... loading ...
گزشتہ دنوں دہشت گردی کے 2 بڑے واقعات نے نہ صرف یورپی ممالک کو دہشت زدہ کردیا بلکہ دنیا کی سیاست میں بھی ہلچل مچادی ہے ۔پہلا واقعہ پیر 19 دسمبر کو ترکی کے شہر انقرہ میں تصاویر کی ایک نمائش کے دوران پیش آیا جب ترک پولیس کے ایک اہلکار نے ترکی میں روس کے سفیر آندرے کارلوف کو اس وقت اچانک گولیوں کا نشانہ بنادیاجب وہ نمائش دیکھ کر واپس جانے کے لیے مڑے ،روسی سفیر دہشت گردی کے اس حملے میں جاں بحق ہوگئے ۔یہ واقعہ عین اس وقت پیش آیا جب شام کے مسئلے پر روس، ترکی اور ایرانی وزرا ئے خارجہ کا ایک اہم اجلاس ہونے والاتھا جس میں شام میں خونریزی کاسلسلہ بند کرانے کے طریقہ کار پر غور کے بعد کوئی مشترکہ حکمت عملی وضع کی جانی تھی۔
ٹیلی ویژن اسکرین پر دکھائے جانے والے فوٹیج سے ظاہرہوتاہے کہ گہرے رنگ کے سوٹ میں ملبوس ایک نوجوان نے اچانک اپنا پستول نکالا اور اللہ اکبر حلب کانعرہ لگاتے ہوئے گولیا ں چلادیں گولیاں روسی سفیر کی پشت پر لگیں اور وہ وہیں زمین پر گرپڑے ،اس واقعے سے قبل شام میں روس کے کردار کے حوالے سے ترکی میں مظاہرے ہوتے رہے تھے ۔ترکی میں مظاہرین روس کو حلب میں جاری خونریزی کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے جبکہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ترکی اور روس دونوں ہی شام کے شہر حلب سے شہریوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے اس واقعے سے قبل روس ،ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کواسی حوالے سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ملاقات کرناتھی۔ اس واقعے کے بعد عام طورپر یہ خیال کیاجارہاتھا کہ روس اپنے سفیر کی ہلاکت پر ترکی سے شدید احتجاج کرے گا اور روس اور ترکی کے تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدگی کاشکار ہوجائیں گے اورشام میں ترکی کی جانب سے ایک روسی طیارہ مارگرائے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات جس بدترین سطح پر آگئے تھے ،دوبارہ دونوں ملکوں کے تعلقات اسی سطح پر واپس چلے جائیں گے۔ لیکن روسی رہنمائوں نے کمال تدبر اورتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعے کو دہشت گردی کاواقعہ قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کے حوالے سے ترکی کی پیشکش قبول کرتے ہوئے اپنی تحقیقاتی ٹیم ترکی بھیجنے کااعلان کردیا۔
مقتول روسی سفیر کی لاش کو پورے اعزاز کے ساتھ روسی پرچم میں لپٹے تابوت میں انقرہ کے ہوائی اڈے سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعہ ان کے آبائی وطن بھجوا دیا گیا ہے۔ترکی نے اس واقعے کے بعد امریکی وزیر خارجہ سے فون پر بات کرتے ہوئے انھیں اپنے اس خیال سے مطلع کیا ہے کہ انقرہ میں دو روز قبل روسی سفیر کی ہلاکت کے مبینہ طور پر ذمہ دار امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے پیروکار ہیں۔ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی “انادولو” کے مطابق ترک وزیرخارجہ میولت شیوسوگلو نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ٹیلی فون پر بات کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ “ترکی اور روس کو یہ معلوم ہے کہ ’’گولن کی تنظیم‘‘ اس حملے کے پیچھے ہے” جس میں سفیر آندرے کارلوف ہلاک ہو گئے تھے۔
ہیزمت یا فیتو تحریک کے سربراہ فتح اللہ گولن امریکی ریاست پنسلوینیا میں خودساختہ جلاوطنی گزار رہے ہیں اور ترکی ان کی حوالگی کا مطالبہ رواں سال جولائی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد سے کرتا آرہا ہے۔صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے خلاف ہونے والی ناکام بغاوت کا الزام ترکی گولن اور ان کے تنظیموں سے وابستہ افراد پر عائد کرتا ہے لیکن یہ ترک مبلغ ان دعووں کو مسترد کر چکے ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کا منتظر ہے۔ ترجمان محکمہ خارجہ نے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ تفتیش کاروں کو ان کا کام کرنے دیا جائے اور حقائق اور ثبوت سامنے آئیں قبل اس کے کہ کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے۔”اطلاعات کے مطابق جان کیری نے بھی ترکی سے اس واقعے کی تحقیقات میں معاونت کی پیشکش کی ہے، تاہم انقرہ کا کہنا ہے کہ وہ روسی حکام کے ساتھ مل کر اس کی تحقیق کرے گا اور ماسکو نے تفتیش کاروں کی 20 رکنی ٹیم بھی ترکی بھیج دی ہے۔
دہشت گردی کا دوسرا واقعہ اس کے دوسرے ہی دن برلن میں پیش آیاجہاں ایک جنونی دہشت گرد نے جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ وہ تیونس کاباشندہ تھا، ایک ٹرک کرسمس کی خریداری کے لیے بازار میں جمع مجمع پر چڑھادیا۔ جس کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 46 افراد زخمی ہوئے جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں مرنے والوں کے بارے میں معلوم ہواہے کہ ان کا تعلق پولینڈ سے تھا۔دہشت گردی کے اس واقعے نے پورے یورپ میں خوف کی ایک لہر پیدا کردی ہے اور یورپی باشندے جہاں خود کو انتہائی غیر محفوظ تصور کررہے ہیں وہیں مسلمانوں کے خلاف جذبات میں بھی اضافہ ہواہے جس سے یورپ کے انتہاپسند انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قوم پرست عناصر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں میں بھی عدم تحفظ کے احساسات میں اضافہ ہواہے۔
دہشت گردی کے اس واقعے نے یورپی ممالک کو کس قدر حواس باختہ کیا ہے اس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بدھ کو برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بکنگھم پیلس پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب کے موقع پر باقاعدہ کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اوراس تقریب کودیکھنے کے لیے بڑی تعداد میںجمع ہونے والے لوگوں کو کافی فاصلے پر ہی روکے رکھاگیا۔برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک نے بھی اپنی سیکورٹی انتہائی سخت کردی ہے اور کرسمس بازاروں میںپولیس اورسیکورٹی فورس کی نفری میں اضافے کے ساتھ ہی پولیس اور سیکورٹی فورسز کے گشت میں بھی اضافہ کردیاگیاہے تاکہ لوگوں میں تحفظ کااحساس پیدا ہو اور وہ اطمینان کے ساتھ کرسمس کی خریداری کرسکیں۔
دہشت گردی کے ان واقعات نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کردیاہے کہ امریکا اور مغربی ممالک نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جو حکمت عملی تیار کی ہے اور وہ دہشت گردوں کی بیخ کنی کے لیے جو طریقہ کار اختیار کررہے ہیں وہ مطلوبہ مقاصد کی تکمیل کے لیے کارگر نہیں ہے ،بلکہ جیساکہ ہم پہلے بھی لکھتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے سدباب کے لیے اس کے بنیادی اسباب کاخاتمہ کرنا ضروری ہے،جہاں تک دہشت گردی کے بنیادی اسباب کاتعلق ہے تو امریکا اور دیگر تمام یورپی ممالک کو اب کھلے دل سے یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس کابنیادی سبب امریکا اوردیگر یورپی ممالک کا عمومی طورپر وہ مسلم دشمن رویہ ہے جس کی وجہ سے فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل گزشتہ 70سال سے حل طلب ہیں اور اقوام متحدہ کی واضح قراردادوں کے باوجود امریکا اور یورپی ممالک ان پر عمل کراکے مظلوم فلسطینی اورکشمیری عوام کو انصاف اور ان کا پیدائشی حق دلانے کے بجائے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے غاصب حکمرانوں مزید مضبوط بناکر ان کی خون آشامی کی قوت میں اضافہ کررہے ہیں اور اس طرح ان کو اپنے مظالم کاسلسلہ جاری رکھنے کی شہ دے رہے ہیں۔
امریکا ،یورپی ممالک اور ان ملکوں کے حاشیہ بردار کا کردا ادا کرنے والے مسلم ممالک کے رہنمائوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ اگر اب بھی انھوںنے اپنی روش تبدیل نہیں کی تو اس سے دہشت گردوں کی قوت میں اضافہ ہوتاجائے گا اور ناانصافیوں کے شکار نوجوان دہشت گردوں کے پراپگنڈے کاشکار ہوکر پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنتے رہے ہیں اور دہشت گردی کا یہ مہیب آسیب انھیں بھی ان کے محلوںمیں سکون سے نہیں بیٹھنے دے گا۔
اس لیے دانش مندی کاتقاضہ ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے دنیا کے مظلوم عوام کو انصاف اور حق کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدام کئے جائیں اور جن ممالک نے ان کے حقوق دبارکھے ہیں انھیں عوام کے حقوق دینے پر مجبور کیاجائے تاکہ پوری دنیاکے عوام اطمینان وسکون کے ساتھ زندگی گزارسکیںاور روزانہ جنازے اٹھانے اور مردے دفنانے کا یہ لامتناہی سلسلہ ختم ہوسکے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...
یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...
سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...
جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...
دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...
37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...