وجود

... loading ...

وجود

لیاری گینگ وار کا نیا سپریم کمانڈر کون ہوگا؟ کھیل شروع

پیر 06 فروری 2017 لیاری گینگ وار کا نیا سپریم کمانڈر کون ہوگا؟ کھیل شروع

لیاری ایک طویل عرصے سے سیاست کے گندے کھیل کا تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ کراچی سے انتخابات میں کامیابی کے لیے لیاری کو مرکز بنانے کے خواب نے پیپلزپارٹی کی شناخت بھی جرائم کی سرپرست جماعت کے طور پر کرادی ہے۔ لیاری میں گزشتہ چند برسوں میں اُبھرنے والے مختلف جرائم پیشہ گروہوں اور گینگ وار کے سرکردہ افراد میں جاری رسہ کشی بھی دراصل اسی سیاست کا نتیجہ ہے جس میں کسی بھی قیمت پرپیپلزپارٹی لیاری کے انتخابی حلقوں کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتی ہے۔اس حوالے سے پیپلزپارٹی کبھی کسی پر اور کبھی کسی پر اپنا ہاتھ رکھتی رہی ہے۔ اور اسی مقصد کی خاطر لیاری میں گینگ وار کے ذمہ داران سے رابطہ کاری میں پیپلزپارٹی کا کبھی کوئی لیڈر اورکبھی کوئی لیڈر سامنے آتا رہا۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، اویس ٹپی اور عبدالقادر پٹیل سے لے کر نبیل گبول تک مختلف سیاسی کردار لیاری کو اپنی ڈھب پر رکھنے کے لیے مختلف قسم کے گندے کھیل کھیلتے رہے۔ افسوس ناک امر یہ تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس کھیل میں اُسی طرح ملوث ہوگئے جس طرح سیاسی جماعتیں تھیں اور وہ بھی کچھ لوگوں کے خلاف کچھ لوگوں کی سرپرستی کرنے لگیں۔ انتہائی پریشان کن امر یہ ہے کہ بابا لاڈلا کی ہلاکت کے باوجود اب بھی لیاری میں وہی کھیل جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے جس میں انتخابی اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے لیاری گینگ وارز کے سربرآوردگان کی سرپرستی اُسی طرح برقرار رکھی جائے گی جس طرح ماضی میں جاری رکھی گئی۔
اس حوالے سے لیاری میں گینگ وار کے سرغنہ اور کراچی میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے نورمحمد عرف بابا لاڈلا کی دو ساتھیوں سمیت رینجرز سے مقابلے میں ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کے نئے گروپ لیڈر کی دوڑ شروع ہو گئی ہے، اس دوڑ میں بابا لاڈلا کا بھائی زاہد لاڈلا، عزیر بلوچ گروپ کے فیصل پٹھان، استاد تاج محمد عرف تاجو، عمر کچھی اور بادشاہ خان گروپ کے دہشت گرد شامل ہیں۔ غفار ذکری اور شیراز کامریڈ اور چند دوسرے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں تاہم اس حوالے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت گینگ وار کے اتنے دھڑے اور گروپ بن چکے ہیں کہ انہیں یکجا کرکے چلانا ناممکن نظر آتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاری گینگ کے جو بڑے دہشت گرد بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں ان سے ایک سیاست دان مسلسل رابطے میں ہے اور ابتدائی طور پر یہ طے پایا ہے کہ کراچی میں موجود کسی گینگ وار کمانڈر کو ہی لیاری گینگ وار کا سربراہ مقرر کیا جائے اور وقت آنے پر یہ سربراہی کسی نامور دہشت گرد کے سپرد کی جائے تاکہ لیاری کے حلقہ انتخاب سے کسی قسم کی سیاسی مزاحمت کا خطرہ ختم کیا جا سکے۔ مذکورہ سیاست دان لیاری کے حوالے سے پہلے بھی سرگرم رہے تھے لیکن سردار نبیل گبول کے حوالے سے دل میں نرم گوشہ رکھنے کی وجہ ہے لیاری گینگ وار کے کمانڈرز اکثر ناراضگی کا اظہار کرتے رہے۔ واضح رہے کہ 2008کے انتخابات میں ابھی عبدالرحمن ڈکیت کے ساتھ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ ڈیل اسی سیاست دان کی مرہون منت تھی جس کی وجہ سے 2008میں نبیل گبول ایم این اے بن گئے تھے اور بعد ازاں شپنگ منسٹر بننے کے بعد لیاری کے 80نوجوانوں کو کے پی ٹی میں بھرتی نہ کرنے کی وجہ سے سردار نبیل گبول اور عبدالرحمن ڈکیت میں علیحدگی ہوئی تھی اور نبیل گبول پر لیاری آمد کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے۔
بابا لاڈلہ کی آمد کا مقصدلیاری میں سیاست دانوں کی انٹری کرانا تھا
رینجرز مقابلے میں مارے جانے والا لیاری گینگ کا سرغنہ بابا لاڈلہ ایران سے تربت کے راستے لیاری پہنچا۔حساس ادارے کی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس بار لیاری آنے کا مقصد کچھ سیاستدانوں کی لیاری میں انٹری کرانا اور لیاری میں اپنے گینگ کو پھر سے منظم کرنا تھا۔لیاری گینگ وار کے نور محمد عرف بابا لاڈلہ سے متعلق حساس ادارے نے انکشافات کیے ہیں کہ بابا لاڈلہ ایران کے شہر چاہ بہار کے قریب رہائش پذیر تھا۔مرنے والے بابا لاڈلہ کے پاس سے تفتیشی اداروں کو بعض اہم دستاویزات اور چند اہم سیاست دانوں کے فون نمبرز بھی ملے ہیں،اہم زرائع کا کہنا ہے کہ ان سیاست دانوں کا تعلق سندھ کی حکمراں جماعت سے ہے۔
بابا لاڈلہ کی شناختی دستاویزات نے تفتیشی حکام کو بھی چکرا کر رکھ دیا
سیکیورٹی اور تفتیشی حکام بابا لاڈلے کے شناختی کارڈ اور دستاویزات ہاتھ لگتے ہی چکرا کر رہ گئے، نئی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ بابا لاڈلہ شناختی کارڈ کے ذریعہ کئی بار ایران بھی فرار ہوا۔لیاری گینگ وار کا بدنام زمانہ کردار نور محمد عرف بابا لاڈلہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک کی بھی ہوا کھا چکا تھا، بابا لاڈلہ کو جاری سفری اور شناختی دستاویزات سے متعلق تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ حکام نے یہ پتا لگانے کی تحقیقات کردی ہیں کہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے کے باوجود بابا لاڈلہ کو شناختی کارڈ کس مرکز سے جاری ہوا؟۔تفتیش میں اس بات کا بھی تعین کیا جائے گا کہ تصویر کے باوجود نادرا نے شناخت کیوں نہ کی؟ ملزم کئی بار ایران فرار ہوا، بارڈر سیکیورٹی نے چیک کیوں نہ کیا؟ ملزم کئی بار ایران کے راستے مختلف بارڈرز کے ذریعے پاکستان آتا رہا، دوران سفر بابا لاڈلہ کے پاس جدید ہتھیار بھی ساتھ ہوتا تھا۔تحقیقاتی اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بابا لاڈلا کے پاس دو پاکستانی شناختی کارڈ ، جب کہ ایک ایرانی بھی تھا۔ اس نے عبدالقادر ولد عبداللہ کے نام سے بھی پاکستانی شناختی کارڈ بنا رکھا تھا۔ ایرانی شناختی کارڈ میں بابا لاڈلا کا نام اسلام ولد خداداد درج ہے۔ ایرانی شناختی کارڈ میں اس کی ذات زرد کوہی درج ہے۔
بابا لاڈلہ کے سر کی قیمت25لاکھ اور سکندر سکو کے سر کی قیمت10لاکھ روپے مقرر تھی
لیاری پھول پتی کے علاقہ میں رینجرز کا آپریشن 100قتل کی وارداتوں میں مطلوب دہشت اور خوف کی علامت نور محمد عرف بابا لاڈلہ 2ساتھیوں سکندر عرف ملکو اور یاسین بلوچ سمیت مارا گیا، بابا لاڈلہ کے سر کی قیمت 25لاکھ اور سکندر عرف سکو کے سر کی قیمت 10لاکھ روپے تھی، یاسین بلوچ بابا لاڈلہ کا ماموں تھا، کراچی میں حکومت کی طرف سے آپریشن کے فیصلے کے وقت سے بابا لاڈلہ فرار تھا اور پولیس کی ریڈبک میں شامل تھا۔ ملزموں کے قبضے سے خود کار مشین گن، دستی بم اور بھاری تعداد میں گولیاں برآمد، آپریشن میں ایک رینجرز اہلکار بھی زخمی ہوگیا تھا، بابالاڈلا پھول پتی لین اور دیگر2ملزمان کچراکنڈی میں مارے گئے، اس حوالے سے کراچی میں لیاری کے علاقے پھول پتی لین میں لیاری گینگ وار کارندے بابا لاڈلا کے اڈے کے قریب رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ رینجرز سے مقابلے میں گینگ وار کارندہ بابالاڈلا اسی جگہ مارا گیا تھا،پھول پتی لین پر اسی مقام پر تینوں ملزمان بیٹھا کرتے تھے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقابلے سے قبل بھی اسی جگہ پر ملزمان موجود تھے، تینوں جرائم کی منصوبہ بندی بھی اسی جگہ کرتے تھے،اور یہیں سے گینگ وار کے کارندوںکو بابا لاڈلہ ہدایات جاری کرتا تھا،چند سال قبل جب عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ ایک ہی گروپ میں تھے،تو پولیس انسپکٹر چاند خان نیازی کو ایس ایچ او لگوانے کے بعد اس کی تاج پوشی بھی اسی اڈے پر کی گئی تھی۔
بابالاڈلہ سب مفادپرستوں
کا لاڈلہ
بابا لاڈلہ عرف نور احمد 10اکتوبر 1977 کو کراچی کے شہر چاکیواڑہ میں پیدا ہوا ۔ اس نے جرائم کی دنیا میں بہت کم عمری ہی میں قدم رکھ دیا تھا ۔جلد ہی اس نے لیاری کے ایک بڑے گینگسٹر حاجی لالو کے دل میں جگہ بنا لی جس کے سبب اس کو بابا لاڈلہ کے نام سے پکارا جانے لگا کیوںکہ حاجی لالو کا وہ لاڈلہ تھا اور وہ اس کی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا ۔ آخر کار سرکاری اطلاعات کے مطابق 2 فروری کو لیاری میں رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا ۔بابا لاڈلہ جرائم کی دنیا کا ایک بڑا نام اور ایک چھوٹا سا مہرہ تھا جو بڑے لوگوں کے ہاتھوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اس سے کام لینے والے لوگ آج بھی بڑے بڑے ناموں کے ساتھ اسمبلیوں میں براجمان ہیں ۔ وہ ثانیہ ناز ، شاہجہاں بلوچ جو کراچی آپریشن سے قبل ان سب گینگسٹرز کو اپنے ساتھ بٹھا کر تصویریں بناتے تھے آج خاموش ہیں ۔بابا لاڈلہ کی ہلاکت کے بارے میں متضاد اطلاعات آرہی ہیں کچھ کہہ رہے ہیں کہ اس کو پاک ایران بارڈر پر ہلاک کیا گیا اور کچھ کا کہنا ہے کہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا ۔2001 سے جرائم کا آغاز کرنے والا بابا لاڈلا اپنے انجام کو پہنچ گیا ۔ کیا اس کی ہلاکت کے بعد لیاری میں امن قائم ہو جائے گا؟ کیا مقتدر حلقے لیاری کے بہادر نوجوانوں کو اپنے گندے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کریں گے ۔لیاری کراچی کا وہ زرخیز علاقہ ہے جہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ کہلائے جانے والے اس علاقے کے ساتھ سیاسی شخصیات نے اپنی ذاتی دشمنیوں اور لالچ کے سبب جو ذیادتی کی ہے اس کو تاریخ کبھی بھی معاف نہیں کرے گی ۔وہاں کے نوجوانوں کو پیسے اور طاقت کی چمک دکھا کر اغوا برائے تاوان،بھتہ خوری ،ٹارگٹ کلنگ اور زمینوں کے قبضے کے لئے جس طرح استعمال کیا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ان سے کام لینے والے آج ڈیفنس میں اپنے بڑے بڑے گھروں میں بیٹھ کر بابا لاڈلہ کی ہلاکت پر جشن منا رہے ہیں کہ اس کی ہلاکت کے سبب ان کے جرائم پر زبان کھولنے والا ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا ہے اور اب وہ کوئی نیا بابا لاڈلہ ڈھونڈیں گے جس کے ذریعے اپنے مزموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچا۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
مولانا کی ''میں'' وجود منگل 10 فروری 2026
مولانا کی ''میں''

سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ وجود منگل 10 فروری 2026
سندھ کا تعلیمی بحران مصنوعی ذہانت کے تناظر میں مسائل کا تجزیہ

دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں ! وجود منگل 10 فروری 2026
دنیا کا بڑا بحران وسائل کی کمی نہیں !

شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر