وجود

... loading ...

وجود

ابراہیم حیدری کی 16ایکڑزمین پرقبضے کی جنگ بلاول ہاؤس تک جاپہنچی

پیر 09 جنوری 2017 ابراہیم حیدری کی 16ایکڑزمین پرقبضے کی جنگ بلاول ہاؤس تک جاپہنچی

سندھ کے ایسے سینکڑوں سیاستدان ارب پتی بن چکے ہیں جنہوں نے کراچی کی زمینوں اورریتی بجری کی بندربانٹ کی۔ان میں ملک کے وزرائے اعظم، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزراء اورارکانِ پارلیمنٹ کی طویل فہرست موجود ہے۔انہوں نے جعلی بستیاں بنائیں پلاٹ فروخت کیے اورپھرنودوگیارہ ہوگئے۔امتیاز شیخ منظور وسان ،جام سیف اﷲ دھاریجو، قادرمگسی، آغا سراج درانی، اویس مظفرپٹی ،سید خورشید شاہ، فریال تالپر، ناصرحسین شاہ، علی گوہر مہر،لیاقت جتوئی ،راشد شاہ راشدی ، ذوالفقار مرزا، صدرالدین شاہ راشدی اور بابر غوری سمیت ایسے سینکڑوں نام سرکاری کاغذات میں موجود ہیں جنہوں نے کراچی کی زمینوں پرقبضے کیے جعلی بستیاں بنائیں۔ پلاٹ فروخت کیے اورپھرکروڑوں اربوں روپے کما کرغائب ہوگئے اورپھرکسی دوسرے کوآگے آنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کارخیر میں پولیس اورانتظامی افسران کو استعمال کیا گیا۔ لیکن پی پی کی پچھلی حکومت نے2008ء میں ان قبضوں کومنظم طریقے سے قائم رکھنے کے لئے اینٹی انکروچمنٹ سیل قائم کیا اورپھر اس کے ذریعے اویس مظفرٹپی اورذوالفقارمرزا کی سرد جنگ شروع ہوئی جوآگے چل کرختم توہوئی ،مگرسابق صدر آصف زرداری نے دونوں کواپنے گروپ سے الگ کردیا اوراس دورمیں ایک قوم پرست رہنما امیر بھنبھرو نے پہلے ذوالفقارمرزا کے فرنٹ مین کے طورپر زمینوں پرقبضے کئے اورآگے چل کہ جب ذوالفقار مرزا اورآصف زرداری الگ ہوئے توامیر بھنبھرو نے آصف زرداری کا کیمپ جوائن کیا اورڈاکٹر نثارمورائی کے فرنٹ مین بن کرزمینوں پرقبضے کرتے رہے ،جام صادق کے دورمیں امتیاز شیخ زمینو ں پرقبضوں اورریتی بجری میں اس قدر آگے نکل گئے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔
پی پی کے پچھلے دور 2008ء میں ابراہیم حیدری میں اسلم قریشی کی 16ایکڑ زمین پرقائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی نظریں خراب ہوئیں۔ سید خورشید شاہ نے سپرہائی وے پرنیوسبزی منڈی کے قریب10ایکڑزمین پرقبضہ کرکے ریونیو سے اپنے نام بھی کرالیا، اب اس زمین کی قیمت دس ارب روپے بن گئی ہے، سید خورشید شاہ نے اس وقت اس زمین پر کسی نہ کسی طرح رکاوٹیں کھڑی کیں اورپھران پر پلاٹ بناکر فروخت کرنا شروع کردیے۔ اسلم قریشی اوران کے ساتھیوں نے اعلیٰ عدالتوں سے رابطے کیے،بہرحال عدالتی احکامات کے باوجودپلاٹوں کی خریدوفروخت جاری رہی اوریہ کام اینٹی انکروچمنٹ سیل کے ذریعے کرایا جاتارہا۔ پھرجب غلام قادرتھیبو ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس بنے توانہوں نے اس زمین پرنظریں گاڑدیں اور پس پردہ کوششیں کرکے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے پھرآگے چل کرغلام قادر تھیبو محکمہ اینٹی کرپشن کے چیئرمین بن گئے توان کے پنجے اور بھی مضبوط ہوگئے۔ انہوںنے ریونیوافسران کوڈرا دھمکاکراس زمین کے پلاٹ فروخت کرنا شروع کئے۔ غلام قادر تھیبو کو جب سید خورشید شاہ نے پریشان کیا توغلام قادر تھیبو رکن قومی اسمبلی فریال تالپر کے کیمپ میں چلے گئے اورانہوں نے مال پانی میں سب کی حصہ داری رکھ دی۔ تب غلام قادر تھیبو کوتھپکی دی گئی کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں۔ غلام قادر تھیبو نے نیب کی سرگرمی کے بعدسابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اورموجودہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے محکمہ اینٹی کرپشن کوفعال بنانے کی منظوری لی، لیکن ان کا اصل نشانہ محکمہ ریونیو تھا تاکہ انہیں ابراہیم حیدری کی 16ایکڑزمین پرریونیو افسران مکمل تعاون کریں، اینٹی انکروچمنٹ سیل نے سیدخورشید شاہ کی مرضی سے پلاٹوں کی خریدوفروخت جاری رکھی ہوئی ہے۔
دوسری جانب غلام قادر تھیبو ریونیو افسران کے ذریعے پلاٹوں کی خریدوفروخت کررہے ہیں۔ اسلم قریشی جواس زمین کے مالک ہیں انہوں نے اعلیٰ عدالت سے حکم امتناعی لے لیا، مگر خورشید شاہ اورغلام قادرتھیبونے عدالتی احکامات ہوا میں اڑادیئے۔ جس پر اسلم قریشی بالآخر چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن کے پاس گئے اوران سے درخواست کی کہ ان کوانصاف دلایاجائے جس پرچیف سیکریٹری نے اینٹی انکروچمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ایس ایس پی ڈاکٹرفاروق کوحکم جاری کیا کہ وہ اپنے اہلکاروں کواس زمین پرقبضوں سے الگ رکھیں۔ دوسری جانب اسلم قریشی نے ڈی سی ملیر سے بھی درخواست کی توڈی سی ملیر نے کمشنر کراچی کوایک رپورٹ دی ہے کہ اینٹی انکروچمنٹ سیل حدود سے تجاوز کررہی ہے اورعدالتی احکامات کے باوجود مذکورہ زمین پرقبضے میں ملوث ہے جس کوفوری طورپر روکا جائے۔ اب اینٹی انکروچمنٹ سیل کے اہلکار پیچھے توہٹ گئے ہیں لیکن مکمل طورپراس زمین سے الگ نہیں ہوئے ۔دوسری جانب اس زمین کی قیمت 16ارب روپے سے زیادہ ہونے کی وجہ سے معاملہ صرف وزیر اعلیٰ ہائوس تک محدود نہیں رہابلکہ بلاول ہائوس کوتک جا پہنچا ہے۔اب خورشید شاہ اورغلام قادر تھیبو بھی پریشان ہوگئے ہیں، کیونکہ جب ’’بڑے صاحب‘‘ 16 ارب روپے کا حساب مانگیں گے تووہ اس کا کیا جواب دیں گے؟ اس کھیل میں بے چارہ اسلم قریشی تو لاکھوں روپے عدالتوں اورتھانوں میں گنوا چکا ہے ،دوسری طرف خورشید شاہ اور غلام قادر تھیبو کے ساتھ ساتھ اینٹی انکروچمنٹ کے اہلکار اورریونیو افسران بھی کروڑ پتی بن گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

مضامین
شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر