... loading ...
قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدات میں 11 ارب75 کروڑ ڈالر کی کمی کاسامنا کرنا پڑا۔
ایوان کے سامنے پیش کئے گئے اعدادوشمار سے یہ بھی انکشاف ہواہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان سے تیار شدہ اشیا کی برآمدات میںبھی ریکارڈکمی سامنے آرہی ہے۔اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سے تیار شدہ اشیا کی برآمدات میں کم وبیش15.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر دستیاب اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ 3 فروری تک ہماری برآمدات میں کمی کی مالیت 11 ارب 85 کروڑ60 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جس سے ظاہرہوتاہے کہ ہماری برآمدات میں کمی کا رجحان مسلسل جاری ہے اور اس کی مالیت میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہاہے اور درآمدی اوربرآمدی آمدنی میں تفاوت بڑھتاجارہے۔
ملک کی درآمدی اور برآمدی صورت حال کے حوالے سے یہ اعدادوشمار کسی بھی ملک کی حکومت کیلئے لمحۂ فکریہ سے کم نہیں ہیں کیونکہ دنیا کاکوئی بھی ملک برآمدی آمدنی میںمسلسل کمی کی صورت حال برداشت نہیں کرسکتا، ملک کی برآمدی آمدنی میں تفاوت کی یہ تصویر وزیر اعظم نواز شریف کے ان دعووںکے قطعی برعکس ہے جن کا اعلان انہوںنے گزشتہ روز غیرملکی سرمایہ کاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیاتھا۔وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیاتھا کہ ملک کی معیشت مستحکم ہورہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہاہے اور ملک اگلے برسوں کے دوران دنیا کی بہترین معیشتوں والے ممالک کی صف میں شامل ہوجائے گا۔
وزیراعظم کی جانب سے ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کے ان دعووں کی خود وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیانات سے بھی تردید ہوتی ہے، کیونکہ وزیر خزانہ بارہا برآمدات میں کمی کا اعتراف کرچکے ہیں، تاہم وہ اس کا سبب عالمی سطح پر کساد بازاری کے رجحان کو قرار دیتے ہیں۔
اس امر میں کوئی شبہہ نہیں کہ ہماری وزارت خزانہ اور وزارت تجارت کے ارباب اختیار نے برآمدات میں اضافے کیلئے گزشتہ برسوں کے دوران کچھ اقدامات کئے ہیںلیکن خود حکومت ،خاص طورپر وزارت خزانہ کے بعض اقدامات کی وجہ سے برآمدات میں اضافے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں اور پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی کا رجحان جاری ہے۔
پاکستان کی برآمدات میں کمی کا جائزہ لیاجائے تو اس کا ایک بڑا سبب برآمدات کیلئے برآمد کنندگان کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولتوں کی کمی ہے ۔اس حوالے سے یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ وزارت خزانہ ایک طرف برآمد کنندگان کو مناسب ترغیبات اور سہولتیں فراہم کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے اور دوسری طرف ترغیبات نہ ہونے کے باوجود برآمدات کی جدوجہد کرنے والے برآمد کنندگان کی راہ میں بلاوجہ کے روڑے بھی اٹکائے جارہے ہیں ، جس کا ایک بڑا ثبوت برآمد کنندگان کوان سے زیادہ وصول کئے گئے ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی رقم کی بروقت واپسی سے گریز کی صورت حال ہے۔
پاکستان میں بیشتر صنعتکار اور برآمد کنندگا ن محدود زرِ جاریہ یعنی رننگ کیپیٹل سے کام کرتے ہیں اور جب ان کی یہ محدود رقم بھی سرکاری خزانے میں پھنس جائے تو اس کی بروقت اور بآسانی واپسی کی امید نہ ہو توبرآمدکنندگان کیلئے برآمدات کی اگلی کھیپ تیار کرنا اور اسے بروقت غیر ملکی خریدار تک پہنچانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتاہے۔ اس صورتِ حال میں برآمدکنندگا کو اپنے بیرونی خریداروں سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کیلئے بینکوں سے سود پر رقم حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑتاہے۔ جس کی وجہ سے ان کے تیار کردہ مال یاسامان کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور بیرونی منڈیوں میں اسی طرح کا سامان تیار کرنے والے دیگر ممالک کے ساتھ مقابلہ مشکل ہوجاتاہے۔جبکہ فوری ریفنڈ کی صورت میں برآمد کنندگا ن انتہائی اطمینان وسکون کے ساتھ غیر ملکی خریداروں سے وعدوں کی بروقت تکمیل کرسکتے ہیں جس سے بیرون ملک پاکستان اور پاکستانی برآمدکنندگا ن کی ساکھ مستحکم ہوتی ہے اور وہ دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے آرڈر حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ہمارے وزیر خزانہ اور ان کی وزارت کے ارباب اقتدار یہ سادہ اور معمولی سی حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نظر نہیں آتے جس کی وجہ سے ملک کو مسلسل برآمدی آمدنی میں کمی کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
ہماری برآمدات میں کمی اور پاکستان میں تیار کی گئی اشیا کو غیر ملکی منڈیوں میں اسی طرح کی اشیا تیار کرنے والے دیگر ممالک کے مقابلے میں فروخت کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ خود حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے بھاری شرح سود پر بڑے پیمانے پر قرضوں کاحصول ہے۔حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کا مقصد پاکستانی کرنسی کو غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں مصنوعی استحکام بخشنا ہے لیکن حکومت کی جانب سے پاکستانی کرنسی کی قیمت میں مصنوعی استحکام کی کوششوں سے پاکستان کی تیار کردہ اشیا بیرون ملک دیگر ممالک کی تیار کردہ اشیا کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہوجانے کے سبب خریداروں کیلئے اپنی کشش کھو بیٹھتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے کمرشل بینکوں سے بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کا ایک دوسرا منفی اور تباہ کن نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے پاس ملکی صنعت کاروں کو ان کی ضرورت کے مطابق قرض فراہم کرنے کیلئے سرمایہ باقی نہیں رہتا ،اس طرح صنعت کار بروقت قرض کاانتظام نہ ہونے کے سبب اپنی پیداوار جاری رکھنے کیلئے ضروری خام مال کی بروقت خریداری میں ناکام رہتے ہیں اور سیزن آف ہوجانے کے بعد مارکیٹ میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتاہے اس طرح بھاری شرح سود پرحاصل کردہ رقم سے اوسط سے زیادہ گراں قیمت پر خام مال کی خریداری کے سبب صنعت کار اور برآمد کنندگان کی کمر ٹوٹ جاتی ہے ۔اس صورت حال کے سبب ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے حکومت کی جانب سے کی جانے والی تمام تر کوششیں اور اس مقصد کیلئے خرچ کی جانے والی تمام رقم ضائع چلی جاتی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان کی برآمدات میں اضافے کی تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت برآمدی اہداف پورے کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے ۔
پاکستان کی برآمدات میں کمی کا ایک اور بڑا سبب جس کی جانب ابھی تک توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی یہ ہے کہ پاکستان کے پاس اب تیار شدہ اشیا کی برآمد کے آپشن بھی بہت کم رہ گئے ہیں کیونکہ پاکستان کی بہت سی ایسی اشیا جن سے پاکستان بھاری زرمبادلہ حاصل کرتاتھا تیار کرنے والی کمپنیاں غیر ملکی کمپنیوں سے درآمد کی جانے والی اشیا کے مقابلے میں زیادہ قیمتی ہونے کے سبب اب بند ہوچکی ہیں یا بندش کے قریب پہنچ چکی ہیں ، پاکستان نے اپنی صنعتوں کو تحفظ دینے اور انہیں غیر ملکی اشیا کامقابلہ کرنے کے قابل بنانے کیلئے عملی طورپر اب تک کچھ نہیں کیاہے۔یہی نہیں بلکہ پاکستان کے ارباب اختیارجہاں ایک طرف پاکستان سے برآمدات میں اضافے کیلئے نئی منڈیوں کی تلاش تو کررہے ہیں لیکن کبھی کوئی یہ سوچنے کو تیار نہیں ہے کہ ہم ان منڈیوں میں اپنی کون سی مصنوعات فروخت کیلئے پیش کریں گے ۔عام طورپر اصول یہ ہوتاہے کہ جب ترقی پذیر ممالک غیر ملکی سرمایہ کاروں سے نئی صنعتیں لگانے کے معاہدے کرتے ہیں تو ان کو ایک محدود مدت کے اندر اس کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے اور ملکی افرادی قوت کو اس کی تیاری کی تربیت دینے کا پابند بنایاجاتاہے لیکن ہمارے ارباب اختیار ہرقیمت پر صرف بیرونی سرمایہ کاروں کو ملک میں لانے کو ہی اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کسی طرح کے قانون کا پابند بنانے کی کوششوں کے بجائے خود غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرائط پر سرمایہ کاری کی اجازت دے کر اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرکے اپنے منہ خود میاں مٹھو بننے کی کوشش کررہے ہیں۔اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کار جتنا سرمایہ ملک میں لاتے ہیں چند سال کے اندر اس سے کہیں زیادہ سرمایہ واپس لے جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور اس سرمایہ کاری سے نہ تو ملک میں صنعتی ترقی ہی کو فروغ مل پاتاہے اور نہ ہی لوگوں کو روزگار کے مناسب اور بہترمواقع مل پاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کیلئے غیر ملکی اداروں کی شائع کردہ رپورٹوں اور جائزوں کاسہارالینے کے بجائے حقائق کو تسلیم کرے اور ملکی معیشت کو حقیقی معنوں میںپائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے ایسی متوازن اورمناسب حکمت عملی تیار کی جائے جس پر عملد رآمد سے ملک تیار شدہ اشیا مناسب قیمت پر برآمد کرنے کے قابل ہوسکے اور پاکستان کی تعلیم یافتہ ،ہنر مند ، نیم ہنر مند اور ناخواندہ افرادی قوت کو روزگار کے مناسب اور باعزت مواقع حاصل ہوسکیں۔
بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...
ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...
چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...
کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...
جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...
جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...
آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...
امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...
یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...
آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...
ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...
فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...