... loading ...
لیاری ایک طویل عرصے سے سیاست کے گندے کھیل کا تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ کراچی سے انتخابات میں کامیابی کے لیے لیاری کو مرکز بنانے کے خواب نے پیپلزپارٹی کی شناخت بھی جرائم کی سرپرست جماعت کے طور پر کرادی ہے۔ لیاری میں گزشتہ چند برسوں میں اُبھرنے والے مختلف جرائم پیشہ گروہوں اور گینگ وار کے سرکردہ افراد میں جاری رسہ کشی بھی دراصل اسی سیاست کا نتیجہ ہے جس میں کسی بھی قیمت پرپیپلزپارٹی لیاری کے انتخابی حلقوں کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتی ہے۔اس حوالے سے پیپلزپارٹی کبھی کسی پر اور کبھی کسی پر اپنا ہاتھ رکھتی رہی ہے۔ اور اسی مقصد کی خاطر لیاری میں گینگ وار کے ذمہ داران سے رابطہ کاری میں پیپلزپارٹی کا کبھی کوئی لیڈر اورکبھی کوئی لیڈر سامنے آتا رہا۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، اویس ٹپی اور عبدالقادر پٹیل سے لے کر نبیل گبول تک مختلف سیاسی کردار لیاری کو اپنی ڈھب پر رکھنے کے لیے مختلف قسم کے گندے کھیل کھیلتے رہے۔ افسوس ناک امر یہ تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس کھیل میں اُسی طرح ملوث ہوگئے جس طرح سیاسی جماعتیں تھیں اور وہ بھی کچھ لوگوں کے خلاف کچھ لوگوں کی سرپرستی کرنے لگیں۔ انتہائی پریشان کن امر یہ ہے کہ بابا لاڈلا کی ہلاکت کے باوجود اب بھی لیاری میں وہی کھیل جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے جس میں انتخابی اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے لیاری گینگ وارز کے سربرآوردگان کی سرپرستی اُسی طرح برقرار رکھی جائے گی جس طرح ماضی میں جاری رکھی گئی۔
اس حوالے سے لیاری میں گینگ وار کے سرغنہ اور کراچی میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے نورمحمد عرف بابا لاڈلا کی دو ساتھیوں سمیت رینجرز سے مقابلے میں ہلاکت کے بعد لیاری گینگ وار کے نئے گروپ لیڈر کی دوڑ شروع ہو گئی ہے، اس دوڑ میں بابا لاڈلا کا بھائی زاہد لاڈلا، عزیر بلوچ گروپ کے فیصل پٹھان، استاد تاج محمد عرف تاجو، عمر کچھی اور بادشاہ خان گروپ کے دہشت گرد شامل ہیں۔ غفار ذکری اور شیراز کامریڈ اور چند دوسرے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں تاہم اس حوالے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت گینگ وار کے اتنے دھڑے اور گروپ بن چکے ہیں کہ انہیں یکجا کرکے چلانا ناممکن نظر آتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاری گینگ کے جو بڑے دہشت گرد بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں ان سے ایک سیاست دان مسلسل رابطے میں ہے اور ابتدائی طور پر یہ طے پایا ہے کہ کراچی میں موجود کسی گینگ وار کمانڈر کو ہی لیاری گینگ وار کا سربراہ مقرر کیا جائے اور وقت آنے پر یہ سربراہی کسی نامور دہشت گرد کے سپرد کی جائے تاکہ لیاری کے حلقہ انتخاب سے کسی قسم کی سیاسی مزاحمت کا خطرہ ختم کیا جا سکے۔ مذکورہ سیاست دان لیاری کے حوالے سے پہلے بھی سرگرم رہے تھے لیکن سردار نبیل گبول کے حوالے سے دل میں نرم گوشہ رکھنے کی وجہ ہے لیاری گینگ وار کے کمانڈرز اکثر ناراضگی کا اظہار کرتے رہے۔ واضح رہے کہ 2008کے انتخابات میں ابھی عبدالرحمن ڈکیت کے ساتھ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ ڈیل اسی سیاست دان کی مرہون منت تھی جس کی وجہ سے 2008میں نبیل گبول ایم این اے بن گئے تھے اور بعد ازاں شپنگ منسٹر بننے کے بعد لیاری کے 80نوجوانوں کو کے پی ٹی میں بھرتی نہ کرنے کی وجہ سے سردار نبیل گبول اور عبدالرحمن ڈکیت میں علیحدگی ہوئی تھی اور نبیل گبول پر لیاری آمد کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے۔
بابا لاڈلہ کی آمد کا مقصدلیاری میں سیاست دانوں کی انٹری کرانا تھا
رینجرز مقابلے میں مارے جانے والا لیاری گینگ کا سرغنہ بابا لاڈلہ ایران سے تربت کے راستے لیاری پہنچا۔حساس ادارے کی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس بار لیاری آنے کا مقصد کچھ سیاستدانوں کی لیاری میں انٹری کرانا اور لیاری میں اپنے گینگ کو پھر سے منظم کرنا تھا۔لیاری گینگ وار کے نور محمد عرف بابا لاڈلہ سے متعلق حساس ادارے نے انکشافات کیے ہیں کہ بابا لاڈلہ ایران کے شہر چاہ بہار کے قریب رہائش پذیر تھا۔مرنے والے بابا لاڈلہ کے پاس سے تفتیشی اداروں کو بعض اہم دستاویزات اور چند اہم سیاست دانوں کے فون نمبرز بھی ملے ہیں،اہم زرائع کا کہنا ہے کہ ان سیاست دانوں کا تعلق سندھ کی حکمراں جماعت سے ہے۔
بابا لاڈلہ کی شناختی دستاویزات نے تفتیشی حکام کو بھی چکرا کر رکھ دیا
سیکیورٹی اور تفتیشی حکام بابا لاڈلے کے شناختی کارڈ اور دستاویزات ہاتھ لگتے ہی چکرا کر رہ گئے، نئی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ بابا لاڈلہ شناختی کارڈ کے ذریعہ کئی بار ایران بھی فرار ہوا۔لیاری گینگ وار کا بدنام زمانہ کردار نور محمد عرف بابا لاڈلہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک کی بھی ہوا کھا چکا تھا، بابا لاڈلہ کو جاری سفری اور شناختی دستاویزات سے متعلق تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ حکام نے یہ پتا لگانے کی تحقیقات کردی ہیں کہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے کے باوجود بابا لاڈلہ کو شناختی کارڈ کس مرکز سے جاری ہوا؟۔تفتیش میں اس بات کا بھی تعین کیا جائے گا کہ تصویر کے باوجود نادرا نے شناخت کیوں نہ کی؟ ملزم کئی بار ایران فرار ہوا، بارڈر سیکیورٹی نے چیک کیوں نہ کیا؟ ملزم کئی بار ایران کے راستے مختلف بارڈرز کے ذریعے پاکستان آتا رہا، دوران سفر بابا لاڈلہ کے پاس جدید ہتھیار بھی ساتھ ہوتا تھا۔تحقیقاتی اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بابا لاڈلا کے پاس دو پاکستانی شناختی کارڈ ، جب کہ ایک ایرانی بھی تھا۔ اس نے عبدالقادر ولد عبداللہ کے نام سے بھی پاکستانی شناختی کارڈ بنا رکھا تھا۔ ایرانی شناختی کارڈ میں بابا لاڈلا کا نام اسلام ولد خداداد درج ہے۔ ایرانی شناختی کارڈ میں اس کی ذات زرد کوہی درج ہے۔
بابا لاڈلہ کے سر کی قیمت25لاکھ اور سکندر سکو کے سر کی قیمت10لاکھ روپے مقرر تھی
لیاری پھول پتی کے علاقہ میں رینجرز کا آپریشن 100قتل کی وارداتوں میں مطلوب دہشت اور خوف کی علامت نور محمد عرف بابا لاڈلہ 2ساتھیوں سکندر عرف ملکو اور یاسین بلوچ سمیت مارا گیا، بابا لاڈلہ کے سر کی قیمت 25لاکھ اور سکندر عرف سکو کے سر کی قیمت 10لاکھ روپے تھی، یاسین بلوچ بابا لاڈلہ کا ماموں تھا، کراچی میں حکومت کی طرف سے آپریشن کے فیصلے کے وقت سے بابا لاڈلہ فرار تھا اور پولیس کی ریڈبک میں شامل تھا۔ ملزموں کے قبضے سے خود کار مشین گن، دستی بم اور بھاری تعداد میں گولیاں برآمد، آپریشن میں ایک رینجرز اہلکار بھی زخمی ہوگیا تھا، بابالاڈلا پھول پتی لین اور دیگر2ملزمان کچراکنڈی میں مارے گئے، اس حوالے سے کراچی میں لیاری کے علاقے پھول پتی لین میں لیاری گینگ وار کارندے بابا لاڈلا کے اڈے کے قریب رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ رینجرز سے مقابلے میں گینگ وار کارندہ بابالاڈلا اسی جگہ مارا گیا تھا،پھول پتی لین پر اسی مقام پر تینوں ملزمان بیٹھا کرتے تھے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقابلے سے قبل بھی اسی جگہ پر ملزمان موجود تھے، تینوں جرائم کی منصوبہ بندی بھی اسی جگہ کرتے تھے،اور یہیں سے گینگ وار کے کارندوںکو بابا لاڈلہ ہدایات جاری کرتا تھا،چند سال قبل جب عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ ایک ہی گروپ میں تھے،تو پولیس انسپکٹر چاند خان نیازی کو ایس ایچ او لگوانے کے بعد اس کی تاج پوشی بھی اسی اڈے پر کی گئی تھی۔
بابالاڈلہ سب مفادپرستوں
کا لاڈلہ
بابا لاڈلہ عرف نور احمد 10اکتوبر 1977 کو کراچی کے شہر چاکیواڑہ میں پیدا ہوا ۔ اس نے جرائم کی دنیا میں بہت کم عمری ہی میں قدم رکھ دیا تھا ۔جلد ہی اس نے لیاری کے ایک بڑے گینگسٹر حاجی لالو کے دل میں جگہ بنا لی جس کے سبب اس کو بابا لاڈلہ کے نام سے پکارا جانے لگا کیوںکہ حاجی لالو کا وہ لاڈلہ تھا اور وہ اس کی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا ۔ آخر کار سرکاری اطلاعات کے مطابق 2 فروری کو لیاری میں رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا ۔بابا لاڈلہ جرائم کی دنیا کا ایک بڑا نام اور ایک چھوٹا سا مہرہ تھا جو بڑے لوگوں کے ہاتھوں میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اس سے کام لینے والے لوگ آج بھی بڑے بڑے ناموں کے ساتھ اسمبلیوں میں براجمان ہیں ۔ وہ ثانیہ ناز ، شاہجہاں بلوچ جو کراچی آپریشن سے قبل ان سب گینگسٹرز کو اپنے ساتھ بٹھا کر تصویریں بناتے تھے آج خاموش ہیں ۔بابا لاڈلہ کی ہلاکت کے بارے میں متضاد اطلاعات آرہی ہیں کچھ کہہ رہے ہیں کہ اس کو پاک ایران بارڈر پر ہلاک کیا گیا اور کچھ کا کہنا ہے کہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا ۔2001 سے جرائم کا آغاز کرنے والا بابا لاڈلا اپنے انجام کو پہنچ گیا ۔ کیا اس کی ہلاکت کے بعد لیاری میں امن قائم ہو جائے گا؟ کیا مقتدر حلقے لیاری کے بہادر نوجوانوں کو اپنے گندے مقاصد کے لئے استعمال نہیں کریں گے ۔لیاری کراچی کا وہ زرخیز علاقہ ہے جہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ کہلائے جانے والے اس علاقے کے ساتھ سیاسی شخصیات نے اپنی ذاتی دشمنیوں اور لالچ کے سبب جو ذیادتی کی ہے اس کو تاریخ کبھی بھی معاف نہیں کرے گی ۔وہاں کے نوجوانوں کو پیسے اور طاقت کی چمک دکھا کر اغوا برائے تاوان،بھتہ خوری ،ٹارگٹ کلنگ اور زمینوں کے قبضے کے لئے جس طرح استعمال کیا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ان سے کام لینے والے آج ڈیفنس میں اپنے بڑے بڑے گھروں میں بیٹھ کر بابا لاڈلہ کی ہلاکت پر جشن منا رہے ہیں کہ اس کی ہلاکت کے سبب ان کے جرائم پر زبان کھولنے والا ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا ہے اور اب وہ کوئی نیا بابا لاڈلہ ڈھونڈیں گے جس کے ذریعے اپنے مزموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچا۔
بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...
سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...
موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...
اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...
حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...
بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...
رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...
ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...
پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...
تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...
وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...
کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...