وجود

... loading ...

وجود

بھارت کی کئی ریاستوں میں ’’انتخابی موسم ‘‘ مسلمانوں اوردلتوں کو رام کرنے کی کوششیں

هفته 11 فروری 2017 بھارت کی کئی ریاستوں میں ’’انتخابی موسم ‘‘ مسلمانوں اوردلتوں کو رام کرنے کی کوششیں

بھارت کے سب سے بڑے صوبے اترپردیش میں اسمبلی کے انتخابات آج سے شروع ہونگے جو 7مراحل میں8 مارچ تک جاری رہیں گے جبکہ منی پور میں انتخابات2مرحلوں میں 8 فروری سے شروع ہوگئے ہیں،اگلا مرحلہ 4 مارچ کو منعقد ہوگا۔یہ انتخابات اترپردیش (403 سیٹوں)، پنجاب (117)، گوا (40)، اترکھنڈ (70) اور شمال مشرقی ریاست منی پورمیں 60نشستوں پر ہو رہے ہیں۔منی پور ہر چند کہ چھوٹی ریاست ہے لیکن شورش کے سبب وہاں 2 مرحلوں میں انتخابات کرائے جا رہے ہیں۔گو ا میں سب سے کم نشستوں پر انتخابات ہیں اس لیے 4فروری کو ابتدائی طور پہ گوا میں انتخابی عمل مکمل کر لیا گیا ہے ۔چیف الیکشن کمیشن نسیم زیدی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات کی تاریخوں اور دوسری تفاصیل کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اتراکھنڈ میں ووٹنگ ایک مرحلے میں ہوگی اور 15 فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔تمام ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی 11 مارچ کو ہوگی۔
یہ ریاستی انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اترپردیش اور پنجاب جیسی ریاستوں کے نتائج 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے سمت کا تعین کریں گے۔یہ انتخابات اس لیے بھی اہم ہیں کہ دہلی میں اقتدار میں آنے کے بعد اروند کیجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی پہلی بار پنجاب اور گوا میں انتخابات میں حصہ لیں گے جہاں وہ ایک بڑی پارٹی بن کر ابھرتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔یہ انتخابات اس لیے بھی دلچسپ ہو گئے ہیں کہ 20 کروڑ سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش کی حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی آپس کی پھوٹ کا شکار ہے اور جہاں باپ بیٹے آمنے سامنے ہیں۔گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے انتخاب سے متعلق اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ انتخاب ایک سیکولر عمل ہے اور اس میں مذہب کا استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ اگر کوئی امیدوار مذہب اور ذات پات کے نام پر ووٹ مانگتا ہے تو اسے نااہل قرار دیا جائے گا۔جبکہ نسیم زیدی نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں گے۔
انتخابات قریب آتے ہی مختلف سیاسی جماعتوںکے رہنمائوں نے جن میں حکمراں بی جے پی کے رہنمابھی شامل ہیں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے بھارت کے نامور اور طاقتور مدرسوں کے چکر کاٹنا شروع کردیے ہیں، بھارتی ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنومیں واقع دارالعلوم ندوۃ العلما کا دنیا کے مشہور تعلیمی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور مسلمانوں میں بہت قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔شاید اسی لیے بی جے پی کے علاوہ بھی تمام سیاسی پارٹیاں ندوہ کے وائس چانسلر سے مدد مانگنے کے لیے سب سے پہلے ان کے پاس پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر ستیش چندر مشرا اسی ارادے سے گزشتہ دنوں وائس چانسلر مولانا رابع حسنی ندوی سے ملنے مدرسہ پہنچے تھے تاکہ ان کے ذریعے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کیا جا سکے۔
ندوہ میں 5ہزارطالب علم ہیں۔ پہلے تو انڈونیشیا، ملائشیا اور سعودی عرب سے بھی طالب علم یہاں آتے تھے۔خود کو ندوۃ العلما کا خادم کہنے والے ہارون رشید کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس برس سے غیر ملکی طالب علموں کویہاں آنے کے لیے ویزا نہیں دیا جاتا۔ہارون کہتے ہیں کہ ندوے کے علما سیاسی معاملات سے دور رہتے ہیں۔ آج تک صرف ایک بار ندوے کے کسی بھی وائس چانسلر یا مہتمم نے کھل کر کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر کی مخالفت کی ہے۔کہا جاتا ہے کہ بعض حلقوں میں مسلمانوں کے ووٹ سے نتائج بہت حد تک متاثر ہوتے ہیں۔
1992 میں جب بابری مسجد شہید گئی، اس وقت یہاں کے وائس چانسلر مولانا علی میاں نے کانگریس کی کھل کر مخالفت کی تھی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن ظفریاب جیلانی نے ایک دوسرے واقعے کا ذکر کیا جب مولانا علی میاں نے سیاسی مسئلے میں اپنی رائے دی تھی۔جیلانی کے مطابق جس وقت ملائم سنگھ یادو کلیان سنگھ کے ساتھ مل کر انتخابات میں آئے تھے تو مسلمان ان سے کافی ناراض تھے۔لیکن پرسنل لا بورڈ کی ایک میٹنگ کے بعد علی میاں نے باتوں باتوں میں صرف اتنا کہا کہ اس شخص (ملائم سنگھ) کے علاوہ کوئی دوسرا نظر نہیں آتا، ان کا اتنا کہنا ہی کافی تھا۔
اسلامی تعلیم کا ایک بڑا مرکز دارالعلوم دیوبند بھی ہے۔ اس کا قیام 1866 میں سلطنت برطانیہ کے روز افزوں اثرات اور عیسائی مذہب سے لڑنے کے لیے ہواتھا۔ندوے کے اساتذہ کے مقابلے میں یہاں کے اساتذہ سیاست میں زیادہ دخل رکھتے ہیں۔ لیکن گجرات سے تعلق رکھنے والے مولانا وستانوی کو دیوبند اس لیے چھوڑنا پڑا کیونکہ انھوں نے نریندر مودی کے حق میں بیان دیا تھا۔
بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ لکھنو سے امیدوار ہیں اور انھوں نے گزشتہ روز شیعہ عالم مولانا کلب جواد سے ملاقات کی ہے۔جبکہ حال ہی میں عام آدمی پارٹی کے منیش سیسودیا نے دیوبند کے مولانا خالق سنبھلی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد دیوبند کی طرف سے بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ دیوبند سیاست سے دور رہتا ہے۔
ان کے علاوہ حیدرآباد کا جامعہ نظامیہ بھی مسلمانوں کا ایک قدیمی تعلیمی مرکز ہے۔ انتخابات کا موسم آتے ہی ان تمام مراکز میں سیاسی رہنمائوں کی آمد و رفت بڑھ جاتی ہے۔تاہم فی الحال ستیش چندر مشرا کے علاوہ ابھی دیگر کسی پارٹی کے لیڈر نے مولانا رابع سے ملاقات نہیں کی ہے۔شاید ملائم سنگھ یادو کو وہاں جانے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ ان دنوں ظفریابجیلانی سماج وادی پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کے لیے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ جیلانی کی رائے بھی مسلم دانشوروں میں اہمیت کی حامل ہے۔ ملائم سنگھ کے وہاں نہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ پہلے ہی دیوبند کی حمایت حاصل کر چکے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ سماجوادی پارٹی کو گزشتہ انتخابات میں مسلمانوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔
عام طور یہ کہا جاتا ہے کہ کانگریس کے لیڈروں کو ندوے جانے یا نہ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ پارٹی اب بھی مکمل طور پر ان کا اعتماد حاصل نہیں کر پائی ہے۔دوسری جانب یہ خیال ظاہرکیا جاتا ہے کہ شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد سے بی جے پی کے قومی صدر راج ناتھ سنگھ کی ملاقات کے بعد شیعہ مسلمانوں کا ووٹ بی جے پی کو جائے گا۔لیکن یہ کہنا توآسان ہے کہ لکھنئو کے مسلمان صرف ظفریاب جیلانی اور مولانا کلب جواد کے کہنے کے مطابق ہی اپنا ووٹ دیں گے،لیکن ایسا ضروری نہیں ہے ،جہاں تک عباس جیلانی کاتعلق ہے تووہ کہتے ہیں کہ اس برادری کا بنیادی مقصد بی جے پی کو روکنا ہے۔ اس کے لیے ووٹنگ سے ایک دن پہلے بھی وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون بی جے پی کو شکست دے سکتا ہے اور ووٹ اسی کو جائے گا۔
جیلانی کے مطابق لکھنوسے کانگریس کی امیدوار ریتا بہوگنا جوشی ’مقابلے میں نہیں ہیں‘، اس لیے سماج وادی پارٹی کے ابھیشیک مشرا کی حمایت کی جا رہی ہے۔راج ناتھ اور جواد کی ملاقات کو بھی وہ سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ مسلمان کسی بھی صورت میں بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے۔بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کو اگر آپ ٹوئٹر پر تلاش کریں تو کچھ مایوسی اور کچھ فرضی اکائونٹ ہی ہاتھ لگیں گے لیکن جن لوگوں کے بل بوتے پر وہ چار مرتبہ بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ بنیں، ان کے پاس سوشل میڈیا پر گزارنے کے لیے زیادہ وقت نہیں۔یہ سماج کا وہ انتہائی غریب طبقہ ہے جسے دلت کہا جاتا ہے، وہ لوگ جنھیں صدیوں سے بھید بھائو کا سامنا رہا ہے اور جن کی آواز بلند کرنے کا بیڑا مایاوتی نے اٹھا رکھا ہے۔اتر پردیش کی تقریباً بیس فیصد آبادی دلت ہے، اور اس کی ایک بڑی اکثریت مایاوتی کا ووٹ بینک مانی جاتی ہے۔ مایاوتی کی ہمیشہ سے کوشش مسلمانوں اور دلتوں کا ساتھ حاصل کرنے کی رہی ہے۔ ریاست میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دلتوں کے برابر ہی ہے اور اس مرتبہ مایاوتی نے انھیں اپنی طرف راغب کرنے کے لیے 403 میں سے 97 ٹکٹ مسلمان امیدواروں کو دیے ہیں۔
لیکن مسلمانوں کی محبتوں کے دعویدار اور بھی ہیں، خاص طور پر سماج وادی پارٹی، جس کے بانی ملائم سنگھ یادو کو رام مندر کی تحریک کے دوران مولانا ملائم سنگھ کہا جاتا تھا، اور کانگریس جو بابری مسجد کی مسماری تک زیادہ تر مسلمانوں کی پہلی پسند ہوا کرتی تھی۔ مایاوتی کا کام کرنے کا انداز دوسرے سیاستدانوں سے مختلف ہے۔ ان سے انٹرویو حاصل کرنا تقریباً ناممکن مانا جاتا ہے۔ وہ انتخابی جلسوں میں بھی لکھی ہوئی تقریریں پڑھتی ہیں، کوئی شعلہ بیانی نہیں کرتی، بس تقریر پڑھی ہاتھ ہلایا اور ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر دوسرے جلسے کے لیے روانہ ہوگئیں۔ ان کی پارٹی کے ترجمان مشکل سے ہی ٹی وی پر نظر آتے ہیں، انھیں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے لیکن عام طور پر مانا جاتا ہے کہ وہ ایک موثر ناظم ہیں، ان کے دور اقتدار میں امن و قانون کا سختی سے نفاذ کیا جاتا ہے۔
سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے اتحاد کے بعد ایک نظریہ یہ ہے کہ اس کا براہ راست نقصان بہوجن سماج کو ہوگا، لیکن ریاستی اسمبلی کے انتخاب میں، جہاں حلقے چھوٹے ہوتے ہیں اور عام طور پر چند ہزار ووٹوں سے ہار جیت کا فیصلہ ہوجاتا ہے، سہ فریقی مقابلوں میں کوئی پیش گوئی کرنا خطرے سے خالی نہیں۔میڈیا میں اس وقت ذکر سماجوادی پارٹی اور بی جے پی کا زیادہ ہے، لیکن ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اس دوڑ میں بی ایس پی ’ڈارک ہارس‘ ہے، وہ خاموشی سے دوڑ رہی ہے اور اس سے نظر ہٹانا غلط ہوگا۔
ایک طرف بھارت میں انتخابی شیڈول کااعلان ہونے کے ساتھ ہی تمام سیاسی جماعتوںکے رہنما خواب غفلت سے جاگ اٹھے ہیں اور اب مسلمانوں او ر دلتوں کومنانے کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن دوسری طرف ان انتخابات میں کالے دھن کے استعمال کے حوالے سے بھی ایک طویل بحث چھڑ گئی ہے اور عام طورپر کہاجارہاہے کہ ان انتخابات میں کامیابی کے لیے بڑے پیمانے پر کالا دھن استعمال کیاجائے گا،کیونکہ اس کاحساب کتاب اور آڈٹ کرنے کاکوئی طریقہ کار الیکشن کمیشن یا حکومت کے پاس نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی کی زیادہ تر آمدن کے ذرائع کا علم نہیں،انڈیا میں نیشنل الیکشن واچ اور ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کا کہنا ہے کہ گزشتہ 11 سال میں سیاسی جماعتوں کی تقریبا 70 فیصد آمدنی نامعلوم ذرائع سے رہی ہے۔حال ہی میں دہلی میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2004 سے لے کر مارچ2015 تک تمام قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں کی کل آمدنی 11،367 کروڑ روپے تھی جس میں سے تقریبا 30 فیصد آمدنی کے ذرائع کا پتہ دیا گیا ہے۔
بھارت میں موجودہ ضابطے کے مطابق اگر کسی سیاسی جماعت کو کسی شخص یا ادارے سے 20 ہزار روپے سے کم کا چندہ ملتا ہے تو ایسی صورت میں اس شخص یا ادارے کے نام کے اندراج کی ضرورت نہیں۔ گزشتہ چند سال کے دوران بہت سے ماہرین نے اس ضابطے میں فوری طور پر تبدیلی لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس سے انتخابی اخراجات اور سیاسی جماعتوں کے کام کاج میں مزید شفافیت آ سکے۔سابق چیف الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوب قریشی نے اپنے دور اقتدار میں اس کے متعلق سخت تبصرے بھی کیے تھے۔انھوں نے کہا تھا: ہماری تو کوشش رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں کیش (نقد) لینے کے چلن کو بند کریں مگر اس پر بہت کام کرنا ابھی باقی ہے۔
پنجاب میں اکالی دل اور بی جے پی اتحاد کی حکومت ہے،علاقائی جماعتوں میں سماج وادی پارٹی کا ریکارڈ قدرے حیرت انگیز ہے کیونکہ تازہ رپورٹ کے مطابق سماجوادی پارٹی کی کل آمدن کا 94 فیصد جو 766 کروڑ 27 لاکھ روپے ہے اس کے ذرائع کا علم نہیں جبکہ پنجاب کی اہم پارٹی شرومنی اکالی دل کی 86 فیصد آمدن یعنی 88 کروڑ 6 لاکھ روپے کے ذرائع کا علم نہیں۔تاہم سماجوادی پارٹی ان دنوں باپ بیٹے کے درمیان انتشار کا شکار نظر آتی ہے۔ بھارت میں سیاسی جماعتوں اور انتخابات پر نظر رکھنے والے ان دونوں اداروں کے مطابق نامعلوم ذرائع میں کوپن کی فروخت، تاحیات امداد، اور ریل آف فنڈ سے ہونی والی آمدن وغیرہ بھی شامل ہوتی ہیں۔جبکہ سیاسی جماعتوں کی آمدنی کے معلوم ذرائع میں نقد رقم اور جائیداد، رکنیت کی فیس اور بینک سے ملنے والے منافع وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر