وجود

... loading ...

وجود

بھارت ہتھیاروں کے انبار، احساس کمتری کا شکار

هفته 31 دسمبر 2016 بھارت ہتھیاروں کے انبار، احساس کمتری کا شکار

بھارتی حکمرانوں کے جنگی جنون میں اضافے کے نتیجے میں اب بھارت ایک بار پھر دنیا بھر میں اسلحے کے سب سے بڑے خریدار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے ، سوئیڈش ماہرین کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے گزشتہ5 سال میں اپنے قریب ترین حریفوں چین اور پاکستان کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ اسلحہ خریدا۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق-13 2009کے درمیان گزشتہ5 سال کے مقابلے میں اسلحے کی خریداری میں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا 09-2008 کی نسبت گزشتہ5سال میں بھارت کی جانب سے اسلحے کی درآمدات میں 111 فیصد اضافہ ہوا اور اسلحے کی عالمی درآمدات میں اس کے حصے میں7 سے 14 فیصد اضافہ ہوا۔بھارت 2010 میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بن گیا تھا جہاں اس نے چین کو اس منصب سے ہٹادیا تھا۔
2013 تک بھارت کو اسلحے کا سب سے بڑا سپلایئر روس رہا جس نے کل درآمدات کا 75 فیصد اسلحہ اپنے دوست ملک بھارت کو فراہم کیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت اپنے جنگی جنون کی تسکین کے لیے اسلحہ کے ذخائر جمع کرنے اور اسلحہ کے نظام کو بہتر اور جدید بنانے لیے کوشاں ہے تاہم اب بھارت نے اسلحہ کی خریداری کے لیے مزید ملکوں خصوصاً امریکا کی طرف بھی دیکھنا شروع کر دیا ہے۔آئی ایچ ایس جینز کی جانب سے فروری میں جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت اسلحے کا سب سے بڑا خریدار تھا اور اس کی اسلحہ کی کل درآمدات کی لاگت 1.9 ارب ڈالر تھی اور اس کے علاوہ بوئنگ سی 17 اے کا ایئر کرافٹ اور P-81 میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ جیسی بھاری مالیت کے جنگی سازوسامان کی خریداری بھی کی گئی۔
جہاں تک دنیا بھر میں اسلحہ کی فروخت کامعاملہ ہے تو امریکی محققین کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں اسلحہ اور دفاعی سازو سامان کی فروخت کے حوالے سے سب سے بڑا ملک امریکا رہا۔ اس کے بعد روس اور فرانس کا نمبر آتا ہے۔ جبکہ اسلحہ کی خریداری کے حوالے سے سعودی عرب امریکا کے ساتھ29.4 ارب ڈالر کا فوجی معاہدہ کرکے سرفہرست رہا جبکہ دوسرے نمبر پر مشرق وسطیٰ کاکوئی تیل کی دولت سے مالامال ملک نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے غریب ملکوں میں شمار ہونے والا بھارت رہا جس نے امریکا سے13ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسلحے کی خریداری اور دنیا کے دیگر ممالک سے مجموعی طورپر 34ارب ڈالر کے معاہدے کئے،امریکی محققین کی رپورٹ کے مطابق2011 کے دوران مختلف ممالک کو اسلحہ اور دفاعی سازو سامان کی فروخت سے امریکا کو 63.3 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی۔ اس وقت اسلحہ کی عالمی منڈی میں امریکی حصہ 80 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔امریکا کے بعددنیا بھر میں اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک میں روس دوسرے نمبر پر ہے۔ اس نے گزشتہ سال 4.8 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ فرانس اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے اس نے4.4 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کے مطابق امریکی اسلحہ اور دفاعی سازو سامان سے حاصل شدہ آمدنی کے حوالے سے 2011 کے اعداد و شمار نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اس سے پہلے صرف ایک سال میں ملک کو اس ضمن میں اتنی زیادہ آمدنی کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔
امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو فروخت کیے گئے دفاعی سازو سامان اور اسلحے میں 84 ایف15لڑاکا طیارے اور178 ہیلی کاپٹروں کی فروخت بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت میں سست روی کے رجحان کے باوجود مجموعی طور پر2011میں ہتھیاروں اور دفاعی سازو سامان کی عالمی فروخت تقریباً دگنی ہو کر 85.3ارب ڈالر تک پہنچی ہے۔سعودی عرب اور بھارت کے علاوہ امریکی اسلحہ اور دفاعی سازو سامان کے بڑے خریدار ممالک میں متحدہ عرب امارات، عراق، اومان اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔
امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والے ممالک میں بھارت دوسرا بڑا ملک ہے جب کہ بھارتی فضائیہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ آروپ راہا کے تازہ بیان کو اس رپورٹ کی تصدیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ سبکدوش ہونے والے بھارتی فضائیہ کے سربراہ آروپ راہا نے گزشتہ روز کہا تھا کہ بھارت کو رافیل طیارے کی طرز کے 200 جنگی جہازوں کی ضرورت ہے اور بھارت اب تک ایسے 35 طیارے فرانس سے خرید چکا ہے۔بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی)کے مطابق امریکی کانگریشنل ریسرچ سروسز (سی آر ایس)کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب ترقی پذیر ممالک میں ہتھیاروں کی خریداری میں سرفہرست ہے، سعودی عرب نے سال 2008 سے سال 2015 کے دوران ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر93 ارب 50 کروڑ ڈالرز کے معاہدے کیے۔
رپورٹ کے مطابق 2008 سے 2015 تک بھارت نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے34 ارب ڈالرز کے معاہدے کیے، جس سے وہ اسلحہ خریدنے والا دنیا میں دوسرا بڑا ترقی پذیرملک بنا۔ترقی پذیر ممالک کو روایتی ہتھیاروں کی منتقلی برائے 2008 سے 2015‘ کے نام سے جاری کردہ سی آر ایس کی یہ رپورٹ بھارتی رہنمائوں کے جنگی جنون کی عکاسی کرتی ہے۔یہ رپورٹ بھارت کیجانب سے زیادہ سے زیادہ جدید ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کی تازہ کوششوں کی بھی عکاسی کرتی ہے جن کے ذریعے وہ ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے اپنے مرکز کو تبدیل کررہا ہے اور اس کاسب سے زیادہ فائدہ امریکا کو پہنچ رہا ہے۔کیونکہ اس سے قبل بھارت روسی ساختہ ہتھیاروںکی خریداری کو ترجیح دیتا رہا ہے ،اگرچہ اس سے قبل بھی بھارت امریکا سے اسلحہ خریدتارہاہے لیکن حالیہ برسوں میں بھارت نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے اپنی ترجیحات تبدیل کی ہیں۔
بھارت نے 2004 میں ہوائی جہازوں میں نصب ہونے والے ’فالکن‘ نامی جدید ڈیفنس سسٹم اسرائیل سے خریدا تھا جب کہ 2005 میں ڈیزل پر چلنے والی 6 ‘اسکورپین جنگی آبدوزوں سمیت فرانس سے بے شمار آلات خریدے تھے۔سی آر ایس کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2008 میں 6 سی 130 کے کارگو طیارے امریکا سے خریدے، جب کہ 2010 میں برطانیہ نے بھی بھارت کو ایک ارب ڈالر کے 57 ہاک ٹرینر طیارے اور اٹلی نے بھارت کو 12 اگسٹا ویسٹ لینڈ(اے ڈبلیو)101 ہیلی کاپٹر فروخت کیے۔رپورٹ کے مطابق 2011 میں فرانس اور بھارت کے درمیان 51 فرانسیسی ساختہ میراج 2000 جنگی طیاروں کو اپ گریڈ کرنے کا معاہدہ ہوا اورامریکا، بھارت کو 4 ارب 10 کروڑ ڈالر کے 10 سی 17 گلوب ماسٹر 3 کے طیارے فروخت کرنے پر راضی ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری کا یہ طرز عمل اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اب روس کو بھارت میں اسلحہ فروخت کرنے کیلیے دیگر ممالک سے سخت مقابلہ کرنا پڑے گا اور بھارت اپنے جنگی نظام کو بڑھانے کے لیے ہتھیاروں کی خریداری کا عمل جاری رکھے گا۔
رپورٹ کے مطابق 2011 میں بھارت کی جانب سے جدید لڑاکا طیاروں کی فرانس سے خریداری میں ہتھیاروں کے اس عالمی مقابلے میں روس کا خاتمہ ہوا، مگر گزشتہ برس 2015 میں بھارت اور روس کے درمیان ہونے والے معاہدے میں دونوں ممالک نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ بھارت روس سے کم سے کم 200 کاموو کا(کے اے) 226 جنگی جہاز خریدے گا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے روس سے اسلحے کی خریداری کم کیے جانے کے بعد ماسکو دوسرے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب رپورٹ اور شواہد سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ بھارتی رہنمائو ں کی جانب سے اتنی بھاری تعداد میں اسلحہ کی خریداری کے باوجود بھارتی مسلح افواج کے سربراہان مطمئن نہیں ہیں جس کا اندازہ بھارتی فضائیہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ آروپ راہا کی گزشتہ روزکی ایک میڈیا بریفنگ سے لگایاجاسکتاہے جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ بھارت نے فرانس کو 8 ارب 70 کروڑ ڈالر کے 36رافیل طیاروں کا آرڈر دے دیا ہے ، مگر یہ کافی نہیں ہے، بھارت کو اپنی فوجی برتری کے لیے کم سے کم 200 رافیل طیاروں کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ آروپ راہا 31 دسمبر 2016 کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔آروپ راہا کے مطابق بھارت کی فضائیہ روسی ساختہ الیوشن 78 ٹینکرز کی مرمت سے متعلق مسائل سے دوچار ہے جب کہ جنگی طیاروں کی تعداد میں اضافے کے لیے فضا میں ایندھن بھرنے والے طیاروں کی بھی ضرورت تھی۔انہوں نے بتایا کہ اگلے 5 سے 10 سال کے درمیان بھارت کی فضائیہ کو 200 میڈیم ویٹ فائٹر جہازوں کی ضرورت پڑے گی، جس کے لیے انہوں نے ملک میں نئی پیداواری صنعت کے قیام پر بھی زوردیا۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق آروپ راہا نے رافیل جنگی طیاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارے کسی بھی مہم میں مثالی ثابت ہوں گے مگر بھارت نے صرف 36 طیاروں کا آرڈر دیا ہے، ہمیں میڈیم ویٹ جنگی طیاروں کی زیادہ ضرورت ہے۔واضح رہے کہ رافیل طیاروں کے معاہدے کا اعلان بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں پیرس کے دورے کے دوران کیا تھا، جس کے بعد بھارت اور فرانس کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ رواں برس 23 ستمبر کو طے ہوا تھا۔معاہدے کے مطابق فرانس رافیل طیاروں کو جدید ہتھیاروں اور دیگر موزوں آلات سے لیس کرکے ستمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارت کے حوالے کردے گا۔بھارتی فضائیہ اس بات پر اصرار کررہی ہے کہ پاکستان اور چین کی جانب سے درپیش مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے یہ جنگی طیارے کافی نہیں ہوں گے، ان کے پاس صرف 33 جنگی طیارے ہیں جب کہ منظور کیے گئے طیاروں کی تعداد 42 ہے۔

 


متعلقہ خبریں


ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے وجود - منگل 19 مئی 2026

امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ وجود - منگل 19 مئی 2026

عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی...

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا وجود - منگل 19 مئی 2026

تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے...

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار وجود - منگل 19 مئی 2026

فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل، غزہ کو امداد پہنچانے کا ایک پرامن مشن ہے اسرائیلی فورسز نے گرفتارکرلیا،وطن واپس لانا پاکستان کی ذمے داری ہے،سعدایدھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی مشن میں شامل پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو اسرائ...

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار

صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا وجود - منگل 19 مئی 2026

پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، آئین کے تحت خوراک کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی گیس پیدا کرنیوالا صوبہ خود گیس سے محروم ہے، وزیراعلیٰ برس پڑے،سہیل آفریدی ،فیصل کریم کنڈی کی پریس کانفرنس خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت صوبائی حقوق کے معاملے پ...

صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا

بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج وجود - پیر 18 مئی 2026

معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...

بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں وجود - پیر 18 مئی 2026

آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک وجود - پیر 18 مئی 2026

منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر وجود - اتوار 17 مئی 2026

حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم وجود - اتوار 17 مئی 2026

اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف وجود - اتوار 17 مئی 2026

عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم وجود - اتوار 17 مئی 2026

نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم

مضامین
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے! وجود منگل 19 مئی 2026
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے!

منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل وجود منگل 19 مئی 2026
منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل

80سال پہلے ۔۔۔۔ وجود منگل 19 مئی 2026
80سال پہلے ۔۔۔۔

شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب وجود منگل 19 مئی 2026
شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب

مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !! وجود پیر 18 مئی 2026
مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر