وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ انتظامیہ کی پھرتیاں‘ داعش سربراہ کی گرفتاری کا دعویٰ

بدھ 25 جنوری 2017 ٹرمپ انتظامیہ کی پھرتیاں‘ داعش سربراہ کی گرفتاری کا دعویٰ

امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنھیں اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی مخالفانہ مظاہروں اور دنیا بھر میں منفی تبصروں کاسامنا تھا لیکن گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے دور اقتدار کے چند روز کے اندر ہی اتنی بڑی کامیابی حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں جو اوباما اپنے 8سالہ دور حکومت میں بھی حاصل نہیں کرسکے ۔’’یورنیوز وائر‘‘ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلے ہی دن امریکی فوج کے اعلیٰ ترین جنرلز کو حکم دیاتھا کہ وہ داعش کا30دن کے اندر خاتمہ کرنے کا منصوبہ بنا کر پیش کریں ،ان کایہ حکم یا ہدایت انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیے گئے ان کے مختلف وعدوں میں سب سے اہم وعدہ تھا جس کی تکمیل بظاہر ناممکن تھی۔ یورنیوزوائر نے خطے کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حوالے سے فوری کامیابی کے حصول کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کی گئی۔جس کے نتیجے میںعراق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک دن کے بھرپور فضائی حملوں کے نتیجے میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی مبینہ طورپر زخمی ہوگئے اور انھیں گرفتار کرلیاگیاہے۔
خبروں کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے سارا دن پنٹاگن میں گزارا اور انھوں نے امریکی فضائیہ کی جانب سے عراق اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری اور حملوں کی بذات خود نگرانی کی ،خبروں کے مطابق اس ایک دن کے دوران عراق اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر مجموعی طوپر 31حملے کیے گئے،سارا دن مختلف قسم کے لڑاکا اور بمبار طیارے اور دور سے بیٹھ کر اڑائے جانے والے طیارے بمباری اورحملوں میں مصروف رہے، اس طرح شام میں مجموعی طورپر 25اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر 6 فضائی حملے کیے گئے۔
خبروں کے مطابق شام میں باب شہر کے قریب توپخانے نے بھی داعش کے ٹھکانوں پر دو دن تک حملے کیے، جبکہ رقہ میں جو کہ داعش کا مضبوط گڑھ تصور کیاجاتا ہے 22لگاتار حملے کرکے داعش کے 12 اہم لڑاکا یونٹ اور لڑائی کے 9مورچے تباہ کردیے گئے ،اس کے علاوہ ان حملوں میں بم بنانے کی دو زیرِ زمین فیکٹریوں اور داعش کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایاگیا، جبکہ آخری حملوں میں زاعر الزور میں داعش کے زیر کنٹرول تیل کے 2کنوئوں کو بھی نشانہ بنایاگیا۔
ان رپورٹوں کی تیل کے حوالے سے عراق کی رپورٹوں سے تصدیق ہوتی ہے۔اس کے علاوہ موصل اور اس کے اردگرد سیکورٹی کی تازہ ترین صورتحال اور داعش کے زیر کنٹرول علاقوں کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات جمع کرنے والے باوثوق ذریعے نے بھی تصدیق کی جس کے پاس مقامی رپورٹرز ،مقامی لوگوں اور جنگجوئوں کا پورا نیٹ ورک موجود ہے۔
اس سے قبل یہ اطلاعات ملی تھیں کہ بآج کے علاقے میں اتحادی فوجی کی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آرہی ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ اطلاعات بھی ملی تھیں کہ داعش کے سربراہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کا محاصرہ کرلیا گیا ہے، بعد ازاں امریکی بمباری کے نتیجے میں ان کے زخمی ہونے اور بعد میں گرفتار کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں لیکن ان کی گرفتار ی کے بعد کی کوئی باوثوق اطلاع ابھی تک نہیں مل سکی ہے اور یہ پتہ نہیں لگ سکا کہ اگر ابوبکر البغدادی کو واقعی گرفتار کیاگیاہے تو وہ اس وقت کس کی تحویل میں ہیں اور ان کو کہاں رکھا گیاہے؟اور ان سے پوچھ گچھ کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیاجائے گا؟
عہدہ صدارت سنبھالنے کے پہلے ہی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا سے ‘اسلامی دہشت گردی’ کے خاتمے کے عہد کو دہراتے ہوئے امریکی خفیہ ایجنسی کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیاتھا۔
ادھرقومی سطح کے ایک انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق ورجینیا میں سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے خفیہ ایجنسی کے افسران کو ہدایات دیں کہ ‘اسلامی دہشت گردی بری، بہت بری چیز ہے اور دنیا سے اس کا خاتمہ کرنا بہت ضروری ہے۔یاد رہے کہ حلف برداری کے بعد تقریر کرتے ہوئے نئے امریکی صدر نے عہد کیا تھا کہ وہ دنیا کے مہذب ممالک کو اسلامی دہشت گردی کے خلاف متحد کریں گے اور دنیا سے اس کا مکمل صفایا کردیں گے۔
2016 میں اپنی صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار رخصت ہونے والے امریکی صدر بارک اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عاید کیاتھاکہ وہ ’بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کرتے اور جب تک دشمن کو واضح طور پر شناخت نہیں کیا جاتا اس وقت تک اسے شکست دینا ممکن نہیں۔سی آئی اے ہیڈکوارٹرز میں اپنی تقریر کے دوران نئے امریکی صدر ایک قدم آگے بڑھے اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں اور امریکیوں کو خبردار کیا کہ اسلام کی بنیادی صورت کے خلاف جنگ اب پہلے سے زیادہ شدت اختیار کرچکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب وہ نوجوان تھے تو انہوں نے اپنے ایک معلم سے سنا تھا کہ ’امریکا کبھی جنگ نہیں ہارا‘ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہم کچھ بھی جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں، اب ہم کچھ نہیں جیتتے۔
افغانستان میں جاری رہنے والی امریکا کی طویل ترین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے اتنے طویل عرصے جاری رہنے کی وجہ یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے مکمل طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، ’ہم اپنی اصل صلاحیتیں بروئے کار نہیں لائے اور خود پر قابو رکھا‘۔ساتھ ہی انہوں نے سی آئی اے افسران سے وعدہ کیا کہ انہیں ملک دشمنوں سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ اختیارات فراہم کیے جائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں داعش سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے، کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں۔نئے امریکی صدر کے مطابق اس سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان جنگیں ہوسکتی ہیں، یہ وہ خطرناک حد ہے جہاں تک ابھی ہم نہیں پہنچے۔
سی آئی اے افسران کو مخاطب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے انہیں ناکافی حمایت فراہم کی مگر وہ اس میں تبدیلی لائیں گے، ’میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔اس موقع پر انہوں نے امریکی خفیہ ایجنسیوں اور ان کے درمیان تعلقات میں خرابی سے متعلق رپورٹنگ پر میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’امریکی صحافی دنیا کے غیردیانت دار لوگوں میں سے ہیں، میں ایک ہزار فیصد آپ (سی آئی اے افسران) کے ساتھ ہوں۔واضح رہے کہ حلف برداری سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے سی آئی اے کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ انہوں نے 2016 کے انتخابات کو روسی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ہیک کیے جانے کی بات کی۔یاد رہے کہ 11 جنوری کو اپنی ایک ٹوئیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ جعلی خبر عوام تک پہنچنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر