وجود

... loading ...

وجود

’’بھارتی بظاہر جارحانہ ،حقیقت میں دفاعی ہیں‘‘ سی آئی اے دستاویزات میں انکشاف

هفته 28 جنوری 2017 ’’بھارتی بظاہر جارحانہ ،حقیقت میں دفاعی ہیں‘‘ سی آئی اے دستاویزات میں انکشاف

امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے 1940 سے 1990 کے درمیان مرتب کی جانے والی خفیہ دستاویزات کو شائع کردیا گیا ہے جس میں پاکستان کے جوہری صلاحیت کے حامل ہونے اور ضیا الحق کے دور حکومت میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے سمیت دیگر معاملات کی تفصیلات موجود ہیں۔سی آئی اے کی جانب سے رواں ماہ کے آغازمیں ایک کروڑ 30 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات کی ڈیجیٹل ریلیز (اشاعت) نے دنیا کی دلچسپی میں اضافہ کردیا ہے۔امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شائع کی جانے والی ان خفیہ دستاویزات میں یو ایف اوز اور اسٹارگیٹ منصوبوں کا غلبہ ہے، تاہم بھارتی میڈیا نے ان خفیہ دستاویزات میں دریافت کیا ہے کہ سی آئی اے کس طرح ایک روحانی پیشوا ساتھیا سائیں بابا کو دنیا میں نئے مذہب کا آغاز سمجھتی تھی۔
مضحکہ خیز طور پر 1971 کے بھارت کے حوالے سے دستاویزات میں ایک عنوان شامل کیا گیا ہے جسے ‘نیشنل انٹیلی جنس سروے کا نام دیا گیا، اس میں ملک کے قومی کرداروں کو ان الفاظ میں پیش کیا گیا ہے کہ ‘خوف کو کم کرنے کے لیے جو شاید کم ہوسکتا ہے تاہم بیشتر بھارتی دفاعی ، حساس اور جذباتی ہیں اور وہ ظاہری طور پر بہت جارحانہ ہیں جو کہ تکبر کی حد تک ہے۔سی آئی اے کی رپورٹ کے مذکورہ پیراگراف کے مطابق ‘بھارتیوں کے پاس صلاحیت اور آسانی ہے تاہم ان کے پاس فوری احساس نہیں ہے۔یہ نہیں ہے کہ بھارتی رہنما درست کام کرنے سے بے پروایا تیار نہیں، لیکن ان کی جانب سے ظاہر کیا جانے والا آرام دہ نقطہ نظر غیر بھارتیوں کے لیے بھی اشتعال کا باعث ہے۔
امریکا کے تحقیقاتی ادارے سی آئی اے کی جانب سے جاری دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کے حکام پاکستان کے سابق صدر ضیاالحق کو امریکا کا انتہائی وفادار انسان تصور کرتے تھے اور جنرل ضیاالحق بھی امریکا کے ساتھ اپنی وفاداری کے اظہار کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیںجانے دیتے تھے ،سی آئی اے کی خود اپنی جاری کردہ خفیہ دستاویزات کے مطابق جنرل ضیا نے امریکا کو ایٹم بم نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
سی آئی اے کی جانب سے جاری دستاویزات میں امریکی صدر رونالڈ ریگن کے نام سابق صدر جنرل ضیاء الحق کا ایک خط بھی شامل ہے، جس میں صدرضیا نے اپنے امریکی ہم منصب کو یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔پانچ جولائی 1982 کو لکھے گئے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر ضیا الحق نے یہ خط امریکی صدر رونلڈ ریگن کی جانب سے لکھے گئے اْس خط کے جواب میں لکھا تھا جو امریکی سفیر ورنن والٹر نے جنرل ضیا تک پہنچایا تھا۔
پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے میںسی آئی اے کے جاری کردہ دستاویزات کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صدر ریگن نے جنرل ضیا کے نام اپنے خط میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔جنرل ضیانے اس خط کے جواب میں صدر ریگن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ‘مجھے اس بات سے انتہائی تکلیف ہوئی جب امریکی سفیر ورنن والٹر نے مجھ سے کہا کہ ایسی مصدقہ معلومات ہیں کہ پاکستان نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے اقدمات کیے ہیں اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔صدر ضیا الحق نے جواب میں لکھا تھا ایسی تمام معلومات سراسرغلط ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ ہمارے پاس جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ڈیزائن یا طریقہ ہے اور نہ ہی ہم نے یہ معلومات کسی کو فراہم کی ہیں۔ خط میں اِس عزم کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ پاکستان جوہری میدان میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے امریکا کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔اس خط میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پْرامن مقاصد کے لیے ہے اور پاکستان کا جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کا قطعی کوئی ارادہ نہیں۔امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ صفحات پر مشتمل خفیہ دستاویزات پہلی بار انٹرنیٹ پر جاری کی ہیں۔
اگر ان خفیہ دستاویزات میں لفظ’’پاکستان‘‘ کو تلاش کیا جائے تو 1233 مقامات پر اس کی نشاندہی ہوتی ہے، جن میں اخبارات کی کلپنگ اور فوج، ٹیلی گرامس اور جغرافیہ پر ملک کے پروفائلز شامل ہیں۔خفیہ دستاویزات میں پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ماضی میں ہونے والے تاریخی واقعات کے پس منظر پر سی آئی اے افسران کے انکشافات بھی شامل ہیں: جن میں بھارت اور پاکستان کے کشیدہ تعلقات، پاکستان کے جوہری پروگرام میں پیش رفت، ضیا الحق کے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے اور دیگر معاملات موجود ہیں۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ بغیر کسی تاریخ کا تعین کیے سی آئی اے کی انٹیلی جنس رپورٹ میں پاک امریکا تعلقات کو بھارت اور سوویت یونین (موجودہ روس) کے درمیان تعلقات کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’’اقوام متحدہ میں شمالی افریقہ اور کشمیر کے حوالے سے امریکا کے واضح موقف کے باوجود پاکستان میں مغرب نواز افکار جاری رہنے کے امکانات ہیں‘‘۔مذکورہ دستاویزات میں واضح الفاظ میں لکھی گئی ایک اہم تحریر کے مطابق پاکستان کا مغرب نواز ہونا اس کی جانب سے بھارت اور روس کے درمیان تعلقات میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر ہے نہ کہ سرمایہ دارانہ نظام یا عیسائی تہذیب کے ساتھ بنیادی ہمدردی کے لیے، یہ مثبت سے زیادہ منفی ہے۔ہاتھ سے لکھی ایک اور تحریر کے مطابق ’’پاکستان مغرب کے ساتھ کھلے دل سے اتحاد قائم نہیں کرنا چاہتا سوائے یہ کہ وہ بدلے میں مناسب فوائد حاصل کرے‘‘۔
اس کے علاوہ سی آئی اے کی ان دستاویزات میں ایران میں کمیونسٹ کنٹرول پر پاکستان کے ممکنہ رد عمل کے حوالے سے یہ بھی تحریر موجود ہے کہ ‘کیا ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ایران پر کمیونسٹ کے قابض ہوجانے سے پاکستان کے لیے خطرات میں اضافہ ہوجائے گا۔اس کے علاوہ دستاویزات میں پاکستان کے حوالے سے شامل انتہائی اہم تفصیلات میں امریکی جاسوس فرانسس گرے پاور کا ذکر بھی موجود ہے جسے پشاور ائیر بیس پر گرفتاری سے قبل یو ٹو طیارے کو اڑان بھرنے کا کہا گیا تھا۔افشا کی جانے والی خفیہ دستاویزات اس سے قبل صرف میری لینڈ کے کالج پارک کے نیشنل آرکائیو میں عوام کے لیے موجود تھیں، جسے وہ کام کے اوقات کار میں کمپیوٹرز پردیکھ سکتے تھے۔
ماسکو سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے مشیر نے دستاویزات کے درست ہونے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے بیشتر نظر ثانی شدہ ہیں انھوں نے انھیں جعلی اور غلط معلومات قرار دیا ہے جبکہ سی آئی اے نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔سی آئی اے کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ ان میں سے کوئی بھی بناوٹی نہیں ہے، یہ مکمل کہانی ہے، یہ غلط اور صحیح ہے۔


متعلقہ خبریں


طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...

طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان وجود - اتوار 30 نومبر 2025

سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مضامین
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے! وجود اتوار 30 نومبر 2025
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے!

مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ وجود اتوار 30 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ

بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن وجود اتوار 30 نومبر 2025
بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر