وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پاک چین اقتصادی راہداری‘ بدگمانیاں اور حکومتی عدم توجہی

پیر 02 جنوری 2017 پاک چین اقتصادی راہداری‘ بدگمانیاں اور حکومتی عدم توجہی

بیجنگ کی جانب سے گزشتہ روز پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت تین مزید سڑکوں کی تعمیر کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بعد چین کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر کی مد میں فراہم کی جانے والی ادائیگی 1025 ارب تک پہنچ جائے گی۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ترجمان کاشف زمان کا کہناتھا کہ چین 3 نئے منصوبوں کے لیے 107 ارب 76 کروڑ روپے قرضہ فراہم کرے گا جبکہ چین کی جانب سے پہلے ہی تین سڑکوں کے منصوبے کے لیے 917 ارب روپے فراہم کیے جارہے ہیں۔
1979 میںمکمل ہونے والا دنیا کا آٹھواں عجوبہ، شاہراہِ قراقرم ہمارے ملک کی ایک بڑی اکثریت کے لیے طویل عرصے تک چین سے وابستگی کی واحد علامت تھا۔37 برس بعد بھی پاکستانیوں کی چین سے دوستی کی سب سے بڑی علامت ایک سڑک ہی کا منصوبہ ہے لیکن اب وہ شاہراہ قراقرم نہیں، بلکہ 55 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والی پاک چین اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک ہے۔
چین کی جانب سے جن 3 نئے منصوبوں کے لیے قرضہ فراہم کیا جائے گا، وہ سی پیک کے مغربی روٹ کا حصہ ہوں گے، ان تین سڑکوں میں رائے کوٹ سے تھاکوٹ تک 280 کلومیٹر روڈ شامل ہے، جس کی تعمیر پر 8 ارب روپے کی لاگت آئے گی، اس کے علاوہ یارک سے ژوب تک جانے والی 210 کلومیٹر طویل سڑک پر آنے والی لاگت کا تخمینہ 80 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ باسیما سے خضدار کے لیے 110 کلومیٹر طویل روڈ پر 19 ارب 76 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔اس حوالے سے پاک چین مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) میں پاکستان اور چین کے درمیان معاہدے پر دستخط کیے گئے، کمیٹی کا اجلاس بیجنگ میں تھا۔ترجمان کے مطابق سیکریٹری تعلقات اور این ایچ اے کے سربراہ نے گزشتہ ماہ بیجنگ کا دورہ کیا تھا جہاں چین نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کے طور پر ان تین نئی سڑکوں کے منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ترجمان کے مطابق رائیکوٹ تا تھاکوٹ روڈ کا 144کلومیٹر حصہ پہلے ہی چین کی فراہم کردہ امداد سے بہتر بنایا جاچکا ہے جبکہ اب چین بقیہ حصے کی تعمیر کے لیے 8 ارب روپے دینے کے لیے راضی بھی ہوچکا ہے۔ یہ نئے راستے کا منصوبہ ہے، جو 2010 کے سیلاب میں تباہ ہوچکا تھا۔
دوسری جانب یارک تا ژوب بننے والی دہری شاہراہ سے متعلق ترجمان کا بتانا تھا کہ نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان کی جانب سے اس کی تعمیر کے لیے مختلف حوالوں سے کام کا آغاز کیا جاچکا ہے اور چین 2020 تک اس کی تکمیل کے لیے 80 ارب روپے ادا کردے گا، جبکہ باسیما تا خضدار (این-30) سڑک کے تیسرے منصوبے کے لیے 19 ارب 76 کروڑ روپے پاکستان کو ادا کیے جائیں گے۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقیات اور پلاننگ کے مطابق جے سی سی کے اگلے اجلاس میں سی پیک کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا۔ جے سی سی کے اجلاس سے قبل دونوں ملکوں کے سینئر افسران نئے معاہدوں کو آخری شکل دیں گے جبکہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے جے سی سی کے اجلاس سے پہلے پاکستانی سفارت کاروں کے ساتھ ملاقات کی۔
واضح رہے کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر گوادر تا سریاب 650 کلومیٹر طویل سڑک مکمل کی جاچکی ہے،وفاقی وزیر کے مطابق اس منصوبے سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کی سماجی اور معاشی صورتحال میں بہتری میں آئے گی۔برہان سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی سڑک 2018 تک مکمل ہوجائے گی جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب تک دہری شاہراہ کے لیے بھی اجازت حاصل کی جاچکی ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے جے سی سی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے سی پیک گوادر منصوبوں کے ساتھ ساتھ صنعتی زون کے تیاری پر بھی گفتگو کی گئی۔
جولائی 2013 میں میاں محمد نواز شریف کے دورہ چین کے موقع پروہ تاریخی معاہدہ طے پایا تھا جوموجودہ سی پیک منصوبے کی بنیاد بنا۔وزیر اعظم نواز شریف کے اس دورے کے دوران دونوں وزرائے اعظم نے کاشغر سے گوادر تک دو ہزار کِلومیٹر لمبی سڑک کے اس منصوبے سمیت مفاہمت کی آٹھ یادداشتوں اور مختلف معاہدوں پر دستخط کیے تھے بعد ازاںاپریل 2015 میں چینی صدر شی جن پِنگ کے دورہ پاکستان میں سی پیک سے منسلک منصوبوں کی تفصیلات سامنے آئیں جن کی کل لاگت 46 ارب ڈالر تھی۔ اس میں سے تقریباً 34 ارب ڈالر توانائی سے متعلق منصوبوں پر جبکہ تقریباً دس ارب ڈالر سڑکوں اور آمد و رفت کے ذرائع کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ چینی صدر نے اس موقع پر ملک کی قومی اسمبلی سے بھی خطاب کیا اور سی پیک کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کا محور قرار دیا۔ اس سال اکتوبر تک مزید آٹھ ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری کے بعد سی پیک تقریباً 55 ارب ڈالر کی لاگت کا منصوبہ بن چکا ہے اور اس کو ’’گیم چینجر‘‘یعنی ملک کی تقدیر بدلنے والے منصوبے کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت اور منصوبے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ سی پیک نہ صرف ملک کی تقدیر بدل دے گا بلکہ اس منصوبے سے پاکستان میں غربت اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو ممکن ہو گا اور لگتا ایسا ہے کہ جیسے دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔لیکن اس منصوبے کے آغاز کے تین برس گزرنے کے بعد بھی سی پیک کو وہ غیر مشروط عوامی پذیرائی نہیں مل رہی جیسی شاہراہِ قراقرم کو ملی تھی۔ ناقدین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ ہے حکومت کی جانب سے سی پیک کے طے شدہ راستوں میں تبدیلی اور ایسی غیر شفاف پالیسیاں ہیں جن کے تحت چھوٹے صوبوں کے خدشات کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور ان میں احساسِ محرومی بڑھ رہا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سی پیک کے چیئرمین سینیٹر تاج حیدر نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ایسے حکومتی اقدامات سے وفاق کمزور ہو گا۔ ’اگر پورے ملک میں متوازن ترقی ہو تو یہ منصوبہ پورے پاکستان کو متحد کر سکتا ہے۔ لیکن یہ اب ایسی چیز ہو رہی ہے کہ جو منصوبہ وفاق کو متحد کر سکتا تھا، وہی وفاق کی کمزوری کا باعث بن رہا ہے۔‘سی پیک سے منسلک تنازعات میں سب سے زیادہ اچھالے جانے والا معاملہ منصوبے کے تین راستوں کا ہے۔ مغربی راستہ: جو صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت پاکستان کے مغربی حصے میں پسماندہ علاقوں سے گزر کر گوادر پہنچے گا۔
مرکزی راستہ: جو ملک کے درمیانی راستے سے گزر کر گوادر تک جائے گا۔ مشرقی راستہ: جو پنجاب اور سندھ سے ہوتا ہوا گوادر تک جائے گا۔ان تینوں راستوں پر مشتمل سڑکیں پاکستان کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے گوادر کی بندر گاہ پر پہنچیں گی لیکن ان میں سے کون سی سڑک پہلے بنے گی؟ اس بات پرابھی تک اتفاق رائے نہیں ہے۔
منصوبہ بندی سے متعلق وفاقی وزیر احسن اقبال پچھلے ایک سال سے کہتے چلے آ رہے ہیں کے بعض لوگ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو صرف ایک سڑک سمجھ کر اس طرح کی تنقید کر رہے ہیں۔ پچھلے سال اپریل میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’پہلے دن سے لے کر آج تک اس منصوبے کے روٹ میں ایک انچ تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ سی پیک کے راستوں یا ان کی تعمیر کی ترجیحات میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔‘
دوسری جانب بلوچستان حکومت کے سابق مشیر برائے اقتصادیات اور معاشیات قیصر بنگالی بتاتے ہیں کہ انھیں منصوبہ بندی کی وزارت سے منصوبے کے روٹ کے حوالے سے مسلسل سوالات کے باوجود کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔’پہلے کہتے رہے کہ روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ پھر کہا کہ تینوں ایک ساتھ بنیں گے۔ اس کے بعد کہا کہ تینوں الگ الگ بنیں گے۔ آخری جواب آیا کہ جب ایک راستہ (مشرقی) موجود ہے تو نیا روٹ کیوں بنائیں؟‘
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سی پیک نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے اور کہا ہے کہ مئی 2015 میں سی پیک پر ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں وزیراعظم نواز شریف نے مغربی راستے سے متعلق جو وعدے کیے تھے حکومت ان سے منحرف ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مغربی راستے کی تعمیر کے بارے میں حکومت کا موقف ہے جیسے جیسے وہاں پر ٹریفک کی آمد و رفت بڑھتی جائے گی اسے مرحلہ وار مشرقی راستے کی چھ لین موٹروے کی طرح ہی تعمیر کیا جائے گا۔تاہم کمیٹی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مشرقی راستہ مکمل ہونے کے بعد ٹریفک کے مغربی راستے سے گزرنے کے امکانات معدوم ہو جائیں گے کیونکہ ملک کی زیادہ تر آبادی، کارخانے اور آمد و رفت کے ذرائع مشرقی راستے پر ہیں اور اسی لیے ضروری تھا کہ وعدے کے مطابق پہلے مغربی راستہ تعمیر کیا جاتا۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومت ابھی تک اتنے بڑے اوراہم منصوبے کی شفافیت کے مسئلے پر ناقدین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔
سابق سینیٹر ثنا بلوچ کاسوال ہے کہ اگر یہ منصوبہ قومی مفاد میں ہے تو اب تک صوبائی حکومتوں کے پاس اس سے متعلق کوئی ایسی دستاویزات کیوں نہیں ہیں جس میں اس کے مختصر اور طویل المیعاد فوائد اور چینی حکومت اور چینی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کا ذکر ہو؟پاکستان اور چین کے تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار اور مصنف اینڈریو سمال کا کہنا ہے کہ سی پیک کی باریکیوں کو خفیہ رکھ کر حکومت صرف اپنے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔’سی پیک منصوبے کے حوالے سے شفافیت کا فقدان اْن لوگوں کو فائدہ دیتا ہے جن کا کام اپنے مقاصد کی خاطر صرف سی پیک منصوبے کے خلاف قیاس آرائیاں پھیلانا ہے۔
اس منصوبے کے حوالے سے پیداہونے والے یاپیدا کئے جانے ان ہی شکوک وشبہات اور مختلف سیاسی رہنمائوںاور حکومتوں کی جانب سے ان حوالے سے ظاہر کئے جانے والے شکوک وشبہات کی سنگینی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں خود چینی رہنمائوں کو اس حوالے سے مداخلت کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے ان منصوبے پر یک رائے ہونے کامشورہ دینا پڑا۔ایک چینی وزیر نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی کامیابی کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے پر زور دیا ہے تاکہ ترقی کے مشترکہ مقصد کا حصول ممکن ہوسکے۔
چین کی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے انٹرنیشنل ڈپارٹمنٹ کی سینٹرل کمیٹی کے نائب وزیر زینگ ژیاسونگ نے پاک-چین انسٹی ٹیوٹ میں لیکچر کے دوران کہا کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے مفادات مختلف نوعیت کے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو دور کرنے میں کامیاب ہوں گی اور سی پیک منصوبے کو کامیاب بنائیں گی۔زینگ ژیاسونگ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم نواز شریف، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنمائوں سے ملاقات بھی کی اور انھیں دورہ چین کی دعوت دی۔
پاکستان میں تعینات سینئر چینی سفارتی اہلکار نے بھی اس منصوبے کے حوالے سے لوگوں میں پائی جانے والی بدگمانیوں اور سیاستدانوں کی جانب سے کئے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے گزشتہ دنوں ایک مقامی تھنک ٹینک اسٹریٹجک وژن انسٹی ٹیوٹ (ایس وی آئی) کے سیمینار میں خاموشی توڑتے ہوئے قائم مقام چینی سفیر ژائو لیجیان نے اس تنقید کو سختی سے مسترد کردیا۔مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات پر سفارت خانے کے ردعمل سے متعلق سوال پر قائم مقام چینی سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ درست انداز میں جاری ہے، لیکن کچھ افراد اس منصوبے کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں اور ان افراد کو پاکستانی عوام کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔واضح رہے کہ منصوبے پر اٹھایا جانے والا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ صوبہ پنجاب، چھوٹے صوبوں کی قیمت پر سب سے زیادہ سی پیک سے مستفید ہورہا ہے۔قائم مقام سفیر کا کہنا تھا کہ کچھ افراد اسے ’چین پنجاب اکنامک کوریڈور‘ قرار دے رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ منصوبے میں سب سے بڑا حصہ بلوچستان کا ہے، تو پھر اسے ’چین بلوچستان اکنامک کوریڈور‘ کیوں نہیں کہا جاتا۔انہوں نے منصوبے میں بدعنوانی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ سب ٹیکس ادا کرنے والے لوگوں کا پیسہ ہے، یہ سرمایہ کاری کے منصوبے ہیں، ہم اس میں بدعنوانی یا رشوت کیسے برداشت کرسکتے ہیں‘۔چینی سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے کی تعمیر کے لیے شفاف انداز میں ٹھیکہ دیا گیا، منصوبے سے متعلق معلومات خفیہ رکھنے کے الزامات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام معلومات سب کے لیے موجود ہے.۔سیمینار میں پریزنٹیشن دیتے ہوئے ژائولیجیان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والے ان افراد کے پاس یہ تمام اعداد وشمار کہاں سے آئے؟ کچھ افراد جھوٹے الزامات لگانے میں مصروف ہیں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے مخالفین کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات سے نمٹنے کے لیے عوامی حمایت کی ضرورت ہے۔بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ کوئلے کے توانائی منصوبوں پر ماہرین ماحولیات کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے، منصوبے میں تمام بین الاقوامی معیارات کو مدنظر رکھا جارہا اور ماحولیاتی مسائل کا بھی خیال رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ چین سی پیک کو خصوصی اہمیت دے رہا ہے، جو چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے شروع کیا گیا بیلٹ اور روڈ کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، لہذا سی پیک کی کامیابی کو بیلٹ اور روڈ منصوبے کی کامیابی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے جس نے خاصی بین الاقوامی توجہ بھی حاصل کر رکھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سی پیک سے جڑے معاملات پر سامنے آنے والی تنقید چینی قیادت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔چینی وزیر کے مطابق سی پیک جیسے ’طویل المیعاد‘ اور ’سخت جدوجہد کی راہداری‘ کی راہ میں وقتاً فوقتا مسائل کا حائل
ہونا فطری عمل ہے۔ زینگ ڑیاسونگ نے پاکستان کو ان معاملات کے حل کے لیے چینی حکومت کی جانب سے مدد کی پیشکش بھی کی۔ان کا کہنا تھا کہ اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے ہم پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔چینی وزیر نے ’سرمایہ کاری کے لیے محفوظ اور مستحکم ماحول‘ کے قیام کے لیے عوامی حمایت کی اہمیت پر زور دیا اور منصوبے کی کامیابی کے لیے سیاسی اور عوامی رائے کی تشکیل کی ضرورت کو بھی واضح کیا۔
اس نظریے کو مسترد کرتے ہوئے کہ سی پیک پاکستان کے صرف چند صوبوں کو فائدہ پہنچائے گا چینی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ’پورے پاکستان‘ کے لیے ہے۔ہندوستان اور دیگر ممالک کی جانب سے سی پیک کے خلاف سازشوں پر جنم لینے والی تشویش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی کامیابی اس کے مخالفین کے لیے بہترین جواب ہوگا۔سی پیک کے خلاف بیرونی سازشوں سے نمٹنے کے لیے چینی وزیر کی حکمت عملی میں پاکستان اور چین کے درمیان ’ تعاون اور رابطے کی مضبوطی‘ اور پاکستان کے اندر اتحاد کو فروغ دینا شامل تھا۔زینگ ژیاسونگ کے مطابق پاک چین تعلقات کے یوں ہی جاری و ساری رہنے کے لیے ’’سیاسی اعتماد کا بلند معیار‘‘ اہم حصہ ہے۔انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ چین آئندہ بھی پاکستان کا مضبوط ساتھی رہے گا اور اہم معاملات میں اپنی مدد فراہم کرتا رہے گا۔
اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین نے ’دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں استحکام اور خوشحالی‘ قائم رکھنے پر کمیونسٹ پارٹی چائنا (سی پی سی) کو سراہا اور عالمی مسائل جیسے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں چین کی مثبت کوششوں کی بھی تعریف کی۔مشاہد اللہ نے مختصر عرصے میں چین کی 70 کروڑ آبادی کو غربت سے باہر نکالنے میں بھی سی پی سی کی تعریف کی۔ان کا کہنا تھا کہ سی پی سی اکیسویں صدی کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور قوانین کے مطابق بہتر بنانے میں بھی مثبت کردار ادا کررہی ہے اور اپنے اندرونی معاملات میں مداخلات کو روکنے میں کامیاب ہے۔علاوہ ازیں، انہوں نے چینی معاشرے میں خواتین کو یکساں حقوق دینے پر بھی سی پی سی کی تعریف کی۔سینیٹر مشاہد اللہ نے چینی حکومت کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف مثالی اور موثر اقدامات کو بھی سراہا۔9کروڑ کے قریب چین کی حکمراں جماعت کے ارکان کی جانب سے 10 لاکھ کے قریب افسران کو بدعنوانی پر سزا دینے پر مشاہداللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اپنے ہمسایہ ملک سے سبق سیکھنا چاہیے۔
سی پیک سے مقامی آبادی اقلیت میں بدل سکتی ہے‘ایف پی سی سی آئی کا دعویٰ
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) نے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کے سماجی و اقتصادی (سی پیک)اثرات کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے سے خطے میں طویل مدت میں سیاسی وسماجی تبدیلی آسکتی ہے جبکہ حکومت کو مقامی معیشت اورصنعتوں کومنفی اثرات سے بچانے کیلئے اقدامات کرناہوں گے۔ایف پی سی سی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پیک کا مشرقی اور مغربی روٹ بعض اہم علاقوں سے دور ہے، رہداری منصوبے کا کام کئی مقامات پرتیزی سے جاری ہے جبکہ بعض علاقوں میں اس کی رفتارکم ہے۔رپورٹ کے مطابق آنے والے وقت میں پاکستان کی آبادی کی جہت تبدیل ہوسکتی ہے، بلوچستان میں غیرملکیوں کی تعدادبڑھنے سے مقامی آبادی اقلیت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔کیونکہ بلوچستان میں غیر ملکیوں اور مقامی افراد کی ہجرت بڑھے گی، چین سے بھی بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد متوقع ہے۔
ایف پی سی سی آئی کی رپورٹ میں سی پیک کے ثمرات کا بھی تذکرہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اقتصادی راہدری سے آنے والے وقتوں میں توانائی بحران کا خاتمہ،انفرااسٹرکچر کی بہتری، علاقائی ربط، کاروباری مسابقت میں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ، بے روزگاری میں کمی اور مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ صدر ایف پی سی سی آئی عبدالروف عالم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اکثریت نے سی پیک کوسراہاہے لیکن اس حوالے سے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت مقامی سرمایہ کاروں کو تحفظ دے اور اقتصادی زونز کا کنٹرول نجی شعبے کو دیا جائے کیونکہ نجی شعبے کی شمولیت سے سی پیک پر خدشات اور سوالات دور ہو سکتے ہیں۔عبدالرؤف عالم نے بتایا کہ ایف پی سی سی آئی نے سی پیک منصوبہ پر تفصیلی تجزیاتی رپورٹ مرتب کی ہے، سی پیک سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لوگوں کی خوشحالی وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک گیم چینجر ہے، حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں، سی پیک کے منصوبے کو شفاف بنانے کے لیے سرمایہ کاروں کو آن بورڈ لیا جائے۔


متعلقہ خبریں


لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ وجود - جمعرات 25 جون 2020

امریکا میں متعدی امراض سے بچا کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہاہے کہ کورونا وائرس نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں وائرس کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔انھوں نے یہ بات کانگریس کے سامنے کہی۔ خیال رہے کہ امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ 23 لاکھ کے قریب متاثر ہو چکے ہیں۔ریڈفیلڈ نے کہا کہ ہم اس وائرس کا مقابلہ ...

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

افریقا کے صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول ہزاروں میل دور جزائر غرب الہند کے ملکوں پر چھانے لگی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صحرائے اعظم یا صحرائے صہارا کی یہ دھول تیزی سے وسطی امریکا کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ حالیہ دنوں میں افریقہ میں آنے والے مٹی کے طوفان ہیں جس کی وجہ سے اتنی بڑی مقدار میں دھول فضا میں پھیل گئی ہے ۔دھول کے باعث جزائر غرب الہند میں ہوا کا معیار انتہائی نیچے گر چکا ہے ۔عام طور پر نیلگوں نظر آنے والا کیریبین ملکوں کا آسمان اب سرمئی نظر ...

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا وجود - جمعرات 25 جون 2020

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے بعد چینی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر کام عارضی طور پر روک دیا ہے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیرِ صنعت سبھاش ڈیسائی کا کہنا تھا کہ وہ تین چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر آگے بڑھنے کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں۔چین اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کے درمیان ابتدائی معاہدوں کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا جس کا مقصد کورونا سے متاثرہ بھارتی معیشت کی بحالی می...

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

برطانیا میں ایک خاتون کسی دماغی عارضے کی شکار ہونے کے بعد دو ماہ تک کچھ بھی بولنے سے قاصر رہیں۔ لیکن اچانک ان کی گویائی لوٹ آئی ہے لیکن اب وہ چار مختلف لہجوں میں بات کرتی ہیں۔31 سالہ ایملی ایگن کی اس کیفیت سے خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی عارضی فالج یا دماغی چوٹ کی وجہ سے ایسا ہوا لیکن اس کے ثبوت نہیں مل سکے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ ان کا لہچہ اور بولنے کا انداز یکسر تبدیل ہونے لگا۔دو ماہ تک ایملی کمپیوٹر ایپ اور دیگر مشینی طریقوں سے اپنی بات کرتی رہی تھی۔ ت...

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی