... loading ...
وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ سوئٹزرلینڈ لوٹی ہوئی پاکستانی دولت کے بارے میں معلومات دینے پر تیار ہو گیا ہے اور اس حوالے سے معاہدے پر دستخط کے لیے ایک وفد 21 مارچ کو سوئٹزرلینڈ جائے گا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان 2005ء سے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات کررہا ہے، سوئٹزرلینڈ نے معاہدے کے عوض ٹیکسوں میں مراعات اور خود کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ مانگاتھا، تاہم پاکستان نے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کیااوراب سوئٹزرلینڈ نے ہماری شرائط پر دوبارہ معاہدے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ وزیر خزانہ نے اجلاس کویہ بھی بتایا کہ پاکستان 14 ستمبر 2016ء کو آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) کے ساتھ ٹیکس معاملات کے حوالے سے ایک کنونشن (Multilateral Convention on Tax Matters) پر بھی دستخط کرچکا ہے، جو اگلے برس فعال ہوگا۔پاکستان او ای سی ڈی کا 104 واں رکن ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کنونشن کے فعال ہونے کے بعد رکن ممالک میں ٹیکس چوری کے پیسے رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔واضح رہے کہ سوئٹرز لینڈ کو دنیا بھر کے لوگ اپنے اپنے ممالک سے کرپشن ، ٹیکس چوری اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن چھپانے کے لیے پسند کرتے ہیں اور وہاں کے بینک اس حوالے سے عالمگیر شہرت رکھتے ہیں۔2015ء میں جرمنی کے ایک اخبار کے تفتیشی رپورٹر کو کسی نامعلوم ذریعے نے، جس نے اب تک سامنے آنے کی جرأت نہیں کی ہے، سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں موجود کالے دھن اور اس کی مدد سے پانامہ میں قائم کی گئی آف شور کمپنیوں کے بارے میں خفیہ ڈیٹا فراہم کردیا یہ ڈیٹا اتنا زیادہ تھا کہ اس رپورٹر کو اس کی چھان بین اور اس کے قابل اشاعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹ نامی ایک امریکی صحافتی گروپ کی مدد حاصل کی، جس کے بعد مختلف بین الاقوامی شہرت کے اخبارات کے ساتھ مل کر پانامہ یپرز کا انکشاف کیاتھا ،سوئٹزرلینڈ کے بینک کے افشا ہونے والے راز وں سے ظاہر ہوتاہے کہ اس میں اپنی دولت رکھنے کے حوالے سے پاکستان 48 واں بڑا ملک ہے۔دوسری جانب گزشتہ برس سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک (سوئس نیشنل بینک) کی جانب سے جارہ کردہ سوئس بینکوں کے سالانہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہریوں کے تقریباً 1.5 ارب سوئس فرانکس سوئس بینکوں میں موجود ہیں اور اس اعتبار سے پاکستان کا 69 واں نمبر ہے۔
پانامہ پیپرز کے انکشاف کے بعد پوری دنیا میںہلچل مچ گئی تھی، یہاں تک کہ اس وقت کے برطانیہ کے وزیر اعظم کو بھی اپنے حسابات کے گوشوارے عوام کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہونا پڑاتھا ، پانامہ پیپرز میں وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں اور چہیتی بیٹی کانام بھی آیاتھا ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعظم حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اس حوالے سے اطمینان بخش وضاحت پیش کرتے لیکن وزیر اعظم نے ایسا کرنے کے بجائے خود کو اس تمام معاملے سے بری الذمہ اور پارسا ثابت کرنے کے لیے پہلے قومی اسمبلی کے فلور پر غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے عوام کے غم وغصے کو کم کرنے کی کوشش کی، لیکن اپوزیشن اس پر مطمئن نہیں ہوئی۔ نتیجتاً یہ تمام معاملہ سپریم کورٹ لے جایاگیا جہاں فریقین کے بیانات اور دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیاجاچکا ہے۔ اس لیے اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا نہ صرف قبل از وقت ہوگا بلکہ عدالتی معاملات پر قیاس آرائی صحافتی اقدار کے بھی منافی ہوگی ۔ اس لیے اس معاملے کو عدالتی فیصلے تک مؤخر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سے یہ سوال تو کیاجاسکتاہے کہ اگرچہ یہ بات خوش آئند ہے کہ سوئٹزرلینڈ لوٹی ہوئی پاکستانی دولت کے حوالے سے تفصیلات اور معلومات فراہم کرنے پر تیار ہوگیاہے اور اس طرح اب ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جمع کرنے اور اس کے ذریعے عیاشیاںکرنے والے سفید پوش لٹیروں کو قانون کے دائرے میں لانا آسان ہوجائے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام تر معلومات حاصل ہونے کے بعد بھی کیا حکومت اپنے من پسند ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں اور وزرا کے خلاف کارروائی کرنے پرتیا ر ہوگی، اگر حکومت اس طرح کی کارروائی میں سنجیدہ ہوتی تو اب تک جن لوگوں کے بیرون ملک اکائونٹس کی تصدیق ہوچکی ہے حکومت نے ان کو اپنی یہ رقم واپس لانے پر مجبور کرنے کے لیے کیا کارروائی کی ۔ وزیر خزانہ نے اسمبلی میں سوئس حکومت کی رضامندی کی خبر بتاکر شاید یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت بیرون ملک جمع غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ دولت واپس لانے میں سنجیدہ ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے، اگر حکومت اس معاملے میں ذرا بھی سنجیدہ ہوتی تو وہ کم از کم اپنے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کی بیرون ملک جمع دولت تو واپس لاہی سکتی تھی، اگر ہمارے وزیر خزانہ بیرون ملک جمع دولت واپس پاکستان لانے میں سنجیدہ ہیں تو وہ ابتدا اپنی ذات سے کریں اور اپنی اور پنے بچوں کی بیرون ملک جمع تمام دولت پاکستان واپس لائیں اور اپنے بچوں کو بیرون ملک کاروبار سمیٹ کر پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کی ہدایت دیں اب جبکہ خود وزیر خزانہ کے قول کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع وسیع ہورہے ہیںاور غیر ملکی کمپنیاں اپنے سرمائے پر بھاری اور پرکشش منافع کمارہی ہیں تو وزیر خزانہ اور ہمارے وزیر اعظم اپنے بچوں کے بیرون ملک کاروبار کو تحفظ دینے کی سعی کیوں کررہے ہیں۔
اگر ہمارے وزیر خزانہ ، اور وزیر اعظم اپنی بیرون ملک جمع تمام دولت اور اثاثے پاکستان منتقل کردیں تو یہ ایک ایسی مثال ہوگی جس کی بنیاد پر بیرون ملک اثاثے رکھنے والے دیگر متمول افراد کو بھی اپنی دولت اور اثاثے پاکستان منتقل کرنے پر مجبور کیاجاسکے گا، لیکن چونکہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اثاثوں کی پاکستان واپسی کی ابتداخود اپنی ذات اور اپنے خاندان سے کرنے سے گریزاں ہیں اس لیے یہ ظاہر ہوتاہے کہ اس حوالے سے ان کے تمام بیانات عوام کو بیوقوف بنانے اوران کی توجہ اصل مسائل اوراپوزیشن کی جانب سے حکومت اور ارباب حکومت پر لگائے جانے والے الزامات سے ہٹانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
جہاں تک پانامہ لیکس کا معاملہ ہے چونکہ یہ معاملہ ابھی تک عدلیہ کے ہاتھ میں ہے اس بارے میں کوئی رائے زنی مناسب نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اس میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ملوث تمام ارکان کا محاسبہ نہیں ہوگا عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ تمام پارٹیاں پانامہ پیپرز کے معاملے پر سیاست کررہی ہیں اور عوام کو بیوقوف بنارہی ہیں، کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے ہر قدم پر لاکھوں پانامہ موجود ہیں۔
جہاں تک ناجائز طریقے سے کمائی گئی دولت بیرون ملک چھپائے جانے کا معاملہ ہے تو ماہرین معاشیات اور اقتصادیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں قومی خزنے سے لوٹی گئی دولت کا 70فیصد حصہ اب بھی پاکستان میں موجود ہے جبکہ اس کا صرف30فیصد حصہ پاکستان سے باہر ہے۔ایک اندازے کے مطابق،پاکستان سے لوٹ کر اور ٹیکس چوری کرکے تقریباً 50 ارب ڈالر بیرونی ملکوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں،جبکہ کالے دھن کو سفید بنانے کے قانونی اور غیر قانونی دونوں راستے موجود ہیں،ملک میںکالے دھن کا حجم20ہزار ارب روپے بتایاجات ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق ہنڈی اورحوالہ کے ذریعے ایک سال میں 30 ارب ڈالر بیرون ملک جاتے ہیں،جس کے کوئی شواہد نہیں ملتے ہیں۔
ایک ایسے ملک میںجو 90 ارب ڈالر کا مقروض ہو،اتنی بھاری رقم کی چوری کوئی ایسی بات نہیں جسے نظر انداز کردیاجائے کیونکہ ملک پر موجود قرضوں کے بوجھ کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتاہے اور وہ اسے بھگت رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے سفید پوشی برقرار رکھنا اور اپنے اہل خانہ کے لیے دووقت کی روٹی کاانتظام کرنا مشکل تر ہوتا جارہاہے ۔
ملک کی 45 فیصد آبادی غربت کی لیکر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں،امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہورہا ہے،پبلک مقامات میں عوام حکمرانوں کو چور ڈاکو کے خطاب سے پکارتے ہیں،1948ء سے2007ء تک ملک پر6 ہزار748روپے کا قرضہ تھا لیکن 2008ء سے 2013ء کے دوران 14ہزار ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا ہے جبکہ موجودہ دور حکومت کے دورانیے میں سوا6 ارب ڈالر کا قرضہ لیا جاچکا ہے،ان اعدادو شمار کے مطابق دور جمہوریت میں قرضہ کی شرح میں مزید اضافہ ہوا اور اس کاخمیازہ بھی ا س ملک کے غریب عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
ماہر معاشیات شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لوٹی ہوئی 70فیصدملکی دولت کے اثاثوں کا تعین کیا جاسکتاہے۔ اگر حکومت کالے دھن کے خاتمے اور قومی دولت لوٹنے والوں کی سرکوبی پر واقع تیار ہو توٹیکس چوری کے ذریعے اثاثے بنانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاسکتی ہے ان کو قانون کے کٹہرے میں لاکر ان کے ان غیر قانونی اثاثوں اورملکی اور غیر ملکی بینکوں میں موجود ان کی دولت ان پر مروجہ قوانین کے تحت ٹیکس وصول کیا جاسکتا ہے اور قانون کے تحت کارروائی کی جائے تو اگلے مالی سال میں تقریباً 2 ہزار ارب روپے کی وصولی ممکن ہے لیکن ایسا کرنے کے لیے خود حکومت کو یہ ثابت کرناہوگا کہ اس کے ہاتھ صاف ہیں۔
ارباب حکومت کو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ عوام لاشعور نہیں ہیں بلکہ باشعور ہوچکے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ حکمراں اقتدار میں پیسہ بنانے آتے ہیں،جس کی وجہ سے انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آئوٹ کم ہوتاجارہا ہے اورعوام حقیقی جمہوریت سے محروم ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...
بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...
امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...
ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...
بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...
رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...
بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...
سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...
اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...
کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...
اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...
مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...