... loading ...
لعل شہبازقلندر کے مزار پر حملے کے سہولت کاروں کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ سیہون شریف دھماکوں کی تفتیش میں تاحال خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تاہم ایک سیاسی جماعت کے چند اکابرین نے انتہائی شرمناک انداز سے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے وفاقی حکومت پر الزام تراشی کی، وہ سیکورٹی جیسے حساس معاملات پرسیاست نہیں کرنا چاہتے لیکن بے سرو پا الزامات کاسلسلہ جاری رہا توچند دنوں میں تمام صورت حال قوم کے سامنے رکھ دیں گے۔اس ضمن میں تفتیشی ادارے دھماکے کے مقام سے ملنے والے سامان کی فارنزک جانچ پڑتال میں مصروف ہیں، کیمروں کی ناقص کوالٹی کے باعث اب تک سی سی ٹی وی فوٹیج سے کوئی بھی مدد نہیں مل سکی ہے ۔ دھماکے کی جگہ سے ملنے والے سامان اور دیگر موادکی فارنزک جانچ پڑتال سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کے ماہرین کر رہے ہیں۔سیہون شریف میں سو سے زائد غیر رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤسز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے
۔ایس ایس پی جامشورو طارق ولایت نے میڈیا سے گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ درگاہ لعل شہباز قلندر پر خودکش حملہ آور کے ساتھ بھی تین سہولت کار تھے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ کوتاہی ہوئی ہے لیکن نوعیت کا پتا چلارہے ہیں، درگاہ پرحملے کے وقت بھی پولیس موجود تھی، ایک پولیس افسر بھی شہید ہوا، واقعے کی تفتیش سی ٹی ڈی کررہی ہے، سہولت کاروں تک جلد پہنچ جائیں گے۔
ایس ایس پی جامشورو کا کہنا تھا کہ حملے کی جگہ کی جیو فینسنگ کی جاچکی ہے، جگہ کو دھونے سے پہلے تمام ادارے شواہد اکٹھے کرچکے تھے، سی ٹی ڈی واقعے کی تفتیش کررہی ہے، جلد دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے گا۔ انچارج سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب کا کہناہے کہ ممکنہ طور پر حملہ آور مرد تھا،
دھماکا مزار کے اندر ہوا،صحن میں ہوتا تو جانی نقصان اور زیادہ ہوسکتا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے دھماکے کے مقام سے شواہد اکٹھے کرلیے، سی سی ٹی وی ویڈیو سے بھی تحقیقات میں مدد لی جائے گی ۔کراچی سے تقریبا 280کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حضرت لعل شہبازقلندر کی درگاہ پر ہونے والے دھماکے نے حکومتی انتظامات کی قلعی کھول دی ۔واضح رہے کہ سیہون وزیر اعلی سندھ کا آبائی حلقہ بھی ہے۔ اسی علاقے سے ان کے والد بھی منتخب ہوکر وزیراعلی بنتے رہے ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس جگہ اب تک کوئی بڑا اسپتال نہیں بنایا گیا ۔گو کہ ہر سال یہاں لاکھوں کی تعداد میں زائرین حاضری دینے آتے ہیں اور خاص طور پر گرمیوں کے دنوں میں ہر سال یہاں اسپتالوں کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کئی اموات ہوتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مزار پر خودکش دھماکا ہونے کے بعد ایک گھنٹے تک مزار کے احاطے میں ریسکیوآپریشن شروع نہ کیا جاسکا ۔ تعلقہ اسپتال سیہون مزار سے آدھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن یہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے ۔ کاغذوں میں تو یہ اسپتال ڈیڑھ سو بستروں اور سات ایمبولینسوں سے لیس ہے مگر افسوس کہ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور شہید ہونے والوں کو ذاتی گاڑیوں ، رکشوں اور ٹیکسیوں میں اسپتال منتقل کرتے رہے ۔ستم ظریفی یہ کہ انہیں طبی امداد دینے کیلئے تعلقہ اسپتال میں فوری طور پر ڈاکٹرز بھی میسر نہیں تھے ۔ عینی شاہدین کے مطابق جب زخمیوں کو اسپتال پہنچایاگیا تو اسپتال کا عملہ نہ ہونے کے برابر تھا۔اسپتال میں تعینات 7سے8ڈاکٹروں کو اسپتال پہنچنے میں تاخیر کے باعث زخمیوں کو مشکلات ہوئیں۔ ڈاکٹروں کی کمی کے ساتھ پیرا میڈیکل اسٹاف اور ادویات کی قلت نے بھی متاثرین کا امتحان لیا۔ اتنی بڑی تعداد میں زخمیوں کیلئے بستروں کی موجودگی بھی سوالیہ نشان بنی۔ بیشتر زخمیوں کو اسپتال کے فرش پر لٹا کر طبی امداد دی گئی۔مختلف این جی اوز اور ایدھی کی امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کرلاشوں اور زخمیوں کو سندھ کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا۔
لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے نے مجموعی طور پر سندھ حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ سندھ حکومت کرپشن کی دلدل میں گردن گردن دھنسی ہوئی ہے۔اور عوام کو بنیادی سہولتیں مہیا کرنے سے مکمل بے پروا ہوچکی ہے۔ سیہون وزیراعلیٰ سندھ کا آبائی حلقہ ہونے کے باوجود مکمل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے کے بعد یہاں زخمیوں کو طبی امداد دینے تک کی سہولتیں مہیا نہیں ہوسکی تھیں۔ جس نے عوام کو احتجاج پر مجبورکیا۔ ناقص حفاطتی انتظامات کے باعث اب یہ بات مکمل سامنے آ چکی ہے کہ دراصل سندھ حکومت عوام کی حفاظت کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ اس حوالے سے اب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پر بھی عوام کااعتماد اُٹھتا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ جب قائم علی شاہ کی جگہ وزیراعلیٰ سندھ کے منصب سے سرفراز ہوئے تو اُنہیں ابتدا میںاچھی نظروں سے دیکھا جاتا رہا۔ مگر ہر گزرتے دن اُنہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ بھی پیپلزپارٹی کے روایتی کلچر سے کچھ مختلف کردار نہیں رکھتے۔ چنانچہ اُن کی ناکامیاں اب ہر محاذ پر سامنے آنے لگی ہیں۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...