... loading ...
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 2016ء میں چونکا دینے والی رپورٹ دی کہ سندھ میں پچھلے پانچ سال کے دوران250 ارب روپے کی مالی بے قاعدگیاں کی گئی ہیں، ہوناتویہ چاہیے تھا کہ ہنگامہ مچ جاتا، افسران اوروزراء کوہٹادیاجاتا اورتحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جاتیں، سویا ہوا نیب جاگ جاتا، ریفرنس بنتے اورنیب کی جانب سے ان افسران ووزراء کوسزائیں دلانے کے لیے احتساب عدالتوں کودرخواستیں دی جاتیں ۔۔۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ نیب حسب معمول چھوٹے موٹے چورڈاکوپکڑنے میں مصروف رہا۔ محکمہ اینٹی کرپشن بھی اسی ڈگر پر چلتارہا۔ حکومت سندھ خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتی رہی ۔کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی، کیونکہ بھلا ان کے گھرسے کیاجاتاہے؟ پیسہ عوام کا تھا اور وزراء افسران نے مل کرلوٹا، سب کواپنا حصہ ملا توپھر کون تحقیقات کرے گا ؟ کیوں تحقیقات کرے گا؟ سب اپنا کام کرنے میں مصروف ہیں اوروہی سب کچھ ابھی بھی چل رہا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی اس رپورٹ کے مطابق محکمہ آبپاشی میں کرپشن کی رقم 50 ارب روپے کی تھی اوریہ کرپشن سابق صدر آصف علی زرداری کے عزیز حاجی علی حسن زرداری نے کی ہے۔حاجی علی حسن زرداری کے بارے میں سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے انکشاف کیاتھا کہ حاجی علی حسن زرداری نوابشاہ میں دودھ فروخت کرتاتھا، ایک ڈاٹسن پک اپ میں وہ روزانہ دودھ کے ڈبے اٹھاکر چھوٹے دیہاتوں، قصبوں سے دودھ خرید کر نوابشاہ شہر میں فروخت کرتاتھا اور آج وہی حاجی علی حسن زرداری کھرب پتی بن گئے ہیں، وہ محکمہ آبپاشی کے پس پردہ وزیر بنے ہوئے ہیں۔ اسسٹنٹ انجینئر سے لے کرسیکریٹری آبپاشی تک تمام افسران کا تقرر اوربڑے ٹھیکے حاجی علی حسن زرداری ہی دیتے ہیں۔ حاجی علی حسن زرداری محکمہ آبپاشی پرجوحکم چلاتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ یا موجودہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کواختیارنہیں کہ اس میں زیر وزَبرکرسکیں۔ بعض اوقات سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ یا موجودہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اگر ڈھکے چھپے الفاظ میں کوئی اعتراض کیا توآصف علی زرداری نے ان کوڈانٹ پلادی اورسختی سے حکم جاری کیا کہ حاجی علی حسن زرداری جوکہتے ہیں اس کومیرا حکم سمجھ کرقبول کیاجائے اوران کو زیادہ تنگ نہ کیاجائے۔ مذکورہ 50 ارب روپے کی کرپشن محکمہ اینٹی کرپشن نے ثابت کردکھائی ہے لیکن اس کے باوجود موجودہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ریکارڈ توڑڈالے ہیں، انہوں نے رواں مالی سال کے دوارن محکمہ آبپاشی کے لیے 24 ارب روپے رکھے تھے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ 8ماہ میں ہی محکمہ آبپاشی نے یہ 24ارب روپے خرچ کرڈالے۔ماہرین بتاتے ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ پورا بجٹ صرف 8ماہ میں خرچ ہوسکے ۔تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ چونکہ حاجی علی حسن زرداری کودبئی میں اربوں روپے چاہئیں ،اس لیے انہوںنے یہ رقم کاغذات میں خرچ دکھادی۔ اوراب وزیراعلیٰ سندھ نے مزیددس ارب روپے بھی جاری کردیے ہیں اوراس طرح دس سے بارہ ارب روپے جون2017ء سے قبل محکمہ آبپاشی کودینے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ اس طرح محکمہ آبپاشی صوبہ کا واحد محکمہ ہوگا جس کا اپنا بجٹ 24ارب روپے ہے مگرمالی سال 2016-2017ء میں وہ 34سے 38ارب روپے خرچ کرے گا۔ لیکن یہ پیسہ کہاں خرچ ہوا؟اس کا کوئی حساب دینے کے لیے تیارنہیں ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ رقم دبئی میں بیٹھے ہوئے دودھ فروش حاجی علی حسن زرداری کی جیب میں جارہی ہے ،جہاں محکمہ آبپاشی کے افسران اورٹھیکیداروں کامیلہ لگا ہوتاہے ۔اب تومحکمہ آبپاشی کو حاجی علی حسن زرداری نے ایک نئے دھندے سے لگادیاہے کہ 20سے 30ارب روپے سکھر بیراج کی مرمت کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے لیے جائیں اورمحکمہ آبپاشی کے افسران دن رات اس کام میں مصروف ہیں ۔
سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ چاہے کتنے ہی کمزور کیوں نہ تھے مگرانہوں نے ایک دن ہمت کرکے محکمہ آبپاشی میں کرپشن کی تحقیقات کی ذمہ داری محکمہ اینٹی کرپشن کے حوالے کی ۔محکمہ اینٹی کرپشن نے باریک بینی سے تحقیقات کرکے50ارب روپے کی کرپشن کی رپورٹ دے دی جس پرحاجی علی حسن زرداری ناراض ہوئے اوراس وقت کے چیئرمین اینٹی کرپشن سید ممتاز علی شاہ کووہاں سے ہٹادیا۔بعدازاں ممتاز علی شاہ کووفاق کے حوالے کردیاگیاجہاں اب ان کواچھی شہرت کے باعث گریڈ22دیاگیاہے ۔تاہم دوسری طرف اس کرپشن رپورٹ کوداخل دفتر کردیاگیا ہے۔ محکمہ آبپاشی اب مکمل طورپر حاجی علی حسن زرداری کے رحم وکرم پر ہے،سارے پیسے کرپشن میں خرچ ہورہے ہیں او رکسی نہریا دریائے سندھ کے پشتوں کی مضبوطی کا کوئی کام نہیں ہوا ۔اﷲ نہ کرے اگررواں سال سیلاب آیاتوسب سے زیادہ نقصان سند ھ کا ہی ہوگا کیونکہ نہریں اوردریائے سندھ کی پشتیں مکمل طورپر کمزور ہیں وہ پانی کا دبائو برداشت نہیں کرسکیں گی لیکن پھرنزلہ افسران پرگرے گا اورحاجی علی حسن زرداری سے کوئی نہیں پوچھے گا۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...