وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نمل شہر علم کی کہانی… عمران خان کی زبانی

هفته 17 دسمبر 2016 نمل شہر علم کی کہانی… عمران خان کی زبانی

’’نمل شہر علم ‘‘ پنجاب کے ایک دور اُفتادہ علاقے میانوالی میں کوہستان نمک کے طویل پہاڑی سلسلہ کے سب سے اُونچے پہاڑ’’ڈھک‘‘ کی ڈھلوان اور ایک خوبصورت جھیل نمل کے کنارے عمران خان نے آج سے پانچ سال پہلے آباد کیا تھا ۔ اس عظیم الشان منصوبے کے پہلے پڑاؤکے طور پر یہاں نمل کالج قائم کیا گیاتھا ۔ جس کا الحاق برطانیہ کی یونیورسٹی آف بریڈ فورڈ کے ساتھ ہے ۔ ایک پسماندہ علاقے میں قائم اس جامعہ میں ملک کے ترقی یافتہ علاقوں سے طالب علموں کی بڑی تعداد حصولِ علم کے لیے آتی ہے ۔ عمران خان نے اس منصوبے کو کیسے شروع کیا ۔ تعمیر کے مراحل میں کن مشکلات کا انہیں سامنا کرنا پڑا اور اس منصوبے کے مستقبل کے بارے میں وہ کیا خیالات رکھتے ہیں یہ جاننے کے لیے ان سے ہونے والی گفتگو نذرِ قارئین کی جارہی ہے ۔
جرأت :۔آپ کا نام کبھی کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا ،آپ نے کرکٹ کھیلی ، بامِ عروج تک پہنچے، سماجی خدمت میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسا منصوبہ آپ کے کریڈٹ پر ہے ۔ شوکت خانم ہسپتال پشاور بھی فنکشنل ہو چُکا ہے ۔ کراچی میں بھی اس منصوبے پر کام جاری ہے لیکن ساتھ ہی آپ نے نمل یونیورسٹی جیسا عظیم تعلیمی منصوبہ بھی شروع کر دیا ہے ۔۔۔ تعلیم کے شعبے میں اپنے مشن کے بارے میں ہمارے قارئین کو کچھ بتایئے گا ۔
عمران خان :۔ تعلیم مسلمانوں کا زیور ہے ۔ علم کا حصول مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے ۔ ہمارے ہاں اب تعلیمی پسماندگی بہت زیادہ ہے ۔ ہمارا نظام ِ تعلیم دنیا بھر میں بد ترین بن چُکا ہے ۔ انگریز جب یہاں سے گیا تو وہ بہترین تعلیمی ادارے چھوڑ کر گیا تھا ۔ جن دنوں میں زیر تعلیم تھا تو میں دیکھتا تھا کہ ہماری یونیورسٹیوں میں دور دور سے طالب علم پڑھنے کے لیے آتے تھے ۔ ایچی سن کالج میں ملائیشیاء کے شہزادے پڑھا کرتے تھے ۔ پھر ہمارے ہاں تعلیمی اداروں کی تباہی کا دور شروع ہو گیا ۔ سرکاری تعلیمی ادارے تباہ کر دیے گئے ۔ ایک وقت میں ہمارے ہاں تین قسم کے نظام ہائے تعلیم رائج ہیں ۔ اردو میڈیم ۔ انگلش میڈیم اور مدرسے ۔۔۔سرکاری تعلیمی اداروں کی تباہی کے نتیجے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا قیام ایک پُر کشش کاروبار بن چُکا ہے ۔ ہمارے تعلیمی نظام کی خامیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہیں اس صورتحال کے بھیانک نتائج سے نبر د آزما ہونے کے لیے ہمیں ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارے ہاں اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔
اس صورتحال پر ملک کے دیگر دردمندوں کی طرح مجھے بھی پریشانی تھی ۔ میں جب 2002 ء کے عام انتخابات میں میانوالی سے قومی اسمبلی کا رکن بنا تو میں دیکھا کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کا کتنا فقدان ہے ۔ لہذا اسی وقت میں نے اس بارے میں کچھ کرنے کے لیے سوچنا شروع کیا ۔

جرأت :۔ نمل یونیورسٹی کے قیام کے ابتدائی مراحل آپ نے کیسے طے کیے ، روشنی کے اس سفر میں دوسروں کے لیے کیا انسپائریشن موجود ہے؟
عمران خان :۔ پہلے پہلے میں اپنے حلقہ انتخاب( میانوالی ) میں شدید بے روزگاری سے پریشان ہوا ۔ دیہی علاقوں میں بے روزگاری کے مسئلے کی نوعیت اس وجہ سے بھی سنگین ہو جاتی تھی کہ نوجوان جرائم اور منشیات کی جانب مائل ہو رہے تھے ۔ شروع میں میں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک ٹیکنیکل کالج قائم کروں ۔انہی دنوں کی بات ہے کہ برطانیا کی بریڈ فورڈ یونیورسٹی نے مجھے چانسلر کے منصب کی پیش کش کی ۔ اس موقع سے میں نے فائدہ اُٹھانے کا سوچا ۔ ساتھ ہی میں نے فیصلہ کیا کہ کالج کے ساتھ ساتھ ایک یونیورسٹی بنادوں ۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے جب علاقے کے لوگوں سے بات کی تو انہوں نے انتہائی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمین مفت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس صورتحال نے میرے جذبے کے لیے مہمیز کا کام دیا ۔ میں نے کالج کے منصوبے کو وسیع ترکرنے کا ارادہ کیا ۔۔۔۔ صرف ایک کالج ہی کیوں ؟؟؟؟ ایک سرسبز و شاداب اور خود انحصار شہرِ علم ہی کیوں نہیں ۔۔۔؟
اللہ پاک کا نام لے کر ہم نے تعمیر کا آغاز کر دیا ۔ ابتداء میں خاصی مشکلات تھیں ۔ شوکت خانم کے منصوبے بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے، میں نے اپنی جدوجہد کو مزید تیز اور ان تھک بنایا ، نمل شہرعلم ِ کے لیے فنڈ زیزنگ شروع کر دی ۔ لوگوں نے دل کھول کر تعاون کیا ۔ 2007ء میں طلبہ کی پہلی کھیپ اس ادارے میں داخل ہوئی ۔2012 ء میں ان کی تعلیم مکمل ہوئی میرے لیے خوشی کی انتہاء نہ تھی کہ میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں طالبعلموں کے ہاتھوں میں بریڈ فورڈ کی ڈگریاں تھیں ۔ یہ سلسلہ دن بدن آگے بڑھ رہا ہے ۔ نمل یونیورسٹی کا چوتھا سالانہ کانووکیشن منعقد ہو رہا ہے ۔۔۔ماہرین اور کاریگروں کی کمی کی وجہ سے نمل کے فارغ التحصیل طلبہ کو فوراً ملازمت مل جاتی ہے ۔
جرأت:۔ نمل شہر علم کے خواب کو آپ کی زندگی میں خاصی اہمیت حاصل ہے، آپ سیاست بھی کر رہے ہیں ۔ شوکت خانم کے منصوبے بھی کمال کامیابی سے چل رہے ہیں اور نمل یونیورسٹی کا سفر بھی جاری ہے ۔ سب میں توازن کیسے قائم رکھتے ہیں ؟
عمران خان :۔دیکھے سیاست میرا مشن ہے جبکہ تعلیم میرا جنون ہے ۔ میں میانوالی میں نمل کے مقام پر ایک ’’شہر علم ‘‘ قائم کرنا چاہتا ہوں ۔ ابتدائی طور پر یہ ایک ارب روپے کی لاگت کا منصوبہ ہے ۔ جہاں پر ایک پرائمری سکو ل سے لے کر یونیورسٹی تک ہر قسم کے تعلیمی ادارے ہوں گے ۔ ٹیکنیکل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہاں پر گزشتہ سال بزنس کالج کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے ۔
ساتھ ساتھ میں نمل جھیل کے کنارے ایک خوبصورت ٹیکنالوجی پارک کا خواب بھی دیکھتا ہوں ۔ پہاڑوں کے پیچھے سکیسر کے مقام پر انگریزوں نے ایک سیر گاہ بنائی تھی ۔ میری آرزو ہے کہ نمل یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے میں موسم گرما کا ایک صحت افزاء مقام تعمیر کروں ۔
جرأت:۔ نمل یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں آپ کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟؟
عمران خان :۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مشکلات تو ہر کام میں ہوتی ہیں، مقصد جتنا بڑا ہوگا مشکلات اور آزمائشیں بھی اُسی قدر ہوں گی ۔ نیکی کے کام میں، انسانیت کے فلاح کے منصوبوں میں سب سے بڑی مدد اللہ پاک کی طرف سے آتی ہے ۔ جب اُس کی مخلوق کی بھلائی کا کام کیا جائے تو اُس کی خاص رحمت شاملِ حال ہو جاتی ہے ۔ شوکت خانم جیسا ادارہ قائم کرنا مشکل ہی نہیں بظاہر نا ممکن نظر آتا تھا لیکن اللہ پاک کے کرم سے ممکن ہوا ۔ نمل نالج سٹی کا پہلا قدم ہم نے اللہ پاک کا نام لے کر اُٹھا یا تھا تب بہت مشکلات تھیں، مخیر اور اہلِ دل کی جانب سے تعاون کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔پھر دردِ دل رکھنے والوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ۔
ایک بات جس کی وجہ سے مجھے اپنی قوم پر ہمیشہ فخر رہا ہے کہ پاکستانی قوم دنیا میں سب زیادہ دل کھول کر عطیات دیتی ہے ۔ ملک اور اندرونِ ملک سے مجھے ہمیشہ بھر پور عطیات ملے ہیں ۔ مجھے پاکستان کے لوگوں نے کبھی مایوس نہیں کیا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی جیسے بڑے منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں ۔
لیکن مقامی سیاستدانوں کی جانب سے اس منصوبے کی مزاحمت اور مخالفت بھی ہوئی ہے ۔ جتنی رُکاوٹیں وہ کھڑی کر سکتے تھے انہوں نے کی۔ جیسے ہی میں نے یہ منصوبہ اپنے لوگوں کے سامنے رکھا،10 کلومیٹر دور صوبائی حکومت نے ایک کالج کی تعمیر شروع کر دی جو خطیر سرمائے کی لاگت سے بھی اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکا ۔ محکمہ ریونیو نے تین سال تک یونیورسٹی کے لیے خریدی جانے والی اراضی کا انتقال نہیں کیا جس کی وجہ سے ہاسٹل سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں غیر ضروری تاخیر ہوئی ۔
جرأت :۔نمل یونیورسٹی کی کارکردگی سے آپ کہاں تک مطمئن ہیں ؟؟
عمران خان :۔ آپ اطمینان کی بات کر رہے ہیں ،مجھے اس عظیم الشان ادارے اور اس سے وابستہ تمام افراد پر فخر ہے، ان خواتین و حضرات کے لیے میں ہمیشہ سپاس گزار رہوں گا جنہوں نے اپنی کمائی اور دولت کا حصہ اس نیک کام میں صرف کیا ہے ۔
اس وقت اس ادارے میں 90 فی صد طلبہ مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں جس میں سے 75 فی صد کا تعلق ملک کے پسماندہ و درماندہ علاقوں سے ہوتا ہے ۔ نمل یونیورسٹی کے تیسرے کانووکیشن میں بریڈ فورڈ کی ڈگریاں حاصل کرنے والے طلباء میں وزیرستان جیسے پسماندہ ،رزمک جیسے دوردراز ، لاہور اور فیصل آباد جیسے ترقی یافتہ علاقوں کے طالب علم بھی شامل تھے ۔ ابھی 17 دسمبر 2016 ء کو کامیاب طلبہ کا نیا بیچ سامنے آئے گا ۔ میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے کہ پہلے میرے ضلع میانوالی سے لوگ پڑھنے کے لیے لاہور اور دیگر ترقی یافتہ علاقوں کا رُخ کیا کرتے تھے اور اب ترقی یافتہ علاقوں سے لوگ حصولِ علم کے لیے میانوالی کا رُخ کر رہے ہیں ۔
اس دارے کی فیکلٹی میں زیادہ تر تعداد پی ایچ ڈی ہے ۔ نمل شہر علم میرا جنون ہے، میرے پاکستانی بھائی اس مقصد کے لیے مجھے دل کھول کر امداد دے رہے ہیں ۔ اس ادارے کی کامیابی نیک نیتی خلوص اور اعتماد کی مرہونِ منت ہے ۔ مجھے اپنے اللہ کی رحمت پر پورا یقین اور بھروسہ ہے۔ ان شاء اللہ میری اور میرے ساتھیوں کی کاوشیں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی اور نمل شہر علم (Namal Knowlodge City ) کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا


متعلقہ خبریں


مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، برطانوی رکن پارلیمنٹ وجود - جمعه 21 فروری 2020

پاکستان کے دورے پر آئی برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ قرار دے دیا۔لاہور میں گورنر پنجاب سے ڈیبی ابراہمز سمیت برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے ملاقات کی جس میں مسئلہ کشمیر اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ وفد میں ممبر برطانوی پارلیمنٹ مارک ایسٹوڈ ، سارہ برٹکلف، لارڈ قربان ، جوڈی کمننز، طاہر علی اور عمران حسین شامل تھے ۔وفد نے گورنر کو کشمیریوں پر مظالم کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں آواز بلند کرنے کی یقین دہانی کراتے ...

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، برطانوی رکن پارلیمنٹ

پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا پر تشویش ہے ،ترجمان دفتر خارجہ وجود - جمعه 21 فروری 2020

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا، زینوفوبیا اور نسلی نفرت کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش ہے ۔اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جرمنی میں حملوں کی سخت مذمت کی ہے ، ان گھنائونے حملوں سے کئی معصوم اپنی جان گنوا بیٹھے اور بہت سے زخمی ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان جرمنی کے ساتھ کھڑا ہے جب کہ اس حملے میں ترک شہریوں کی جانیں جانے پر ترکی کے ساتھ بھی تعزیت کرتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ان ح...

پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا پر تشویش ہے ،ترجمان دفتر خارجہ

چین کورونا وائرس سے مزید 118افراد ہلاک ،تعداد2247ہو گئی وجود - جمعه 21 فروری 2020

کورونا وائرس سے مزید 118 افراد جان کی بازی ہارگئے ،مرنیوالوں کی تعداد 2247ہو گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں نہ رک سکیں اورمزید 118 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد2247ہوگئی۔899 نئے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 76700ہوگئی۔ صرف صوبہ ہوبئی میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 62ہزارسے زائد ہے جبکہ 11ہزار633مریضوں کی حالت نازک ہے ۔دوسری جانب شنگھائی میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے پلازما تھراپی ...

چین کورونا وائرس سے مزید 118افراد ہلاک ،تعداد2247ہو گئی

میکسیکو، اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد وجود - جمعرات 20 فروری 2020

میکسیکو کی ریاست میشواکان میں اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد کر لی گئیں۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ میکسیکو حکام نے مغربی ریاست میشواکان کے علاقے کومانجا میں اجتماعی قبر دریافت کی جس کی کھدائی کر کے بوسیدہ حالت میں 10نعشیں برآمد کی گئیں جنہیں ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے فرانزک ماہرین کے تجزیے کے لیے بھیجا جائے گا۔بیان میں بتایا گیا کہ جرائم میں ملوث افراد کی شناخت کر لی گئی ۔

میکسیکو، اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد

یوکرین اسکینڈل، امریکی نائب وزیرِ دفاع مستعفی وجود - جمعرات 20 فروری 2020

یوکرین اسکینڈل سے وابستہ امریکی نائب وزیر دفاع جان روڈ مستعفی ہو گئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی نائب وزیرِ دفاع برائے پالیسی جان روڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر استعفی دیدیا۔ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں جان روڈ کا کہنا تھا کہ وزیرِ دفاع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دوں۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ کی درخواست پر میں اپنا استعفیٰ بھیج رہا ہوں، 28 فروری سے عہدہ خالی ہو گا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جان روڈ نے تصدیق ...

یوکرین اسکینڈل، امریکی نائب وزیرِ دفاع مستعفی

بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین وجود - بدھ 19 فروری 2020

چین کی وزارت تجارت نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے مختلف ملکوں سے مطالبہ کیا کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے اور اصراف کو فروغ دینے کے کام کو آگے بڑھایا جائے اور تجارتی ترقی پر وبا کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے ۔نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری ،لاجسٹکس اور ای کارمرس سے منسلک صنعتی اداروں کی پیداوار بحال کرنے میں مددفراہم کی جائے ،دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ اہم منصوبوں کو منظم طور پر آگے بڑھایا جائے ۔

بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت وجود - بدھ 19 فروری 2020

مصری وزارت سیاحت و آثار قدیمہ نے اعلان کیا ہے کہ الدقھلیہ صوبے کے معروف مقام ام الخلجان میں 83تاریخی قبرستان دریافت ہوئے ہیں۔ یہ مصر کا ڈیلٹا کہلاتا ہے ۔ دریافت ہونے والے آثار کا تعلق 4ہزار قبل مسیح کے نصف اول سے ہے ۔یہ مصر زیریں یا بوتوتمدن کے نام سے مشہور ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قبرستان بیضوی شکل کے ہیں۔ قبریں ریگستانی جزیرے میں تراش کر بنائی گئی ہیں۔ قبروں میں نعشیںاکڑوںشکل میں رکھی ہوئی ہیں۔میتوں کے ساتھ سامان وغیرہ بھی موجود ہے ۔وہاں سے ملنے والا سامان مختلف ...

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد وجود - بدھ 19 فروری 2020

کنگ سلمان سینٹر برائے انسانی امداد نے کہا ہے کہ جنوری 2020 تک 47ممالک میں 4ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی ہے ۔سب سے زیادہ امداد یمن میں دی گئی جہاں سینٹر نے اب تک دو بلین ریال مالیت سے زیادہ منصوبے ، امدادی سامان، علاج معالجہ اور دیگر سہولتیں مستحقین کو فراہم کی ہیں۔فلسطین دوسرے نمبر پر جہاں 355ملین ڈالر کی امداد دی گئی۔شام چوتھے نمبر پر ہے جہاں 286ملین ڈالر سے زیادہ امداد کی گئی جبکہ پانچویں نمبر پر صومالیہ ہے جہاں 186ملین ڈالر سے زیادہ امداد دی گئی۔سینٹر نے کہا ہے کہ اس نے س...

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت وجود - منگل 18 فروری 2020

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھنوم نے کہا کہ چین کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق نوول کورونا وائرس سے متاثرہ نئے کیسز میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔اس لئے عالمی ادارہ صحت موجودہ نتائج کو برقرار رکھے گا یعنی نوول کرونا وائرس نمونیا عالمی سطح پر وبائی بیماری نہیں اور عالمی سطح پر وبا کے خطر ے کی درجہ بندی کو نہیں بڑھایا جائے گا۔عالمی ادارہ صحت کے تحت ہنگامی صحت عامہ پروگرام کے انچارج م...

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین وجود - منگل 18 فروری 2020

چین نے ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کردیا ۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان چینی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جو ایران اوردوسرے ممالک کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے داخلی قوانین اور یکطرفہ طور پر دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں اور اداروں پر پابندی عائد کرے ۔گنگ شوانگ نے ایران کے خلاف امریک...

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل وجود - منگل 18 فروری 2020

سعودی عرب دنیا کے دس پرکشش ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق2020 کے دوران سعودی عرب مختلف تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں ترین ملک بن جائے گا۔عالمی بنک نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں سعودی عرب کو دنیا کے دس پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔ سعودی عرب دبئی کا طاقتور حریف بننے جارہا ہے ۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں سعودی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کی بدولت کمپنیاں دبئی سے سعودی عرب منتقل ہونے لگی ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے کاروبار کا ...

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز وجود - پیر 17 فروری 2020

سوڈان میں گزشتہ برس صدر عمر البشیر کا تختہ الٹے جانے کے بعد نئی حکومت نے اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز کردیا ۔ سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی اجازت سے اسرائیل کے لیے سوڈان کی فضائی حدود کو کھول دیا گیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوڈان اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے باب میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ سوڈان نے اسرائیلی سول طیاروں کو اپنی حدودمیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی ۔رپورٹ کے مطابق ایک سول طیارہ تل ابیب سے سو...

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز