وجود

... loading ...

وجود

قائد کا پیغام :محنت اور صرف محنت

اتوار 25 دسمبر 2016 قائد کا پیغام :محنت اور صرف محنت

’’آئیے اب ہم اپنی عظیم الشان قوم اور خود مختار مملکت پاکستان کی تجدید کے لیے‘ تشکیل تازہ کے لیے اور تعمیر نو کے لیے منصوبہ بنائیں‘ تدبیریں کریں۔ آپ کو علم ہے کہ ہماری یہ عظیم الشان قوم اور خود مختار مملکت دنیا میں سب سے بڑی مسلم مملکت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی بڑی آزاد مملکتوں اور ملکوں میں پانچواں بڑا ملک ہے۔ یہ وقت ہے‘ قسمت ہے اور موقع ہے جو ہر مسلمان کو مل گیا ہے خواہ مرد ہو خواہ عورت‘ کہ ان میں سے ہر ایک بھرپور جدوجہد کرے‘ بہترین خدمات انجام دے‘ بڑی سے بڑی قربانی دے‘ انتھک محنت کرے اور اپنی قوم کو اور پاکستان کو دنیا کی عظیم ترین قوموں اور ملکوں کی صف میں پہنچا دے۔
اس وقت جب کہ افقِ آسمانی پر ہر طرف تاریک بادل چھائے ہوئے ہیں میں آپ سے اپیل کرتا ہوں اور آپ کے ذریعے پوری پاکستانی قوم کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ سرجوشی و سرگرمی پیدا کرو‘ اپنے جذبے کو دوبالا کرو اور اپنی اس مہم کو سر کرنے کے لیے حوصلہ مندی کے ساتھ اپنے دلوں کو امیدوں سے لبریز رکھ کر آگے بڑھو اپنے قدم بڑھائو۔ ہم سب یقینا اپنا کام مکمل کرکے رہیں گے۔ کیا ہم لوگ افسردہ دل و پژمردہ حال ہیں؟ یقینا نہیں۔ اسلام کی تاریخ جرأت و شجاعت‘ جذبہ و جوش اور اولوالعزمی کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ لہٰذا بڑھو، بڑھو، آگے بڑھو اور ذرا سا بھی کوئی خیال کسی مزاحمت کا کسی رکاوٹ کا اور کسی مداخلت کا‘ اپنے دل میں نہ آنے دو‘ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ سات کروڑ کی اس متحد قوم کو جس کے اندر عزم صمیم ہے اور جس کے پاس عظیم الشان تمدن اور تاریخ ہے کسی چیز سے بھی ڈرنے اور خوف وہراس محسوس کرنے کی مطلق ضرورت نہیں۔ اب یہ کام تمہارا ہے کہ محنت کرو‘ مزید محنت کرو‘ ہم لوگ یقینا کامیاب و کامراں ہوکے رہیں گے۔ ‘‘
(ریڈیو پاکستان لاہور سے نشری تقریر ۔30 اکتوبر 1947 ء)
عظمت و شان کا نیا باب
’’جو مہم اس وقت درپیش ہے اس کی شدت اور سنگینی سے متاثر و مغلوب تم ہر گز نہ ہونا۔ تاریخ میں اس کی مثالیں بہت ہیں کہ نئی قوموں نے اپنی شاندار تعمیر صرف اپنے عزم و ہمت اور خوبی کردار کی قوت سے کی ہے۔ آپ کے اندر فولادی قوتیں قدرت نے رکھی ہیں۔ آپ دنیا میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ آخر دوسروں کی طرح اور خود اپنے آبائو اجداد کی طرح آپ کامیاب کیوں نہیں ہوسکتے؟ آپ کو اپنے اندر فقط مجاہدین کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ آپ وہ قوم ہیں جس کی تاریخ حیرت انگیز استقامت‘ خوبی کردار اور بلند نظری و حوصلہ مندی کے تذکروں سے مالا مال ہے۔ اپنی روایات کا دامن تھامیے اور اپنی تاریخی عظمت و شان میں ایک نئے باب کا اضافہ کیجیے۔ میں آپ سے بس اتنا چاہتا ہوں کہ میرا یہ پیغام جہاں جہاں تک پہنچے، ہماری قوم کا ایک ایک فردیہ عہد کرلے ،قسم کھالے کہ پاکستان کو اسلام کا آہنی قلعہ بنانے کے لیے اور اس قوم کو عظیم ترین قوموں کی صف میں لانے کے لیے (جس کا نصب العین اندر بھی اور باہر بھی، چار سُو امن و سکون پھیلانا اور صلح و آشتی کو عام کرنا ہے) اگر اپنا سب کچھ قربان کردینے کی نوبت آجائے تو اپنا سب کچھ بے تکلف قربان کردے گا۔ اپنے حوصلے کو بلند تر رکھیے اور مرنے سے بالکل نہ ڈریے۔ ہمارے مذہب نے یہی تعلیم ہم کو دی ہے کہ مرنے کو ہمیشہ تیار رہو‘ اس لیے اسلام اور پاکستان کی عزت و حرمت کے تحفظ کیخاطر اپنی اس موجودہ مہم کا سامنا پوری بہادری سے کیجئے۔ ایک مسلمان کے لیے اس سے بہتر، اس سے برتر، راستہ اور بڑی کامرانی اور کوئی نہیں کہ اس کی موت آئے تو حق و صداقت کی راہ میں آئے اور شہید کا درجہ پائے۔‘‘
(لاہور کے جلسہ عام میں تقریر۔ 30 اکتوبر 1947 ء)
جلدی کیجیے اور اچھی تعمیر کیجیے
’’قدرت نے آپ کو ہر نعمت سے نوازا ہے ،آپ کے پاس لامحدود وسائل ہیں ،آپ کی مملکت کی بنیادیں رکھ دی گئیں اور اب یہ آپ کا کام ہے کہ اس کی تعمیر کیجیے اور جلدی کیجیے اور جہاں تک آپ کے بس میں ہو بہتر سے بہتر تعمیر کیجیے۔۔۔ تو بسم اللہ، اٹھیے! برق رفتاری سے کام لیجیے۔ میری دعائیں اور اللہ کا فضل و کرم آپ کے ساتھ ہے۔‘‘
(پیغام بنام قوم۔ 14 اگست 1948 ء)
فنائے کامل کا خطرہ
’’میں اسے پھر دہراتا ہوں اور پوری قوت سے کہتا ہوں کہ قیام پاکستان کی راہیں اس بناء پر ہموار ہوئیں کہ ذات پات کے تصور پر جو معاشرہ قائم تھا اس میں روح انسانی کے مکمل طور پر فنا ہوجانے کا خطرہ درپیش تھا۔ اب روح انسانی آزاد ہے، موجود ہے، اور اس کو روبہ عمل لانے اور سربلند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مملکت میں اور ساری قوم میں ایک بجلی سی دوڑا دی جائے۔‘‘
(چاٹگام کے جلسہ عام کی تقریر۔ 26 مارچ 1948 ء)
اردو ایک مشترک زبان
’’بہرحال پاکستان میں ایک ہی مشترک زبان ہوگی، وہ زبان جو مملکت کے تمام صوبوں کے درمیان رابطے اور مواصلات کی زبان ہو اور وہ زبان اردو ہوگی کوئی دوسری زبان نہیں ہوسکتی۔‘‘
(ڈھاکہ یونیورسٹی میں کانووکیشن کی تقریر۔ 24 مارچ 1948 ء)


متعلقہ خبریں


گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

مضامین
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر