وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

وفاقی وزیر خزانہ اپنے خاندان کی دولت وطن واپس لاکر ابتدا کیوں نہیں کرتے؟

هفته 11 مارچ 2017 وفاقی وزیر خزانہ اپنے خاندان کی دولت وطن واپس لاکر ابتدا کیوں نہیں کرتے؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ سوئٹزرلینڈ لوٹی ہوئی پاکستانی دولت کے بارے میں معلومات دینے پر تیار ہو گیا ہے اور اس حوالے سے معاہدے پر دستخط کے لیے ایک وفد 21 مارچ کو سوئٹزرلینڈ جائے گا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان 2005ء سے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات کررہا ہے، سوئٹزرلینڈ نے معاہدے کے عوض ٹیکسوں میں مراعات اور خود کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ مانگاتھا، تاہم پاکستان نے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کیااوراب سوئٹزرلینڈ نے ہماری شرائط پر دوبارہ معاہدے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ وزیر خزانہ نے اجلاس کویہ بھی بتایا کہ پاکستان 14 ستمبر 2016ء کو آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) کے ساتھ ٹیکس معاملات کے حوالے سے ایک کنونشن (Multilateral Convention on Tax Matters) پر بھی دستخط کرچکا ہے، جو اگلے برس فعال ہوگا۔پاکستان او ای سی ڈی کا 104 واں رکن ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کنونشن کے فعال ہونے کے بعد رکن ممالک میں ٹیکس چوری کے پیسے رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔واضح رہے کہ سوئٹرز لینڈ کو دنیا بھر کے لوگ اپنے اپنے ممالک سے کرپشن ، ٹیکس چوری اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن چھپانے کے لیے پسند کرتے ہیں اور وہاں کے بینک اس حوالے سے عالمگیر شہرت رکھتے ہیں۔2015ء میں جرمنی کے ایک اخبار کے تفتیشی رپورٹر کو کسی نامعلوم ذریعے نے، جس نے اب تک سامنے آنے کی جرأت نہیں کی ہے، سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں موجود کالے دھن اور اس کی مدد سے پانامہ میں قائم کی گئی آف شور کمپنیوں کے بارے میں خفیہ ڈیٹا فراہم کردیا یہ ڈیٹا اتنا زیادہ تھا کہ اس رپورٹر کو اس کی چھان بین اور اس کے قابل اشاعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹ نامی ایک امریکی صحافتی گروپ کی مدد حاصل کی، جس کے بعد مختلف بین الاقوامی شہرت کے اخبارات کے ساتھ مل کر پانامہ یپرز کا انکشاف کیاتھا ،سوئٹزرلینڈ کے بینک کے افشا ہونے والے راز وں سے ظاہر ہوتاہے کہ اس میں اپنی دولت رکھنے کے حوالے سے پاکستان 48 واں بڑا ملک ہے۔دوسری جانب گزشتہ برس سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک (سوئس نیشنل بینک) کی جانب سے جارہ کردہ سوئس بینکوں کے سالانہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہریوں کے تقریباً 1.5 ارب سوئس فرانکس سوئس بینکوں میں موجود ہیں اور اس اعتبار سے پاکستان کا 69 واں نمبر ہے۔
پانامہ پیپرز کے انکشاف کے بعد پوری دنیا میںہلچل مچ گئی تھی، یہاں تک کہ اس وقت کے برطانیہ کے وزیر اعظم کو بھی اپنے حسابات کے گوشوارے عوام کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہونا پڑاتھا ، پانامہ پیپرز میں وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں اور چہیتی بیٹی کانام بھی آیاتھا ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعظم حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اس حوالے سے اطمینان بخش وضاحت پیش کرتے لیکن وزیر اعظم نے ایسا کرنے کے بجائے خود کو اس تمام معاملے سے بری الذمہ اور پارسا ثابت کرنے کے لیے پہلے قومی اسمبلی کے فلور پر غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے عوام کے غم وغصے کو کم کرنے کی کوشش کی، لیکن اپوزیشن اس پر مطمئن نہیں ہوئی۔ نتیجتاً یہ تمام معاملہ سپریم کورٹ لے جایاگیا جہاں فریقین کے بیانات اور دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیاجاچکا ہے۔ اس لیے اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا نہ صرف قبل از وقت ہوگا بلکہ عدالتی معاملات پر قیاس آرائی صحافتی اقدار کے بھی منافی ہوگی ۔ اس لیے اس معاملے کو عدالتی فیصلے تک مؤخر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سے یہ سوال تو کیاجاسکتاہے کہ اگرچہ یہ بات خوش آئند ہے کہ سوئٹزرلینڈ لوٹی ہوئی پاکستانی دولت کے حوالے سے تفصیلات اور معلومات فراہم کرنے پر تیار ہوگیاہے اور اس طرح اب ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جمع کرنے اور اس کے ذریعے عیاشیاںکرنے والے سفید پوش لٹیروں کو قانون کے دائرے میں لانا آسان ہوجائے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام تر معلومات حاصل ہونے کے بعد بھی کیا حکومت اپنے من پسند ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں اور وزرا کے خلاف کارروائی کرنے پرتیا ر ہوگی، اگر حکومت اس طرح کی کارروائی میں سنجیدہ ہوتی تو اب تک جن لوگوں کے بیرون ملک اکائونٹس کی تصدیق ہوچکی ہے حکومت نے ان کو اپنی یہ رقم واپس لانے پر مجبور کرنے کے لیے کیا کارروائی کی ۔ وزیر خزانہ نے اسمبلی میں سوئس حکومت کی رضامندی کی خبر بتاکر شاید یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت بیرون ملک جمع غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ دولت واپس لانے میں سنجیدہ ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے، اگر حکومت اس معاملے میں ذرا بھی سنجیدہ ہوتی تو وہ کم از کم اپنے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کی بیرون ملک جمع دولت تو واپس لاہی سکتی تھی، اگر ہمارے وزیر خزانہ بیرون ملک جمع دولت واپس پاکستان لانے میں سنجیدہ ہیں تو وہ ابتدا اپنی ذات سے کریں اور اپنی اور پنے بچوں کی بیرون ملک جمع تمام دولت پاکستان واپس لائیں اور اپنے بچوں کو بیرون ملک کاروبار سمیٹ کر پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کی ہدایت دیں اب جبکہ خود وزیر خزانہ کے قول کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع وسیع ہورہے ہیںاور غیر ملکی کمپنیاں اپنے سرمائے پر بھاری اور پرکشش منافع کمارہی ہیں تو وزیر خزانہ اور ہمارے وزیر اعظم اپنے بچوں کے بیرون ملک کاروبار کو تحفظ دینے کی سعی کیوں کررہے ہیں۔
اگر ہمارے وزیر خزانہ ، اور وزیر اعظم اپنی بیرون ملک جمع تمام دولت اور اثاثے پاکستان منتقل کردیں تو یہ ایک ایسی مثال ہوگی جس کی بنیاد پر بیرون ملک اثاثے رکھنے والے دیگر متمول افراد کو بھی اپنی دولت اور اثاثے پاکستان منتقل کرنے پر مجبور کیاجاسکے گا، لیکن چونکہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اثاثوں کی پاکستان واپسی کی ابتداخود اپنی ذات اور اپنے خاندان سے کرنے سے گریزاں ہیں اس لیے یہ ظاہر ہوتاہے کہ اس حوالے سے ان کے تمام بیانات عوام کو بیوقوف بنانے اوران کی توجہ اصل مسائل اوراپوزیشن کی جانب سے حکومت اور ارباب حکومت پر لگائے جانے والے الزامات سے ہٹانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
جہاں تک پانامہ لیکس کا معاملہ ہے چونکہ یہ معاملہ ابھی تک عدلیہ کے ہاتھ میں ہے اس بارے میں کوئی رائے زنی مناسب نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اس میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ملوث تمام ارکان کا محاسبہ نہیں ہوگا عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ تمام پارٹیاں پانامہ پیپرز کے معاملے پر سیاست کررہی ہیں اور عوام کو بیوقوف بنارہی ہیں، کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے ہر قدم پر لاکھوں پانامہ موجود ہیں۔
جہاں تک ناجائز طریقے سے کمائی گئی دولت بیرون ملک چھپائے جانے کا معاملہ ہے تو ماہرین معاشیات اور اقتصادیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں قومی خزنے سے لوٹی گئی دولت کا 70فیصد حصہ اب بھی پاکستان میں موجود ہے جبکہ اس کا صرف30فیصد حصہ پاکستان سے باہر ہے۔ایک اندازے کے مطابق،پاکستان سے لوٹ کر اور ٹیکس چوری کرکے تقریباً 50 ارب ڈالر بیرونی ملکوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں،جبکہ کالے دھن کو سفید بنانے کے قانونی اور غیر قانونی دونوں راستے موجود ہیں،ملک میںکالے دھن کا حجم20ہزار ارب روپے بتایاجات ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق ہنڈی اورحوالہ کے ذریعے ایک سال میں 30 ارب ڈالر بیرون ملک جاتے ہیں،جس کے کوئی شواہد نہیں ملتے ہیں۔
ایک ایسے ملک میںجو 90 ارب ڈالر کا مقروض ہو،اتنی بھاری رقم کی چوری کوئی ایسی بات نہیں جسے نظر انداز کردیاجائے کیونکہ ملک پر موجود قرضوں کے بوجھ کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتاہے اور وہ اسے بھگت رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے سفید پوشی برقرار رکھنا اور اپنے اہل خانہ کے لیے دووقت کی روٹی کاانتظام کرنا مشکل تر ہوتا جارہاہے ۔
ملک کی 45 فیصد آبادی غربت کی لیکر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں،امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہورہا ہے،پبلک مقامات میں عوام حکمرانوں کو چور ڈاکو کے خطاب سے پکارتے ہیں،1948ء سے2007ء تک ملک پر6 ہزار748روپے کا قرضہ تھا لیکن 2008ء سے 2013ء کے دوران 14ہزار ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا ہے جبکہ موجودہ دور حکومت کے دورانیے میں سوا6 ارب ڈالر کا قرضہ لیا جاچکا ہے،ان اعدادو شمار کے مطابق دور جمہوریت میں قرضہ کی شرح میں مزید اضافہ ہوا اور اس کاخمیازہ بھی ا س ملک کے غریب عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
ماہر معاشیات شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لوٹی ہوئی 70فیصدملکی دولت کے اثاثوں کا تعین کیا جاسکتاہے۔ اگر حکومت کالے دھن کے خاتمے اور قومی دولت لوٹنے والوں کی سرکوبی پر واقع تیار ہو توٹیکس چوری کے ذریعے اثاثے بنانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاسکتی ہے ان کو قانون کے کٹہرے میں لاکر ان کے ان غیر قانونی اثاثوں اورملکی اور غیر ملکی بینکوں میں موجود ان کی دولت ان پر مروجہ قوانین کے تحت ٹیکس وصول کیا جاسکتا ہے اور قانون کے تحت کارروائی کی جائے تو اگلے مالی سال میں تقریباً 2 ہزار ارب روپے کی وصولی ممکن ہے لیکن ایسا کرنے کے لیے خود حکومت کو یہ ثابت کرناہوگا کہ اس کے ہاتھ صاف ہیں۔
ارباب حکومت کو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ عوام لاشعور نہیں ہیں بلکہ باشعور ہوچکے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ حکمراں اقتدار میں پیسہ بنانے آتے ہیں،جس کی وجہ سے انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آئوٹ کم ہوتاجارہا ہے اورعوام حقیقی جمہوریت سے محروم ہیں۔


متعلقہ خبریں


شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر راس العین میں ترکی کے فضائی حملے میں شہریوں اور صحافیوں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بتایا کہ یہ حملہ شمالی شام کے علاقے القاشملی سے راس العین میں یکجہتی کے لیے آنے والے ایک گروپ پر کیا گیا۔شام میں کردوں کی نمایندہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز'ایس ڈی ایف' کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے "سویلین قافلے" پر حمل...

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

2017 تک تاشپولات طیپ ایک جانے پہچانے معلم اور سنکیانگ یونیورسٹی کے سربراہ تھے، ان کے دنیا بھر میں رابطے تھے جبکہ انھوں نے فرانس کی مشہور پیرس یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔لیکن اسی برس وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے لاپتہ ہو گئے اور اس حوالے سے چینی حکام مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان کے دوستوں کا خیال ہے کہ پروفیسر طیپ کو علیحدگی کی تحریک چلانے کا ملزم قرار دیا گیا، ان پر خفیہ انداز میں مقدمہ چلا اور بعدازاں اس جرم کی پاداش میں انھیں سزائے موت دے دی گئی۔پروف...

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دے دی ہے اور وہ ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔قبل ازیں تیونس کے موزیق ایف ریڈیو نے پولنگ کمپنی امرود کے ایگزٹ پول کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی امیدوار قیس سعید نے 72.53 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ایک اور فرم سگما کنسلٹنگ کے ایگزٹ پول کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید نے اپنے حریف کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور ...

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

کیلیفورنیا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس امریکی ریاست کے شہری اب سنہ 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔اخبار سان فرانسیسکو کرانیکل کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید...

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، 2011 سے 2018 کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 424 افراد غیرت کی بھینٹ چڑھے۔پنجاب پولیس کی جانب سے مرتب شدہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیگ سنگھ اور چنیوٹ کے علاقوں پر مشتمل فیصل آباد ریجن غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں سر فہرست رہا جہاں گزشتہ آٹھ سال کے دوران 527 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سرگودھا ریجن میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے علاقے شامل ہیں، 338 مقدمات کے س...

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

خوش شکل اور خوش لباس حدیقہ کیانی کا شمار پاکستان میں پاپ موسیقی کی گنی چنی کامیاب گلوکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ہم عصر مرد گلوکاروں کو فن کے میدان میں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ حدیقہ کیانی نے ایک انٹرویو میں اپنی نجی زندگی سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے۔روایتی آلات موسیقی اور جدید میوزک کے دلآویز امتزاج سے گلوکارہ حدیقہ کیانی 1995ء سے 2017ء تک مسحور کن آواز اور مدھر دھنوں سجے اپنے البمز ’راز، روشنی، رنگ، رف کٹ، آسمان اور وجد‘ سے اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کر رہی ہیں۔نفسیا...

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہاہے آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے،اگر سندھ میں معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو یہ آخری آپشن ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے نجی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جمہوری اقدار میں ہر ایک کو احتجاج کا حق ہے،اس وقت حکومت دنیا بھر میں کشمیریوں کے حقوق اور آزادی کا مقدمہ لڑ رہی ہے،ان تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو دھرنا نہیں دینا چاہیئے،مولاناکواپنے ف...

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،موکل نے کسی معززجج کیخلاف تعصب یاذاتی عناد کاالزام نہیں لگایا، فل کورٹ اورالگ ہونے والے ججز پرکوئی اعتراض نہیں، اعلی عدلیہ کے ججز پر دبائو ڈالنا اس کیس کی جان ہے، لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے 2004 میں لیا، پہلا فلیٹ خریدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسی جج بنے، دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں ج...

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل

مضامین
تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار