وجود

... loading ...

وجود

گاندھی کی تصویر والی چپل اور بھارتی پرچم کا پائوں پوش برائے فروخت

بدھ 18 جنوری 2017 گاندھی کی تصویر والی چپل اور بھارتی پرچم کا پائوں پوش برائے فروخت

آن لائن سامان بیچنے والی بین الاقوامی کمپنی ایمازون (amazon)نے بھارتی پرچم والے پائوں پوش فروخت کرنے کے لیے پیش کرنے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے شدید احتجاج کے بعد معافی مانگی اور اب مہاتما گاندھی کی شکل سے مزین ہوائی چپل پر شدید تنقید کے بعدانھیں بھی اپنی ویب سائٹ سے ہٹانے پر مجبور ہوگئی ہے۔بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے واشنگٹن میںبھارتی سفارت خانے کو پیغام بھیجا گیا تھا کہ وہ ایمازون کوبھارت کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے روکیں۔بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے کہا کہ بھارتی جھنڈے والے ڈور میٹ کے واقعے کے بعداب گاندھی کی تصویر والی چپل فروخت کے لیے پیش کیے جانے پر امریکا میں موجود سفیر کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ایمازون کو بھارتی عوام کے جذبات اور احساسات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں مجروح کرنے سے روکیں۔بھارتی حکومت کے سیکریٹری برائے معاشی امور شکتی کانتا داس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ ایمازون بھارت کی اہم علامات اور نشانات کے بارے میں ایسے خطرے مول لینے سے پہلے سوچ لے۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ بحیثیت ایک شہری اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے، نہ کہ اپنی سرکاری حیثیت میں۔
چند روز قبل ایمازون کو ایک اور تنازع کا سامنا اس وقت کرنا پڑا تھا جب کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر بھارتی پرچم والے ڈور میٹ فروخت کے لیے پیش کیے۔بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے اس پر سخت تنقید کی گئی تھی جس کے بعد ایمازون نے اپنی ویب سائٹ سے اس پراڈ کٹ کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا اور معافی بھی مانگی تھی۔سشما سواراج نے کہا تھا کہ اگر ایمازون نے معافی نہیں مانگی توایمازون کے حکام کے بھارتی ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے اور مزید ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔
بھارت میں قومی پرچم کی توہین ایک ایسا جرم ہے کہ قصوروار پائے جانے پر جرمانہ سمیت قید کی سزا ہوسکتی ہے۔گزشتہ برس بھی ایمازون پر بعض ہندو دیوی دیوتاؤں والی ایک ڈور میٹ فروخت کرنے کے لیے پیش کی گئی تھی جس پر بھی کافی تنازع ہوا تھا۔بھارت میںایمازون کمپنی کے نائب صدر امت اگروال نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی کمپنی بھارتی قوانین اور روایات کے احترام کے لیے پر عزم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایمازون نے نہیں بلکہ ایک تیسری پارٹی نے ان اشیا کی فروخت کے لیے کینیڈا میں انھیں سائٹ پر لسٹ کیا تھا، ایمازون کو اس پر افسوس ہے۔ بھارتی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ہماری قطعی کوئی نیت نہیں تھی۔
ایمازون کا شمارآن لائن سامان بیچنے والی دنیا کی چند بڑی کمپنیوں میں ہوتاہے ،اس کمپنی کے کاروبار کی وسعت کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ امریکی ریاست بالٹی مور میںجوکہ غربت کی وجہ سے مشہور ہے اورجہاں نیم خواندہ اورناخواندہ لوگوں کی اکثریت ہے اور یہاں لوگ ملازمتوں کے لیے ترستے ہیں ،اسی بالٹی مور میں ایمازون کے نئے گودام میں کل وقتی ملازمین کی تعداد 3ہزار سے زیادہ ہے۔
ایمازون اپنے کاروبار کو کس تیزی کے ساتھ وسعت دے رہاہے اس کااندازہ اس کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ ترین بیان سے کیاجاسکتاہے جس میں اس نے اگلے 18ماہ یعنی ڈیڑھ سال کے اندر مزید ایک لاکھ افراد کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کااعلان کیاہے۔جس سے بالٹی مور کے علاوہ دیگر کئی شہر کے لوگوںکو ملازمتوں کے مواقع میسر آجائیں گے۔
ایمازون کی جانب سے مزید ایک لاکھ افراد کو روزگار کی فراہمی کے حوالے سے اعلان انتہائی خوش کن معلوم ہوتاہے لیکن امریکا میں آن لائن کاروبار کے ناقدین کاکہناہے کہ آن لائن کاروبار میں وسعت کے ساتھ ہی امریکا کے مختلف شہروں میںروایتی دکانوں اور شاپنگ مالز میں خریدوفروخت بری طرح متاثر ہوئی جس کے نتیجے میں ان کاکاروبار سکڑتاجارہاہے اور نوبت بعض چلتے ہوئے اسٹورز کے مکمل طوپر بند ہوجانے تک جاپہنچی ہے۔
اگر طویل المیعاد بنیاد پر دیکھاجائے تو آن لائن کایہ کاروبار برا نہیں ہے کیونکہ اگر اس کی وجہ سے بعض اسٹورز اور شاپنگ مالز بند ہورہے ہیں تو اس کے مقابلے میں آن لائن کاروبار کرنے والوں کے عملے کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے،ایمازون کی انتظامیہ کاکہناہے کہ اگلے 18ماہ کے دوران جن ایک لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے کاپروگرام بنایاگیاہے اس میں اعلیٰ ہنر مند آئی ٹی کے ماہرین،سافٹ ویئر انجیئنرز اور ڈیولپرزبھی ہوں گے اور ناخواندہ اورنیم خواندہ فی گھنٹہ اجرت پر گودام میں کام کرنے والے ورکرز بھی شامل ہوں گے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں لیبر اور تکنیکی تبدیلیوں سے متعلق امور کا جائزہ لینے والے اکنامکس کے ایک پروفیسر لارنس کاٹز کا کہناہے کہ ایمازون کے کاروبار میں توسیع سے لوگوں کو بہت فائدہ پہنچے گالیکن اس ضمن میں ایک بری خبر یہ ہے کہ ایمازون نے یہ واضح اعلان کردیاہے کہ اس ادارے سے نکالے جانے والے لوگوں کودوبارہ ملازم نہیں رکھاجائے گا۔
ایک طرف ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایمازون جیسے آن لائن کاروبار کرنے والے اداروں کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف حقیقی صورت حال یہ ہے کہ سال نو کے بعد سے روایتی ریٹیل تجارت کو کئی بڑے دھچکے لگے ہیں جس کے نتیجے میں میکیز نامی سپر اسٹور کے مالکان نے رواں ماہ کے دوران 10ہزار افراد کوفارغ کرنے کے ارادے کااظہار کیاہے، اس کے علاوہ ایک اور ادارے لمیٹیڈ نے اپنے تمام 250اسٹورز بند کرنے کااعلان کیاہے جس کے نتیجے میں کم وبیش4ہزار افراد کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا کے عوام آن لائن کاروبار پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام کو روزگار کی فراہمی کے لیے آن لائن کے بڑھتے ہوئے کاروبار پر کوئی قدغن لگائیں گے یا اس کاروبار کو اسی طرح بڑھتے رہنے اورروایتی کاروبار کو تباہ ہوتے رہنے دیں گے۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

مضامین
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست وجود جمعه 10 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست

کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ وجود جمعه 10 اپریل 2026
کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ

اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟

عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر