وجود

... loading ...

وجود

ملکی قرضوں میں ایک سال کے دوران ساڑھے14 کھرب روپے کااضافہ

پیر 13 فروری 2017 ملکی قرضوں میں ایک سال کے دوران ساڑھے14 کھرب روپے کااضافہ

حکومت پر واجب الادا ملکی قرضوں کی مالیت میں گزشتہ ایک سال کے دوران 14 کھرب 54 ارب روپے کااضافہ ہوگیاہے،جبکہ ان قرضوں میں مختصر مدت کے قرضون کی شرح43 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ان اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ہماری وزارت خزانہ کا اخراجات جاریہ کے لیے بینکوں پر انحصار بڑھتاجارہاہے اور بینکوں سے طویل مدت کے لیے قرض دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اب حکومت مختصر مدت کے قرض لے کر کام چلانے پر مجبور ہوگئی ہے۔
اسٹیٹ بینک پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق ایک سال قبل تک حکومت پر ملکی واجب الادا قرضوں کی مالیت 13 کھرب20 ارب روپے کے مساوی تھی جبکہ دسمبر 2016 تک حکومت پر قرضوں کی مالیت ساڑھے 14 کھرب سے بڑھ چکی تھی۔یعنی گزشتہ ایک سال کے دوران میں حکومت پر واجب الادا ملکی قرضوں کی شرح میں 10.3 فیصد اضافہ ہوچکاہے۔اگرچہ اسٹیٹ بینک پاکستان نے ملک پر واجب الادا غیر ملکی قرضوں کی مالیت کے حوالے سے اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق پاکستان دسمبر 2016 تک 7کھرب ڈالر مالیت کے غیر ملکی قرضوں کے پھندے میں پھنس چکاتھا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق حکومت پر واجب الادا قرضوں میں مسلسل اضافے کے دو بنیادی اسباب ہیں اول یہ کہ حکومت سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے ملک کی وسیع دولت کے مالک سرمایہ داروں، وڈیروں اور صنعت کاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ان سے ان کی کمائی ہوئی دولت کی مناسبت سے ٹیکس وصول کرنے میں بُری طرح ناکام ہوئی ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو ٹیکسوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے پیٹرول ، ڈیزل، گیس اور ایسی ہی اشیا پر بالواسطہ ٹیکس لگانے پر مجبور ہونا پڑرہاہے جس سے عام آدمی براہ راست متاثر ہوتاہے اور حکومت کی جانب سے غربت میں کمی کے تمام اقدامات ناکام ہورہے ہیں۔
حکومت پر واجب الادا ملکی قرضوں میں اضافے کا دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ وزارت خزانہ ارباب حکومت کے ایسے اخراجات پر پابندی لگانے یا انھیں ایک مخصوص حد تک محدود رکھنے پر مجبور کرنے کے لیے کسی طرح کا کوئی قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے اس کے برعکس قومی خزانے میں اخراجات جاریہ کے لیے رقم نہ ہونے اور روزمرہ کے معمولات کی انجام دہی اور سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائی کے لیے بینکوں کے قرضوں پر انحصار کے باوجود وزرا اور ارکان اسمبلی ،اور اعلیٰ سرکاری افسروں کی تنخواہوں میں ہزاروںکی شرح سے نہیں بلکہ لاکھوں کی شرح سے اضافہ کیا جارہاہے جس کا اندازہ چند روز پیشتر عدالتی رجسٹرار کی تنخواہ اور مراعات میں 4لاکھ روپے سے زیادہ کے اضافے کے اعلان اور اس سے قبل ارکان اسمبلی وسینیٹ کی تنخواہوں اور خود ایوان وزیر اعظم اور ایوان صدر کے اخراجات میں اضافے کے حوالے سے اعلانات سے لگایاجاسکتاہے، اس حوالے سے ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف تو حکومت ارکان اسمبلی اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی تنخواہوں میں لاکھوں روپے ماہانہ کی شرح سے اضافہ کررہی ہے لیکن دوسری طرف ہسپتالوں میں دن رات مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں مصروف رہنے والی نرسوں اور اپنی جان پر کھیل کر آگ بجھانے والے عملے کو مناسب تنخواہوں کی ادائی کے لیے وسائل کی کمی کا رونا رویاجاتاہے اورنرسوں اور فائر بریگیڈ کے عملے کو سخت سردی میں کھلے آسمان تلے احتجاج کرتے رہنے کے لیے چھوڑ دیاجاتاہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ ملکی قرضوں کے حوالے سے جو ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کے تحت اب ملک پر طویل المیعاد قرضوں کی شرح بہت کم ہوگئی ہے اور مختصر میعاد کے قرضوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے صاف معنی یہ ہوئے کہ حکومت کو نہ صرف یہ کہ یہ قرض جلد ادا کرنا پڑیں گے بلکہ ان پر سود کی ادائی بھی نسبتاً جلد کرنا پڑے گی اس طرح اب حکومت کو غیر ملکی قرضوں پر سود کے ساتھ بھاری ملکی قرضوں پر سود اور اصل رقم کی فراہمی کے بوجھ کاسامنا بھی کرناپڑے گا اور چونکہ ملک کی برآمدات میں مسلسل کمی ہورہی ہے اس لئے ان قرضوں اور ان پر سود کی ادائی کے لیے حکومت کو بھاری مالیت کے مزید قرض لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔اس کے نتیجے میں حکومت ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہوگی اور اس ملک میں جہاں عوام پہلے ہی پینے کے صاف پانی، سیوریج کے بہترنظام، بجلی ،گیس،تعلیم ، علاج معالجے اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں مزید مشکلات اور مسائل کاشکار ہوں گے اور ان کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا مناسب انتظام کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔
اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ اس وقت ملکی بجٹ کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ حکومت کے حاصل کردہ قرضوں پر سودیامنافع کی ادائی اور سروسنگ پر خرچ ہورہا ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کے لیے حکومت کے پاس نہ ہونے کے برابر رقم بچتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص رقم بھی ترقیاتی کاموں پر خرچ نہیں ہوپاتی اور بجٹ کے اعلان کے بعد وقفے وقفے سے مختلف حیلوں اور بہانوں کے ذریعے ،ترقیاتی کاموں یہاں تک کہ تعلیم اور صحت کے لیے مختص رقم کابڑا حصہ دیگر مدات پر خرچ کردیاجاتاہے اور اس ملک کے عوام علاج معالجے اور تعلیم کی سہولتوں کے لیے ترستے رہ جاتے ہیں۔ مقامی سرمایہ دار اورمتمول طبقہ اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھارہاہے اورحکومت کی سطح پر علاج معالجے اورتعلیم کی مناسب سہولتیں نہ ہونے کافائدہ اٹھاتے ہوئے مفاد پرست سرمایہ داروں نے تعلیم اور علاج معالجے کو بھی منافع بخش کاروبار کاذریعے بنالیاہے جس کی وجہ سے تعلیم اور علاج معالجہ دونوں ہی غریب اور کم وسیلہ لوگوں کے دسترس سے باہر نکل چکے ہیں۔
سوال یہ پیداہوتاہے کہ یہ صورت حال کب تک چلے گی ،اور اس ملک کے عوام کو سبز باغ دکھا کر اقتدار کے اونچے سنگھاسن پر بیٹھے والے ارباب اختیار کب اپنی روش تبدیل کرنے پر غور کریں گے کیا ہمارے ارباب اقتدار بھی اس ملک میں فرانس یارومانیہ جیسے کسی انقلاب کے منتظر ہیں جس میں انھیں اپنی صفائی اور وضاحت پیش کرنے کابھی موقع نہیں ملے گا۔


متعلقہ خبریں


ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

مضامین
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے! وجود منگل 24 مارچ 2026
زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے!

لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر