وجود

... loading ...

وجود

وفاقی وزیر خزانہ اپنے خاندان کی دولت وطن واپس لاکر ابتدا کیوں نہیں کرتے؟

هفته 11 مارچ 2017 وفاقی وزیر خزانہ اپنے خاندان کی دولت وطن واپس لاکر ابتدا کیوں نہیں کرتے؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے گزشتہ روز قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ سوئٹزرلینڈ لوٹی ہوئی پاکستانی دولت کے بارے میں معلومات دینے پر تیار ہو گیا ہے اور اس حوالے سے معاہدے پر دستخط کے لیے ایک وفد 21 مارچ کو سوئٹزرلینڈ جائے گا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان 2005ء سے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات کررہا ہے، سوئٹزرلینڈ نے معاہدے کے عوض ٹیکسوں میں مراعات اور خود کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ مانگاتھا، تاہم پاکستان نے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کیااوراب سوئٹزرلینڈ نے ہماری شرائط پر دوبارہ معاہدے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ وزیر خزانہ نے اجلاس کویہ بھی بتایا کہ پاکستان 14 ستمبر 2016ء کو آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (او ای سی ڈی) کے ساتھ ٹیکس معاملات کے حوالے سے ایک کنونشن (Multilateral Convention on Tax Matters) پر بھی دستخط کرچکا ہے، جو اگلے برس فعال ہوگا۔پاکستان او ای سی ڈی کا 104 واں رکن ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کنونشن کے فعال ہونے کے بعد رکن ممالک میں ٹیکس چوری کے پیسے رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔واضح رہے کہ سوئٹرز لینڈ کو دنیا بھر کے لوگ اپنے اپنے ممالک سے کرپشن ، ٹیکس چوری اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن چھپانے کے لیے پسند کرتے ہیں اور وہاں کے بینک اس حوالے سے عالمگیر شہرت رکھتے ہیں۔2015ء میں جرمنی کے ایک اخبار کے تفتیشی رپورٹر کو کسی نامعلوم ذریعے نے، جس نے اب تک سامنے آنے کی جرأت نہیں کی ہے، سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں موجود کالے دھن اور اس کی مدد سے پانامہ میں قائم کی گئی آف شور کمپنیوں کے بارے میں خفیہ ڈیٹا فراہم کردیا یہ ڈیٹا اتنا زیادہ تھا کہ اس رپورٹر کو اس کی چھان بین اور اس کے قابل اشاعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹ نامی ایک امریکی صحافتی گروپ کی مدد حاصل کی، جس کے بعد مختلف بین الاقوامی شہرت کے اخبارات کے ساتھ مل کر پانامہ یپرز کا انکشاف کیاتھا ،سوئٹزرلینڈ کے بینک کے افشا ہونے والے راز وں سے ظاہر ہوتاہے کہ اس میں اپنی دولت رکھنے کے حوالے سے پاکستان 48 واں بڑا ملک ہے۔دوسری جانب گزشتہ برس سوئٹزرلینڈ کے مرکزی بینک (سوئس نیشنل بینک) کی جانب سے جارہ کردہ سوئس بینکوں کے سالانہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہریوں کے تقریباً 1.5 ارب سوئس فرانکس سوئس بینکوں میں موجود ہیں اور اس اعتبار سے پاکستان کا 69 واں نمبر ہے۔
پانامہ پیپرز کے انکشاف کے بعد پوری دنیا میںہلچل مچ گئی تھی، یہاں تک کہ اس وقت کے برطانیہ کے وزیر اعظم کو بھی اپنے حسابات کے گوشوارے عوام کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہونا پڑاتھا ، پانامہ پیپرز میں وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں اور چہیتی بیٹی کانام بھی آیاتھا ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیر اعظم حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اس حوالے سے اطمینان بخش وضاحت پیش کرتے لیکن وزیر اعظم نے ایسا کرنے کے بجائے خود کو اس تمام معاملے سے بری الذمہ اور پارسا ثابت کرنے کے لیے پہلے قومی اسمبلی کے فلور پر غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے عوام کے غم وغصے کو کم کرنے کی کوشش کی، لیکن اپوزیشن اس پر مطمئن نہیں ہوئی۔ نتیجتاً یہ تمام معاملہ سپریم کورٹ لے جایاگیا جہاں فریقین کے بیانات اور دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیاجاچکا ہے۔ اس لیے اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا نہ صرف قبل از وقت ہوگا بلکہ عدالتی معاملات پر قیاس آرائی صحافتی اقدار کے بھی منافی ہوگی ۔ اس لیے اس معاملے کو عدالتی فیصلے تک مؤخر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سے یہ سوال تو کیاجاسکتاہے کہ اگرچہ یہ بات خوش آئند ہے کہ سوئٹزرلینڈ لوٹی ہوئی پاکستانی دولت کے حوالے سے تفصیلات اور معلومات فراہم کرنے پر تیار ہوگیاہے اور اس طرح اب ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جمع کرنے اور اس کے ذریعے عیاشیاںکرنے والے سفید پوش لٹیروں کو قانون کے دائرے میں لانا آسان ہوجائے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام تر معلومات حاصل ہونے کے بعد بھی کیا حکومت اپنے من پسند ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں اور وزرا کے خلاف کارروائی کرنے پرتیا ر ہوگی، اگر حکومت اس طرح کی کارروائی میں سنجیدہ ہوتی تو اب تک جن لوگوں کے بیرون ملک اکائونٹس کی تصدیق ہوچکی ہے حکومت نے ان کو اپنی یہ رقم واپس لانے پر مجبور کرنے کے لیے کیا کارروائی کی ۔ وزیر خزانہ نے اسمبلی میں سوئس حکومت کی رضامندی کی خبر بتاکر شاید یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت بیرون ملک جمع غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ دولت واپس لانے میں سنجیدہ ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے، اگر حکومت اس معاملے میں ذرا بھی سنجیدہ ہوتی تو وہ کم از کم اپنے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کی بیرون ملک جمع دولت تو واپس لاہی سکتی تھی، اگر ہمارے وزیر خزانہ بیرون ملک جمع دولت واپس پاکستان لانے میں سنجیدہ ہیں تو وہ ابتدا اپنی ذات سے کریں اور اپنی اور پنے بچوں کی بیرون ملک جمع تمام دولت پاکستان واپس لائیں اور اپنے بچوں کو بیرون ملک کاروبار سمیٹ کر پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کی ہدایت دیں اب جبکہ خود وزیر خزانہ کے قول کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع وسیع ہورہے ہیںاور غیر ملکی کمپنیاں اپنے سرمائے پر بھاری اور پرکشش منافع کمارہی ہیں تو وزیر خزانہ اور ہمارے وزیر اعظم اپنے بچوں کے بیرون ملک کاروبار کو تحفظ دینے کی سعی کیوں کررہے ہیں۔
اگر ہمارے وزیر خزانہ ، اور وزیر اعظم اپنی بیرون ملک جمع تمام دولت اور اثاثے پاکستان منتقل کردیں تو یہ ایک ایسی مثال ہوگی جس کی بنیاد پر بیرون ملک اثاثے رکھنے والے دیگر متمول افراد کو بھی اپنی دولت اور اثاثے پاکستان منتقل کرنے پر مجبور کیاجاسکے گا، لیکن چونکہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اثاثوں کی پاکستان واپسی کی ابتداخود اپنی ذات اور اپنے خاندان سے کرنے سے گریزاں ہیں اس لیے یہ ظاہر ہوتاہے کہ اس حوالے سے ان کے تمام بیانات عوام کو بیوقوف بنانے اوران کی توجہ اصل مسائل اوراپوزیشن کی جانب سے حکومت اور ارباب حکومت پر لگائے جانے والے الزامات سے ہٹانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
جہاں تک پانامہ لیکس کا معاملہ ہے چونکہ یہ معاملہ ابھی تک عدلیہ کے ہاتھ میں ہے اس بارے میں کوئی رائے زنی مناسب نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اس میں بالواسطہ اور بلاواسطہ ملوث تمام ارکان کا محاسبہ نہیں ہوگا عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ تمام پارٹیاں پانامہ پیپرز کے معاملے پر سیاست کررہی ہیں اور عوام کو بیوقوف بنارہی ہیں، کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے بڑے شہروں کے ہر قدم پر لاکھوں پانامہ موجود ہیں۔
جہاں تک ناجائز طریقے سے کمائی گئی دولت بیرون ملک چھپائے جانے کا معاملہ ہے تو ماہرین معاشیات اور اقتصادیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں قومی خزنے سے لوٹی گئی دولت کا 70فیصد حصہ اب بھی پاکستان میں موجود ہے جبکہ اس کا صرف30فیصد حصہ پاکستان سے باہر ہے۔ایک اندازے کے مطابق،پاکستان سے لوٹ کر اور ٹیکس چوری کرکے تقریباً 50 ارب ڈالر بیرونی ملکوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں،جبکہ کالے دھن کو سفید بنانے کے قانونی اور غیر قانونی دونوں راستے موجود ہیں،ملک میںکالے دھن کا حجم20ہزار ارب روپے بتایاجات ہے،ایک محتاط اندازے کے مطابق ہنڈی اورحوالہ کے ذریعے ایک سال میں 30 ارب ڈالر بیرون ملک جاتے ہیں،جس کے کوئی شواہد نہیں ملتے ہیں۔
ایک ایسے ملک میںجو 90 ارب ڈالر کا مقروض ہو،اتنی بھاری رقم کی چوری کوئی ایسی بات نہیں جسے نظر انداز کردیاجائے کیونکہ ملک پر موجود قرضوں کے بوجھ کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتاہے اور وہ اسے بھگت رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے سفید پوشی برقرار رکھنا اور اپنے اہل خانہ کے لیے دووقت کی روٹی کاانتظام کرنا مشکل تر ہوتا جارہاہے ۔
ملک کی 45 فیصد آبادی غربت کی لیکر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں،امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہورہا ہے،پبلک مقامات میں عوام حکمرانوں کو چور ڈاکو کے خطاب سے پکارتے ہیں،1948ء سے2007ء تک ملک پر6 ہزار748روپے کا قرضہ تھا لیکن 2008ء سے 2013ء کے دوران 14ہزار ارب ڈالر کا قرضہ چڑھ چکا ہے جبکہ موجودہ دور حکومت کے دورانیے میں سوا6 ارب ڈالر کا قرضہ لیا جاچکا ہے،ان اعدادو شمار کے مطابق دور جمہوریت میں قرضہ کی شرح میں مزید اضافہ ہوا اور اس کاخمیازہ بھی ا س ملک کے غریب عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
ماہر معاشیات شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لوٹی ہوئی 70فیصدملکی دولت کے اثاثوں کا تعین کیا جاسکتاہے۔ اگر حکومت کالے دھن کے خاتمے اور قومی دولت لوٹنے والوں کی سرکوبی پر واقع تیار ہو توٹیکس چوری کے ذریعے اثاثے بنانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لاسکتی ہے ان کو قانون کے کٹہرے میں لاکر ان کے ان غیر قانونی اثاثوں اورملکی اور غیر ملکی بینکوں میں موجود ان کی دولت ان پر مروجہ قوانین کے تحت ٹیکس وصول کیا جاسکتا ہے اور قانون کے تحت کارروائی کی جائے تو اگلے مالی سال میں تقریباً 2 ہزار ارب روپے کی وصولی ممکن ہے لیکن ایسا کرنے کے لیے خود حکومت کو یہ ثابت کرناہوگا کہ اس کے ہاتھ صاف ہیں۔
ارباب حکومت کو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ عوام لاشعور نہیں ہیں بلکہ باشعور ہوچکے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ حکمراں اقتدار میں پیسہ بنانے آتے ہیں،جس کی وجہ سے انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آئوٹ کم ہوتاجارہا ہے اورعوام حقیقی جمہوریت سے محروم ہیں۔


متعلقہ خبریں


پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر وجود - اتوار 17 مئی 2026

حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم وجود - اتوار 17 مئی 2026

اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف وجود - اتوار 17 مئی 2026

عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم وجود - اتوار 17 مئی 2026

نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم

حکومت آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر،بجلی ، گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی وجود - هفته 16 مئی 2026

توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...

حکومت آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر،بجلی ، گیس مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،شہری شدید مشکلات کا شکار وجود - هفته 16 مئی 2026

کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...

کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا،شہری شدید مشکلات کا شکار

کھانا پینا بالکل ختم ، جہاز کا گندا پانی پی رہے ہیں،صومالی قزاقوں کا پاکستانیوں پر ظلم وجود - هفته 16 مئی 2026

صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...

کھانا پینا بالکل ختم ، جہاز کا گندا پانی پی رہے ہیں،صومالی قزاقوں کا پاکستانیوں پر ظلم

اسرائیل نے لبنان میں معصوم پھولوں کو نشانے پر رکھ لیا( 200سے زائد بچے شہید) وجود - هفته 16 مئی 2026

لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...

اسرائیل نے لبنان میں معصوم پھولوں کو نشانے پر رکھ لیا( 200سے زائد بچے شہید)

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو وجود - جمعه 15 مئی 2026

عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...

حکومت ہمارے بغیر بجٹ منظور نہیں کراسکتی(28 ویں ترمیم سامنے آنے پر ردعمل دوں گا ،بلاول بھٹو

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم وجود - جمعه 15 مئی 2026

وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...

بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائیگا،صدر،وزیراعظم

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی وجود - جمعه 15 مئی 2026

علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...

عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کیخلاف پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئی

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی وجود - جمعه 15 مئی 2026

ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...

ایران کیخلاف سازش کرنیوالوں کااحتساب ہو گا،عباس عراقچی

مضامین
یہ کارکردگی ہے ؟ وجود اتوار 17 مئی 2026
یہ کارکردگی ہے ؟

سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج وجود اتوار 17 مئی 2026
سربراہی ملاقات میں باڈی لینگویج

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی وجود اتوار 17 مئی 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی

فرق وجود هفته 16 مئی 2026
فرق

زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں! وجود هفته 16 مئی 2026
زندگی کا یہ سبق یاد رکھیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر