وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مودی پربھی کرپشن کے الزامات بھارتی حزب اختلاف نے نیاپنڈورا بکس کھولنے کااعلان کردیا

اتوار 18 دسمبر 2016 مودی پربھی کرپشن کے الزامات بھارتی حزب اختلاف نے نیاپنڈورا بکس کھولنے کااعلان کردیا

اس وقت جبکہ پاکستان میں پاناما لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف حزب اختلاف کا ہدف بنے ہوئے ہیں، اور اس حوالے سے وہ اپنی جان بچانے اور اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ الٹا ان ہی کے گلے پڑجاتاہے اور پھر ان کی کابینہ اور خاص طورپر بعض وزرا کوبار بار پریس کانفرنسیں کرکے وضاحتیں پیش کرنا پڑتی ہیں۔اسی طرحبھارت میں بھی وزیر اعظم نریندرا مودی کے خلاف کرپشن کے الزامات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں ،جس سے وزیر اعظم نریندرا مودی سمیت ان کی پوری کابینہ بوکھلا کر رہ گئی ہے، صورتحال کی سنگینی کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ بھارت میں کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس کچھ ایسی معلومات ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود وزیراعظم نریندر مودی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ وہ ان معلومات کو لوک سبھا میں پیش کریں گے لیکن حکومت ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دے رہی۔حکمراں بی جے پی کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ بدعنوانی کا الزام بالکل بے بنیاد ہے اور راہول گاندھی اپنا الزام ثابت کریں۔راہول گاندھی کے مطابق اس انکشاف سے نریندر مودی کا غبارہ پھٹ جائے گا۔وزیر اعظم ڈرے ہوئے ہیں، وہ بحث سے بھاگ رہے ہیں، انھیں بہانے بنانا بند کرنا چاہیے۔اس کے بعد دیش یہ فیصلہ کرے گا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ۔
بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس کے ایک سینئر رہنما کی طرف سے یہ غیرمعمولی بیان ہے۔ راہول گاندھی نے گزشتہ ہفتے بھی کہا تھا کہ اگر انھیں پارلیمان میں بولنے دیا گیا تو زلزلہ آ جائے گا لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی مستند معلومات ہے تو وہ اس کا انکشاف پارلیمان میں ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔راہول گاندھی کے دعوے کو حکومت نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایوان کی کارروائی حزب اختلاف نے روک رکھی ہے اور حکومت بحث کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
دوسری جانب اصل صورت حال یہ ہے کہ پارلیمان کے پورے سرمائی اجلاس میں کوئی کام کاج نہیں ہو سکا ہے۔ ملک میں 8 نومبر کو بڑے کرنسی نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور اس پر سیاسی جنگ اب پارلیمان میں لڑی جا رہی ہے۔ پارلیمان کا رواں اجلاس جمعہ کو ختم ہو ا۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس مبینہ معلومات کا تعلق کرنسی نوٹ بند کرنے کے فیصلے سے ہے، راہول گاندھی نے کوئی واضح جواب نہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس وزیراعظم کے بارے میں بدعنوانی کی ذاتی معلومات ہیں جو ہم لوک سبھا میں رکھنا چاہتے ہیں، اس سے وزیر اعظم خوفزدہ ہیں۔اگر راہول گاندھی کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہوتا ہے تو حکومت کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے اور اگر نہیں تو راہول گاندھی کی معتبریت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ان تمام واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ بھارت میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور بھارت کے اندر بھی ایک جنگ چل رہی ہے۔جس کا اندازہ اس سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ بھارت میں حزب اختلاف کی جماعتیں بر سر اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ کنٹرول لائن پر مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف فوج کے مبینہ سرجیکل آپریشن سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اتر پردیش اور پنجاب کے کئی قصبوں اور شہروں میں گزشتہ دنوں بی جے پی کے مقامی رہنمائوں اور اس کے حامیوں کے ذریعے بڑے بڑے بینر لگائے گئے ہیں۔ اس میں سرجیکل آپریشن کے لیے وزیر اعظم مودی کی جرأت کی تعریف کی گئی ہے۔کئی بینرز میں انھیں ہندوئوں کے دیوتا رام کے طور پر دکھایا گیا ہے جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کورامائن کے برائی کے کردار راون کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ ان پوسٹروں اور بینروں میں وزیر اعظم کو اس آپریشن کے لیے مبارکباد دی گئی ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور یہ انتخابات مودی کی جماعت کے مستقبل کے انتخابی منصوبوں اور کامیابیوںکیلیے انتہائی اہم ہیں۔
ادھرکانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ اوڑی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی موت پر سیاست کررہے ہیں۔ سرجیکل آپریشن پر تنازع وزیر دفاع منوہر پاریکر کے اس بیان سے شروع ہوا کہ مودی کی حکومت کے جرأت مندانہ فیصلے سے یہ آپریشن ممکن ہو سکا۔ اس کے جواب میں کانگریس نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ماضی میں کانگریس کی حکومتوں کے دوران اس طرح کے سرجیکل آپریشن کئی بار ہو چکے ہیں لیکن اس وقت کی حکومتوں نے ان کارروائیوں کا کو عام نہیں کیا کیوں کہ بقول ان کے یہ آپریشن سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے نہیں کیے گئے تھے۔
پاکستان کے خلاف مبینہ سرجیکل آپریشن پر پورے بھارت کے اندر مچی اس سیاسی جنگ میں میڈیا خاص طور سے ٹی وی چینلز سب سے آگے ہیں۔ ایک چینل نے گزشتہ دنوں سابق وزیر داخلہ پی چدامبرم کا انٹرویو نشر ہونے سے روک دیا۔ اس چینل نے اعلان کیا کہ وہ ایسا کوئی سیاسی بیان نہیں نشر کرے گا جس سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہو۔ چدامبرم نے اس انٹرویو میں کشمیر کے حوالے سے حکومت کی ہینڈلنگ پر تنقید کی تھی۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اسی چینل نے چند گھنٹے بعد بی جے پی کے صدر کی پریس کانفرنس براہ راست نشر کی جس میں بنیادی طور پر انھوں نے سرجیکل آپریشن کے حوالے سے مخالفین کو ہدف بنایا تھا۔بعض چینل کے اینکر اور پیشکار حب الوطنی کے جذبے میں پروگرام کی ابتدا اور اختتام پر جے ہند کا نعرہ بلند کرنے لگے۔ ایک اینکر نے اسٹوڈیو میں باقاعدہ وار روم بنا کر فوجی وری جیسے کپڑے پہن کر پروگرام پیش کیا۔ ان پروگراموں میں جو بھی حکومت کے تصورات سے اتفاق نہیں کرتا انھیں اینٹی نیشنل یعنی ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ بھارتی چینلوں اور سوشل میڈیا پر جارحانہ قوم پرستی کی ایک لہر چلی ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس سرجیکل آپریشن نے یک لخت سارے مسئلے حل کر دیے ہوں۔قوم پرستی کی اس بحث میں اس پہلو پر کوئی بات نہیں ہو رہی کہ سرجیکل آپریشن سے کیا مقصد حاصل ہوا ہے۔ کیا پاکستان اس آپریشن سے ڈر گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آخر جوابی کارروائی کے اندیشے سے سرحدی علاقے خالی کیوں کرائے گئے اور جوابی کارروائی کا جواب دینے کے لیے چوکسی کیوں ہے؟
یہ تو واضح ہوچکاہے کہ بھارت کی مودی حکومت پاکستان کے خلاف مبینہ سرجیکل آپریشن کا شور آئندہ چند مہینوں تک یعنی کم از کم بعض ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات تک جاری رکھنا چاہتی ہے تاکہ اس کی بنیاد پرپاکستان کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکا کر اور یہ ظاہر کرکے کہ پاکستان کامقابلہ کرنے کے لیے مودی حکومت ہی سب سے زیادہ موزوں ہے انتخابات جیتے جاسکیں،حقیقت یہ ہے پاکستان سیتعلقات اب مزید خراب ہو چکے ہیں۔ اور بات چیت کے سارے راستے بند ہیں۔ یہ تنازع جہاں سے شروع ہوا تھا وہاں کی صورتحال اب بھی جوں کی توں ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر اب بھی کشیدگی اور ٹکرائو کی گرفت میں ہے۔ وادی میں گزشتہ دنوں بھی کئی نوجوان شہید کیے گئے اور جنازے کے ساتھ مظاہرہ ہوا اور لائن آف کنٹرول سے بھارتی فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے جس کی زد میں ایک بار پھر اسکول بس آئی اور ڈرائیور شہید جبکہ بچے لہولہان ہوگئے۔ بھارت میں ان حقائق پر بھلے ہی بحث نہ ہو لیکن ان زمینی حقیقتوں کو فراموش تو نہیں کیا جا سکتا۔

تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی وزیرخارجہ نے ایران پر اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ’’دھوکا دہی اور ابہام‘‘ سے کام لینے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو اپنی حساس جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں تاخیری حربے استعمال کررہا ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیرمملکت برائے خارجہ عادل الجبیر نے ایران پر زور دیا کہ وہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے اور اس کے معائنہ کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

سعودی عرب کا ایران پرجوہری پروگرام سے متعلق دھوکا دہی سے کام لینے کا الزام

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کے دمام میں ایک دو شیزہ کا اپنے والد کے نام مکتوب سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد اس پر تحائف کی بارش کردی۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے شہردمام سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے اپنے والد کو شادی سے چند دن قبل ایک مکتوب لکھا جس میں ان سے کہا کہ اس کی شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں۔ اس کا حق مہر25 ہزار ریال سے زیادہ نہ ہو اور اس کی شادی پراٹھنے والے اخراجات بھی اس رقم سے زیادہ نہ ہوں۔سعودی دو شیزہ کا والد کو پیغام سوشل میڈیا پروائرل ہوتے ہی صارفین کی طرف سے ...

میری شادی کے لیے کوئی سستا شادی ہال تلاش کریں،سعودی بیٹی کا والد کوپیغام

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن وجود - بدھ 13 نومبر 2019

لیبیا سے تعلق رکھنے والے دو شیرخوار بچے جن کے دھڑ ایک دوسرے کے ساتھ جْڑے ہوئے ہیں کوآپریشن کے ذریعے الگ کرنے کے لیے سعودی عرب لایا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے ماہر سرجن ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ اور ان کی ٹیم نے بچوں کے معائنے کی تکمیل کے بعد ان کی سرجری کا فیصلہ کیا ہے۔ آپس میں جڑے بچوں کے نام احمد اور محمد رکھے گئے ہیں۔ ان کی سرجری کا عمل کل جمعرات کو شاہ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے شاہ عبداللہ اسپتال میں کیا جائے گا۔سرجری ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربی...

لیبیا کے جسمانی طور پرآپس میں جڑے دو بچوں کا سعودی عرب میں آپریشن

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹویٹر نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے بیٹے جواد نصراللہ کا اکائونٹ بھی بلاک کردیاہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹویٹر کی طرف سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ منگل کوامریکا نے جواد نصراللہ کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔ٹویٹر کا دعویٰء ہے کہ جواد نصراللہ اپنے سخت موقف اور متنازع فتووں کی تشہیر کے لیے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتا تھا جو کہ ٹویٹر کی پالیسی کے خلاف ہے۔ کمپنی کا کہناتھا کہ جواد نصراللہ کے خلاف بار بار شکایات ا...

ٹوئٹر نے حسن نصراللہ کے فرزند کا اکائونٹ بھی بلاک کردیا

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا وجود - بدھ 13 نومبر 2019

سعودی عرب کی ایک خصوصی فوجداری عدالت نے دہشت گردی اور متعدد الزامات میں قصوروار ثابت ہونے کے بعد کل 41 ملزمان میں سے 38 کو قید اور ملک بدری کی سزائیں سنادیں۔میڈیارپورٹس کیے مطابق ان ملزمان پر منہج کتاب و سنت کے برخلاف انتہا پسندانہ نظریات اختیار کرنے ،دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے ، دہشت گرد تنظیم قائم کرنے، لوگوں کو اس میں بھرتی کرنے، کچھ کو ایک انتہا پسند تنظیم کے ہاتھ پر بیعت کرنے، ملک میں بد امنی پھیلانے اور ملک کے نظم ونسق میں خلل پیدا کرنے کے لیے ...

سعودی عرب میں دہشت گردی کے 38 ملزمان کو قید اور ملک بدری کی سزا

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت وجود - منگل 12 نومبر 2019

گردوں کے امراض کے دوران ڈائیلاسز کرانا مریض کے لیے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تاہم لگتا ہے کہ مستقبل میں اس سے نجات مل جائے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ آٹومیٹڈ وئیرایبل مصنوعی گردے سے کڈنی فیلیئر کے مریضوں کے خون میں سے زہریلے مواد کو موثر طریقے سے نکالنے میں مدد مل سکے گی۔سائنسدانوں کی جانب سے اس مصنوعی گردے والی ڈیوائس کی ڈائیلاسز کے لیے آزمائش کی جارہی ہے جس سے تھراپی کے کئی گھنٹوں اور بڑی مشینوں کے استعمال سے نجات مل جائے گی۔اس ٹیکنالوجی میں ڈائیلاس...

مصنوعی گردوں کے ذریعے ڈائیلاسز کے عمل میں کامیاب پیشرفت

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین وجود - منگل 12 نومبر 2019

چین نے تبت کے دلائی لامہ کے جانشین کے انتخاب کے حوالے سے واشنگٹن کی مبینہ سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا، تبت میں مداخلت کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کر رہا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے سفیر برائے مذہبی آزادی سیم براون بیک نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تبت کے روحانی رہنما کی جانشینی کے معاملے کو اقوام متحدہ دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ دلائی لامہ کے جانشین کا انتخاب تبت کے بدھ مذہب کے ماننے والوں سے متعلق ہے اور اس پر چینی حکومت کا کوئی ت...

امریکا، تبت میں مداخلت کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کررہا ہے، چین

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس وجود - منگل 12 نومبر 2019

مغربی افریقی ملک گیمبیا کی حکومت نے جنوبی ایشیائی ملک میانمار کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کی عدالت میں قانونی کارروائی کے لیے درخواست دائر کردی۔ یہ مقدمہ 57 ملکی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی جانب سے میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں لایا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں دارے کے مطابق قانونی درخواست میں کہا گیا کہ میانمار نے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن 1948 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست رخائن میں مسلم اقلیت روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی کی۔گیمبیا کے وزیر انصاف...

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر میانمار کے خلاف عالمی عدالت میں کیس

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ وجود - منگل 12 نومبر 2019

امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے ترکی کو خبردار کیا ہے کہ وہ شامی کْردوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جنگی جرائم یا نسلی تطہیر سے باز رہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن کے دورے کی تیاری میں مصروف ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اوبرائن کا کہنا تھا کہ وہ شمال مشرقی شام میں ترکی کے حملے کے بعد وہاں ممکنہ جنگی جرائم ...

21ویں صدی میں جنگی جرائم کی گنجائش نہیں ، امریکی ذمے دار کا ایردوآن کو انتباہ

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل وجود - منگل 12 نومبر 2019

آئندہ اتوار کو مصر کی مشہور زمانہ نہر سویزکی کھدائی کے افتتاح کو 150 سال ہوجائیں گے۔ نہر سویز کی کھدائی کے بارے میں بہت سی زبانوں میں کافی مواد موجود ہے۔مصری میڈیا نے بتایاکہ مستند معلومات کے مطابق اس نہر کی کھدائی میں ایک ملین مصریوں نے حصہ لیا جن میں ایک لاکھ 20 ہزار مزدورمختلف حادثات میں کھدائی کے دوران لقمہ اجل بن گئے۔ اس نہر کی کھدائی کا سلسلہ 10 سال تک دن رات جاری رہا۔ طویل اور مشقت سے بھرپور کھدائی کے بعد 1993 کلو میٹر طویل نہر کھودی گئی۔ اس کی کم سے کم چوڑائی 280 میٹر...

مصر کی مشہور زمانہ نہر سویز کی کھدائی کے افتتاح کے 150سال مکمل

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق وجود - پیر 11 نومبر 2019

آسٹریلیا کی مشہور وکٹوریہ یونیورسٹی نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ہفتے میں ایک مرتبہ 50 منٹ کی دوڑ انسان کو قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رنرز ورلڈ کے مطابق ملبورن کی وکٹوریا یونیورسٹی کی تحقیق میں 14 تحقیق کی معلومات کو اکٹھا کیا گیا جس میں 23 لاکھ سے زائد لوگ شامل تھے۔ ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ دوڑ صحت کیلئے بے حد مفید ہے اور یہ انسان کے قبل از وقت مرنے کے امکانات یا خطرات کو 27 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ ...

روزانہ 7 سے 8 منٹ کی دوڑ قبل از وقت موت سے بچا سکتی ہے،نئی تحقیق

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما وجود - پیر 11 نومبر 2019

اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطینی مزاحمت کے حامی سوشل صحافت کی بندش پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹویٹرکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے بیرون ملک امور کے انچار محمد نزال نے ایک بیان میں کہا کہ فیس بک اورٹویٹرصہیونی ریاست کی مسلسل طرف داری کرکے اپنی غیر جانب ادارانہ ساکھ کھو چکے ہیں۔ ان دونوں ویب سائٹس کی طرف سے صہیونی ریاست کے خاکوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اوردونوں سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم غاصب ...

فیس بک اورٹوئٹرصہیونیوں کے آلہ کار بن گئے،حماس رہ نما

مضامین
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 13 نومبر 2019
چلغوز۔یات (علی عمران جونیئر)

پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی
(عطا محمد تبسم)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
پا شا احمد گل شہید اسلامی مزدور تحریک کا سچا سپاہی <br>(عطا محمد تبسم)

دھرنے کی آکاس بیل۔!
(راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود جمعرات 07 نومبر 2019
دھرنے کی آکاس بیل۔!  <br>(راؤ محمد شاہد اقبال)

سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر) وجود جمعرات 07 نومبر 2019
سیاسی چور۔(علی عمران جونیئر)

مولانا فضل الرحمن اور مسئلہ کشمیر
(حدِ ادب...انوار حسین حقی)
وجود پیر 04 نومبر 2019
مولانا فضل الرحمن  اور مسئلہ کشمیر  <BR>(حدِ ادب...انوار حسین حقی)

جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 04 نومبر 2019
جسٹن ٹروڈو کی جیت یا مودی سرکارکی ہار؟ <BR>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

طالبان تحریک اور حکومت
(جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)
وجود هفته 02 نومبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت <br> (جلال نُورزئی) قسط نمبر(7)

سخت فیصلے کا سیزن۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود هفته 02 نومبر 2019
سخت فیصلے کا سیزن۔۔ <br> (علی عمران جونیئر)

سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی
(جلال نُورزئی)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
سیاسی اختلاف اور شہریت کی منسوخی<br>(جلال نُورزئی)

آٹھ آنے کا بچہ۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 30 اکتوبر 2019
آٹھ آنے کا بچہ۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

ڈکیتی!!!... (شعیب واجد) وجود پیر 28 اکتوبر 2019
ڈکیتی!!!... (شعیب واجد)

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 28 اکتوبر 2019
’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

اشتہار