... loading ...
جرمنی کے شہر برلن کے کرسمس بازار میں ٹرک تلے لوگوں کو کچلنے کے شبے میں گرفتاری کے بعد ہونے والے پاکستانی شہری 23سالہ نوید بلوچ کے والد کا اصرار ہے کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے۔
نوید بلوچ کے والد حسن بلوچ نے میڈیا سیگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا بے گناہ ہے یہی وجہ ہے کہجبخبریں سامنے آئیں تو انہیں پریشانی نہیں ہوئی۔
قبل ازیں نوید بلوچ کے ایک کزن عبدالوحید بلوچ نے برلن سے بذریعہ ٹیلیفون بات کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا کو بتایا تھا کہ نوید بلوچ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری بدامنی اور شورش کی وجہ سے پناہ کے لیے جرمنی آیا تھا۔وحید کا کہنا تھاجس جگہ یہ واقعہ پیش آیا، نوید اور اس کا ایک دوست اس علاقے میں سڑک پار کر رہے تھے کہ اچانک پولیس نے انھیں روکا اور کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا جائے گا، بعدازاں انھوں نے نوید کو حراست میں لے لیا۔انھوں نے مزید بتایا کہ اسی دوران ٹی وی چینلز نے یہ کہنا شروع کردیا کہ نوید کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور وہ اس واقعے میں ملوث ہے۔وحید بلوچ کا کہنا تھا کہ نوید بلوچ اردو، انگریزی یا جرمن زبان نہیں بول سکتے۔
نوید بلوچ کے والد حسن بلوچ نے میڈیا کو بتایا کہ میرا بیٹا دیہاڑی پر کام کرتا تھا اور بعض اوقات گوادر میں مچھلیوں کا شکار بھی کرتا تھا۔انہوں نے بتایا کہنویدبے روزگاری سے تنگ آکر 17 ماہ قبل برلن چلا گیا تھا، واقعے کے بعد سے ان کا نوید بلوچ سے رابطہ بھی نہیں ہوسکا ہے۔حسن بلوچ کا خاندان پاک ایران سرحد کے قریب ضلع کیچ کی تحصیل منڈ میں رہائش پذیر ہے۔
واضح رہے کہ برلن کے کرسمس بازار میں ایک ٹرک نے 12شہریوں کو کچل دیا تھا جبکہ 48افراد زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد پولیس نے ایک پاکستانی شہری نوید بلوچ کو حراست میں لے لیا تھا۔تاہم بعد ازاںثبوت نہ ملنے پر نوید بلوچ کو جرمن پولیس نے رہا کردیا تھا۔
واقعے کے بعد جرمن اخبار ’بلڈ‘ کا کہنا تھا کہ ‘جرمنی کے دارالحکومت برلن میں واقع کرسمس بازار میں شہریوں کو کچلنے والا مشتبہ ٹرک ڈرائیور 23 سالہ نوجوان ہے جس کا نام نوید ہے اور اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔
پولیس کی جانب سے گرفتار اور بعد میں رہا کیے جانے والے پاکستانی نژاد نوید بلوچ تاحال لاپتا ہیں لیکن اب جرمن پولیس کو ایک تیونسی باشندے کی تلاش ہے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس کو حملے میں استعمال کیے جانے والے ٹرک سے ایک عارضی ویزے کا پرمٹ ملا ہے جو کسی آنس اے نامی باشندے کا ہے جو تطاوین کے شہر میں 1992 کو پیدا ہوئے تھے۔
پولیس کی کارروائی نارتھ راہن۔ ویسٹفالیا میں جاری ہے جہاں سے یہ پرمٹ جاری کیا گیا تھا۔اطلاعات کے مطابق شاید مشتبہ شخص ڈرائیور کے ساتھ مڈبھیڑ میں زخمی بھی ہو گیا ہو۔
اخبارات کے مطابق مشتبہ تیونسی باشندے کی عمر 21 یا 23 سال ہے اور اس نے پہلے جھوٹے نام بھی استعمال کیے ہیں۔
نوید بلوچ کے کزن وحید بلوچ نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ان کے کزن تاحال لاپتا ہیں اور وہ ان سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وحید بلوچ کا کہنا تھا پولیس کی جانب سے اعلان کے بعد وہ مہاجر کیمپ میں نوید بلوچ کے کمرے میں ان سے ملنے گئے تھے لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔
وحید بلوچ نے بتایاوہ میرے خاندان کی طرح ہے، اس ملک میں صرف میں ہی اس کا خاندان ہوں اور جب اسے حراست میں لیا گیا ہم ایک ساتھ تھے۔
شدت پسند تنظیم داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ اس کے ایک رکن نے کیا ہے لیکن تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ عام طور پر داعش کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملہ آور کی شناخت اور تصاویر جاری کی جاتی ہیں۔دوسری جانب کئی مسلم تنظیموں نے جرمنی میں حملے کی مذمت کی ہے۔ مسلمز اگینسٹ ٹیررزم کی جانب سے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے شمعیں روشن کی گئیں اور اس کے ارکان نے دہشت گردی کے خلاف پیغامات والی جرسیاں پہنیں۔ادھرجرمن چانسلر انگیلا مرکل نے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کے داخلے کی پالیسی کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ حملے میں جو بھی ملوث ہوگا اسے سزا دی جائے گی۔
واضح رہے کہ انگیلا مرکل کو ملک کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے تاہم حالیہ رائے عامہ کے اندازوں کے مطابق بیشتر افراد اب بھی انگیلا مرکل کی حمایت کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں وہ امید کر رہی ہیں کہ حالیہ حملے میں ملوث شخص پناہ گزیں یا تارک وطن نہ ہو کیونکہ اس سے ان کی پناہ گزینوں کے حوالے سے پالیسی مزید دباؤ کا شکار ہوگی۔کرسمس مارکیٹ پر حملے کے بعد ایک پاکستانی مہاجر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور میڈیا پر یہ کہا جانے لگا کہ ممکنہ حملہ آور ایک پاکستانی ہو سکتا ہے۔ بعدازاں یہ خبریں غلط ثابت ہوئیں۔ اس حوالے سے جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر جوہر سلیم نے جرمن خبررساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہبرلن میں دہشت گردی افسوس ناک ہے تاہم پاک جرمن تعلقات اچھے ہی رہیں گے ۔
کرسمس مارکیٹ میں دہشت گردی کے بعد ایک پاکستانی نوجوان کو میڈیا کی جانب سے بغیر تحقیق دہشت گرد قرار دینے کو پاکستان میں حکومتی اور عوامی سطح پر مغرب کے متعصبانہ تاثر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے برلن واقعے پر فوری اظہار افسوس اور مذمت کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اظہار افسوس کیا اور عام شہری بھی اس معاملے پر متاثرہ افراد سے اظہار افسوس ہی کر رہے تھے تاہم جرمن میڈیا کی جانب سے ایک پاکستانی شہری کو حملے میں ملوث قرار دینے پر تجزیہ کاروں اور عام شہریوں نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے جرمن پولیس کے رویے کو مغرب کی متعصبانہ پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر حسن عسکری رضوی نے کہا کہ امریکا ہو یا یورپ، پاکستانی شہریوں کو کسی بھی واقعے میں ملوث کر دینا بہت آسان ہے، لیکن یہ مسئلہ تاثر کا ہے، جس میں کہیں نہ کہیں پاکستان بھی قصور وار ہے۔ بدقسمتی سے مغرب کا مائنڈ سیٹ یہی ہے۔سینئر تجزیہ کار اکرام سہگل نیجرمن خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ دنیا نے پاکستان کا نام اپنی آنکھوں میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر بسا لیا ہے،معاملہ افغانستان کا ہو یا حقانی نیٹ ورک کا یا پھر دہشت گردی کے حوالے سے، امریکا اور یورپ کی گردان صرف ڈو مور ہوتی ہے۔ برلن معاملے میں پہلے تفتیش ہونے چاہیے تھی لیکن انتہائی عجلت میں ایک بے گناہ پاکستانی کو ملوث قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
سابق سفارت کار شاہد امین کہتے ہیں کہ برلن کے واقعے نے ہمیں پھر یاد دلایا ہے کہ ہمیں اپنا امیج بہتر کرنا ہو گا،خرابیاں ہمارے اندر بھی ہیں، جن کے باعث دنیا بھر میں یہ تاثر مستحکم ہو چکا ہے کہ پاکستان ایک خطرناک ملک ہے اور اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے اچھی سفارت کاری، میڈیا کا کردار اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کا تسلسل ضروری ہے۔
تاہم فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے وابستہ سینیئر صحافی اشرف خان نے کہا کہ برلن واقعے کے بعد جرمن حکام نے معاملے کو بہتر انداز میں حل کیا، تفتیش کی اور بے گناہ ثابت ہونے پر پاکستانی شہری کو رہائی بھی مل گئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے واقعات سے ایک بار پھر خوف کی فضا قائم ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ مغربی دنیا پاکستان سمیت دیگر متاثرہ ممالک کیساتھ مل کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل بنائے، جو مستقبل میں ایسے واقعات کی صورت میں کارآمد ثابت ہو سکے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...