... loading ...
رواں سال کے پہلے مہینے میں روز مرہ استعمال کی تقریباً تمام ہی اشیاو خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ گھر کے کرایوں، تعلیم اور ادویات کی قیمتوں میں ہوا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری رپورٹ کے حوالے سے ہم عصر انگریزی روزنامے نے اپنی ایک سروے رپورٹ میں لکھاہے کہ 2017کے پہلے ماہ جنوری میں عام لوگوں کی زندگی میں سب سے زیادہ منفی اثر ہاؤسنگ کے شعبے نے ڈالا جس میں سب سے زیادہ 33.79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔استعمال کی ضروری اشیا اور سروسز کی فہرست میں 15 شعبوں کو شامل کیا گیا جن میں سب سے زیادہ اضافہ مکان کے کرائے میں دیکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق کرایوں میںاضافے کی اہم وجہ پراپرٹی کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ ہے جس کی وجہ سے یہ متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر نکل چکی ہے۔ بعض لوگ تو ایسے بھی ہیں جو اپنی نصف تنخواہ بلکہ اس سے بھی زیادہ صرف گھر کا کرایہ ادا کرنے پرخرچ کرنے پر مجبور ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں بھی کم آمدنی والے لوگوں کو کم لاگت کے مکان اور فلیٹ دینے کا دعویٰ کیاتھا اور اس مقصد کے لیے ملک کے مختلف شہروں کی طرح کراچی میں بھی ڈیفنس کے قریب کالا پل کے ساتھ اور گلستان جوہر میں مکان اور فلیٹ تیار کرکے کم آمدنی والے لوگوں کو مکانوں اور فلیٹوں کامالک بنائے جانے کے خواب دکھائے تھے۔ اس حوالے سے مختلف اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات بھی شائع کرائے گئے تھے ،لیکن ان منصوبوں کا کیا بنا ،اب نہ کسی کو معلوم ہے اور نہ ہی ارباب اختیار اس پر بات کرنے کو تیار نظر آتے ہیں ،تاہم وزیر اعظم اور ان کے رفقا ہر عوامی تقریب میں یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے کہ حکومت ملک میں ہاؤسنگ کا مسئلہ حل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے تاہم جیسا کہ اوپر لکھا گیا کہ اس حوالے سے اب تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آسکی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق مکان کے کرایوں میں اضافے کی شرح جنوری کے مہینے میں 6.62 فیصد رہی جو کہ گزشتہ برس جنوری کے مہینے میں 5.46 فیصد تھی۔اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی اخراجات میں اضافے کی شرح جنوری کے مہینے میں 12.73 فیصد رہی۔اس صورت حال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں مکانوں اوردکانوں کے کرائے اور نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے بڑھائی جانے والی فیس اور دیگر مدوں میں وصول کی جانے والی رقوم کے حوالے سے کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں ہے، دیگر اشیائے ضروریہ کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے ۔جب جس کادل چاہتاہے کسی جواز کے بغیر راتوں رات قیمتوں میں اضافہ کردیتاہے اور قیمتوں پر کنٹرول کے لیے حکومت کے پاس کوئی واضح طریقہ کار اور قانون موجود نہیں ہے ۔منافع خور اور بدطینت تاجر اس صورت حال کا کھل کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال گزشتہ 48گھنٹے کے اندر کراچی میںمرغی کے گوشت کی قیمت میں 60سے 65روپے فی کلو تک کے اضافے سے لگایا جاسکتا ہے لیکن ارباب اختیار میں سے کوئی بھی پولٹری فارم مالکان سے یہ پوچھنے کو بھی تیار نہیں کہ 48گھنٹے کے اندر پولٹری فارمرز پر ایسی کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ ان کو یک دم سے قیمتوں میں اتنا بھاری اضافہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، مہنگائی میں اضافے پر حکومت کی اس چشم پوشی نے منافع خوروں کو شیر بنادیاہے اور اس کی وجہ سے عام شہریوں پر مالی بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے۔
جہاں تک نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافے کا معاملہ ہے تو یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ متعدد اسکولوں اور کالجوں نے ملک کے اندر اپنی اجارہ داری قائم کررکھی ہے اور وہ حکومت کو ٹیکس ادا کیے بغیر اربوں روپے کمارہے ہیںاورعمارتوں پر عمارتیں خرید رہے ہیںاور امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پرائیوٹ ایجوکیشن کے شعبے کو دی گئی ٹیکس فری سہولت سے عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہیںہورہا ہے۔
صحت کاشعبہ بھی کم وبیش اسی صورتحال سے دوچار ہے،سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ناقص سہولتیں عوام کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں اور ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس درد میں اضافہ ہی کررہی ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری کے مہینے میں دواؤں کی قیمتوں میں 22.88 فیصد کا ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا جو کہ گزشتہ برس جنوری میں صرف 0.88 فیصد تھا۔علاوہ ازیں روزمرہ ضرورت کی دیگر اشیا جیسے چینی اور دالوں کی قیمتوں میں بھی جنوری کے مہینے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ان کی قیمتوں میں بالترتیب 8.5 اور 34 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ دنوں2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود 5.75 فیصد برقرار رکھنے کے فیصلے کااعلان کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ اگر یہی حالات رہے تو رواں برس مہنگائی کی شرح ہدف سے 6 فیصد کم رہنے کا امکان ہے۔لیکن ’’اے بسا آرزو کہ خاک شد ‘‘کے مصداق گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا کی اس خوش کن پریس کانفرنس کی گونج فضا میں موجود ہی تھی کہ اچانک مہنگائی کے جن نے عوام کی گردن دبوچ لی،اسٹیٹ بینک کے گورنر اشرف وتھرا نے 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بڑھتے ہوئے ملکی قرضوں پر دبے لفظوں میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاتھا کہ ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 2 ہزار 80 ارب سے زیادہ ہوچکاہے، انھوں نے اس اضافے کاجواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہاتھا کہ رواں سال کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں ایک ارب 10 کروڑ ڈالرز ملنے تھے، نہ ملنے کے باعث مشکلات میں اضافہ ہوا۔انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کیاتھا کہ ڈالر کی اسمگلنگ روکنے کی کچھ ذمہ داری اسٹیٹ بینک کی بھی ہے، مگر زیادہ ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے۔
اشرف وتھرا نے ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں اضافے کاسبب پلانٹ اور مشینری کی درآمدات میں اضافے کو قرار دیاتھا ،تاہم اس کے ساتھ ہی انھوںنے یہ اعتراف کیاتھا کہ بیرونی کھاتوں کا خسارے پورا کرنے کے کے لیے برآمدات بڑھانا ہوں گی۔
کراچی اور ملک کے دوسرے شہروں میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مہنگائی نے جس طرح سر اٹھایا ہے وہ اسٹیٹ بینک کے گورنر سمیت تمام ماہرین اقتصادیات اور خاص طورپر ہمارے وزیر اعظم نواز شریف کے محبوب وزیر خزانہ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہئے اور وزیر اعظم اور ان کے رفقا کو، جو 2018کے الیکشن کو اپنی عوامی مقبولیت کاپیمانہ قرار دیتے ہیں،عوام کو درپیش مسائل اور روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی پر توجہ دیتے ہوئے مہنگائی کے جن کو قابو میں رکھنے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے ورنہ اگلے انتخابات کے نتائج ان کے لیے ایک بھیانک خواب بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔
ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...
کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...
شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...
قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...
مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...
ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...