وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مودی پربھی کرپشن کے الزامات بھارتی حزب اختلاف نے نیاپنڈورا بکس کھولنے کااعلان کردیا

اتوار 18 دسمبر 2016 مودی پربھی کرپشن کے الزامات بھارتی حزب اختلاف نے نیاپنڈورا بکس کھولنے کااعلان کردیا

اس وقت جبکہ پاکستان میں پاناما لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف حزب اختلاف کا ہدف بنے ہوئے ہیں، اور اس حوالے سے وہ اپنی جان بچانے اور اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ الٹا ان ہی کے گلے پڑجاتاہے اور پھر ان کی کابینہ اور خاص طورپر بعض وزرا کوبار بار پریس کانفرنسیں کرکے وضاحتیں پیش کرنا پڑتی ہیں۔اسی طرحبھارت میں بھی وزیر اعظم نریندرا مودی کے خلاف کرپشن کے الزامات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ،جس سے وزیر اعظم نریندرا مودی سمیت ان کی پوری کابینہ بوکھلا کر رہ گئی ہے، صورتحال کی سنگینی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ بھارت میں کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس کچھ ایسی معلومات ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود وزیراعظم نریندر مودی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ ان معلومات کو لوک سبھا میں پیش کریں گے لیکن حکومت ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دے رہی۔حکمراں بی جے پی کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ بدعنوانی کا الزام بالکل بے بنیاد ہے اور راہول گاندھی اپنا الزام ثابت کریں۔راہول گاندھی کے مطابق اس انکشاف سے نریندر مودی کا غبارہ پھٹ جائے گا۔وزیر اعظم ڈرے ہوئے ہیں، وہ بحث سے بھاگ رہے ہیں، انھیں بہانے بنانا بند کرنا چاہیے۔اس کے بعد دیش یہ فیصلہ کرے گا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ۔
بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس کے ایک سینئر رہنما کی طرف سے یہ غیرمعمولی بیان ہے۔ راہول گاندھی نے گزشتہ ہفتے بھی کہا تھا کہ اگر انھیں پارلیمان میں بولنے دیا گیا تو زلزلہ آ جائے گا لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی مستند معلومات ہے تو وہ اس کا انکشاف پارلیمان میں ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔راہول گاندھی کے دعوے کو حکومت نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایوان کی کارروائی حزب اختلاف نے روک رکھی ہے اور حکومت بحث کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
دوسری جانب اصل صورت حال یہ ہے کہ پارلیمان کے پورے سرمائی اجلاس میں کوئی کام کاج نہیں ہو سکا ہے۔ ملک میں 8 نومبر کو بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس پر سیاسی جنگ اب پارلیمان میں لڑی جا رہی ہے۔ پارلیمان کا رواں اجلاس جمعہ کو ختم ہو ا۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس مبینہ معلومات کا تعلق کرنسی نوٹ بند کرنے کے فیصلے سے ہے، راہول گاندھی نے کوئی واضح جواب نہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس وزیراعظم کے بارے میں بدعنوانی کی ذاتی معلومات ہیں جو ہم لوک سبھا میں رکھنا چاہتے ہیں، اس سے وزیر اعظم خوفزدہ ہیں۔اگر راہول گاندھی کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوتا ہے تو حکومت کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے اور اگر نہیں تو راہول گاندھی کی معتبریت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ان تمام واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ بھارت میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور بھارت کے اندر بھی ایک جنگ چل رہی ہے۔جس کا اندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتیں بر سر اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ کنٹرول لائن پر مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف فوج کے مبینہ سرجیکل آپریشن سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اتر پردیش اور پنجاب کے کئی قصبوں اور شہروں میں گزشتہ دنوں بی جے پی کے مقامی رہنمائوں اور اس کے حامیوں کے ذریعے بڑے بڑے بینر لگائے گئے ہیں۔ اس میں سرجیکل آپریشن کے لیے وزیر اعظم مودی کی جرأت کی تعریف کی گئی ہے۔کئی بینرز میں انھیں ہندوئوں کے دیوتا رام کے طور پر دکھایا گیا ہے جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کورامائن کے برائی کے کردار راون کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ ان پوسٹروں اور بینروں میں وزیر اعظم کو اس آپریشن کے لیے مبارکباد دی گئی ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور یہ انتخابات مودی کی جماعت کے مستقبل کے انتخابی منصوبوں اور کامیابیوںکیلیے انتہائی اہم ہیں۔
ادھرکانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ اوڑی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی موت پر سیاست کررہے ہیں۔ سرجیکل آپریشن پر تنازع وزیر دفاع منوہر پاریکر کے اس بیان سے شروع ہوا کہ مودی کی حکومت کے جرأت مندانہ فیصلے سے یہ آپریشن ممکن ہو سکا۔ اس کے جواب میں کانگریس نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ماضی میں کانگریس کی حکومتوں کے دوران اس طرح کے سرجیکل آپریشن کئی بار ہو چکے ہیں لیکن اس وقت کی حکومتوں نے ان کارروائیوں کا کو عام نہیں کیا کیوں کہ بقول ان کے یہ آپریشن سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے نہیں کیے گئے تھے۔
پاکستان کے خلاف مبینہ سرجیکل آپریشن پر پورے بھارت کے اندر مچی اس سیاسی جنگ میں میڈیا خاص طور سے ٹی وی چینلز سب سے آگے ہیں۔ ایک چینل نے گزشتہ دنوں سابق وزیر داخلہ پی چدامبرم کا انٹرویو نشر ہونے سے روک دیا۔ اس چینل نے اعلان کیا کہ وہ ایسا کوئی سیاسی بیان نہیں نشر کرے گا جس سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہو۔ چدامبرم نے اس انٹرویو میں کشمیر کے حوالے سے حکومت کی ہینڈلنگ پر تنقید کی تھی۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسی چینل نے چند گھنٹے بعد بی جے پی کے صدر کی پریس کانفرنس براہ راست نشر کی جس میں بنیادی طور پر انھوں نے سرجیکل آپریشن کے حوالے سے مخالفین کو ہدف بنایا تھا۔بعض چینل کے اینکر اور پیشکار حب الوطنی کے جذبے میں پروگرام کی ابتدا اور اختتام پر جے ہند کا نعرہ بلند کرنے لگے۔ ایک اینکر نے اسٹوڈیو میں باقاعدہ وار روم بنا کر فوجی وری جیسے کپڑے پہن کر پروگرام پیش کیا۔ ان پروگراموں میں جو بھی حکومت کے تصورات سے اتفاق نہیں کرتا انھیں اینٹی نیشنل یعنی ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ بھارتی چینلوں اور سوشل میڈیا پر جارحانہ قوم پرستی کی ایک لہر چلی ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس سرجیکل آپریشن نے یک لخت سارے مسئلے حل کر دیے ہوں۔قوم پرستی کی اس بحث میں اس پہلو پر کوئی بات نہیں ہو رہی کہ سرجیکل آپریشن سے کیا مقصد حاصل ہوا ہے۔ کیا پاکستان اس آپریشن سے ڈر گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آخر جوابی کارروائی کے اندیشے سے سرحدی علاقے خالی کیوں کرائے گئے اور جوابی کارروائی کا جواب دینے کے لیے چوکسی کیوں ہے؟
یہ تو واضح ہوچکاہے کہ بھارت کی مودی حکومت پاکستان کے خلاف مبینہ سرجیکل آپریشن کا شور آئندہ چند مہینوں تک یعنی کم از کم بعض ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات تک جاری رکھنا چاہتی ہے تاکہ اس کی بنیاد پرپاکستان کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکا کر اور یہ ظاہر کرکے کہ پاکستان کامقابلہ کرنے کے لیے مودی حکومت ہی سب سے زیادہ موزوں ہے انتخابات جیتے جاسکیں،حقیقت یہ ہے پاکستان سیتعلقات اب مزید خراب ہو چکے ہیں۔ اور بات چیت کے سارے راستے بند ہیں۔ یہ تنازع جہاں سے شروع ہوا تھا وہاں کی صورتحال اب بھی جوں کی توں ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر اب بھی کشیدگی اور ٹکرائو کی گرفت میں ہے۔ وادی میں گزشتہ دنوں بھی کئی نوجوان شہید کیے گئے اور جنازے کے ساتھ مظاہرہ ہوا اور لائن آف کنٹرول سے بھارتی فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے جس کی زد میں ایک بار پھر اسکول بس آئی اور ڈرائیور شہید جبکہ بچے لہولہان ہوگئے۔ بھارت میں ان حقائق پر بھلے ہی بحث نہ ہو لیکن ان زمینی حقیقتوں کو فراموش تو نہیں کیا جا سکتا۔

تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


کورونا وائرس ، دنیا بھر میں مزید 44افراد ہلاک،تعداد 2858ہو گئی وجود - جمعه 28 فروری 2020

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اموات کا سلسلہ رک نہ سکا اور پچھلے 24 گھنٹوں میں 44 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 2858 ہوگئی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 52 ممالک میں متاثرین کی تعداد 83 ہزار 105ہوگئی جبکہ 36 ہزار 525 بیمار صحت یاب ہوگئے ۔کورونا وائرس سے چین میں مزید 43 افراد ہلاک جبکہ اٹلی میں اموات کی تعداد 14 سے بڑھ کر 17ہو گئی، اسی طرح جنوبی کوریا میں تعداد 12 سے 13 ہو گئی۔چین میں اموات اور بیماروں کی تعداد کم ہو نے لگی مگر دنیا بھر میں کورونا وا...

کورونا وائرس ، دنیا بھر میں مزید 44افراد ہلاک،تعداد 2858ہو گئی

کورونا وائرس عالمی وبا قراردیے جانے کا امکان وجود - جمعه 28 فروری 2020

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس عالمی و با بن سکتی ہے ،چین کے بعد اٹلی اور ایران میں یہ انفیکشن سب سے زیادہ پھیلا ہے وہاں لوگ سفر کر کے یہ وائرس مزید پھیلانے کا باعث بن رہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی ادار صحت کے سربراہ ٹیڈروس گیبرییسس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا فیصلہ کن نقطے پر پہنچ چکی ہے اور عالمی وبا بن سکتی ہے ۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک اس وائرس کے پھیلا ئو سے بچنے کی کوشش کر رہے ۔جمعرات کو دوسرے دن ب...

کورونا وائرس عالمی وبا قراردیے جانے کا امکان

کورونا وائرس کے باعث تاجر، مزدور تفتان چھوڑنے لگے ، ماسک بلیک میں فروخت وجود - جمعه 28 فروری 2020

کورونا وائرس کے باعث پاک ایران سرحد پر تجارتی بندش کی وجہ سے تفتان میں کاروباری سرگرمیاں ختم ہو گئیں، جس کے بعد تاجر برادری اور مزدور شہر چھوڑ کر جانے لگے جبکہ کورونا سے بچائوکے لیے ملک بھر میں ماسک مہنگے داموں فروخت ہونے لگے یا مارکیٹ سے غائب ہی ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے تفتان میں اس کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے حکام نے بارڈر ٹریڈ بند کر دی جس سے تفتان میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئیں ،کام کی بندش کی وجہ سے مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں اور...

کورونا وائرس کے باعث تاجر، مزدور تفتان چھوڑنے لگے ، ماسک بلیک میں فروخت

کرونا وائرس، روس کا ایرانیوں کے لیے ویزے بند کرنے کا اعلان وجود - جمعرات 27 فروری 2020

روس نے ایران میں مہلک وائرس کرونا پھیلنے کے بعد اس کے شہریوں کو آج(جمعہ 28 فروری) سے ویزے جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روسی حکام نے اب تک ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ صرف دو مریضوں کی اطلاع دی ہے۔روس نے یکم اپریل تک کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بعض پابندیاں بھی عاید کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یکم مارچ سے روس اور جنوبی کوریا کے درمیان بعض پروازیں معطل کی جارہی ہیں۔واضح رہے کہ چین کے وسطی شہر ووہان میں یہ مہلک وائرس دسمبر کے آخر میں نمودار ہوا...

کرونا وائرس، روس کا ایرانیوں کے لیے ویزے بند کرنے کا اعلان

امریکا کا اپنے شہریوں کو ایران، اٹلی اور منگولیا کا سفر اختیار نہ کرنے کا مشورہ وجود - جمعرات 27 فروری 2020

امریکا نے دنیا کے مختلف ملکوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ایران ، اٹلی اور منگولیا کے لیے سفری انتباہ جاری کیے ہیں اور امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان ممالک کے سفر کے وقت احتیاط کا مظاہرہ کریں۔میڈیارپورٹس کے مطابق محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں امریکی شہریوں پر زوردیا کہ وہ اٹلی کے سفر کے وقت زیادہ محتاط رہیں۔ جو لوگ ایران میں ہیں، انھیں بھی مکمل احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ان دونوں ملکوں میں روزانہ کرونا وائرس کے نئے کیس سامنے آرہے ہیں...

امریکا کا اپنے شہریوں کو ایران، اٹلی اور منگولیا کا سفر اختیار نہ کرنے کا مشورہ

جرمن خاتون چانسلر کا جانشین بننے کے لیے مردوں کا مقابلہ وجود - جمعرات 27 فروری 2020

لاشیٹ، میرس، روئٹگن اب تین امیدوار سی ڈی یو کی صدارتی کرسی کے لیے انتخاب لڑیں گے اور اس طرح چانسلر کے امیدوار کے لیے بھی انہی کے مابین مقابلہ ہو گا۔ امریکا اور برطانیہ کے برعکس جرمنی کی سیاست میں کسی ڈرامائی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔ اس بات کا ثبوت اگلے جرمن چانسلر کے عہدے کے امیدواروں کے ناموں کے اعلان کے بعد ایک بار پھر سامنے آ گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 54 سالہ نوربرٹ روئٹگن، 59 سالہ آرمین لاشیٹ اور 64 سالہ فریڈرش میرس کے نام...

جرمن خاتون چانسلر کا جانشین بننے کے لیے مردوں کا مقابلہ

کرونا کا خطرہ، سعودی شہریوں کو ترکی کے سفر سے گریز کی ہدایت وجود - جمعرات 27 فروری 2020

ترکی میں سعودی سفارت خانے نے حال ہی میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر سعودی شہریوں کو ترکی کے لیے غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔دوسری طرف ترکی نے کرونا سے متاثرہ ملکوں سے لوگوں کی آمد وفت کے حوالے سے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی میں قائم سعودی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ سعودی شہری کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ترکی کے سفر سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ترکی میں موجود سعودی باشندوں ...

کرونا کا خطرہ، سعودی شہریوں کو ترکی کے سفر سے گریز کی ہدایت

سعودی عرب کرونا وائرس سے محفوظ ہے، وزارت صحت وجود - جمعرات 27 فروری 2020

سعودی وزارت صحت کے ترجمان نے مملکت میں کرونا وائرس کے معاملے کی تشخیص کے بارے میں افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دمام میں کرونا وائرس کی موجودگی کے بارے میں سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔محکمہ صحت کے ترجمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹویٹر پر کسی بھی کسی قسم کی افواہ سے بچنے کے لیے سرکاری اکائونٹ @SaudiMOH937 کو فالو کریں۔ مملکت میں کرونا کے حوالے سے غیر مصدقہ باتوں اور افواہوں پر کان نہ...

سعودی عرب کرونا وائرس سے محفوظ ہے، وزارت صحت

سعودی عرب نے عارضی طور عمرہ زائرین اور مسجد نبوی کی زیارت روک دی وجود - جمعرات 27 فروری 2020

دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ پھیلنے والے کرونا وائرس(کویڈ-19)کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر سعودی عرب کی حکومت نے کرونا سے متاثرہ ممالک سے عمرہ زائرین کی آمد عارضی طور پر روکنے کے ساتھ مسجد نبوی کی زیارت پر بھی پابندی لگا دی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے کرونا سے متاثرہ ملکوں سے سیاحتی ویزوں پر آنے والے شہریوں کو بھی مملکت میں دخلے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاحتی اور عمرہ ویزے جاری کرنے کا عمل روک دیا ہے۔وزارت خارجہ نے ایک یک بیان ...

سعودی عرب نے عارضی طور عمرہ زائرین اور مسجد نبوی کی زیارت روک دی

کرونا وائرس کے باوجود ایرانی علماء مذہبی اجتماعات پر پابندی کے مخالف وجود - جمعرات 27 فروری 2020

ایران میں تیزی کے ساتھ پھیلنے والے کرونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے باوجود ایران کی مذہبی شخصیات نے ملک میں مذہبی اجتماعات پرپابندی کی مخالفت کر دی ۔عرب ٹی وی کے مطابق ایران میں کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر سوشل میڈیا پر ایک مہم جاری ہے جس میں شہریوں سے کہا گیا کہ وہ وائرس کے خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے مذہبی اجتماعات میں شرکت سے گریز کریں۔ایک طرف سوشل میڈیا پر شہریوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مذہبی اور سیاسی نوعیت کے اجتماعات میں شرکت نہ کریں اور دوسری طرف ملک کی مذہبی شخصیات نے ب...

کرونا وائرس کے باوجود ایرانی علماء مذہبی اجتماعات پر پابندی کے مخالف

سعودی عرب، سیاحت کے شعبے میں 16 لاکھ تک ملازمتیں فراہم کی جائیں گی وجود - جمعرات 27 فروری 2020

سعودی عرب میں سیاحت کے شعبے میں 16 لاکھ تک ملازمتیں فراہم کی جائیں گی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب نے ریاض میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزارت سیاحت کے قیام کافرمان جاری کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کی قومی حکمت عملی کا مقصد سیاحوں کو جامع خدمات اور پرکشش سیاحتی پیشکشیں فراہم کرنا ہے ۔ وزارت سیاحت موجودہ اور نئے سرمایہ کاروں کو سیاحتی پروگراموں کے حوالے سے پرکشش ماحول فراہم کرے گی جس کی بد...

سعودی عرب، سیاحت کے شعبے میں 16 لاکھ تک ملازمتیں فراہم کی جائیں گی

بی جے پی غنڈوں کے مسلمانوں پر حملے، 20 افراد جاں بحق ،150 زخمی وجود - بدھ 26 فروری 2020

نئی دہلی میں بھارتی انتہاپسندوں اور مودی سرکار کے گٹھ جوڑ نے مسلمانوں پر قیامت ڈھا دی، بلوائیوں کے حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 20ہو گئی، 150افراد زخمی ہیں،نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ نے فوج طلب کرنے کیلئے وزارت داخلہ کودرخواست کر دی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نئی دہلی کے مسلمانوں پر قیامت کی گھڑی، بلوائیوں اور سرکاری اہلکاروں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ، مسلمانوں کی املاک کو جلانے اور لوٹنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ، حملوں میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 20جبکہ 150 زخمی ہیں، انتہاپ...

بی جے پی غنڈوں کے مسلمانوں پر حملے، 20 افراد جاں بحق ،150 زخمی