... loading ...
کشمیری افسانے سے ایک اقتباس
وادی کشمیر کے معروف ادیب و افسانہ نویس نو ر شاہ کی ایک کتاب ” کشمیر کہانی”ہے جس پر مایہ ناز افسانہ نویس اور دانشو ر ڈاکٹر ریاض توحیدی کا حال ہی میں ایک تبصرہ سری نگر کے ایک مؤقر اخبار “کشمیر عظمیٰ “میں شائع ہوا ہے ۔تبصرے میں جہاں اس کتاب کی اہمیت اور خصوصیت بیان کی گئی ہے ،وہیں اس تبصرے میں کچھ افسانوں سے چند اقتبا سات بھی درج ہیں۔ ان اقتباسات کو پڑھ کر یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس طرح اس جد ید اور نام نہاد مہذب دنیا میں ایک ثقافت سے بھرپورقوم کا صفایا کئی دہائیوں سے کیا جارہا ہے اور بڑی ڈھٹائی و بے شرمی کے ساتھ یہ سلسلہ جاری ہے ۔
کشمیر کہانی میں شامل افسانے کا ایک کردار بوڑھا عقاب ہے۔وہ مسجد کے اونچے گنبد پر بیٹھ کر قریبی قبرستان کو گھورتا رہتا ہے ،جیسے کچھ تلاش کررہا ہو کیونکہ پہلے تو یہ قبرستان اتنا بڑا نہیں تھا لیکن چند برسوں کے اندر ہی یہ قبروں سے بھرا پڑا ہے۔اسی دوران کسی انسانی پنجر کو قبر سے باہر آتا دیکھ کر عقاب اپنے پر پھڑا پھڑا کر ہوشیار ہوجاتا ہے۔پنجر نما انسان جب نزدیک آتا ہے تو عقاب اس سے پوچھ بیٹھتا ہے کہ وہ کون ہے اور اس نے عقاب کی سی زندگی کیوں چھوڑ دی؟اس کے بعد افسانہ نگار نے مردہ جسم کے پنجر کی زبان سے اپنے قتل کیے جانے اور کشمیریوں کے جذبات و احساسات کو کچلنے کی عکاسی یوں کی ہے:’’تم آسمان کی بلندیوں میں تب بھی اُڑتے تھے اور اب بھی اُڑ رہے ہو اور ہم۔۔۔ہم نے جب تمہاری طرح بلندیوں کو چھونے کی کوشش کی‘آزاد فضاوں کو چھونے کی آرزو کی۔تہذیبی قدروں کی آبیاری اور انسانی عظمت کی بلندیوں کے لئے اپنی آواز بلند کی ،تو ہم سے ہماری دنیا چھین لی گئی۔ہمارے پاؤں میں بیڑیاں ڈالی گئیں۔ ہمارے لئے دوقدم چلنا مشکل ہوگیا اور جب ہم نے اپنے پاؤں کو، اپنے وجود کو ان بیڑیوں سے آزاد کرنے کی کوشش کی تو ہمارے بے بس ،بے حرکت اور بے آوازجسموں کوان قبروں کی گہرائیوں میں دھکیل دیا گیا۔‘‘
ڈاکٹر ریاض توحیدی آگے لکھتے ہیں کہ :افسانے کا مرکزی کردار’’انسانی پنجر‘‘کشمیر کے ان سینکڑوں انقلابی انسانوں کی ترجمانی کررہا ہے جنہوں نے شعوری طور پر قید و بند کے گھٹن زدہ ماحول میں عقاب بننے کی کوشش کی تاکہ وہ آزاد فضائوں میں اڑان بھر سکیں لیکن کالے دیونے ان کے پر نوچ ڈالے اور انہیں زندگی کی سانسوں سے آزاد کر ڈالا۔عقاب اس کی درد بھری کہانی سن کر جب دوبارہ پوچھتا ہے کہ اب وہ قبر سے باہر کس لئے آیا ہے؟تو اس کا جواب سن کر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ اگرچہ جسمانی طور پر مر چکا ہے لیکن اس کی روح آج بھی آزادی کا سورج دیکھنے کے لئے تڑپ رہی ہے۔لیکن یہاں کے اندھیرے سے پھر مایوس ہوجاتا ہے:
’’ذرا سی آہٹ سنائی دی تو قبروں کے اندھیاروں سے باہر نکل آیا۔یہ دیکھنے کے لئے شاید صبح کی بے داغ روشنی نے اس دھرتی کو اپنی آغوش میں لے لیا ہوگالیکن یہاں۔۔۔یہاں تو اب بھی گھٹن ہے‘مایوسی ہے‘خالی ہاتھ اور خالی پیٹ ہیں‘خون خرابہ ہے‘ناانصافی اور عدم مساوات کا ماحول ہے۔ظلم ہے اور ظالم‘بندوق ہے اور بندوق سے اگلتی گولیاں ہیں۔۔۔یہاں ہر صبح اپنے ساتھ موت کا پیغام لاتی ہے اور ہر رات لاتعداد روحیں بھٹک کررہ جاتی ہیں۔‘‘
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...