... loading ...
بھارت میں ایک بیس سالہ لڑکی گر مہر کور کو کئی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کیوں کہ اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اسٹوڈنٹ ونگ کو کالجوں میں مبینہ طور پر تشدد کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔بھارت میں کئی حلقوں کی جانب سے کور پر اس لیے بھی تنقید کی جا رہی ہے کیوں کہ اس نے بی جے پی کے اسٹوڈنٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ( اے بی وی پی) پر تنقید کے علاوہ اپنے مرحوم والد کے حوالے سے کہا تھا، ’’ میرے والد کو پاکستان نے نہیں، جنگ نے جان سے مارا تھا۔‘‘ کور کے والد بھارتی فوج میں کپتان تھے اور 1999 میں کارگل جنگ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ کور کے اس پیغام کو شدید تنقید کا سامنا رہا۔ یہاں تک کے عالمی شہرت یافتہ بھارتی کرکٹر ورندر سہواگ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ میں نے تین مرتبہ سنچری نہیں بنائی بلکہ میرے بلے نے بنائی ہے۔‘‘ سہواگ کی یہ ٹوئٹر پوسٹ بھارت کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور کئی افراد نے اس بیس سالہ لڑکی کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
گرمہر نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ ان کے ساتھ ساتھ انکی سہیلیوں کو بھی ریپ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔دریں اثنا گرمہر کور نے سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ طلبا تنظیم اے بی وی پی کے خلاف مہم سے خود کو الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بیس سالہ طالبہ کو ٹوئٹر پر دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے کے بعد اسے گزشتہ روز پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔ جس اسٹوڈنٹ گروپ کو کور نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس پر الزام ہے کہ اس گروہ نے بھارت میں رام جَس کالج میں لڑائی اور تشدد کا آغاز اس لیے کیا تھا کیوں کہ اس کالج نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم اور جے این یو کے دو رہنماؤں کو ایک سیمینار میں شرکت کے لیے رام جس کالج مدعوکیا گیا تھا، جس کی اے بی وی پی مخالفت کر رہی تھی۔عمر خالد کو تقریب میں مدعوکرنے پر حکمراں جماعت کی طلباتنظیم اے بی وی پی نے اس کالج پر بھارت مخالف سرگرمیاں کرنے کا الزام عائد کیا تھا کیوں کہ عمر خالد پر غداری کا الزام لگایا جا رہا تھا۔ گزشتہ دنوں مختلف کالجوں کے طلبہ نے نئی دہلی کی سڑکوں پرگرمہر کور کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے اور کالجوں میں تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ کور بھارت کے لیڈی شری رام کالج کی طالبہ ہیں اور اس کالج کے اساتذہ نے کور کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔گر مہر کا کہنا ہے تھا کہ “ہماری مہم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے،ہم صرف کیمپس کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔”
گُرمہرکور نے بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا،’’ مجھے سہواگ کی ٹوئٹ سے بہت دکھ پہنچا ہے کیوں کہ وہ ایک بڑے کرکٹر رہے ہیں اور اْن جیسے بڑے ناموں کو لوگ ایک مثالی شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ کور نے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر بہت سے افراد دھمکیاں دے رہے ہیں۔ یہ بہت خطرناک بات ہے کہ لوگ مجھے ریپ کرنے اور تشدد کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
کرکٹر ورندر سہواگ کے علاوہ بھارت کے یونین منسٹر اور اداکار رندیپ ہْڈا نے بھی کور کے موقف کے خلاف ٹوئٹس کی ہیں۔ بی جے پی کے ایک رہنما نے گر مہر کا موازنہ داؤد ابراہیم سے بھی کیا۔ داؤد ابراہیم کو بھارتی حکومت دہشت گرد قرار دیتی ہے۔
تاہم دہلی کے وزیر اعلیٰ گرمہر کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ اروند کیجروال نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ اے بی وی پی کی بدمعاشی اور کور کو ریپ کی دھمکیاں دینے کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔اس سلسلے میں گزشتہ روزبھارت کے دارالحکومت میں کور کی حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں۔ مختلف کالجوں کے طلبہ نے نئی دہلی کی سڑکوں پر کور کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے اور کالجوں میں تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ کور بھارت کے لیڈی شری رام کالج کی طالبہ ہیں اور اس کالج کے اساتذہ نے کور کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
دہلی کے رام جَس کالج میں دائیں بازو اور بائیں بازو کے نظریات والے طلبا کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد گرمہر کور اچانک سرخیوں میں آ گئی تھیں تاہم انھوں نے منگل کی صبح ٹویٹ کیا کہ’’ میں اس مہم سے خود کو الگ کر رہی ہوں۔ ہر کسی کو نیک خواہشات۔ میں گزارش کرتی ہوں کہ مجھے تنہا چھوڑ دیں۔ مجھے جو کہنا تھا وہ کہہ چکی ہوں۔انھوں نے مزید کہا: ‘میں کافی کچھ برداشت چکی ہوں۔ اور 20 سال کی عمر میں اس سے زیادہ نہیں جھیل سکتی۔ یہ مہم طلبا کے لیے تھی، میرے بارے میں نہیں۔ جو لوگ میری بہادری اور جرات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔۔۔ ( ان سے کہنا چاہتی ہوں) میں نے ضرورت سے زیادہ ہی ثابت کر دیا ہے۔‘‘اس کے ساتھ ہی گر مہر کور نے سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم اے بی وی پی کے خلاف گزشتہ روز منعقد ہونے والے احتجاجی مارچ میں لوگوں سے بڑی تعداد میں حصہ لینے کی بھی اپیل کی تھی۔برطانوی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاتھا کہ ‘میرے بہت سے دوستوں کو مارا پیٹا گیا تھا۔لہٰذا میں نے اپنے دوستوں کی حمایت یہ مخالفت شروع کی ہے۔
گر مہر کور دہلی کے مشہور لیڈی شری رام کالج میں پڑھتی ہیں۔ انھوں نے 22 فروری کو اپنی فیس بک پروفائل بدلی تھی جس کے بعد سے وہ سرخیوں میں ہیں۔ فیس بک ڈی پی میں گر مہر نے ایک پوسٹر اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ ‘میں دہلی یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں اور میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے نہیں ڈرتی، انڈیا کا ہر طالب علم میرے ساتھ ہے۔
اس کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے طلبا و طالبات نے #StudentsAgainstABVP کے ٹوئٹر کے ساتھ ایسا ہی پیغام لکھ کر اپنی تصویریں ڈالنی شروع کی تھیں۔گر مہر کا کہنا ہے کہ کئی بڑے لوگ میری حب الوطنی پر شک کر رہے ہیں۔ مجھے غدار کہا جارہا ہے لیکن انہیں معلوم ہی نہیں کہ اصل میں حب الوطنی ہوتی کیا ہے۔اس سے پہلے انھوں نے اسی طرح کی ایک تصویر فیس بک پر ڈالی تھی جس پر لکھا تھا کہ ‘پاکستان نے نہیں میرے والد کو جنگ نے مارا تھا‘‘۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہنگامہ بنیادی طور پر اسی پیغام پر ہے۔ اس کے بعد سے ہی گر مہر کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انھیں مبینہ طور پر ریپ کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں جس کی شکایت انھوں نے دلی میں خواتین کے کمیشن سے بھی کی ہے۔
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...
وزیراعلیٰ نے نئے مالی سال کے 48 ارب خسارے کا بجٹ پیش کردیا، کم ازکم تنخواہ 45 ہزار کرنے کی تجویز اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا دو ہزار 122 ارب روپے ...
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...