... loading ...
بھارتی حکمرانوں کے جنگی جنون میں اضافے کے نتیجے میں اب بھارت ایک بار پھر دنیا بھر میں اسلحے کے سب سے بڑے خریدار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے ، سوئیڈش ماہرین کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے گزشتہ5 سال میں اپنے قریب ترین حریفوں چین اور پاکستان کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ اسلحہ خریدا۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق-13 2009کے درمیان گزشتہ5 سال کے مقابلے میں اسلحے کی خریداری میں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا 09-2008 کی نسبت گزشتہ5سال میں بھارت کی جانب سے اسلحے کی درآمدات میں 111 فیصد اضافہ ہوا اور اسلحے کی عالمی درآمدات میں اس کے حصے میں7 سے 14 فیصد اضافہ ہوا۔بھارت 2010 میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بن گیا تھا جہاں اس نے چین کو اس منصب سے ہٹادیا تھا۔
2013 تک بھارت کو اسلحے کا سب سے بڑا سپلایئر روس رہا جس نے کل درآمدات کا 75 فیصد اسلحہ اپنے دوست ملک بھارت کو فراہم کیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت اپنے جنگی جنون کی تسکین کے لیے اسلحہ کے ذخائر جمع کرنے اور اسلحہ کے نظام کو بہتر اور جدید بنانے لیے کوشاں ہے تاہم اب بھارت نے اسلحہ کی خریداری کے لیے مزید ملکوں خصوصاً امریکا کی طرف بھی دیکھنا شروع کر دیا ہے۔آئی ایچ ایس جینز کی جانب سے فروری میں جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت اسلحے کا سب سے بڑا خریدار تھا اور اس کی اسلحہ کی کل درآمدات کی لاگت 1.9 ارب ڈالر تھی اور اس کے علاوہ بوئنگ سی 17 اے کا ایئر کرافٹ اور P-81 میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ جیسی بھاری مالیت کے جنگی سازوسامان کی خریداری بھی کی گئی۔
جہاں تک دنیا بھر میں اسلحہ کی فروخت کامعاملہ ہے تو امریکی محققین کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں اسلحہ اور دفاعی سازو سامان کی فروخت کے حوالے سے سب سے بڑا ملک امریکا رہا۔ اس کے بعد روس اور فرانس کا نمبر آتا ہے۔ جبکہ اسلحہ کی خریداری کے حوالے سے سعودی عرب امریکا کے ساتھ29.4 ارب ڈالر کا فوجی معاہدہ کرکے سرفہرست رہا جبکہ دوسرے نمبر پر مشرق وسطیٰ کاکوئی تیل کی دولت سے مالامال ملک نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے غریب ملکوں میں شمار ہونے والا بھارت رہا جس نے امریکا سے13ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسلحے کی خریداری اور دنیا کے دیگر ممالک سے مجموعی طورپر 34ارب ڈالر کے معاہدے کئے،امریکی محققین کی رپورٹ کے مطابق2011 کے دوران مختلف ممالک کو اسلحہ اور دفاعی سازو سامان کی فروخت سے امریکا کو 63.3 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی۔ اس وقت اسلحہ کی عالمی منڈی میں امریکی حصہ 80 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔امریکا کے بعددنیا بھر میں اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک میں روس دوسرے نمبر پر ہے۔ اس نے گزشتہ سال 4.8 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ فرانس اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے اس نے4.4 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کے مطابق امریکی اسلحہ اور دفاعی سازو سامان سے حاصل شدہ آمدنی کے حوالے سے 2011 کے اعداد و شمار نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اس سے پہلے صرف ایک سال میں ملک کو اس ضمن میں اتنی زیادہ آمدنی کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔
امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو فروخت کیے گئے دفاعی سازو سامان اور اسلحے میں 84 ایف15لڑاکا طیارے اور178 ہیلی کاپٹروں کی فروخت بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت میں سست روی کے رجحان کے باوجود مجموعی طور پر2011میں ہتھیاروں اور دفاعی سازو سامان کی عالمی فروخت تقریباً دگنی ہو کر 85.3ارب ڈالر تک پہنچی ہے۔سعودی عرب اور بھارت کے علاوہ امریکی اسلحہ اور دفاعی سازو سامان کے بڑے خریدار ممالک میں متحدہ عرب امارات، عراق، اومان اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔
امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والے ممالک میں بھارت دوسرا بڑا ملک ہے جب کہ بھارتی فضائیہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ آروپ راہا کے تازہ بیان کو اس رپورٹ کی تصدیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ سبکدوش ہونے والے بھارتی فضائیہ کے سربراہ آروپ راہا نے گزشتہ روز کہا تھا کہ بھارت کو رافیل طیارے کی طرز کے 200 جنگی جہازوں کی ضرورت ہے اور بھارت اب تک ایسے 35 طیارے فرانس سے خرید چکا ہے۔بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی)کے مطابق امریکی کانگریشنل ریسرچ سروسز (سی آر ایس)کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب ترقی پذیر ممالک میں ہتھیاروں کی خریداری میں سرفہرست ہے، سعودی عرب نے سال 2008 سے سال 2015 کے دوران ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر93 ارب 50 کروڑ ڈالرز کے معاہدے کیے۔
رپورٹ کے مطابق 2008 سے 2015 تک بھارت نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے34 ارب ڈالرز کے معاہدے کیے، جس سے وہ اسلحہ خریدنے والا دنیا میں دوسرا بڑا ترقی پذیرملک بنا۔ترقی پذیر ممالک کو روایتی ہتھیاروں کی منتقلی برائے 2008 سے 2015‘ کے نام سے جاری کردہ سی آر ایس کی یہ رپورٹ بھارتی رہنمائوں کے جنگی جنون کی عکاسی کرتی ہے۔یہ رپورٹ بھارت کیجانب سے زیادہ سے زیادہ جدید ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کی تازہ کوششوں کی بھی عکاسی کرتی ہے جن کے ذریعے وہ ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے اپنے مرکز کو تبدیل کررہا ہے اور اس کاسب سے زیادہ فائدہ امریکا کو پہنچ رہا ہے۔کیونکہ اس سے قبل بھارت روسی ساختہ ہتھیاروںکی خریداری کو ترجیح دیتا رہا ہے ،اگرچہ اس سے قبل بھی بھارت امریکا سے اسلحہ خریدتارہاہے لیکن حالیہ برسوں میں بھارت نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے اپنی ترجیحات تبدیل کی ہیں۔
بھارت نے 2004 میں ہوائی جہازوں میں نصب ہونے والے ’فالکن‘ نامی جدید ڈیفنس سسٹم اسرائیل سے خریدا تھا جب کہ 2005 میں ڈیزل پر چلنے والی 6 ‘اسکورپین جنگی آبدوزوں سمیت فرانس سے بے شمار آلات خریدے تھے۔سی آر ایس کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2008 میں 6 سی 130 کے کارگو طیارے امریکا سے خریدے، جب کہ 2010 میں برطانیہ نے بھی بھارت کو ایک ارب ڈالر کے 57 ہاک ٹرینر طیارے اور اٹلی نے بھارت کو 12 اگسٹا ویسٹ لینڈ(اے ڈبلیو)101 ہیلی کاپٹر فروخت کیے۔رپورٹ کے مطابق 2011 میں فرانس اور بھارت کے درمیان 51 فرانسیسی ساختہ میراج 2000 جنگی طیاروں کو اپ گریڈ کرنے کا معاہدہ ہوا اورامریکا، بھارت کو 4 ارب 10 کروڑ ڈالر کے 10 سی 17 گلوب ماسٹر 3 کے طیارے فروخت کرنے پر راضی ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری کا یہ طرز عمل اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اب روس کو بھارت میں اسلحہ فروخت کرنے کیلیے دیگر ممالک سے سخت مقابلہ کرنا پڑے گا اور بھارت اپنے جنگی نظام کو بڑھانے کے لیے ہتھیاروں کی خریداری کا عمل جاری رکھے گا۔
رپورٹ کے مطابق 2011 میں بھارت کی جانب سے جدید لڑاکا طیاروں کی فرانس سے خریداری میں ہتھیاروں کے اس عالمی مقابلے میں روس کا خاتمہ ہوا، مگر گزشتہ برس 2015 میں بھارت اور روس کے درمیان ہونے والے معاہدے میں دونوں ممالک نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ بھارت روس سے کم سے کم 200 کاموو کا(کے اے) 226 جنگی جہاز خریدے گا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے روس سے اسلحے کی خریداری کم کیے جانے کے بعد ماسکو دوسرے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب رپورٹ اور شواہد سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ بھارتی رہنمائو ں کی جانب سے اتنی بھاری تعداد میں اسلحہ کی خریداری کے باوجود بھارتی مسلح افواج کے سربراہان مطمئن نہیں ہیں جس کا اندازہ بھارتی فضائیہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ آروپ راہا کی گزشتہ روزکی ایک میڈیا بریفنگ سے لگایاجاسکتاہے جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ بھارت نے فرانس کو 8 ارب 70 کروڑ ڈالر کے 36رافیل طیاروں کا آرڈر دے دیا ہے ، مگر یہ کافی نہیں ہے، بھارت کو اپنی فوجی برتری کے لیے کم سے کم 200 رافیل طیاروں کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ آروپ راہا 31 دسمبر 2016 کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔آروپ راہا کے مطابق بھارت کی فضائیہ روسی ساختہ الیوشن 78 ٹینکرز کی مرمت سے متعلق مسائل سے دوچار ہے جب کہ جنگی طیاروں کی تعداد میں اضافے کے لیے فضا میں ایندھن بھرنے والے طیاروں کی بھی ضرورت تھی۔انہوں نے بتایا کہ اگلے 5 سے 10 سال کے درمیان بھارت کی فضائیہ کو 200 میڈیم ویٹ فائٹر جہازوں کی ضرورت پڑے گی، جس کے لیے انہوں نے ملک میں نئی پیداواری صنعت کے قیام پر بھی زوردیا۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق آروپ راہا نے رافیل جنگی طیاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارے کسی بھی مہم میں مثالی ثابت ہوں گے مگر بھارت نے صرف 36 طیاروں کا آرڈر دیا ہے، ہمیں میڈیم ویٹ جنگی طیاروں کی زیادہ ضرورت ہے۔واضح رہے کہ رافیل طیاروں کے معاہدے کا اعلان بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں پیرس کے دورے کے دوران کیا تھا، جس کے بعد بھارت اور فرانس کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ رواں برس 23 ستمبر کو طے ہوا تھا۔معاہدے کے مطابق فرانس رافیل طیاروں کو جدید ہتھیاروں اور دیگر موزوں آلات سے لیس کرکے ستمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارت کے حوالے کردے گا۔بھارتی فضائیہ اس بات پر اصرار کررہی ہے کہ پاکستان اور چین کی جانب سے درپیش مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے یہ جنگی طیارے کافی نہیں ہوں گے، ان کے پاس صرف 33 جنگی طیارے ہیں جب کہ منظور کیے گئے طیاروں کی تعداد 42 ہے۔
حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...
اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...
عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...
نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...
توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...
کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...
صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...
لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...
وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...
علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...
ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...