وجود

... loading ...

وجود

ایران روس سمجھوتاقبول نہیں،شامی اپوزیشن

جمعه 23 دسمبر 2016 ایران روس سمجھوتاقبول نہیں،شامی اپوزیشن

شامی اپوزیشن نے ملک میں قیام امن کے لیے حال ہی میں روس اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف سنگین اور شرمناک جرم قرار دیا ہے۔
عربی خبررساں ادارے کے مطابق ایران اور روس کے باہمی سمجھوتے پر اپنا ردعمل بیان کرتے ہوئے شامی اپوزیشن کے سینئر مذاکرات کار محمد علوش نے کہا کہ انہیں شام کے حوالے سے روس اورایران کا فیصلہ قبول نہیں۔ بشار الاسد حکومت کے حامی دونوں ملکوں نے بحران کے حل کا اعلان نہیں بلکہ سنگین جرم کا اعلان کیا ہے۔ روسی اعلان عالمی برادری کے ماتھے پر بھی بدنما داغ ہے۔
عرب ٹی وی ’الحدث‘ سے بات کرتے ہوئے محمد علوش نے الزام عاید کیا کہ ایران اور روس حالات کی خرابی سے فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ شامی اپوزیشن کے مذاکرات کار نے عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ مظلوم شامی قوم کے حقوق کی کھل کرحمایت کریں اور روسی ریچھ کو شام پر قبضے سے روکیں۔
ایک سوال کے جواب میں شامی اپوزیشن کے رہ نما کا کہنا تھا کہ حلب میں اپوزیشن سے بہت غلطیاں سرزد ہوئیں۔ ہمیں ان غلطیوں سے بھی سبق سیکھنا ہوگا۔ حلب کے بعد اسدی فوج ادلب، الغوطہ، حمات اور جنوبی شام میں اپوزیشن کے خلاف تباہ کن جنگ کی تیاری کررہی ہے۔
محمد علوش نے اپوزیشن فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی شام کے شہر درعا سمیت تمام مقامات پر اپنی صفوں میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور حلب میں غلطیوں سے سبق سیکھیں۔
شامی عوام کی مشکلات کے حل میں امریکی کردار پر تنقید کرتے ہوئے علوش نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں مظلوم شامی قوم کے حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حتیٰ کہ شامی اپوزیشن کو مسلح کرنے کی کوششیں بھی ناکام بنائی گئیں۔ امریکا کے اس دوغلے طرز عمل نے روس اور اسد نواز قوتوں کو فائدہ پہنچایا۔
دوسری جانب شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر نے رواں برس اکتوبر میں متنبہ کیا تھا کہ حلب کے لیے عالمی طاقتیں کوئی فیصلہ نہیں کرتیں تو شدید تباہی ممکن ہے۔ سفارتکاروں کا خیال ہے کہ اْس اپیل پر کوئی بڑی کارروائی سامنے نہیں آئی۔
سفارتکاروں نے کہا ہے کہ جس طرح حلب پر روس اور شامی جنگی طیاروں کی مسلسل بمباری کا سلسلہ جاری رہا، اْس تناظر میں اقوام متحدہ کے سفیر کے مختلف اوقات پر سامنے آنے والے انتباہوں میں توانائی کا فقدان تھا اور اب صورت حال یہ ہے کہ حلب مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ان سفارتکاروں کے مطابق حلب پر شامی فوج کے قبضے کی مہم کے دوران جس مقدار میں اسلحہ استعمال کیا گیا ہے اور جو انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، اْس نے عالمی ادارے کے بعض کمزور پہلووں کو عیاں کر دیا ہے۔
شام کی حکومت کو حلب پر قبضے کی مہم میں مسلسل روس کی بھرپور عملی حمایت حاصل رہی ہے۔ اس دوران زمینی کارروائی تو جاری رہی مگر اقوام متحدہ میں حلب کے لیے پیش کردہ قراردادوں کو دو مرتبہ روس کی جانب سے ویٹو کر کے انہیں ناکارہ کر دیا گیا۔ یہ دونوں قراردادیں حلب پر بمباری روکنے سے متعلق تھیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے مسلسل ایک ہی بات کی تکرار رہی کہ شام کے تنازعے کا فوجی حل ممکن نہیں۔
مشرقی حلب کے سویلین اور باغیوں کو قبضے کے بعد نکلنے کی اجازت دی گئی۔
یورپی کونسل برائے خارجہ امور کے ریسرچر رچرڈ گووان کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے ادارے کا قیام اِس عہد پر کیا گیا تھا کہ ’ایسا دوبارہ نہیں ہو گا‘ لیکن حلب کے سقوط نے سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ تنظیم سنگین تنازعات کا سامنا کرنے کی استطاعت رکھتی ہے۔ رچرڈ گووان یورپی ادارے میں اقوام متحدہ کے امور کے ماہر ہیں۔گووان کے مطابق عراق جنگ کے بعد حلب پر حملوں کا تسلسل اقوام متحدہ کے لیے انتہائی اہم بحران کے طور پر ابھرا ہے اور اِس کی وجہ سے سلامتی کونسل پر پائے جانے والے اعتماد کی اساس لرز کر رہ گئی ہے۔ اجتماعی طور پر سفارتکاروں کی انگلیاں روس کی جانب اٹھتی ہیں کہ اْس کی چھتری تلے دمشق حکومت حلب میں عسکری آپریشن کو انتہائی شدت سے جاری رکھے ہوئے تھی۔مشرقی حلب پر قبضے کی مہم میں روس اور شام کے جنگی جہازوں نے لاتعداد فضائی حملے کیے۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ، مغربی طاقتوں اور سیکرٹری جنرل بان کی مون کو بھی سفارتی و سماجی حلقوں کی تنقید کا سامنا ہے کہ عمومی طور پر سارے شام اور خصوصی طور پر حلب میں پھنسے ہوئے دس لاکھ عام شہریوں کے لیے انسانی امداد پہنچانے کے عمل میں بھی کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹوں کے مطابق شامی عسکریت پسندوں نے بیشمار سویلینز کو بغیر کسی وجہ کے گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے۔ اس صورت حال پر سبک رفتاری سے کارروائی کرنے کے بجائے مبصرین کی تعیناتی کی جو قرارداد منظور کی گئی اْس پر چار دن صرف کر دیے گئے تھے۔


متعلقہ خبریں


ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

یہ میزائل سسٹم جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشنل آلات سے لیس ہے،آئی ایس پی آر تجربہ کا مشاہدہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، آرمی راکٹ فورس کمانڈ،پاک فوج کے افسران نے کیا آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تربیتی تجربہ کرلیا، جو جدید ...

پاکستان کا جدید ترین فتح ٹو میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آباد...

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

مضامین
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

حملہ اور ابہام وجود جمعرات 30 اپریل 2026
حملہ اور ابہام

مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات وجود جمعرات 30 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات

آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش وجود بدھ 29 اپریل 2026
آبنائے ہرمز کے متبادل کی تلاش

بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز وجود بدھ 29 اپریل 2026
بھارت، منشیات کی اسمگلنگ کا عالمی مرکز

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر