وجود

... loading ...

وجود

ہندوانتہا پسندوں کو للکارنے پر طالبہ کو ریپ کی دھمکیاں

جمعرات 02 مارچ 2017 ہندوانتہا پسندوں کو للکارنے پر طالبہ کو ریپ کی دھمکیاں

بھارت میں ایک بیس سالہ لڑکی گر مہر کور کو کئی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا اس لیے کرنا پڑ رہا ہے کیوں کہ اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اسٹوڈنٹ ونگ کو کالجوں میں مبینہ طور پر تشدد کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔بھارت میں کئی حلقوں کی جانب سے کور پر اس لیے بھی تنقید کی جا رہی ہے کیوں کہ اس نے بی جے پی کے اسٹوڈنٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ( اے بی وی پی) پر تنقید کے علاوہ اپنے مرحوم والد کے حوالے سے کہا تھا، ’’ میرے والد کو پاکستان نے نہیں، جنگ نے جان سے مارا تھا۔‘‘ کور کے والد بھارتی فوج میں کپتان تھے اور 1999 میں کارگل جنگ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ کور کے اس پیغام کو شدید تنقید کا سامنا رہا۔ یہاں تک کے عالمی شہرت یافتہ بھارتی کرکٹر ورندر سہواگ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ میں نے تین مرتبہ سنچری نہیں بنائی بلکہ میرے بلے نے بنائی ہے۔‘‘ سہواگ کی یہ ٹوئٹر پوسٹ بھارت کے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور کئی افراد نے اس بیس سالہ لڑکی کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
گرمہر نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ ان کے ساتھ ساتھ انکی سہیلیوں کو بھی ریپ کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔دریں اثنا گرمہر کور نے سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ طلبا تنظیم اے بی وی پی کے خلاف مہم سے خود کو الگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس بیس سالہ طالبہ کو ٹوئٹر پر دھمکی آمیز پیغامات موصول ہونے کے بعد اسے گزشتہ روز پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔ جس اسٹوڈنٹ گروپ کو کور نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس پر الزام ہے کہ اس گروہ نے بھارت میں رام جَس کالج میں لڑائی اور تشدد کا آغاز اس لیے کیا تھا کیوں کہ اس کالج نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم اور جے این یو کے دو رہنماؤں کو ایک سیمینار میں شرکت کے لیے رام جس کالج مدعوکیا گیا تھا، جس کی اے بی وی پی مخالفت کر رہی تھی۔عمر خالد کو تقریب میں مدعوکرنے پر حکمراں جماعت کی طلباتنظیم اے بی وی پی نے اس کالج پر بھارت مخالف سرگرمیاں کرنے کا الزام عائد کیا تھا کیوں کہ عمر خالد پر غداری کا الزام لگایا جا رہا تھا۔ گزشتہ دنوں مختلف کالجوں کے طلبہ نے نئی دہلی کی سڑکوں پرگرمہر کور کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے اور کالجوں میں تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ کور بھارت کے لیڈی شری رام کالج کی طالبہ ہیں اور اس کالج کے اساتذہ نے کور کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔گر مہر کا کہنا ہے تھا کہ “ہماری مہم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے،ہم صرف کیمپس کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔”
گُرمہرکور نے بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا،’’ مجھے سہواگ کی ٹوئٹ سے بہت دکھ پہنچا ہے کیوں کہ وہ ایک بڑے کرکٹر رہے ہیں اور اْن جیسے بڑے ناموں کو لوگ ایک مثالی شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ کور نے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر بہت سے افراد دھمکیاں دے رہے ہیں۔ یہ بہت خطرناک بات ہے کہ لوگ مجھے ریپ کرنے اور تشدد کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
کرکٹر ورندر سہواگ کے علاوہ بھارت کے یونین منسٹر اور اداکار رندیپ ہْڈا نے بھی کور کے موقف کے خلاف ٹوئٹس کی ہیں۔ بی جے پی کے ایک رہنما نے گر مہر کا موازنہ داؤد ابراہیم سے بھی کیا۔ داؤد ابراہیم کو بھارتی حکومت دہشت گرد قرار دیتی ہے۔
تاہم دہلی کے وزیر اعلیٰ گرمہر کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ اروند کیجروال نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ اے بی وی پی کی بدمعاشی اور کور کو ریپ کی دھمکیاں دینے کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔اس سلسلے میں گزشتہ روزبھارت کے دارالحکومت میں کور کی حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں۔ مختلف کالجوں کے طلبہ نے نئی دہلی کی سڑکوں پر کور کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے اور کالجوں میں تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ کور بھارت کے لیڈی شری رام کالج کی طالبہ ہیں اور اس کالج کے اساتذہ نے کور کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
دہلی کے رام جَس کالج میں دائیں بازو اور بائیں بازو کے نظریات والے طلبا کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد گرمہر کور اچانک سرخیوں میں آ گئی تھیں تاہم انھوں نے منگل کی صبح ٹویٹ کیا کہ’’ میں اس مہم سے خود کو الگ کر رہی ہوں۔ ہر کسی کو نیک خواہشات۔ میں گزارش کرتی ہوں کہ مجھے تنہا چھوڑ دیں۔ مجھے جو کہنا تھا وہ کہہ چکی ہوں۔انھوں نے مزید کہا: ‘میں کافی کچھ برداشت چکی ہوں۔ اور 20 سال کی عمر میں اس سے زیادہ نہیں جھیل سکتی۔ یہ مہم طلبا کے لیے تھی، میرے بارے میں نہیں۔ جو لوگ میری بہادری اور جرات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔۔۔ ( ان سے کہنا چاہتی ہوں) میں نے ضرورت سے زیادہ ہی ثابت کر دیا ہے۔‘‘اس کے ساتھ ہی گر مہر کور نے سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم اے بی وی پی کے خلاف گزشتہ روز منعقد ہونے والے احتجاجی مارچ میں لوگوں سے بڑی تعداد میں حصہ لینے کی بھی اپیل کی تھی۔برطانوی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاتھا کہ ‘میرے بہت سے دوستوں کو مارا پیٹا گیا تھا۔لہٰذا میں نے اپنے دوستوں کی حمایت یہ مخالفت شروع کی ہے۔
گر مہر کور دہلی کے مشہور لیڈی شری رام کالج میں پڑھتی ہیں۔ انھوں نے 22 فروری کو اپنی فیس بک پروفائل بدلی تھی جس کے بعد سے وہ سرخیوں میں ہیں۔ فیس بک ڈی پی میں گر مہر نے ایک پوسٹر اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے کہ ‘میں دہلی یونیورسٹی میں پڑھتی ہوں اور میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے نہیں ڈرتی، انڈیا کا ہر طالب علم میرے ساتھ ہے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے طلبا و طالبات نے #StudentsAgainstABVP کے ٹوئٹر کے ساتھ ایسا ہی پیغام لکھ کر اپنی تصویریں ڈالنی شروع کی تھیں۔گر مہر کا کہنا ہے کہ کئی بڑے لوگ میری حب الوطنی پر شک کر رہے ہیں۔ مجھے غدار کہا جارہا ہے لیکن انہیں معلوم ہی نہیں کہ اصل میں حب الوطنی ہوتی کیا ہے۔اس سے پہلے انھوں نے اسی طرح کی ایک تصویر فیس بک پر ڈالی تھی جس پر لکھا تھا کہ ‘پاکستان نے نہیں میرے والد کو جنگ نے مارا تھا‘‘۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہنگامہ بنیادی طور پر اسی پیغام پر ہے۔ اس کے بعد سے ہی گر مہر کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ انھیں مبینہ طور پر ریپ کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں جس کی شکایت انھوں نے دلی میں خواتین کے کمیشن سے بھی کی ہے۔


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر