وجود

... loading ...

وجود

’’بھارتی بظاہر جارحانہ ،حقیقت میں دفاعی ہیں‘‘ سی آئی اے دستاویزات میں انکشاف

هفته 28 جنوری 2017 ’’بھارتی بظاہر جارحانہ ،حقیقت میں دفاعی ہیں‘‘ سی آئی اے دستاویزات میں انکشاف

امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے 1940 سے 1990 کے درمیان مرتب کی جانے والی خفیہ دستاویزات کو شائع کردیا گیا ہے جس میں پاکستان کے جوہری صلاحیت کے حامل ہونے اور ضیا الحق کے دور حکومت میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے سمیت دیگر معاملات کی تفصیلات موجود ہیں۔سی آئی اے کی جانب سے رواں ماہ کے آغازمیں ایک کروڑ 30 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات کی ڈیجیٹل ریلیز (اشاعت) نے دنیا کی دلچسپی میں اضافہ کردیا ہے۔امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شائع کی جانے والی ان خفیہ دستاویزات میں یو ایف اوز اور اسٹارگیٹ منصوبوں کا غلبہ ہے، تاہم بھارتی میڈیا نے ان خفیہ دستاویزات میں دریافت کیا ہے کہ سی آئی اے کس طرح ایک روحانی پیشوا ساتھیا سائیں بابا کو دنیا میں نئے مذہب کا آغاز سمجھتی تھی۔
مضحکہ خیز طور پر 1971 کے بھارت کے حوالے سے دستاویزات میں ایک عنوان شامل کیا گیا ہے جسے ‘نیشنل انٹیلی جنس سروے کا نام دیا گیا، اس میں ملک کے قومی کرداروں کو ان الفاظ میں پیش کیا گیا ہے کہ ‘خوف کو کم کرنے کے لیے جو شاید کم ہوسکتا ہے تاہم بیشتر بھارتی دفاعی ، حساس اور جذباتی ہیں اور وہ ظاہری طور پر بہت جارحانہ ہیں جو کہ تکبر کی حد تک ہے۔سی آئی اے کی رپورٹ کے مذکورہ پیراگراف کے مطابق ‘بھارتیوں کے پاس صلاحیت اور آسانی ہے تاہم ان کے پاس فوری احساس نہیں ہے۔یہ نہیں ہے کہ بھارتی رہنما درست کام کرنے سے بے پروایا تیار نہیں، لیکن ان کی جانب سے ظاہر کیا جانے والا آرام دہ نقطہ نظر غیر بھارتیوں کے لیے بھی اشتعال کا باعث ہے۔
امریکا کے تحقیقاتی ادارے سی آئی اے کی جانب سے جاری دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کے حکام پاکستان کے سابق صدر ضیاالحق کو امریکا کا انتہائی وفادار انسان تصور کرتے تھے اور جنرل ضیاالحق بھی امریکا کے ساتھ اپنی وفاداری کے اظہار کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیںجانے دیتے تھے ،سی آئی اے کی خود اپنی جاری کردہ خفیہ دستاویزات کے مطابق جنرل ضیا نے امریکا کو ایٹم بم نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
سی آئی اے کی جانب سے جاری دستاویزات میں امریکی صدر رونالڈ ریگن کے نام سابق صدر جنرل ضیاء الحق کا ایک خط بھی شامل ہے، جس میں صدرضیا نے اپنے امریکی ہم منصب کو یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔پانچ جولائی 1982 کو لکھے گئے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر ضیا الحق نے یہ خط امریکی صدر رونلڈ ریگن کی جانب سے لکھے گئے اْس خط کے جواب میں لکھا تھا جو امریکی سفیر ورنن والٹر نے جنرل ضیا تک پہنچایا تھا۔
پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے میںسی آئی اے کے جاری کردہ دستاویزات کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صدر ریگن نے جنرل ضیا کے نام اپنے خط میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔جنرل ضیانے اس خط کے جواب میں صدر ریگن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ‘مجھے اس بات سے انتہائی تکلیف ہوئی جب امریکی سفیر ورنن والٹر نے مجھ سے کہا کہ ایسی مصدقہ معلومات ہیں کہ پاکستان نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے اقدمات کیے ہیں اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔صدر ضیا الحق نے جواب میں لکھا تھا ایسی تمام معلومات سراسرغلط ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ ہمارے پاس جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ڈیزائن یا طریقہ ہے اور نہ ہی ہم نے یہ معلومات کسی کو فراہم کی ہیں۔ خط میں اِس عزم کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ پاکستان جوہری میدان میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے امریکا کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔اس خط میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پْرامن مقاصد کے لیے ہے اور پاکستان کا جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں۔امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویزات پہلی بار انٹرنیٹ پر جاری کی ہیں۔
اگر ان خفیہ دستاویزات میں لفظ’’پاکستان‘‘ کو تلاش کیا جائے تو 1233 مقامات پر اس کی نشاندہی ہوتی ہے، جن میں اخبارات کی کلپنگ اور فوج، ٹیلی گرامس اور جغرافیہ پر ملک کے پروفائلز شامل ہیں۔خفیہ دستاویزات میں پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ماضی میں ہونے والے تاریخی واقعات کے پس منظر پر سی آئی اے افسران کے انکشافات بھی شامل ہیں: جن میں بھارت اور پاکستان کے کشیدہ تعلقات، پاکستان کے جوہری پروگرام میں پیش رفت، ضیا الحق کے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے اور دیگر معاملات موجود ہیں۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ بغیر کسی تاریخ کا تعین کیے سی آئی اے کی انٹیلی جنس رپورٹ میں پاک امریکا تعلقات کو بھارت اور سوویت یونین (موجودہ روس) کے درمیان تعلقات کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’’اقوام متحدہ میں شمالی افریقہ اور کشمیر کے حوالے سے امریکا کے واضح موقف کے باوجود پاکستان میں مغرب نواز افکار جاری رہنے کے امکانات ہیں‘‘۔مذکورہ دستاویزات میں واضح الفاظ میں لکھی گئی ایک اہم تحریر کے مطابق پاکستان کا مغرب نواز ہونا اس کی جانب سے بھارت اور روس کے درمیان تعلقات میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر ہے نہ کہ سرمایہ دارانہ نظام یا عیسائی تہذیب کے ساتھ بنیادی ہمدردی کے لیے، یہ مثبت سے زیادہ منفی ہے۔ہاتھ سے لکھی ایک اور تحریر کے مطابق ’’پاکستان مغرب کے ساتھ کھلے دل سے اتحاد قائم نہیں کرنا چاہتا سوائے یہ کہ وہ بدلے میں مناسب فوائد حاصل کرے‘‘۔
اس کے علاوہ سی آئی اے کی ان دستاویزات میں ایران میں کمیونسٹ کنٹرول پر پاکستان کے ممکنہ رد عمل کے حوالے سے یہ بھی تحریر موجود ہے کہ ‘کیا ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ایران پر کمیونسٹ کے قابض ہوجانے سے پاکستان کے لیے خطرات میں اضافہ ہوجائے گا۔اس کے علاوہ دستاویزات میں پاکستان کے حوالے سے شامل انتہائی اہم تفصیلات میں امریکی جاسوس فرانسس گرے پاور کا ذکر بھی موجود ہے جسے پشاور ائیر بیس پر گرفتاری سے قبل یو ٹو طیارے کو اڑان بھرنے کا کہا گیا تھا۔افشا کی جانے والی خفیہ دستاویزات اس سے قبل صرف میری لینڈ کے کالج پارک کے نیشنل آرکائیو میں عوام کے لیے موجود تھیں، جسے وہ کام کے اوقات کار میں کمپیوٹرز پردیکھ سکتے تھے۔
ماسکو سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے مشیر نے دستاویزات کے درست ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے بیشتر نظر ثانی شدہ ہیں انھوں نے انھیں جعلی اور غلط معلومات قرار دیا ہے جبکہ سی آئی اے نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔سی آئی اے کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ ان میں سے کوئی بھی بناوٹی نہیں ہے، یہ مکمل کہانی ہے، یہ غلط اور صحیح ہے۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر