وجود

... loading ...

وجود

پاک افغان سرحد کی بندش:کیا دہشت گردی کی روک تھام میں مددملے گی؟

بدھ 08 مارچ 2017 پاک افغان سرحد کی بندش:کیا دہشت گردی کی روک تھام میں مددملے گی؟

پاکستان نے گزشتہ ماہ کے اوائل میں ہونے والے مختلف دہشت گرد واقعات کے بعد 16 فروری کو دونوں ملکوں کے درمیان طورخم اورچمن کے مقام پر مرکزی سرحدی گزرگاہ کوبند کر دیا تھا۔جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت جمود کاشکار ہوکر رہ گئی ہے ،اس کے علاوہ اس کی وجہ سے مختلف ضروریات کے تحت افغانستان سے پاکستان آئے ہوئے ہزاروں افغان باشندے بھی پاکستان میں پھنس کررہ گئے ہیں۔
تازہ پیش رفت یہ ہے کہ پاک-افغان سرحد گزشتہ روز2دن کے لیے کھول دی گئی ہے۔قبل ازیںدفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاک-افغان سرحد کو 7 اور 8 مارچ کو کھولا جائے گا۔ ایک ہفتہ قبل افغان ڈپٹی کمانڈر اِن چیف جنرل مراد علی مراد نے 27 فروری کو افغان دفتر خارجہ میں پاکستانی سفیر ابرار حسین سے ملاقات کے دوران پاکستان سے سرحد کھولنے کی درخواست کی۔ملاقات کے بعد یکم مارچ کو پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ جنرل مراد نے سرحد کھولنے کی درخواست کی، جب کہ انہوں نے ہماری فراہم کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی وعدہ کیا۔
محدود مدت کے لیے سرحد کھولے جانے کے بعد ویزا رکھنے والے افغان اور پاکستانی شہری دونوں ممالک کی جانب سفر کرسکیں گے تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق سرحد پر تجارتی سرگرمیاں بدستور بند رہیں گی، جب کہ پیدل چلنے والے مسافر بھی شام 5 بجے تک آمد و رفت جاری رکھ سکیں گے۔خیال رہے کہ ملک میں دہشت گردی کے پیش آنے والے حالیہ واقعات میں سے کئی کی ذمہ داری ’جماعت الاحرار‘ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا، جس کی قیادت افغانستان میں موجود ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحد کو بند رکھنے سے پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا ، اس سے نہ صرف عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔تاہم سرحد کی بندش پر سب سے زیادہ برہم افغان حکمراں نظر آتے ہیں جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ حکومت کو سرحد جلد کھولنے پر مجبور کرنے کیلئے پاکستان میں افغان سفیرسفارتکاری کے آداب فراموش کرکے دھمکیوں پر اتر آئے ہیں اور انھوں نے پاکستان میں پھنسے افغانیوں کو افغانستان پہنچانے کیلئے طیارے منگوانے کی دھمکی دی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی راستے گزشتہ دو ہفتوں سے زائد عرصے سے بند ہیں اور کابل کی طرف سے متعدد بار انہیں کھولنے کے مطا لبات کے باوجود ان کے معمول کے مطابق بحالی کا کوئی فوری امکان نظر نہیں آتا ہے۔ شائع شدہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی گزر گاہوں کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک سرحد کے ساتھ واقع علاقوں سے دہشت گردی میں ملوث عناصر کا مکمل صفایا نہیں کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہناہے کہ افغانستان کے ساتھ ملک کی سرحد کو بند کیے جانے کا اقدام سلامتی کے نقطہ نظر سے کیا گیا تھا اور جلد ہی یہ سرحدی راستے کھول دیے جائیں گے۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش کا تعلق سلامتی سے متعلق معاملات سے ہوتا ہے اور ماضی میں بھی ایسے ہی اقدام کیے جاتے رہے ہیں۔ “جب آپ کے ہاں اتنے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں دہشت گردی کے اور اس پر یہ اشارہ ہو کہ اس کا تانا بانا وہاں (افغانستان) سے ملتا ہے تو آپ کو اس پر اقدام کرنا ہوتا ہے۔ وہ ایک عارضی اقدام تھا۔ اب امید ہے کہ جلد ہی راستے کھول دیے جائیں گے، ہم تو چاہتے ہیں کہ عوام کو تکلیف نہ ہو اور دونوں طرف سے عوام کا آنا جانا ٹھیک ہو۔”
سرحد کی اس بندش پر افغانستان کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے اورچند روز قبل اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال نے اپنے فیس بک پیج پر ایک بیان میں یہ کہا تھاکہ سرحد دو تین روز میں مکمل طور پر کھل جائے گی۔تاہم ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر آئندہ چند روز میں سرحدی راستے نہ کھولے گئے تو وہ پاکستان میں پھنسے ہزاروں افغانوں کو وطن واپس لے جانے کے لیے اپنی حکومت سے خصوصی طیارے بھیجنے کی درخواست کریں گے۔ فیس بک پر اپنے ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ان راستوں کی بندش کے معاملے کو انھوں نے پاکستان کی فوجی و سول قیادت کے سامنے اٹھایا لیکن اس بابت انھیں کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں مل سکی۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کہنا کہ ان گزرگاہوں کو بند کیا جانا دہشت گردوں کی سرحد پر نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ضروری ہے، کوئی وزن نہیں رکھتا کیونکہ طورخم اور اسپین بولدک کی سرحدی گزرگاہوں پر سیکڑوں فوجی اور دیگر سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں اور جانچ کا ایک بنیادی ڈھانچہ یہاں موجود ہے۔”انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان نقل و حرکت کے قانونی راستوں کی بندش کی اس کے سوا کوئی وضاحت نہیں ہو سکتی کہ یہ “عام افغانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔” تاہم ان کے بقول اس سے زیادہ نقصان دو طرفہ تجارت کو پہنچ رہا ہے جس میں پاکستان زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔سفیر زخیلوال کے بقول انھوں نے پاکستانی رہنماؤں کو آگاہ کیا تھا کہ تقریباً 25 ہزار افغان جن میں اکثریت غریب لوگوں کی ہے، ویزوں کے ساتھ علاج و معالجے یا دیگر کاموں کے لیے پاکستان آئے اور سرحد کی بندش سے یہاں دو ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں۔”
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے سرکاری ٹی وی سے ایک انٹرویو میں کہا تھاکہ سرحد پر نگرانی کا موثر نظام دونوں ملکوں کے مفاد میں اور افغانستان کو پاکستانی اقدام کا خیرمقدم کرنا چاہیے تھا۔
مبصرین بھی یہ کہتے آ رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کو تناؤ میں کمی کے لیے مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اعتماد کو فروغ دینے کے اقدام کرنے چاہئیں۔پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ اور تجزیہ کار ڈاکٹر اعجاز خٹک نے وائس آف امریکا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کو افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔
افغان سفیر نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والی اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کے دوران بھی سرحدی راستوں کی بندش کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی انھیں کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔فیس بک پر اپنے پیغام میں انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ تجارتی راستوں کی بندش حال ہی میں ہونے والی اقتصادی تعاون تنظیم اجلاس کے رابطوں کے فروغ کے پیغام سے متصادم ہے۔اس بندش سے جہاں تجارتی
قافلوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ہے وہیں ہزاروں عام شہریوں کی نقل و حرکت میں بھی خلل پڑاہے۔
افغانستان میں انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’’افغانستان ہیومن رائٹس آرگنائزیشن‘‘ کے سربراہ لعل گل لعل نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرحد کی بندش کاروباری افراد اور عام لوگوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے دونوں طرف لوگ جو قانونی دستاویزات کے ساتھ موجود ہیں اگر انہیں آنے جانے کی اجازت نہیں ملے گی توان کیلئے بڑا مسئلہ پیداہوگا ۔ “انہوں نے کہا موجودہ صورت حال دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے اور یہ معاملہ افہام و تفہیم سے ہی حل ہو سکتا ہے۔” میرے خیال میں اس سے مسائل اور بڑھ جائیں گے ، پاکستان (افغانستان ) یہ مسئلہ بات چیت سے سفارتی سطح پر حل کریں۔ اگر یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی سطح پر حل ہو تو یہ بہت اچھا ہو گا۔”دوسری طرف بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اے زیڈ ہلالی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ دونوں ملک کے باہمی معاملات بات چیت سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔” دونوں ملکوں کے عسکری اور سیاسی اداروں کو چاہیے کہ ایک طریقہ کار وضع کریں اور دونوں حکومتیں اس کے لیے لائحہ عمل تیار کریںاور دونوں ملکوں کی حکومتوں کو چاہیے کہ مختلف سطح پر باہمی معاملات کو حل کرنے کے لیے رابطہ کریں۔پاکستان میں حکام کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں مبینہ طور پر روپوش شر پسند عناصر سرحد پر واقع بعض غیر محفوظ داخلی راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف افغانستان بھی اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود بعض عناصر ان کے ملک میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔ڈاکٹر ہلالی کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے باہمی تحفظات اعلیٰ سطحی رابطوں سے ہی حل ہو سکتے ہیں اور ان کے بقول اگر اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہو تو اس سے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب افغانستان کے ٹرانسپورٹرز کی ایک نمائندہ تنظیم نے بھی پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طورخم اور چمن کی سرحدی گزرگاہوں کو آمد و رفت کے لیے کھول دیں کیونکہ ان کی بندش خاص طور پر سامان تجارت لانے اور لے جانے والوں کے لیے شدید مالی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔پیر کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد نور احمد زئی نے کہا کہ دس روز سے زائد عرصے سے ان راستوں کے بندش سے جہاں عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے وہیں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت سے منسلک افراد کو کروڑوں کا نقصان ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے دونوں جانب سبزیوں، پھلوں، پولٹری اور دیگر اشیا سے لدے ٹرک کئی روز سے کھڑے ہیں جس سے اس سامان کے ناکارہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

نور احمدزئی نے پاکستان اور افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل سفارتی اور سیاسی ذریعے سے افہام و تفہیم سے حل کریں کیونکہ دونوں ہمسایہ ملک ہیں جنہیں بالآخر ایک ساتھ ہی رہنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کی طرف سے دہائیوں تک افغان پناہ گزینوں کی میزبانی پر ممنون ہیں لیکن اب دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ان افغان شہریوں سے اچھا سلوک روا نہیں رکھا جا رہا جو کہ کسی طور بھی مناسب بات نہیں ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی حکام اس حوالے سے کب اور کیافیصلہ کرتے ہیں۔

تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر