... loading ...
اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (E.C.O) کے سربراہ اجلاس میں شریک سربراہان مملکت وحکومت نے خطے کوامن وخوشحالی کا گہوارہ بنانے اور ایک دوسرے کے وسائل اور تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایکو میں شامل ممالک کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ان کی معاشی اور اقتصادی ترقی میں ایک دوسرے کی معاونت کرنے اور ایکو کوایک مضبوط اقتصادی بلاک بنانے کے عزم کا اظہار کیاتھا، اس کانفرنس میں10 ممالک پر مشتمل اس تنظیم یعنی ایکو کی قیادت اگلے5 سال کے لیے پاکستان کو دی گئی ہے، پاکستان کے قائدین کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہاں اپنی ضرورت کی چیزیں ایکو ممالک سے درآمد کرنے کو ترجیح دینے کی پالیسی پر عمل شروع کرنا چاہیے وہیں،پاکستان سے مختلف اشیا خاص طورپر غذائی اشیا ایکو ممالک کو برآمد کرنے کے مواقع تلاش کرنے چاہئیں،تاکہ پاکستان اور ایکو ممالک کے درمیان تعلقات زیادہ مستحکم ہوں اور ان تعلقات سے پاکستان سمیت ایکو کے تمام ممالک یکساں طورپر مستفید ہوسکیں۔
پاکستان فی الوقت ایکو ممالک کو گندم، آٹا،سوجی ، میدہ، چاول،باجرہ،پھل اور سبزیاں برآمد کرسکتاہے،اگرچہ پاکستان پہلے ہی سے ایکو ممالک کو اشیائے خوراک برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے لیکن ایکو کے رکن کی حیثیت سے وہ ان ملکوں سے ترجیحی سلوک کے معاہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی بنیاد پر اپنی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کرسکتاہے۔اس حوالے سے پاکستان کو یہ ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ اس وقت ایکو میں شامل تقریباً ممالک کے ساتھ پاکستان کا زمینی راستہ ہے اور اس طرح پاکستان نسبتاً کم خرچ پر ان ممالک کو سامان کی ترسیل کی سہولت سے فائدہ اٹھاسکتاہے،ایکو میں شامل ممالک پہلے ہی پاکستان سے بڑی مقدار میں غذائی اشیا درآمد کرتے ہیں، جس کااندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان نے مجموعی طورپر 102 ملین ڈالر یعنی کم وبیش 10کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کی غذائی اشیا برآمد کیں جن میں 9 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کی غذائی اشیا افغانستان کو برآمد کی گئیں۔ایران پر سے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی ایما پر اقوام متحدہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ایران کے لیے پاکستان سے دیگر اشیا کے ساتھ ہی غذائی اشیا کی برآمدات میں بھی اضافہ ہورہاہے، اورپاکستان سے ایران کوچاول اور پھلوں کی برآمد کی راہیں کھل رہی ہیں۔
پاکستان میں حلال خوراک کا سرٹیفیکٹ جاری کرنے والی اتھارٹی کے قیام کے بعد اب ترکی کو بھی غذائی اشیا کی برآمد کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور پاکستان کے ساتھ دیرینہ قریبی اور برادرانہ روابط کے سبب ترکی کو پاکستان سے بڑے پیمانے پر غذائی اشیا کی برآمد کے وسیع امکانات پیدا ہورہے ہیں،پاکستانی حکام آذر بائیجان، کرغیزستان، قزاقستان، ترکمانستان،تاجکستان اور ازبکستان کے رہنمائوں کو یہ احساس دلاکر اور یہ باور کراکے کہ پاکستان کے ساتھ تجارت ان کے لیے زیادہ آسان اور منافع بخش ہے ان ملکوں کی منڈی تک بآسانی رسائی حاصل کرسکتاہے اور اس طرح پاکستان اپنی تمام فاضل غذائی پیداوار بغیر کسی سخت مقابلے کے برآمد کرکے وافر زرمبادلہ کما سکتاہے،ان ممالک کو پاکستان کی غذائی اشیا کی برآمد سے چونکہ کاشتکار کو ان کی فصل کی اچھی قیمت ملے گی تو وہ اپنی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دیں گے۔ اس طرح پاکستان کی غذائی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور یہ اضافہ پاکستان کی برآمدی آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بنے گا جس سے ملک کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے میں کسی حد تک کمی ممکن ہوسکے گی۔ان ممالک کو پاکستان کی برآمدات کا کم وبیش80 فیصد حصہ اب بھی غذائی اشیا پر ہی مبنی ہوتاہے جبکہ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان سے ان ملکوں کوبھیجی جانے والی غذائی اشیا ان ممالک میں پسند کی جاتی ہیں اور ان کی طلب میں اضافہ ہورہاہے۔
وزارت تجارت کے افسران بالا بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایکو ممالک کو فی الوقت ہماری غذائی برآمدات کی مجموعی مالیت کم وبیش62 کروڑ ڈالر ہے لیکن اگر حکومت ان ممالک پر توجہ دے اور معیاری غذائی اشیا کی برآمد کو یقینی بنایاجائے تو برآمدات کی مالیت ایک ارب ڈالر تک پہنچانا بہت مشکل نہیں ہے،ایکو ممالک کو پاکستان کی غذائی اشیا کی برآمد کے لیے حکومت کو کسی اضافی خرچ اور غیر ملکی دوروں کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ کام ان ممالک میں موجود پاکستان کے سفارتخانوں اور قونصل خانوں کے تجارتی اتاشی ہی انجام دے سکتے ہیں جو کہ ان کی بنیادی ذمہ داری اور ان کی تعیناتی کی بنیادی وجہ ہے۔
چند سال قبل ایکو ممالک کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کی رپورٹ سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان سے ان ممالک کو جو 15 بڑی اشیا برآمد کرسکتاہے ان میں سے 5 کاتعلق غذائی اشیا سے ہے۔جن میں چاول، دلیہ،دلیہ سے بنی ہوئی اشیا،گوشت ، پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔فی الوقت ان اشیا سے متعلق سیکڑوں اشیا جن میں مچھلی ، گوشت سے بنی ہوئی اشیا، اور سبزیوں سے تیار کردہ مختلف آئٹمز بڑی تعداد میں ان ملکوں کو برآمد کیے جاتے ہیں جہاں ان کونہ صرف پسند کیاجاتاہے بلکہ ان کی مقبولیت اور طلب میں اضافہ بھی ہوتاجارہا ہے ۔پاکستان میں گندم کی فاضل پیداوار کاسب سے پہلا اور بڑا خریدار افغانستان ہوتا ہے، اسی طرح افغانستان کو گوشت اور گوشت سے تیار کردہ اشیاکی بھی ایک بڑی منڈی تصور کیاجاتاتھا ، پاکستان سے مچھلی اور دوسری سمندری اشیا کی آمدات کے بڑے خریدار مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک تھے ،لیکن مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مچھلی اور سمندری اشیا کی طلب میں گزشتہ برسوں کے دوران نظر آنے والی کمی اور ان اشیا کی برآمد کے حوالے سے یورپی ممالک کی کڑی پابندیوں کی وجہ سے اب یہ اشیا بآسانی وسط ایشیائی ممالک کو برآمد کی جاسکتی ہیں۔
ایکو ممالک میں پاکستان کے باسمتی چاول کی بھی طلب موجود ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایکوممالک کو پاکستان سے برآمد کیے جانے والے چاول کے معیار کی کڑی پابندی کی جائے اور پاکستان کے باسمتی چاول کو پاکستان کے نام سے متعارف کرایاجائے تاکہ مستقبل میں پاکستان ہی سے چاول کی براہ راست برآمد کویقینی بنایاجاسکے جبکہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بھارتی تاجر بھاری مقدار میں پاکستان سے چاول درآمد کرکے اسے اپنے نام سے بھارتی چاول ظاہر کرکے فروخت کرتے ہیں جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں پاکستان سے براہ راست چاول کی برآمد کے مقابلے میں بھارتی چھائے ہوئے ہیں۔ بیرون ملک پاکستانی باسمتی کی بدنامی کا ایک بڑ ا سبب وہ بددیانت تاجر بھی ہیں جنہوں نے وقتی فوائد حاصل کرنے کے لیے غیر معیاری اور مٹی اور کنکر بھرے چاول برآمد کرکے پورے پاکستان کی ساکھ کو دائو پر لگادیا۔جب تک ایسے بدقماش عناصر اور ان کاساتھ دینے والے سرکاری اہلکاروں کی بیخ کنی نہیں کی جائے گی پاکستان سے غذائی اشیا کی برآمدات میں اضافے اور ایکو ممالک کو پاکستانی اشیا کاخریدار بنانے کاخواب پوری طرح شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔
امید کی جاتی ہے کہ ایکسپورٹ پروموشن کارپوریشن اور پاکستان کی وزارت تجارت کے ارباب اختیار اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور ایکو ممالک کو معیاری غذائی اشیا کی برآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری احتیاطی اقدامات پر توجہ دیں گے۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...