وجود

... loading ...

وجود

سراج الدّولہ کالج کچرے کے ڈھیرمیں تبدیل

هفته 25 فروری 2017 سراج الدّولہ کالج کچرے کے ڈھیرمیں تبدیل

تحریک پاکستان کے ایک رہنما عامر احمد خان نے 1964 میں لیاقت آباد اوراس کے گردونواح میں رہنے والے لاکھوں افراد کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کیلئے لیاقت آباد اور کریم آباد کے سنگم پر ایف سی ایریا میں ایک کالج تعمیر کرایاتھا اور انگریزوں کا بے جگری کے ساتھ مقابلہ کرنے والے نواب سراج الدولہ کے نام پر اس کانام سراج الدولہ کالج رکھا گیاتھا ،لیاقت آباد اور کریم آباد کو ملانے والے پل کے ساتھ ہی ایف سی ایریا میں قائم سراج الدولہ گورنمنٹ کالج ان دنوں کچرا کنڈی کامنظر پیش کررہا ہے،اس کے احاطے میں ہر طرف کچرا پھیلا اور کتے دوڑتے نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کالج میں حصول تعلیم کیلئے آنے والے طلبہ کو گوناگوں مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اسی تعفن زدہ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑرہاہے۔
اس کالج کی بائونڈری وال یعنی چاردیواری گزشتہ سال دسمبر میں بلدیہ کراچی کی کچرا اٹھانے والی گاڑی کی ٹکر سے ٹوٹ گئی تھی جس کے بعد اس کی تعمیر پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں کالج کی دیوار کے ساتھ بنائی گئی کچرا کنڈی کالج کے احاطے تک وسعت اختیار کرگئی ہے اوراب نہ تو یہاں سے کچرا اٹھانے کی زحمت گوارا کی جاتی ہے اور نہ ہی یہ چاردیواری دوبارہ تعمیر کرنے پر کوئی توجہ دی جاتی ہے۔
کالج انتظامیہ کاکہناہے کہ اس سلسلے میں ہم نے ڈائریکٹر کالجز، میئر کراچی، ایگزیکٹو انجینئراور ایجوکیشن ورکس ڈیپارٹمنٹ کو متعدد خطوط لکھے جن میں چاردیواری کے ٹوٹ جانے کے سبب کالج کے طلبہ اور اساتذہ کودرس وتدریس میں پیش آنے والی مشکلات ان کی سیکورٹی کو لاحق خطرات،چاردیواری نہ ہونے کی وجہ سے کالج کے احاطے میں نشہ کرنے والوں کی آمدورفت کے علاوہ اسٹریٹ کرائم میں ملوث افراد کے اسے پناہ گاہ کے طورپرا ستعمال کئے جانے کی وجہ سے کالج کی لیبارٹری میں موجود قیمتی سامان کے چوری ہوجانے کے خدشات اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنے اور چاردیواری تعمیر کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیاگیالیکن کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی، یہاں تک کہ ان خطوط کاجواب دینے کی زحمت بھی کسی نے گوارا نہیں کی۔
علاقے کے لوگوں کاکہناہے کہ27 دسمبر کو بلدیہ کراچی کی جانب سے کچرا اٹھانے کیلئے استعمال کی جانے والی بھاری مشینری کی ٹکر سے چاردیواری کا بڑا حصہ ٹوٹ کر گر پڑاتھا ۔کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے دوسرے ہی دن یعنی 28 دسمبر2016 کو ڈائریکٹر کالجز کراچی ریجن کو ایک خط جس کاریفرنس نمبر SDGC/375/381/2016 تھا لکھاگیا ۔جس میں انھیں صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے چاردیواری کی تعمیر کاانتظام کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔بعد ازاں کوئی کارروائی نہ ہونے کے بعد 2 جنوری 2017 کو ایک خط ریفرنس نمبرSDGC/382/388/2017 لکھا گیا لیکن اس خط کابھی نہ تو کوئی جواب موصول ہوا اور نہ ہی کوئی کارروائی کی گئی۔19جنوری 2017 کو دوبارہ ایک خط ریفرنس نمبرSDGC/394/400/2017 لکھاگیا جس میں ان کو اس مسئلے کی یاددہانی کرائی گئی لیکن اس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
سراج الدولہ کالج کے پرنسپل پروفیسر شاہد اقبال نے بتایا کہ بلدیہ کراچی نے کالج کے مین گیٹ کے ساتھ ہی ایک ہزار مربع گز کا علاقہ کچرا کنڈی کیلئے وقف کردیاہے اورکالج کی چاردیواری ٹوٹ جانے کے بعد اب علاقے میں صفائی کے ذمہ دار عملے نے کالج کے احاطے کو بھی کچرا کنڈی میں تبدیل کردیاگیاہے اور علاقے سے کچرا اور گندگی جمع کرکے باقاعدہ کالج کے احاطے میں جمع کردی جاتی ہے جس کی وجہ سے کالج کا پورا ماحول تعفن کا شکار ہوگیاہے اور بدبو کی وجہ سے کالج میں بیٹھنا مشکل ہوگیاہے۔
کالج کے عملے کے ایک رکن نے بتایا کہ کالج کے احاطے میں2013 میں کسی نے ایک شخص کو قتل کرکے لاش پھینک دی تھی اس وقت کالج کی چاردیواری موجود تھی اب جبکہ کالج کی چاردیواری ٹوٹ چکی ہے تو رات کو کالج کا یہ احاطہ علاقے کے جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بن جاتاہے اور اس طرح کی کوئی بڑی کارروائی بھی یہاں کسی بھی وقت ہوسکتی ہے۔کالج کے ایک استاد وجیہ الدین نے بتایا کہ کالج
ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جسے ایک خاص سیاسی جماعت کاگڑھ تصور کیاجاتاہے اور ایسا معلوم ہوتاہے کہ اسی وجہ سے اسے نہ صرف نظر انداز کیاجارہاہے بلکہ اسے امتیازی سلوک کانشانہ بنایاجارہاہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت اس کالج میں کم وبیش ڈیڑھ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں،کالج کے ایک اور پروفیسر ڈاکٹر فہیم نے بتایا کہ کالج میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے لیکن کالج کے فنڈز میں کوئی اضافہ نہیں کیاجارہا ہے اور کالج کو اتنی رقم بھی نہیں دی جارہی کہ روزمرہ کے معمول کے اخراجات ہی پورے کئے جاسکیں۔انھوں نے کالج میں اساتذہ کی کمی کی بھی نشاندہی کی اور مطالبہ کیا کہ کالج کو طلبہ کی تعداد کی مناسبت سے فنڈ فراہم کئے جانے چاہئیں۔انھوں نے کہا کہ چاردیواری ٹوٹ جانے کے بعد اب اس کالج کے طلبہ کے پاس کھیل کود اور غیر نصابی سرگرمی کیلئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔کالج کے طلبہ نے کالج میں صفائی کے ناقص انتظامات ،اساتذہ کی کمی اور لائبریری بند ہونے کی شکایت کی ۔
کالج کے فرسٹ ایئر میڈیکل کے ایک طالب علم نے بتایا کہ کالج کی چاردیواری میں جگہ جگہ جھاڑیاں اگ آئی ہیں جنھیں صاف کرانے کی ضرورت ہے لیکن کالج میں عملہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کٹائی اور صفائی ممکن نہیں ہورہی ہے جس سے طلبہ کومشکلات کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔کالج کی انتظامیہ اور اساتذہ نے12 جنوری 2017 کو ایک مشترکہ خط ریفرنس نمبرSDGC/390/2017 کے ذریعے ضلع میونسپل کارپوریشن وسطی کے منتخب چیئرمین ریحان ہاشمی کواس صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس علاقے کو اپنا سیاسی مرکز قرار دینے والے ضلعی چیئرمین نے بھی اس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی یہاں تک کہ انھوں نے ابھی تک کالج کی انتظامیہ کو ملاقات کا وقت بھی نہیںدیاہے۔


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

مضامین
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اسے کہتے ہیں پاکستان !! وجود پیر 20 اپریل 2026
اسے کہتے ہیں پاکستان !!

پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر