیکھنا چاہتے ہیں یا اضافی پیداوار کے ذریعہ دیوالیہ ہوجانے کیلیے تیار ہیں ۔جس کاسامنا وہ 2015 کے آخر اور2016 کے اوائل میں کرچکے ہیں جب تیل کی قیمتیں 30 ڈالر فی بیرل تک کم ہوگئی تھیں۔تیل کی دنیا کے معروف مشیر ڈینئل یارگن کاکہناہے کہ اوپیک اور شیل کمپنیوں کے عہدیداروں کی ملاقات تیل کی منڈی اور پیداوار کے اعتبار سے ایک اچھی خبر اورایک اچھا آغاز ہے اور اس کے واضح معنی یہ ہیں کہ یہ دونوں گروپ اب بقائے باہمی کے اصول کے قائل ہوتے جارہے ہیں اوراب یہ دونوں گروپ اپنی توقع سے کم قیمت کے ساتھ زندگی گزارنے کے گر بھی سیکھ ہی جائیں گے۔
اوپیک کے سیکریٹری جنرل محمد بارکندو سے اس ڈنر سے فراغت کے بعد ہوٹل پہنچنے پر جب اس حوالے سے سوال کیے گئے تو انھوں نے کہا کہ لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں ہم یہی سوال لوگوں سے کرنا چاہتے ہیں ۔ہم سب کچھ سیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ تیل کی دنیا کا ایک بالکل نیا مرحلہ ہے جس کا ہم سب کو سامنا ہے۔


متعلقہ خبریں


مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت وجود - اتوار 31 مئی 2020

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ دو ماہ سے بند مسجد بنوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کی اجازت دیدی۔سعودی میڈیا کے مطابق مسجد نبوی میں 31 مئی سے عام نمازیوں کے داخلے کی اجازت ہوگی اور خادمین الحرمین الشریفین نے اس فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔سعودی حکام کے مطابق احتیاطی تدابیرکے ساتھ مسجد نبوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کے احکامات دئیے گئے ۔ مسجد نبوی میں 40 فیصد نمازیوں کو ابتدائی دنوں میں داخلے کی اجازت ہو گی اور حکام کی جانب س...

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین کا واپس جانے سے انکار وجود - اتوار 31 مئی 2020

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق لائن آف کنٹرول سے 8 کلو میٹر اندر تک چین نے اپنا کیمپ قائم کر دیا ہے۔ جبکہ چین نے واپس جانے سے انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ جگہ بھارت کی نہیں ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت اور میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔بھارت کی فوج کے دو ٹینکر پہلے ہی پہنچ چکے ہیں تاہم چینی فوج کے قریب جانے کی بھی ہمت نہیں رکھتے۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث طے شدہ دوروں کے...

لداخ بھارت کے ہاتھ سے نکلنے لگا ، چین کا واپس جانے سے انکار

عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کیخلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ وجود - اتوار 31 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت اور 37 ممالک نے کورونا وائرس وبا سے لڑنے کے لیے ویکسین، ادویات اور تشخیصی آلات کی عام ملکیت کی اپیل کی اور کہا کہ پیٹنٹ قوانین اس اہم ترین اشیا کی سپلائی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے اس اقدام کو زیادہ زیادہ تر تنظیموں بشمول ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جانب سے پذیرائی ملی۔ترقی پذیر اور چند چھوٹے ممالک کو خدشہ ہے کہ امیر ممالک کو ویکسین کی تلاش میں وسائل صرف کر رہے ہیں، کامیابی کے بعد اس قطار میں سب سے آگے کھڑے ہوجائیں گے۔کوسٹا ر...

عالمی ادارہ صحت، 37 ممالک کا وائرس کیخلاف جنگ میں اتحاد کا فیصلہ

لاک ڈائون بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور وجود - اتوار 31 مئی 2020

بھارت میں لاک ڈاؤن کے دوران بھوک و افلاس کا عالم دیکھ کر انسانیت شرما گئی، کوئی ننگے پیر سیکڑوں میل پیدل سفر کرکے گھر پہنچا تو کسی کو بھوک نے مردار کھانے پر مجبور کر دیا۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق چلچلاتی دھوپ، تپتی زمین اور ننگے پیر میلوں کا سفر، ایسے میں عورتوں اور بچوں کا بھی ساتھ ہو تو غربت کا کیا عالم ہوگا، لاک ڈاؤن میں مودی کی ناکام منصوبہ بندی نے غریبوں کو دربدر رلنے پر مجبور کر دیا۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود مودی سرکار غریبوں کی پروا کے بجائے ہندوتوا کے پرچار او...

لاک ڈائون بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور

مودی سرکار کا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کشمیر میں جعلی آپریشن کا منصوبہ وجود - اتوار 31 مئی 2020

بھارت نے لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد پاکستان کے خلاف مکروہ منصوبہ بنانا لیا، مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی منصوبہ بندی کرلی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بارہا عالمی برادری کو بھارتی عزائم بارے کئی مرتبہ خبردار کر چکے۔ذرائع کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کرنے اور اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مکروہ منصوبہ بندی کر لی ہے، یہ سب ...

مودی سرکار کا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کشمیر میں جعلی آپریشن کا منصوبہ

اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ،دوول کی غلط پالیسیوں نے بھارت کو بند گلی میں لا کھڑا کیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق چائنا پالیسی اور جھوٹ پر جھوٹ نے بھارت کی بْنیادیں ہلا دیں،بھارت اقوامِ عالم میں تنہا ہو گیا،پہلے پلوامہ ڈرامے میں اپنے 40سپاہی مروائے ۔رپورٹ کے مطابق بالاکوٹ میں ہزیمت اْٹھانا پڑی،بھارتی ائیر فورس کی ناکامی سے بھارتی خواب چکنا چور ہو گئے ،کشمیر پالیسی بْری طرح ناکام،چائنہ نے بھارتی ملٹری کو بے نقاب ک...

اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین وجود - هفته 30 مئی 2020

چین نے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی بل کے معاملے میں امریکا پر اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے نیشنل سیکیورٹی بل پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت چین کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہانگ کانگ میں کھلے عام کارروائیاں کرسکیں گی۔چاروں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ کا نیشنل سیکیورٹی کا قانون...

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی وجود - هفته 30 مئی 2020

لداخ میں غیر قانونی تعمیرات پربھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے ، چین نے کشمیر کے علاقے اکسائے چن پر بھی فوجی قوت بڑھا دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق لداخ میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے ، چین لداخ میں متنازع سڑک پر پل کی تعمیر روکنا چاہتا ہے ، چین نے ائیرپورٹ پر ملٹری قوت میں اضافہ کر لیا۔لداخ میں بھارتی فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا، گولوان وادی کے تین پوائنٹس اور پینگانگ جھیل پر بھارتی اور چینی فوجی آمنے سامنے ہیں۔واضح رہے کہ لداخ کے علاقے میں بھارت اور چین تنازع شروع ہوئے ایک...

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 30 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو کمپنیاں بچوں کو تمباکو نوشی کی طرف راغب کرنے کے لیے خطرناک اور جان لیوا ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے بتایاکہ یہ حیرانی کی بات نہیں کہ سگریٹ نوشی شروع کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمر اٹھارہ برس سے بھی کم ہوتی ہے ۔ اس ادارے نے مزید بتایا کہ تیرہ سے پندرہ برس تک کی عمر کے درمیان چوالیس ملین بچے اس وقت سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ اس بارے میں عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک رپورٹ اتوار اکتیس مئی کو منا...

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 30 مئی 2020

ذیابیطس کا ہر دس میں سے ایک مریض کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی صورت میں ہسپتال جانے کے سات دن بعد ہی اپنی زندگی کی بازی ہار سکتا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ انکشاف ایک تازہ سائنسی مطالعے کے نتائج میں کیا گیا ہے ، جو جمعے کے روز ایک جریدے میں شائع ہوئے ۔ اس مطالعے کے دوران ذیابیطس کے تیرہ سو مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ پچھتر برس سے زائد عمر کے مریضوں میں پچپن برس سے کم عمر کے مریضوں کے مقابلے میں شرح اموات چودہ فیصد زیادہ رہی۔ دل، بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے امراض میں مب...

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں نئے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چین میں اسی وائرس کے باعث اموات سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت میں مزید 175 افراد ہلاک ہو گئے اور یوں ایسی اموات کی مجموعی تعداد 4,706 ہو گئی۔ بھارت میں نئے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 165,799 ہو گئی ہے ۔ مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے ۔ دوسری جانب چین میں جمعے کو کووڈ انیس کا کوئی ایک بھی نیا مریض سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس بیماری کے باعث کوئی موت ہوئی۔ چین میں متاثرین کی تعداد 82,995 ...

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

ملائیشیا کی سیاسی جماعت یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو انہی کی پارٹی سے نکال دیا گیا۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد نے اپنی ہی جماعت کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی اور وہ 18 مئی کو ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے ۔ملائیشیا کی یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مہاتیر محمد کی پارٹی رکنیت کو فوری طور پر منسوخ کردیا گیا ہے ۔عرب میڈیا کا بتانا ہیکہ پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد کو ان کی اپن...

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا