وجود

... loading ...

وجود

پاک چین اقتصادی راہداری‘ بدگمانیاں اور حکومتی عدم توجہی

پیر 02 جنوری 2017 پاک چین اقتصادی راہداری‘ بدگمانیاں اور حکومتی عدم توجہی

بیجنگ کی جانب سے گزشتہ روز پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت تین مزید سڑکوں کی تعمیر کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد چین کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر کی مد میں فراہم کی جانے والی ادائیگی 1025 ارب تک پہنچ جائے گی۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ترجمان کاشف زمان کا کہناتھا کہ چین 3 نئے منصوبوں کے لیے 107 ارب 76 کروڑ روپے قرضہ فراہم کرے گا جبکہ چین کی جانب سے پہلے ہی تین سڑکوں کے منصوبے کے لیے 917 ارب روپے فراہم کیے جارہے ہیں۔
1979 میںمکمل ہونے والا دنیا کا آٹھواں عجوبہ، شاہراہِ قراقرم ہمارے ملک کی ایک بڑی اکثریت کے لیے طویل عرصے تک چین سے وابستگی کی واحد علامت تھا۔37 برس بعد بھی پاکستانیوں کی چین سے دوستی کی سب سے بڑی علامت ایک سڑک ہی کا منصوبہ ہے لیکن اب وہ شاہراہ قراقرم نہیں، بلکہ 55 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والی پاک چین اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک ہے۔
چین کی جانب سے جن 3 نئے منصوبوں کے لیے قرضہ فراہم کیا جائے گا، وہ سی پیک کے مغربی روٹ کا حصہ ہوں گے، ان تین سڑکوں میں رائے کوٹ سے تھاکوٹ تک 280 کلومیٹر روڈ شامل ہے، جس کی تعمیر پر 8 ارب روپے کی لاگت آئے گی، اس کے علاوہ یارک سے ژوب تک جانے والی 210 کلومیٹر طویل سڑک پر آنے والی لاگت کا تخمینہ 80 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ باسیما سے خضدار کے لیے 110 کلومیٹر طویل روڈ پر 19 ارب 76 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔اس حوالے سے پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) میں پاکستان اور چین کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے گئے، کمیٹی کا اجلاس بیجنگ میں تھا۔ترجمان کے مطابق سیکریٹری تعلقات اور این ایچ اے کے سربراہ نے گزشتہ ماہ بیجنگ کا دورہ کیا تھا جہاں چین نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کے طور پر ان تین نئی سڑکوں کے منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ترجمان کے مطابق رائیکوٹ تا تھاکوٹ روڈ کا 144کلومیٹر حصہ پہلے ہی چین کی فراہم کردہ امداد سے بہتر بنایا جاچکا ہے جبکہ اب چین بقیہ حصے کی تعمیر کے لیے 8 ارب روپے دینے کے لیے راضی بھی ہوچکا ہے۔ یہ نئے راستے کا منصوبہ ہے، جو 2010 کے سیلاب میں تباہ ہوچکا تھا۔
دوسری جانب یارک تا ژوب بننے والی دہری شاہراہ سے متعلق ترجمان کا بتانا تھا کہ نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان کی جانب سے اس کی تعمیر کے لیے مختلف حوالوں سے کام کا آغاز کیا جاچکا ہے اور چین 2020 تک اس کی تکمیل کے لیے 80 ارب روپے ادا کردے گا، جبکہ باسیما تا خضدار (این-30) سڑک کے تیسرے منصوبے کے لیے 19 ارب 76 کروڑ روپے پاکستان کو ادا کیے جائیں گے۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقیات اور پلاننگ کے مطابق جے سی سی کے اگلے اجلاس میں سی پیک کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔ جے سی سی کے اجلاس سے قبل دونوں ملکوں کے سینئر افسران نئے معاہدوں کو آخری شکل دیں گے جبکہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے جے سی سی کے اجلاس سے پہلے پاکستانی سفارت کاروں کے ساتھ ملاقات کی۔
واضح رہے کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر گوادر تا سریاب 650 کلومیٹر طویل سڑک مکمل کی جاچکی ہے،وفاقی وزیر کے مطابق اس منصوبے سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کی سماجی اور معاشی صورتحال میں بہتری میں آئے گی۔برہان سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی سڑک 2018 تک مکمل ہوجائے گی جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب تک دہری شاہراہ کے لیے بھی اجازت حاصل کی جاچکی ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے جے سی سی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے سی پیک گوادر منصوبوں کے ساتھ ساتھ صنعتی زون کے تیاری پر بھی گفتگو کی گئی۔
جولائی 2013 میں میاں محمد نواز شریف کے دورہ چین کے موقع پروہ تاریخی معاہدہ طے پایا تھا جوموجودہ سی پیک منصوبے کی بنیاد بنا۔وزیر اعظم نواز شریف کے اس دورے کے دوران دونوں وزرائے اعظم نے کاشغر سے گوادر تک دو ہزار کِلومیٹر لمبی سڑک کے اس منصوبے سمیت مفاہمت کی آٹھ یادداشتوں اور مختلف معاہدوں پر دستخط کیے تھے بعد ازاںاپریل 2015 میں چینی صدر شی جن پِنگ کے دورہ پاکستان میں سی پیک سے منسلک منصوبوں کی تفصیلات سامنے آئیں جن کی کل لاگت 46 ارب ڈالر تھی۔ اس میں سے تقریباً 34 ارب ڈالر توانائی سے متعلق منصوبوں پر جبکہ تقریباً دس ارب ڈالر سڑکوں اور آمد و رفت کے ذرائع کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ چینی صدر نے اس موقع پر ملک کی قومی اسمبلی سے بھی خطاب کیا اور سی پیک کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کا محور قرار دیا۔ اس سال اکتوبر تک مزید آٹھ ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری کے بعد سی پیک تقریباً 55 ارب ڈالر کی لاگت کا منصوبہ بن چکا ہے اور اس کو ’’گیم چینجر‘‘یعنی ملک کی تقدیر بدلنے والے منصوبے کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت اور منصوبے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ سی پیک نہ صرف ملک کی تقدیر بدل دے گا بلکہ اس منصوبے سے پاکستان میں غربت اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو ممکن ہو گا اور لگتا ایسا ہے کہ جیسے دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔لیکن اس منصوبے کے آغاز کے تین برس گزرنے کے بعد بھی سی پیک کو وہ غیر مشروط عوامی پذیرائی نہیں مل رہی جیسی شاہراہِ قراقرم کو ملی تھی۔ ناقدین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ ہے حکومت کی جانب سے سی پیک کے طے شدہ راستوں میں تبدیلی اور ایسی غیر شفاف پالیسیاں ہیں جن کے تحت چھوٹے صوبوں کے خدشات کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور ان میں احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سی پیک کے چیئرمین سینیٹر تاج حیدر نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ایسے حکومتی اقدامات سے وفاق کمزور ہو گا۔ ’اگر پورے ملک میں متوازن ترقی ہو تو یہ منصوبہ پورے پاکستان کو متحد کر سکتا ہے۔ لیکن یہ اب ایسی چیز ہو رہی ہے کہ جو منصوبہ وفاق کو متحد کر سکتا تھا، وہی وفاق کی کمزوری کا باعث بن رہا ہے۔‘سی پیک سے منسلک تنازعات میں سب سے زیادہ اچھالے جانے والا معاملہ منصوبے کے تین راستوں کا ہے۔ مغربی راستہ: جو صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت پاکستان کے مغربی حصے میں پسماندہ علاقوں سے گزر کر گوادر پہنچے گا۔
مرکزی راستہ: جو ملک کے درمیانی راستے سے گزر کر گوادر تک جائے گا۔ مشرقی راستہ: جو پنجاب اور سندھ سے ہوتا ہوا گوادر تک جائے گا۔ان تینوں راستوں پر مشتمل سڑکیں پاکستان کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے گوادر کی بندر گاہ پر پہنچیں گی لیکن ان میں سے کون سی سڑک پہلے بنے گی؟ اس بات پرابھی تک اتفاق رائے نہیں ہے۔
منصوبہ بندی سے متعلق وفاقی وزیر احسن اقبال پچھلے ایک سال سے کہتے چلے آ رہے ہیں کے بعض لوگ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو صرف ایک سڑک سمجھ کر اس طرح کی تنقید کر رہے ہیں۔ پچھلے سال اپریل میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’پہلے دن سے لے کر آج تک اس منصوبے کے روٹ میں ایک انچ تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ سی پیک کے راستوں یا ان کی تعمیر کی ترجیحات میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔‘
دوسری جانب بلوچستان حکومت کے سابق مشیر برائے اقتصادیات اور معاشیات قیصر بنگالی بتاتے ہیں کہ انھیں منصوبہ بندی کی وزارت سے منصوبے کے روٹ کے حوالے سے مسلسل سوالات کے باوجود کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔’پہلے کہتے رہے کہ روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ پھر کہا کہ تینوں ایک ساتھ بنیں گے۔ اس کے بعد کہا کہ تینوں الگ الگ بنیں گے۔ آخری جواب آیا کہ جب ایک راستہ (مشرقی) موجود ہے تو نیا روٹ کیوں بنائیں؟‘
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سی پیک نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے اور کہا ہے کہ مئی 2015 میں سی پیک پر ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں وزیراعظم نواز شریف نے مغربی راستے سے متعلق جو وعدے کیے تھے حکومت ان سے منحرف ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مغربی راستے کی تعمیر کے بارے میں حکومت کا موقف ہے جیسے جیسے وہاں پر ٹریفک کی آمد و رفت بڑھتی جائے گی اسے مرحلہ وار مشرقی راستے کی چھ لین موٹروے کی طرح ہی تعمیر کیا جائے گا۔تاہم کمیٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مشرقی راستہ مکمل ہونے کے بعد ٹریفک کے مغربی راستے سے گزرنے کے امکانات معدوم ہو جائیں گے کیونکہ ملک کی زیادہ تر آبادی، کارخانے اور آمد و رفت کے ذرائع مشرقی راستے پر ہیں اور اسی لیے ضروری تھا کہ وعدے کے مطابق پہلے مغربی راستہ تعمیر کیا جاتا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومت ابھی تک اتنے بڑے اوراہم منصوبے کی شفافیت کے مسئلے پر ناقدین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سابق سینیٹر ثنا بلوچ کاسوال ہے کہ اگر یہ منصوبہ قومی مفاد میں ہے تو اب تک صوبائی حکومتوں کے پاس اس سے متعلق کوئی ایسی دستاویزات کیوں نہیں ہیں جس میں اس کے مختصر اور طویل المیعاد فوائد اور چینی حکومت اور چینی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کا ذکر ہو؟پاکستان اور چین کے تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور مصنف اینڈریو سمال کا کہنا ہے کہ سی پیک کی باریکیوں کو خفیہ رکھ کر حکومت صرف اپنے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔’سی پیک منصوبے کے حوالے سے شفافیت کا فقدان اْن لوگوں کو فائدہ دیتا ہے جن کا کام اپنے مقاصد کی خاطر صرف سی پیک منصوبے کے خلاف قیاس آرائیاں پھیلانا ہے۔
اس منصوبے کے حوالے سے پیداہونے والے یاپیدا کئے جانے ان ہی شکوک وشبہات اور مختلف سیاسی رہنمائوںاور حکومتوں کی جانب سے ان حوالے سے ظاہر کئے جانے والے شکوک وشبہات کی سنگینی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں خود چینی رہنمائوں کو اس حوالے سے مداخلت کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے ان منصوبے پر یک رائے ہونے کامشورہ دینا پڑا۔ایک چینی وزیر نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی کامیابی کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے پر زور دیا ہے تاکہ ترقی کے مشترکہ مقصد کا حصول ممکن ہوسکے۔
چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے انٹرنیشنل ڈپارٹمنٹ کی سینٹرل کمیٹی کے نائب وزیر زینگ ژیاسونگ نے پاک-چین انسٹی ٹیوٹ میں لیکچر کے دوران کہا کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے مفادات مختلف نوعیت کے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو دور کرنے میں کامیاب ہوں گی اور سی پیک منصوبے کو کامیاب بنائیں گی۔زینگ ژیاسونگ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم نواز شریف، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنمائوں سے ملاقات بھی کی اور انھیں دورہ چین کی دعوت دی۔
پاکستان میں تعینات سینئر چینی سفارتی اہلکار نے بھی اس منصوبے کے حوالے سے لوگوں میں پائی جانے والی بدگمانیوں اور سیاستدانوں کی جانب سے کئے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے گزشتہ دنوں ایک مقامی تھنک ٹینک اسٹریٹجک وژن انسٹی ٹیوٹ (ایس وی آئی) کے سیمینار میں خاموشی توڑتے ہوئے قائم مقام چینی سفیر ژائو لیجیان نے اس تنقید کو سختی سے مسترد کردیا۔مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات پر سفارت خانے کے ردعمل سے متعلق سوال پر قائم مقام چینی سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ درست انداز میں جاری ہے، لیکن کچھ افراد اس منصوبے کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں اور ان افراد کو پاکستانی عوام کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔واضح رہے کہ منصوبے پر اٹھایا جانے والا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ صوبہ پنجاب، چھوٹے صوبوں کی قیمت پر سب سے زیادہ سی پیک سے مستفید ہورہا ہے۔قائم مقام سفیر کا کہنا تھا کہ کچھ افراد اسے ’چین پنجاب اکنامک کوریڈور‘ قرار دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ منصوبے میں سب سے بڑا حصہ بلوچستان کا ہے، تو پھر اسے ’چین بلوچستان اکنامک کوریڈور‘ کیوں نہیں کہا جاتا۔انہوں نے منصوبے میں بدعنوانی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ سب ٹیکس ادا کرنے والے لوگوں کا پیسہ ہے، یہ سرمایہ کاری کے منصوبے ہیں، ہم اس میں بدعنوانی یا رشوت کیسے برداشت کرسکتے ہیں‘۔چینی سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے کی تعمیر کے لیے شفاف انداز میں ٹھیکہ دیا گیا، منصوبے سے متعلق معلومات خفیہ رکھنے کے الزامات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام معلومات سب کے لیے موجود ہے.۔سیمینار میں پریزنٹیشن دیتے ہوئے ژائولیجیان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والے ان افراد کے پاس یہ تمام اعداد وشمار کہاں سے آئے؟ کچھ افراد جھوٹے الزامات لگانے میں مصروف ہیں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے مخالفین کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات سے نمٹنے کے لیے عوامی حمایت کی ضرورت ہے۔بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ کوئلے کے توانائی منصوبوں پر ماہرین ماحولیات کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے، منصوبے میں تمام بین الاقوامی معیارات کو مدنظر رکھا جارہا اور ماحولیاتی مسائل کا بھی خیال رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ چین سی پیک کو خصوصی اہمیت دے رہا ہے، جو چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے شروع کیا گیا بیلٹ اور روڈ کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، لہذا سی پیک کی کامیابی کو بیلٹ اور روڈ منصوبے کی کامیابی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے جس نے خاصی بین الاقوامی توجہ بھی حاصل کر رکھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سی پیک سے جڑے معاملات پر سامنے آنے والی تنقید چینی قیادت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔چینی وزیر کے مطابق سی پیک جیسے ’طویل المیعاد‘ اور ’سخت جدوجہد کی راہداری‘ کی راہ میں وقتاً فوقتا مسائل کا حائل
ہونا فطری عمل ہے۔ زینگ ڑیاسونگ نے پاکستان کو ان معاملات کے حل کے لیے چینی حکومت کی جانب سے مدد کی پیشکش بھی کی۔ان کا کہنا تھا کہ اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے ہم پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔چینی وزیر نے ’سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور مستحکم ماحول‘ کے قیام کے لیے عوامی حمایت کی اہمیت پر زور دیا اور منصوبے کی کامیابی کے لیے سیاسی اور عوامی رائے کی تشکیل کی ضرورت کو بھی واضح کیا۔
اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہ سی پیک پاکستان کے صرف چند صوبوں کو فائدہ پہنچائے گا چینی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ’پورے پاکستان‘ کے لیے ہے۔ہندوستان اور دیگر ممالک کی جانب سے سی پیک کے خلاف سازشوں پر جنم لینے والی تشویش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی کامیابی اس کے مخالفین کے لیے بہترین جواب ہوگا۔سی پیک کے خلاف بیرونی سازشوں سے نمٹنے کے لیے چینی وزیر کی حکمت عملی میں پاکستان اور چین کے درمیان ’ تعاون اور رابطے کی مضبوطی‘ اور پاکستان کے اندر اتحاد کو فروغ دینا شامل تھا۔زینگ ژیاسونگ کے مطابق پاک چین تعلقات کے یوں ہی جاری و ساری رہنے کے لیے ’’سیاسی اعتماد کا بلند معیار‘‘ اہم حصہ ہے۔انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ چین آئندہ بھی پاکستان کا مضبوط ساتھی رہے گا اور اہم معاملات میں اپنی مدد فراہم کرتا رہے گا۔
اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین نے ’دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں استحکام اور خوشحالی‘ قائم رکھنے پر کمیونسٹ پارٹی چائنا (سی پی سی) کو سراہا اور عالمی مسائل جیسے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں چین کی مثبت کوششوں کی بھی تعریف کی۔مشاہد اللہ نے مختصر عرصے میں چین کی 70 کروڑ آبادی کو غربت سے باہر نکالنے میں بھی سی پی سی کی تعریف کی۔ان کا کہنا تھا کہ سی پی سی اکیسویں صدی کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور قوانین کے مطابق بہتر بنانے میں بھی مثبت کردار ادا کررہی ہے اور اپنے اندرونی معاملات میں مداخلات کو روکنے میں کامیاب ہے۔علاوہ ازیں، انہوں نے چینی معاشرے میں خواتین کو یکساں حقوق دینے پر بھی سی پی سی کی تعریف کی۔سینیٹر مشاہد اللہ نے چینی حکومت کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف مثالی اور موثر اقدامات کو بھی سراہا۔9کروڑ کے قریب چین کی حکمراں جماعت کے ارکان کی جانب سے 10 لاکھ کے قریب افسران کو بدعنوانی پر سزا دینے پر مشاہداللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اپنے ہمسایہ ملک سے سبق سیکھنا چاہیے۔
سی پیک سے مقامی آبادی اقلیت میں بدل سکتی ہے‘ایف پی سی سی آئی کا دعویٰ
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کے سماجی و اقتصادی (سی پیک)اثرات کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے سے خطے میں طویل مدت میں سیاسی وسماجی تبدیلی آسکتی ہے جبکہ حکومت کو مقامی معیشت اورصنعتوں کومنفی اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات کرناہوں گے۔ایف پی سی سی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پیک کا مشرقی اور مغربی روٹ بعض اہم علاقوں سے دور ہے، رہداری منصوبے کا کام کئی مقامات پرتیزی سے جاری ہے جبکہ بعض علاقوں میں اس کی رفتارکم ہے۔رپورٹ کے مطابق آنے والے وقت میں پاکستان کی آبادی کی جہت تبدیل ہوسکتی ہے، بلوچستان میں غیرملکیوں کی تعدادبڑھنے سے مقامی آبادی اقلیت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔کیونکہ بلوچستان میں غیر ملکیوں اور مقامی افراد کی ہجرت بڑھے گی، چین سے بھی بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد متوقع ہے۔
ایف پی سی سی آئی کی رپورٹ میں سی پیک کے ثمرات کا بھی تذکرہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اقتصادی راہدری سے آنے والے وقتوں میں توانائی بحران کا خاتمہ،انفرااسٹرکچر کی بہتری، علاقائی ربط، کاروباری مسابقت میں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ، بے روزگاری میں کمی اور مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ صدر ایف پی سی سی آئی عبدالروف عالم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اکثریت نے سی پیک کوسراہاہے لیکن اس حوالے سے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت مقامی سرمایہ کاروں کو تحفظ دے اور اقتصادی زونز کا کنٹرول نجی شعبے کو دیا جائے کیونکہ نجی شعبے کی شمولیت سے سی پیک پر خدشات اور سوالات دور ہو سکتے ہیں۔عبدالرؤف عالم نے بتایا کہ ایف پی سی سی آئی نے سی پیک منصوبہ پر تفصیلی تجزیاتی رپورٹ مرتب کی ہے، سی پیک سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لوگوں کی خوشحالی وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک گیم چینجر ہے، حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں، سی پیک کے منصوبے کو شفاف بنانے کے لیے سرمایہ کاروں کو آن بورڈ لیا جائے۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر