وجود

... loading ...

وجود

ہائوسنگ،تعلیم و صحت کے شعبوں میں ہوشربامہنگائی

منگل 28 فروری 2017 ہائوسنگ،تعلیم و صحت کے شعبوں میں ہوشربامہنگائی

رواں سال کے پہلے مہینے میں روز مرہ استعمال کی تقریباً تمام ہی اشیاو خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ گھر کے کرایوں، تعلیم اور ادویات کی قیمتوں میں ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری رپورٹ کے حوالے سے ہم عصر انگریزی روزنامے نے اپنی ایک سروے رپورٹ میں لکھاہے کہ 2017کے پہلے ماہ جنوری میں عام لوگوں کی زندگی میں سب سے زیادہ منفی اثر ہاؤسنگ کے شعبے نے ڈالا جس میں سب سے زیادہ 33.79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔استعمال کی ضروری اشیا اور سروسز کی فہرست میں 15 شعبوں کو شامل کیا گیا جن میں سب سے زیادہ اضافہ مکان کے کرائے میں دیکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق کرایوں میںاضافے کی اہم وجہ پراپرٹی کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ ہے جس کی وجہ سے یہ متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر نکل چکی ہے۔ بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں جو اپنی نصف تنخواہ بلکہ اس سے بھی زیادہ صرف گھر کا کرایہ ادا کرنے پرخرچ کرنے پر مجبور ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں بھی کم آمدنی والے لوگوں کو کم لاگت کے مکان اور فلیٹ دینے کا دعویٰ کیاتھا اور اس مقصد کے لیے ملک کے مختلف شہروں کی طرح کراچی میں بھی ڈیفنس کے قریب کالا پل کے ساتھ اور گلستان جوہر میں مکان اور فلیٹ تیار کرکے کم آمدنی والے لوگوں کو مکانوں اور فلیٹوں کامالک بنائے جانے کے خواب دکھائے تھے۔ اس حوالے سے مختلف اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات بھی شائع کرائے گئے تھے ،لیکن ان منصوبوں کا کیا بنا ،اب نہ کسی کو معلوم ہے اور نہ ہی ارباب اختیار اس پر بات کرنے کو تیار نظر آتے ہیں ،تاہم وزیر اعظم اور ان کے رفقا ہر عوامی تقریب میں یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ حکومت ملک میں ہاؤسنگ کا مسئلہ حل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے تاہم جیسا کہ اوپر لکھا گیا کہ اس حوالے سے اب تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آسکی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق مکان کے کرایوں میں اضافے کی شرح جنوری کے مہینے میں 6.62 فیصد رہی جو کہ گزشتہ برس جنوری کے مہینے میں 5.46 فیصد تھی۔اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی اخراجات میں اضافے کی شرح جنوری کے مہینے میں 12.73 فیصد رہی۔اس صورت حال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں مکانوں اوردکانوں کے کرائے اور نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے بڑھائی جانے والی فیس اور دیگر مدوں میں وصول کی جانے والی رقوم کے حوالے سے کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں ہے، دیگر اشیائے ضروریہ کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے ۔جب جس کادل چاہتاہے کسی جواز کے بغیر راتوں رات قیمتوں میں اضافہ کردیتاہے اور قیمتوں پر کنٹرول کے لیے حکومت کے پاس کوئی واضح طریقہ کار اور قانون موجود نہیں ہے ۔منافع خور اور بدطینت تاجر اس صورت حال کا کھل کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال گزشتہ 48گھنٹے کے اندر کراچی میںمرغی کے گوشت کی قیمت میں 60سے 65روپے فی کلو تک کے اضافے سے لگایا جاسکتا ہے لیکن ارباب اختیار میں سے کوئی بھی پولٹری فارم مالکان سے یہ پوچھنے کو بھی تیار نہیں کہ 48گھنٹے کے اندر پولٹری فارمرز پر ایسی کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ ان کو یک دم سے قیمتوں میں اتنا بھاری اضافہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، مہنگائی میں اضافے پر حکومت کی اس چشم پوشی نے منافع خوروں کو شیر بنادیاہے اور اس کی وجہ سے عام شہریوں پر مالی بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے۔

جہاں تک نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے کا معاملہ ہے تو یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ متعدد اسکولوں اور کالجوں نے ملک کے اندر اپنی اجارہ داری قائم کررکھی ہے اور وہ حکومت کو ٹیکس ادا کیے بغیر اربوں روپے کمارہے ہیںاورعمارتوں پر عمارتیں خرید رہے ہیںاور امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پرائیوٹ ایجوکیشن کے شعبے کو دی گئی ٹیکس فری سہولت سے عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہیںہورہا ہے۔
صحت کاشعبہ بھی کم وبیش اسی صورتحال سے دوچار ہے،سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ناقص سہولتیں عوام کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں اور ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس درد میں اضافہ ہی کررہی ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری کے مہینے میں دواؤں کی قیمتوں میں 22.88 فیصد کا ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا جو کہ گزشتہ برس جنوری میں صرف 0.88 فیصد تھا۔علاوہ ازیں روزمرہ ضرورت کی دیگر اشیا جیسے چینی اور دالوں کی قیمتوں میں بھی جنوری کے مہینے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کی قیمتوں میں بالترتیب 8.5 اور 34 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ دنوں2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود 5.75 فیصد برقرار رکھنے کے فیصلے کااعلان کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ اگر یہی حالات رہے تو رواں برس مہنگائی کی شرح ہدف سے 6 فیصد کم رہنے کا امکان ہے۔لیکن ’’اے بسا آرزو کہ خاک شد ‘‘کے مصداق گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا کی اس خوش کن پریس کانفرنس کی گونج فضا میں موجود ہی تھی کہ اچانک مہنگائی کے جن نے عوام کی گردن دبوچ لی،اسٹیٹ بینک کے گورنر اشرف وتھرا نے 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بڑھتے ہوئے ملکی قرضوں پر دبے لفظوں میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاتھا کہ ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 2 ہزار 80 ارب سے زیادہ ہوچکاہے، انھوں نے اس اضافے کاجواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہاتھا کہ رواں سال کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالرز ملنے تھے، نہ ملنے کے باعث مشکلات میں اضافہ ہوا۔انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کیاتھا کہ ڈالر کی اسمگلنگ روکنے کی کچھ ذمہ داری اسٹیٹ بینک کی بھی ہے، مگر زیادہ ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے۔
اشرف وتھرا نے ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں اضافے کاسبب پلانٹ اور مشینری کی درآمدات میں اضافے کو قرار دیاتھا ،تاہم اس کے ساتھ ہی انھوںنے یہ اعتراف کیاتھا کہ بیرونی کھاتوں کا خسارے پورا کرنے کے کے لیے برآمدات بڑھانا ہوں گی۔
کراچی اور ملک کے دوسرے شہروں میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مہنگائی نے جس طرح سر اٹھایا ہے وہ اسٹیٹ بینک کے گورنر سمیت تمام ماہرین اقتصادیات اور خاص طورپر ہمارے وزیر اعظم نواز شریف کے محبوب وزیر خزانہ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہئے اور وزیر اعظم اور ان کے رفقا کو، جو 2018کے الیکشن کو اپنی عوامی مقبولیت کاپیمانہ قرار دیتے ہیں،عوام کو درپیش مسائل اور روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی پر توجہ دیتے ہوئے مہنگائی کے جن کو قابو میں رکھنے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے ورنہ اگلے انتخابات کے نتائج ان کے لیے ایک بھیانک خواب بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر