وجود

... loading ...

وجود

برآمدات میں 11 ارب75 کروڑ ڈالر کی کمی کاسامنا

منگل 14 فروری 2017 برآمدات میں 11 ارب75 کروڑ ڈالر کی کمی کاسامنا

قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدات میں 11 ارب75 کروڑ ڈالر کی کمی کاسامنا کرنا پڑا۔
ایوان کے سامنے پیش کئے گئے اعدادوشمار سے یہ بھی انکشاف ہواہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان سے تیار شدہ اشیا کی برآمدات میںبھی ریکارڈکمی سامنے آرہی ہے۔اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سے تیار شدہ اشیا کی برآمدات میں کم وبیش15.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر دستیاب اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ 3 فروری تک ہماری برآمدات میں کمی کی مالیت 11 ارب 85 کروڑ60 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جس سے ظاہرہوتاہے کہ ہماری برآمدات میں کمی کا رجحان مسلسل جاری ہے اور اس کی مالیت میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہاہے اور درآمدی اوربرآمدی آمدنی میں تفاوت بڑھتاجارہے۔
ملک کی درآمدی اور برآمدی صورت حال کے حوالے سے یہ اعدادوشمار کسی بھی ملک کی حکومت کیلئے لمحۂ فکریہ سے کم نہیں ہیں کیونکہ دنیا کاکوئی بھی ملک برآمدی آمدنی میںمسلسل کمی کی صورت حال برداشت نہیں کرسکتا، ملک کی برآمدی آمدنی میں تفاوت کی یہ تصویر وزیر اعظم نواز شریف کے ان دعووںکے قطعی برعکس ہے جن کا اعلان انہوںنے گزشتہ روز غیرملکی سرمایہ کاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیاتھا۔وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیاتھا کہ ملک کی معیشت مستحکم ہورہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہاہے اور ملک اگلے برسوں کے دوران دنیا کی بہترین معیشتوں والے ممالک کی صف میں شامل ہوجائے گا۔
وزیراعظم کی جانب سے ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کے ان دعووں کی خود وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیانات سے بھی تردید ہوتی ہے، کیونکہ وزیر خزانہ بارہا برآمدات میں کمی کا اعتراف کرچکے ہیں، تاہم وہ اس کا سبب عالمی سطح پر کساد بازاری کے رجحان کو قرار دیتے ہیں۔
اس امر میں کوئی شبہہ نہیں کہ ہماری وزارت خزانہ اور وزارت تجارت کے ارباب اختیار نے برآمدات میں اضافے کیلئے گزشتہ برسوں کے دوران کچھ اقدامات کئے ہیںلیکن خود حکومت ،خاص طورپر وزارت خزانہ کے بعض اقدامات کی وجہ سے برآمدات میں اضافے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں اور پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی کا رجحان جاری ہے۔
پاکستان کی برآمدات میں کمی کا جائزہ لیاجائے تو اس کا ایک بڑا سبب برآمدات کیلئے برآمد کنندگان کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولتوں کی کمی ہے ۔اس حوالے سے یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ وزارت خزانہ ایک طرف برآمد کنندگان کو مناسب ترغیبات اور سہولتیں فراہم کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے اور دوسری طرف ترغیبات نہ ہونے کے باوجود برآمدات کی جدوجہد کرنے والے برآمد کنندگان کی راہ میں بلاوجہ کے روڑے بھی اٹکائے جارہے ہیں ، جس کا ایک بڑا ثبوت برآمد کنندگان کوان سے زیادہ وصول کئے گئے ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی رقم کی بروقت واپسی سے گریز کی صورت حال ہے۔
پاکستان میں بیشتر صنعتکار اور برآمد کنندگا ن محدود زرِ جاریہ یعنی رننگ کیپیٹل سے کام کرتے ہیں اور جب ان کی یہ محدود رقم بھی سرکاری خزانے میں پھنس جائے تو اس کی بروقت اور بآسانی واپسی کی امید نہ ہو توبرآمدکنندگان کیلئے برآمدات کی اگلی کھیپ تیار کرنا اور اسے بروقت غیر ملکی خریدار تک پہنچانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتاہے۔ اس صورتِ حال میں برآمدکنندگا کو اپنے بیرونی خریداروں سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کیلئے بینکوں سے سود پر رقم حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑتاہے۔ جس کی وجہ سے ان کے تیار کردہ مال یاسامان کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور بیرونی منڈیوں میں اسی طرح کا سامان تیار کرنے والے دیگر ممالک کے ساتھ مقابلہ مشکل ہوجاتاہے۔جبکہ فوری ریفنڈ کی صورت میں برآمد کنندگا ن انتہائی اطمینان وسکون کے ساتھ غیر ملکی خریداروں سے وعدوں کی بروقت تکمیل کرسکتے ہیں جس سے بیرون ملک پاکستان اور پاکستانی برآمدکنندگا ن کی ساکھ مستحکم ہوتی ہے اور وہ دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے آرڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ہمارے وزیر خزانہ اور ان کی وزارت کے ارباب اقتدار یہ سادہ اور معمولی سی حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نظر نہیں آتے جس کی وجہ سے ملک کو مسلسل برآمدی آمدنی میں کمی کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
ہماری برآمدات میں کمی اور پاکستان میں تیار کی گئی اشیا کو غیر ملکی منڈیوں میں اسی طرح کی اشیا تیار کرنے والے دیگر ممالک کے مقابلے میں فروخت کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ خود حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے بھاری شرح سود پر بڑے پیمانے پر قرضوں کاحصول ہے۔حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کا مقصد پاکستانی کرنسی کو غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں مصنوعی استحکام بخشنا ہے لیکن حکومت کی جانب سے پاکستانی کرنسی کی قیمت میں مصنوعی استحکام کی کوششوں سے پاکستان کی تیار کردہ اشیا بیرون ملک دیگر ممالک کی تیار کردہ اشیا کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہوجانے کے سبب خریداروں کیلئے اپنی کشش کھو بیٹھتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کا ایک دوسرا منفی اور تباہ کن نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے پاس ملکی صنعت کاروں کو ان کی ضرورت کے مطابق قرض فراہم کرنے کیلئے سرمایہ باقی نہیں رہتا ،اس طرح صنعت کار بروقت قرض کاانتظام نہ ہونے کے سبب اپنی پیداوار جاری رکھنے کیلئے ضروری خام مال کی بروقت خریداری میں ناکام رہتے ہیں اور سیزن آف ہوجانے کے بعد مارکیٹ میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتاہے اس طرح بھاری شرح سود پرحاصل کردہ رقم سے اوسط سے زیادہ گراں قیمت پر خام مال کی خریداری کے سبب صنعت کار اور برآمد کنندگان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے ۔اس صورت حال کے سبب ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے حکومت کی جانب سے کی جانے والی تمام تر کوششیں اور اس مقصد کیلئے خرچ کی جانے والی تمام رقم ضائع چلی جاتی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان کی برآمدات میں اضافے کی تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت برآمدی اہداف پورے کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ۔
پاکستان کی برآمدات میں کمی کا ایک اور بڑا سبب جس کی جانب ابھی تک توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اب تیار شدہ اشیا کی برآمد کے آپشن بھی بہت کم رہ گئے ہیں کیونکہ پاکستان کی بہت سی ایسی اشیا جن سے پاکستان بھاری زرمبادلہ حاصل کرتاتھا تیار کرنے والی کمپنیاں غیر ملکی کمپنیوں سے درآمد کی جانے والی اشیا کے مقابلے میں زیادہ قیمتی ہونے کے سبب اب بند ہوچکی ہیں یا بندش کے قریب پہنچ چکی ہیں ، پاکستان نے اپنی صنعتوں کو تحفظ دینے اور انہیں غیر ملکی اشیا کامقابلہ کرنے کے قابل بنانے کیلئے عملی طورپر اب تک کچھ نہیں کیاہے۔یہی نہیں بلکہ پاکستان کے ارباب اختیارجہاں ایک طرف پاکستان سے برآمدات میں اضافے کیلئے نئی منڈیوں کی تلاش تو کررہے ہیں لیکن کبھی کوئی یہ سوچنے کو تیار نہیں ہے کہ ہم ان منڈیوں میں اپنی کون سی مصنوعات فروخت کیلئے پیش کریں گے ۔عام طورپر اصول یہ ہوتاہے کہ جب ترقی پذیر ممالک غیر ملکی سرمایہ کاروں سے نئی صنعتیں لگانے کے معاہدے کرتے ہیں تو ان کو ایک محدود مدت کے اندر اس کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے اور ملکی افرادی قوت کو اس کی تیاری کی تربیت دینے کا پابند بنایاجاتاہے لیکن ہمارے ارباب اختیار ہرقیمت پر صرف بیرونی سرمایہ کاروں کو ملک میں لانے کو ہی اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کسی طرح کے قانون کا پابند بنانے کی کوششوں کے بجائے خود غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرائط پر سرمایہ کاری کی اجازت دے کر اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرکے اپنے منہ خود میاں مٹھو بننے کی کوشش کررہے ہیں۔اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کار جتنا سرمایہ ملک میں لاتے ہیں چند سال کے اندر اس سے کہیں زیادہ سرمایہ واپس لے جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور اس سرمایہ کاری سے نہ تو ملک میں صنعتی ترقی ہی کو فروغ مل پاتاہے اور نہ ہی لوگوں کو روزگار کے مناسب اور بہترمواقع مل پاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کیلئے غیر ملکی اداروں کی شائع کردہ رپورٹوں اور جائزوں کاسہارالینے کے بجائے حقائق کو تسلیم کرے اور ملکی معیشت کو حقیقی معنوں میںپائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے ایسی متوازن اورمناسب حکمت عملی تیار کی جائے جس پر عملد رآمد سے ملک تیار شدہ اشیا مناسب قیمت پر برآمد کرنے کے قابل ہوسکے اور پاکستان کی تعلیم یافتہ ،ہنر مند ، نیم ہنر مند اور ناخواندہ افرادی قوت کو روزگار کے مناسب اور باعزت مواقع حاصل ہوسکیں۔


متعلقہ خبریں


صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

  ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

مضامین
بھارت میں توانائی کابحران وجود جمعه 27 مارچ 2026
بھارت میں توانائی کابحران

سماجی ارتقاء اخلاقی ارتقاء کے بغیر ممکن نہیں! وجود جمعه 27 مارچ 2026
سماجی ارتقاء اخلاقی ارتقاء کے بغیر ممکن نہیں!

آخری گواہی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
آخری گواہی

جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن وجود جمعرات 26 مارچ 2026
جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن

مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر