وجود

... loading ...

وجود

ہندوانتہا پسندوں کو للکارنے پر طالبہ کو ریپ کی دھمکیاں

جمعرات 02 مارچ 2017 ہندوانتہا پسندوں کو للکارنے پر طالبہ کو ریپ کی دھمکیاں

بھارت میں ایک بیس سالہ لڑکی گر مہر کور کو کئی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کیوں کہ اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اسٹوڈنٹ ونگ کو کالجوں میں مبینہ طور پر تشدد کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔بھارت میں کئی حلقوں کی جانب سے کور پر اس لیے بھی تنقید کی جا رہی ہے کیوں کہ اس نے بی جے پی کے اسٹوڈنٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ( اے بی وی پی) پر تنقید کے علاوہ اپنے مرحوم والد کے حوالے سے کہا تھا، ’’ میرے والد کو پاکستان نے نہیں، جنگ نے جان سے مارا تھا۔‘‘ کور کے والد بھارتی فوج میں کپتان تھے اور 1999 میں کارگل جنگ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ کور کے اس پیغام کو شدید تنقید کا سامنا رہا۔ یہاں تک کے عالمی شہرت یافتہ بھارتی کرکٹر ورندر سہواگ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ میں نے تین مرتبہ سنچری نہیں بنائی بلکہ میرے بلے نے بنائی ہے۔‘‘ سہواگ کی یہ ٹوئٹر پوسٹ بھارت کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور کئی افراد نے اس بیس سالہ لڑکی کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
گرمہر نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ ان کے ساتھ ساتھ انکی سہیلیوں کو بھی ریپ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔دریں اثنا گرمہر کور نے سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ طلبا تنظیم اے بی وی پی کے خلاف مہم سے خود کو الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بیس سالہ طالبہ کو ٹوئٹر پر دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے کے بعد اسے گزشتہ روز پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔ جس اسٹوڈنٹ گروپ کو کور نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس پر الزام ہے کہ اس گروہ نے بھارت میں رام جَس کالج میں لڑائی اور تشدد کا آغاز اس لیے کیا تھا کیوں کہ اس کالج نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم اور جے این یو کے دو رہنماؤں کو ایک سیمینار میں شرکت کے لیے رام جس کالج مدعوکیا گیا تھا، جس کی اے بی وی پی مخالفت کر رہی تھی۔عمر خالد کو تقریب میں مدعوکرنے پر حکمراں جماعت کی طلباتنظیم اے بی وی پی نے اس کالج پر بھارت مخالف سرگرمیاں کرنے کا الزام عائد کیا تھا کیوں کہ عمر خالد پر غداری کا الزام لگایا جا رہا تھا۔ گزشتہ دنوں مختلف کالجوں کے طلبہ نے نئی دہلی کی سڑکوں پرگرمہر کور کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے اور کالجوں میں تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ کور بھارت کے لیڈی شری رام کالج کی طالبہ ہیں اور اس کالج کے اساتذہ نے کور کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔گر مہر کا کہنا ہے تھا کہ “ہماری مہم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے،ہم صرف کیمپس کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔”
گُرمہرکور نے بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا،’’ مجھے سہواگ کی ٹوئٹ سے بہت دکھ پہنچا ہے کیوں کہ وہ ایک بڑے کرکٹر رہے ہیں اور اْن جیسے بڑے ناموں کو لوگ ایک مثالی شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ کور نے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر بہت سے افراد دھمکیاں دے رہے ہیں۔ یہ بہت خطرناک بات ہے کہ لوگ مجھے ریپ کرنے اور تشدد کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
کرکٹر ورندر سہواگ کے علاوہ بھارت کے یونین منسٹر اور اداکار رندیپ ہْڈا نے بھی کور کے موقف کے خلاف ٹوئٹس کی ہیں۔ بی جے پی کے ایک رہنما نے گر مہر کا موازنہ داؤد ابراہیم سے بھی کیا۔ داؤد ابراہیم کو بھارتی حکومت دہشت گرد قرار دیتی ہے۔
تاہم دہلی کے وزیر اعلیٰ گرمہر کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ اروند کیجروال نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ اے بی وی پی کی بدمعاشی اور کور کو ریپ کی دھمکیاں دینے کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔اس سلسلے میں گزشتہ روزبھارت کے دارالحکومت میں کور کی حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں۔ مختلف کالجوں کے طلبہ نے نئی دہلی کی سڑکوں پر کور کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے اور کالجوں میں تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ کور بھارت کے لیڈی شری رام کالج کی طالبہ ہیں اور اس کالج کے اساتذہ نے کور کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
دہلی کے رام جَس کالج میں دائیں بازو اور بائیں بازو کے نظریات والے طلبا کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد گرمہر کور اچانک سرخیوں میں آ گئی تھیں تاہم انھوں نے منگل کی صبح ٹویٹ کیا کہ’’ میں اس مہم سے خود کو الگ کر رہی ہوں۔ ہر کسی کو نیک خواہشات۔ میں گزارش کرتی ہوں کہ مجھے تنہا چھوڑ دیں۔ مجھے جو کہنا تھا وہ کہہ چکی ہوں۔انھوں نے مزید کہا: ‘میں کافی کچھ برداشت چکی ہوں۔ اور 20 سال کی عمر میں اس سے زیادہ نہیں جھیل سکتی۔ یہ مہم طلبا کے لیے تھی، میرے بارے میں نہیں۔ جو لوگ میری بہادری اور جرات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔۔۔ ( ان سے کہنا چاہتی ہوں) میں نے ضرورت سے زیادہ ہی ثابت کر دیا ہے۔‘‘اس کے ساتھ ہی گر مہر کور نے سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم اے بی وی پی کے خلاف گزشتہ روز منعقد ہونے والے احتجاجی مارچ میں لوگوں سے بڑی تعداد میں حصہ لینے کی بھی اپیل کی تھی۔برطانوی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاتھا کہ ‘میرے بہت سے دوستوں کو مارا پیٹا گیا تھا۔لہٰذا میں نے اپنے دوستوں کی حمایت یہ مخالفت شروع کی ہے۔
گر مہر کور دہلی کے مشہور لیڈی شری رام کالج میں پڑھتی ہیں۔ انھوں نے 22 فروری کو اپنی فیس بک پروفائل بدلی تھی جس کے بعد سے وہ سرخیوں میں ہیں۔ فیس بک ڈی پی میں گر مہر نے ایک پوسٹر اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ ‘میں دہلی یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں اور میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے نہیں ڈرتی، انڈیا کا ہر طالب علم میرے ساتھ ہے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے طلبا و طالبات نے #StudentsAgainstABVP کے ٹوئٹر کے ساتھ ایسا ہی پیغام لکھ کر اپنی تصویریں ڈالنی شروع کی تھیں۔گر مہر کا کہنا ہے کہ کئی بڑے لوگ میری حب الوطنی پر شک کر رہے ہیں۔ مجھے غدار کہا جارہا ہے لیکن انہیں معلوم ہی نہیں کہ اصل میں حب الوطنی ہوتی کیا ہے۔اس سے پہلے انھوں نے اسی طرح کی ایک تصویر فیس بک پر ڈالی تھی جس پر لکھا تھا کہ ‘پاکستان نے نہیں میرے والد کو جنگ نے مارا تھا‘‘۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہنگامہ بنیادی طور پر اسی پیغام پر ہے۔ اس کے بعد سے ہی گر مہر کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انھیں مبینہ طور پر ریپ کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں جس کی شکایت انھوں نے دلی میں خواتین کے کمیشن سے بھی کی ہے۔


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود پیر 29 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

خوابوں کا مقدمہ وجود پیر 29 جون 2026
خوابوں کا مقدمہ

بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی وجود اتوار 28 جون 2026
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟ وجود اتوار 28 جون 2026
واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر