وجود

... loading ...

وجود

محکمہ آبپاشی کا بجٹ پانی کی طرح جی حضوری میں بہایا جانے لگا

هفته 11 مارچ 2017 محکمہ آبپاشی کا بجٹ پانی کی طرح جی حضوری میں بہایا جانے لگا

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 2016ء میں چونکا دینے والی رپورٹ دی کہ سندھ میں پچھلے پانچ سال کے دوران250 ارب روپے کی مالی بے قاعدگیاں کی گئی ہیں، ہوناتویہ چاہیے تھا کہ ہنگامہ مچ جاتا، افسران اوروزراء کوہٹادیاجاتا اورتحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جاتیں، سویا ہوا نیب جاگ جاتا، ریفرنس بنتے اورنیب کی جانب سے ان افسران ووزراء کوسزائیں دلانے کے لیے احتساب عدالتوں کودرخواستیں دی جاتیں ۔۔۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ نیب حسب معمول چھوٹے موٹے چورڈاکوپکڑنے میں مصروف رہا۔ محکمہ اینٹی کرپشن بھی اسی ڈگر پر چلتارہا۔ حکومت سندھ خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتی رہی ۔کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی، کیونکہ بھلا ان کے گھرسے کیاجاتاہے؟ پیسہ عوام کا تھا اور وزراء افسران نے مل کرلوٹا، سب کواپنا حصہ ملا توپھر کون تحقیقات کرے گا ؟ کیوں تحقیقات کرے گا؟ سب اپنا کام کرنے میں مصروف ہیں اوروہی سب کچھ ابھی بھی چل رہا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی اس رپورٹ کے مطابق محکمہ آبپاشی میں کرپشن کی رقم 50 ارب روپے کی تھی اوریہ کرپشن سابق صدر آصف علی زرداری کے عزیز حاجی علی حسن زرداری نے کی ہے۔حاجی علی حسن زرداری کے بارے میں سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے انکشاف کیاتھا کہ حاجی علی حسن زرداری نوابشاہ میں دودھ فروخت کرتاتھا، ایک ڈاٹسن پک اپ میں وہ روزانہ دودھ کے ڈبے اٹھاکر چھوٹے دیہاتوں، قصبوں سے دودھ خرید کر نوابشاہ شہر میں فروخت کرتاتھا اور آج وہی حاجی علی حسن زرداری کھرب پتی بن گئے ہیں، وہ محکمہ آبپاشی کے پس پردہ وزیر بنے ہوئے ہیں۔ اسسٹنٹ انجینئر سے لے کرسیکریٹری آبپاشی تک تمام افسران کا تقرر اوربڑے ٹھیکے حاجی علی حسن زرداری ہی دیتے ہیں۔ حاجی علی حسن زرداری محکمہ آبپاشی پرجوحکم چلاتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ یا موجودہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کواختیارنہیں کہ اس میں زیر وزَبرکرسکیں۔ بعض اوقات سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ یا موجودہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اگر ڈھکے چھپے الفاظ میں کوئی اعتراض کیا توآصف علی زرداری نے ان کوڈانٹ پلادی اورسختی سے حکم جاری کیا کہ حاجی علی حسن زرداری جوکہتے ہیں اس کومیرا حکم سمجھ کرقبول کیاجائے اوران کو زیادہ تنگ نہ کیاجائے۔ مذکورہ 50 ارب روپے کی کرپشن محکمہ اینٹی کرپشن نے ثابت کردکھائی ہے لیکن اس کے باوجود موجودہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ریکارڈ توڑڈالے ہیں، انہوں نے رواں مالی سال کے دوارن محکمہ آبپاشی کے لیے 24 ارب روپے رکھے تھے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ 8ماہ میں ہی محکمہ آبپاشی نے یہ 24ارب روپے خرچ کرڈالے۔ماہرین بتاتے ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ پورا بجٹ صرف 8ماہ میں خرچ ہوسکے ۔تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ چونکہ حاجی علی حسن زرداری کودبئی میں اربوں روپے چاہئیں ،اس لیے انہوںنے یہ رقم کاغذات میں خرچ دکھادی۔ اوراب وزیراعلیٰ سندھ نے مزیددس ارب روپے بھی جاری کردیے ہیں اوراس طرح دس سے بارہ ارب روپے جون2017ء سے قبل محکمہ آبپاشی کودینے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ اس طرح محکمہ آبپاشی صوبہ کا واحد محکمہ ہوگا جس کا اپنا بجٹ 24ارب روپے ہے مگرمالی سال 2016-2017ء میں وہ 34سے 38ارب روپے خرچ کرے گا۔ لیکن یہ پیسہ کہاں خرچ ہوا؟اس کا کوئی حساب دینے کے لیے تیارنہیں ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ رقم دبئی میں بیٹھے ہوئے دودھ فروش حاجی علی حسن زرداری کی جیب میں جارہی ہے ،جہاں محکمہ آبپاشی کے افسران اورٹھیکیداروں کامیلہ لگا ہوتاہے ۔اب تومحکمہ آبپاشی کو حاجی علی حسن زرداری نے ایک نئے دھندے سے لگادیاہے کہ 20سے 30ارب روپے سکھر بیراج کی مرمت کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے لیے جائیں اورمحکمہ آبپاشی کے افسران دن رات اس کام میں مصروف ہیں ۔
سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ چاہے کتنے ہی کمزور کیوں نہ تھے مگرانہوں نے ایک دن ہمت کرکے محکمہ آبپاشی میں کرپشن کی تحقیقات کی ذمہ داری محکمہ اینٹی کرپشن کے حوالے کی ۔محکمہ اینٹی کرپشن نے باریک بینی سے تحقیقات کرکے50ارب روپے کی کرپشن کی رپورٹ دے دی جس پرحاجی علی حسن زرداری ناراض ہوئے اوراس وقت کے چیئرمین اینٹی کرپشن سید ممتاز علی شاہ کووہاں سے ہٹادیا۔بعدازاں ممتاز علی شاہ کووفاق کے حوالے کردیاگیاجہاں اب ان کواچھی شہرت کے باعث گریڈ22دیاگیاہے ۔تاہم دوسری طرف اس کرپشن رپورٹ کوداخل دفتر کردیاگیا ہے۔ محکمہ آبپاشی اب مکمل طورپر حاجی علی حسن زرداری کے رحم وکرم پر ہے،سارے پیسے کرپشن میں خرچ ہورہے ہیں او رکسی نہریا دریائے سندھ کے پشتوں کی مضبوطی کا کوئی کام نہیں ہوا ۔اﷲ نہ کرے اگررواں سال سیلاب آیاتوسب سے زیادہ نقصان سند ھ کا ہی ہوگا کیونکہ نہریں اوردریائے سندھ کی پشتیں مکمل طورپر کمزور ہیں وہ پانی کا دبائو برداشت نہیں کرسکیں گی لیکن پھرنزلہ افسران پرگرے گا اورحاجی علی حسن زرداری سے کوئی نہیں پوچھے گا۔


متعلقہ خبریں


ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد وجود - بدھ 22 اپریل 2026

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم وجود - بدھ 22 اپریل 2026

شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

مضامین
انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

بھارت بنگلہ دیش تعلقات وجود جمعرات 23 اپریل 2026
بھارت بنگلہ دیش تعلقات

ایران امریکہ معاہدہ ؟ وجود بدھ 22 اپریل 2026
ایران امریکہ معاہدہ ؟

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ وجود بدھ 22 اپریل 2026
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر