وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نمل شہر علم کی کہانی… عمران خان کی زبانی

هفته 17 دسمبر 2016 نمل شہر علم کی کہانی… عمران خان کی زبانی

’’نمل شہر علم ‘‘ پنجاب کے ایک دور اُفتادہ علاقے میانوالی میں کوہستان نمک کے طویل پہاڑی سلسلہ کے سب سے اُونچے پہاڑ’’ڈھک‘‘ کی ڈھلوان اور ایک خوبصورت جھیل نمل کے کنارے عمران خان نے آج سے پانچ سال پہلے آباد کیا تھا ۔ اس عظیم الشان منصوبے کے پہلے پڑاؤکے طور پر یہاں نمل کالج قائم کیا گیاتھا ۔ جس کا الحاق برطانیہ کی یونیورسٹی آف بریڈ فورڈ کے ساتھ ہے ۔ ایک پسماندہ علاقے میں قائم اس جامعہ میں ملک کے ترقی یافتہ علاقوں سے طالب علموں کی بڑی تعداد حصولِ علم کے لیے آتی ہے ۔ عمران خان نے اس منصوبے کو کیسے شروع کیا ۔ تعمیر کے مراحل میں کن مشکلات کا انہیں سامنا کرنا پڑا اور اس منصوبے کے مستقبل کے بارے میں وہ کیا خیالات رکھتے ہیں یہ جاننے کے لیے ان سے ہونے والی گفتگو نذرِ قارئین کی جارہی ہے ۔
جرأت :۔آپ کا نام کبھی کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا ،آپ نے کرکٹ کھیلی ، بامِ عروج تک پہنچے، سماجی خدمت میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسا منصوبہ آپ کے کریڈٹ پر ہے ۔ شوکت خانم ہسپتال پشاور بھی فنکشنل ہو چُکا ہے ۔ کراچی میں بھی اس منصوبے پر کام جاری ہے لیکن ساتھ ہی آپ نے نمل یونیورسٹی جیسا عظیم تعلیمی منصوبہ بھی شروع کر دیا ہے ۔۔۔ تعلیم کے شعبے میں اپنے مشن کے بارے میں ہمارے قارئین کو کچھ بتایئے گا ۔
عمران خان :۔ تعلیم مسلمانوں کا زیور ہے ۔ علم کا حصول مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے ۔ ہمارے ہاں اب تعلیمی پسماندگی بہت زیادہ ہے ۔ ہمارا نظام ِ تعلیم دنیا بھر میں بد ترین بن چُکا ہے ۔ انگریز جب یہاں سے گیا تو وہ بہترین تعلیمی ادارے چھوڑ کر گیا تھا ۔ جن دنوں میں زیر تعلیم تھا تو میں دیکھتا تھا کہ ہماری یونیورسٹیوں میں دور دور سے طالب علم پڑھنے کے لیے آتے تھے ۔ ایچی سن کالج میں ملائیشیاء کے شہزادے پڑھا کرتے تھے ۔ پھر ہمارے ہاں تعلیمی اداروں کی تباہی کا دور شروع ہو گیا ۔ سرکاری تعلیمی ادارے تباہ کر دیے گئے ۔ ایک وقت میں ہمارے ہاں تین قسم کے نظام ہائے تعلیم رائج ہیں ۔ اردو میڈیم ۔ انگلش میڈیم اور مدرسے ۔۔۔سرکاری تعلیمی اداروں کی تباہی کے نتیجے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا قیام ایک پُر کشش کاروبار بن چُکا ہے ۔ ہمارے تعلیمی نظام کی خامیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہیں اس صورتحال کے بھیانک نتائج سے نبر د آزما ہونے کے لیے ہمیں ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارے ہاں اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔
اس صورتحال پر ملک کے دیگر دردمندوں کی طرح مجھے بھی پریشانی تھی ۔ میں جب 2002 ء کے عام انتخابات میں میانوالی سے قومی اسمبلی کا رکن بنا تو میں دیکھا کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کا کتنا فقدان ہے ۔ لہذا اسی وقت میں نے اس بارے میں کچھ کرنے کے لیے سوچنا شروع کیا ۔

جرأت :۔ نمل یونیورسٹی کے قیام کے ابتدائی مراحل آپ نے کیسے طے کیے ، روشنی کے اس سفر میں دوسروں کے لیے کیا انسپائریشن موجود ہے؟
عمران خان :۔ پہلے پہلے میں اپنے حلقہ انتخاب( میانوالی ) میں شدید بے روزگاری سے پریشان ہوا ۔ دیہی علاقوں میں بے روزگاری کے مسئلے کی نوعیت اس وجہ سے بھی سنگین ہو جاتی تھی کہ نوجوان جرائم اور منشیات کی جانب مائل ہو رہے تھے ۔ شروع میں میں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک ٹیکنیکل کالج قائم کروں ۔انہی دنوں کی بات ہے کہ برطانیا کی بریڈ فورڈ یونیورسٹی نے مجھے چانسلر کے منصب کی پیش کش کی ۔ اس موقع سے میں نے فائدہ اُٹھانے کا سوچا ۔ ساتھ ہی میں نے فیصلہ کیا کہ کالج کے ساتھ ساتھ ایک یونیورسٹی بنادوں ۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے جب علاقے کے لوگوں سے بات کی تو انہوں نے انتہائی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمین مفت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس صورتحال نے میرے جذبے کے لیے مہمیز کا کام دیا ۔ میں نے کالج کے منصوبے کو وسیع ترکرنے کا ارادہ کیا ۔۔۔۔ صرف ایک کالج ہی کیوں ؟؟؟؟ ایک سرسبز و شاداب اور خود انحصار شہرِ علم ہی کیوں نہیں ۔۔۔؟
اللہ پاک کا نام لے کر ہم نے تعمیر کا آغاز کر دیا ۔ ابتداء میں خاصی مشکلات تھیں ۔ شوکت خانم کے منصوبے بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے، میں نے اپنی جدوجہد کو مزید تیز اور ان تھک بنایا ، نمل شہرعلم ِ کے لیے فنڈ زیزنگ شروع کر دی ۔ لوگوں نے دل کھول کر تعاون کیا ۔ 2007ء میں طلبہ کی پہلی کھیپ اس ادارے میں داخل ہوئی ۔2012 ء میں ان کی تعلیم مکمل ہوئی میرے لیے خوشی کی انتہاء نہ تھی کہ میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں طالبعلموں کے ہاتھوں میں بریڈ فورڈ کی ڈگریاں تھیں ۔ یہ سلسلہ دن بدن آگے بڑھ رہا ہے ۔ نمل یونیورسٹی کا چوتھا سالانہ کانووکیشن منعقد ہو رہا ہے ۔۔۔ماہرین اور کاریگروں کی کمی کی وجہ سے نمل کے فارغ التحصیل طلبہ کو فوراً ملازمت مل جاتی ہے ۔
جرأت:۔ نمل شہر علم کے خواب کو آپ کی زندگی میں خاصی اہمیت حاصل ہے، آپ سیاست بھی کر رہے ہیں ۔ شوکت خانم کے منصوبے بھی کمال کامیابی سے چل رہے ہیں اور نمل یونیورسٹی کا سفر بھی جاری ہے ۔ سب میں توازن کیسے قائم رکھتے ہیں ؟
عمران خان :۔دیکھے سیاست میرا مشن ہے جبکہ تعلیم میرا جنون ہے ۔ میں میانوالی میں نمل کے مقام پر ایک ’’شہر علم ‘‘ قائم کرنا چاہتا ہوں ۔ ابتدائی طور پر یہ ایک ارب روپے کی لاگت کا منصوبہ ہے ۔ جہاں پر ایک پرائمری سکو ل سے لے کر یونیورسٹی تک ہر قسم کے تعلیمی ادارے ہوں گے ۔ ٹیکنیکل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہاں پر گزشتہ سال بزنس کالج کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے ۔
ساتھ ساتھ میں نمل جھیل کے کنارے ایک خوبصورت ٹیکنالوجی پارک کا خواب بھی دیکھتا ہوں ۔ پہاڑوں کے پیچھے سکیسر کے مقام پر انگریزوں نے ایک سیر گاہ بنائی تھی ۔ میری آرزو ہے کہ نمل یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے میں موسم گرما کا ایک صحت افزاء مقام تعمیر کروں ۔
جرأت:۔ نمل یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں آپ کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟؟
عمران خان :۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مشکلات تو ہر کام میں ہوتی ہیں، مقصد جتنا بڑا ہوگا مشکلات اور آزمائشیں بھی اُسی قدر ہوں گی ۔ نیکی کے کام میں، انسانیت کے فلاح کے منصوبوں میں سب سے بڑی مدد اللہ پاک کی طرف سے آتی ہے ۔ جب اُس کی مخلوق کی بھلائی کا کام کیا جائے تو اُس کی خاص رحمت شاملِ حال ہو جاتی ہے ۔ شوکت خانم جیسا ادارہ قائم کرنا مشکل ہی نہیں بظاہر نا ممکن نظر آتا تھا لیکن اللہ پاک کے کرم سے ممکن ہوا ۔ نمل نالج سٹی کا پہلا قدم ہم نے اللہ پاک کا نام لے کر اُٹھا یا تھا تب بہت مشکلات تھیں، مخیر اور اہلِ دل کی جانب سے تعاون کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔پھر دردِ دل رکھنے والوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ۔
ایک بات جس کی وجہ سے مجھے اپنی قوم پر ہمیشہ فخر رہا ہے کہ پاکستانی قوم دنیا میں سب زیادہ دل کھول کر عطیات دیتی ہے ۔ ملک اور اندرونِ ملک سے مجھے ہمیشہ بھر پور عطیات ملے ہیں ۔ مجھے پاکستان کے لوگوں نے کبھی مایوس نہیں کیا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی جیسے بڑے منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں ۔
لیکن مقامی سیاستدانوں کی جانب سے اس منصوبے کی مزاحمت اور مخالفت بھی ہوئی ہے ۔ جتنی رُکاوٹیں وہ کھڑی کر سکتے تھے انہوں نے کی۔ جیسے ہی میں نے یہ منصوبہ اپنے لوگوں کے سامنے رکھا،10 کلومیٹر دور صوبائی حکومت نے ایک کالج کی تعمیر شروع کر دی جو خطیر سرمائے کی لاگت سے بھی اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکا ۔ محکمہ ریونیو نے تین سال تک یونیورسٹی کے لیے خریدی جانے والی اراضی کا انتقال نہیں کیا جس کی وجہ سے ہاسٹل سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں غیر ضروری تاخیر ہوئی ۔
جرأت :۔نمل یونیورسٹی کی کارکردگی سے آپ کہاں تک مطمئن ہیں ؟؟
عمران خان :۔ آپ اطمینان کی بات کر رہے ہیں ،مجھے اس عظیم الشان ادارے اور اس سے وابستہ تمام افراد پر فخر ہے، ان خواتین و حضرات کے لیے میں ہمیشہ سپاس گزار رہوں گا جنہوں نے اپنی کمائی اور دولت کا حصہ اس نیک کام میں صرف کیا ہے ۔
اس وقت اس ادارے میں 90 فی صد طلبہ مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں جس میں سے 75 فی صد کا تعلق ملک کے پسماندہ و درماندہ علاقوں سے ہوتا ہے ۔ نمل یونیورسٹی کے تیسرے کانووکیشن میں بریڈ فورڈ کی ڈگریاں حاصل کرنے والے طلباء میں وزیرستان جیسے پسماندہ ،رزمک جیسے دوردراز ، لاہور اور فیصل آباد جیسے ترقی یافتہ علاقوں کے طالب علم بھی شامل تھے ۔ ابھی 17 دسمبر 2016 ء کو کامیاب طلبہ کا نیا بیچ سامنے آئے گا ۔ میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے کہ پہلے میرے ضلع میانوالی سے لوگ پڑھنے کے لیے لاہور اور دیگر ترقی یافتہ علاقوں کا رُخ کیا کرتے تھے اور اب ترقی یافتہ علاقوں سے لوگ حصولِ علم کے لیے میانوالی کا رُخ کر رہے ہیں ۔
اس دارے کی فیکلٹی میں زیادہ تر تعداد پی ایچ ڈی ہے ۔ نمل شہر علم میرا جنون ہے، میرے پاکستانی بھائی اس مقصد کے لیے مجھے دل کھول کر امداد دے رہے ہیں ۔ اس ادارے کی کامیابی نیک نیتی خلوص اور اعتماد کی مرہونِ منت ہے ۔ مجھے اپنے اللہ کی رحمت پر پورا یقین اور بھروسہ ہے۔ ان شاء اللہ میری اور میرے ساتھیوں کی کاوشیں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی اور نمل شہر علم (Namal Knowlodge City ) کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا


متعلقہ خبریں


کورونا وائرس پھیپھڑوں کی بجائے براہ راست دماغ پر حملہ کرسکتا ہے ، تحقیق وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ نتھنوں سے جسم میں داخل ہونے پر پھیپھڑوں کی بجائے براہ راست دماغ پر برق رفتار حملہ کرتی ہے ، جس کے نتیجے میں شدت سنگین ہوتی ہے ، چاہے پھیپھڑوں سے وائرس کلیئر ہی کیوں نہ ہوجائے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں چوہوں پر ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کی گئی۔جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا تھا کہ نتائج کا اطلاق انسانوں میں سامنے آنے والی علامات اور بیماری کی شدت کو سمجھنے کے لیے بھی ہوسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ...

کورونا وائرس پھیپھڑوں کی بجائے براہ راست دماغ پر حملہ کرسکتا ہے ، تحقیق

ٹرمپ کی متنازع پالیسیاں ختم کرنے کے متعدد حکم نامے جاری وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکی صدر جو بائیڈن نے 78 سال کی عمر میں امریکا کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے منصب سنبھالتے ہی کئی صدارتی حکم ناموں پر دستخط کردیئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاوس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وہ پریس کی آزادی کی دل کی گہرائیوں سے قدرکرتی ہیں،امریکیوں کو سچ اور حقائق سے آگاہ رکھنا ہمارا مقصد ہے ۔جین ساکی کے مطابق صدر بائیڈن نے پہلا حکم کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جاری کیا ہے ، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی متازع پالیسیوں کو ختم کرنے کے لیے متعدد حکم ...

ٹرمپ کی متنازع پالیسیاں ختم کرنے کے متعدد حکم نامے جاری

امریکا میں خواجہ سرا محکمہ صحت میں معاون سیکرٹری کے عہدے کے لیے نامزد وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے خواجہ سرا ڈاکٹر ریچل لیون کو محکمہ صحت میں معاون سیکرٹری کے عہدے کے لیے نامزد کردیا ہے ۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جوبائیڈن نے صدر کے عہدے کا حلف 20 جنوری کو اٹھانا ہے تاہم وہ مختلف شعبوں میں اپنی ٹیم کی تشکیل میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک خواجہ سرا کو محمکہ صحت میں اہم ذمہ داری دی جارہی ہے ۔ڈاکٹر ریچل لیون ایک اعلانیہ خواجہ سرا ہیں اور اس وقت پنسلوینیا میں سیکرٹری برائے صحت ہیں۔ نومنتخب صدر جوبائیڈن نے ان کی...

امریکا میں خواجہ سرا محکمہ صحت میں معاون سیکرٹری کے عہدے کے لیے نامزد

ٹرمپ کا پیٹریاٹ پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنانے پر غور وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکی اخبار نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے پر غور کر رہے ہیں جس کا مجوزہ نام پیٹریاٹ پارٹی ہے ۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے بتایاکہ کے مطابق حالیہ دنوں میں انہوں نے اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں تفصیلی مشورے کیے ۔مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی نئی سیاسی جماعت بننے سے ریپبلکن پارٹی کا ووٹ تقسیم ہو سکتا ہے ۔ اس لیے قوی امکان ہے کہ ریپبلکن پارٹی ایسے کسی نقصان سے خود کو بچانے کے لیے ٹرمپ کی زبردست مخالفت پر اتر آئے ۔

ٹرمپ کا پیٹریاٹ پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنانے پر غور

جوبائیڈن نے پہلے ہی روز امریکی سرجن جنرل ایڈمز سے استعفی طلب کرلیا وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکی صدر جوبائیڈن نے دفتر سنبھالتے ہی امریکی سرجن جنرل جیروم ایڈمز سے استعفی طلب کرلیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے حلف اٹھاتے ہی جہاں مسلمانوں پر سفری پابندی ختم کرنے سمیت 15 صدارتی حکم ناموں پر دستخط کیئے وہیں صحت کے شعبہ سے وابستہ امریکی سرجن جنرل جیروم ایڈمز سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ بھی کردیا۔گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے سرجن جنرل جیروم ایڈمز نے کہا کہ بائیڈن حکومت کی جانب سے مجھے عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے ، میرے لیے قوم کی خدم...

جوبائیڈن نے پہلے ہی روز امریکی سرجن جنرل ایڈمز سے استعفی طلب کرلیا

چین کی مائیک پومپیو سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے 28 عہدیداروں پر پابندیاں وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

چین نے سابق امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے 28 اہم عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والے 28 افراد پر پابندیاں اس لیے عائد کی گئی ہیں وہ کہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہے تھے ۔ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے جن افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں انہوں نے چین کے مفادات کے خلاف منصوبہ بندی کی اور م...

چین کی مائیک پومپیو سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے 28 عہدیداروں پر پابندیاں

بھارت کی پاکستان مخالف ایک اورپروپیگنڈہ مہم کی حقیقت سامنے آگئی وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

بھارت کی پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم کی حقیقت دنیا کے سامنے آگئی اورایک بار پھربھارت کا اصل چہرہ ہرجگہ بے نقاب ہو گیا۔ یورپی یونین ڈس انفولیب میں ذکرکیے گئے تھنک ٹینکس، این جی اوزایک ایک کرکے پاش پاش ہونے لگے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائوتھ ایشیا ڈیموکریٹک فورم یا سیڈف بھی ہندوستان کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا آلہ کارتھا۔ ڈس انفو لیب کی رپورٹ آتے ہی اس تھنک ٹینک کے تمام کردارراہ فراراختیارکرنے لگے اورنام نہاد جعلی تھنک ٹینک کے تمام بورڈ ممبرز نے استعفی دے دیا۔واضح رہے کہ بھارتی...

بھارت کی پاکستان مخالف ایک اورپروپیگنڈہ مہم کی حقیقت سامنے آگئی

امریکی کانگریس میں 10سال بعد ڈیموکریٹس کا غلبہ وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے ساتھ ساتھ کانگریس میں بھی ڈیموکریٹس کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق گذشتہ روز امریکا کی دو ریاستوں جارجیا اور کیلیفورنیا سے مزید دو ارکان نے نائب صدر کمالا ہیرس کے سامنے سینٹ کی رکنیت کاحلف اٹھایا جس کے بعد سینٹ میں ڈیموکریٹس کو دس سال کے بعد پہلی بار اکثریت حاصل ہوئی ۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹ کے ڈیموکریٹک اکثریت کے رہنما چک شمر نے امریکا میں جمہوری اقدار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ...

امریکی کانگریس میں 10سال بعد ڈیموکریٹس کا غلبہ

پی سی بی،احسان مانی کے ابتدائی 6 ماہ کے اخراجات کی تفصیل جاری وجود - جمعرات 21 جنوری 2021

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) احسان مانی کے ابتدائی 6 ماہ کے اخراجات کی تفصیل پی سی بی ویب سائٹ پر جاری کردی گئی ہے ۔دستاویزات کے مطابق احسان مانی نے چھ ماہ میں 57 لاکھ 6 ہزار 171 روپے خرچ کیے ، اوسط ایک ماہ میں 9 لاکھ 51 ہزار روپے خرچ کیے ۔ احسان مانی نے رہائش کی مد میں 22 لاکھ 2 ہزار روپے سے زائد خرچ کیے ، گاڑی اور ڈرائیور کی مد میں 5 لاکھ 29 ہزار روپے سے زائد خرچ ہوئے ۔دستاویزات کے مطابق علاج کے لیے احسان مانی نے 81 ہزار 8 سو روپے خرچ کیے ، غیرملکی دوروں پر 11 لاکھ ...

پی سی بی،احسان مانی کے ابتدائی 6 ماہ کے اخراجات کی تفصیل جاری

ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیئل پرل قتل کیس میں بری ملزمان کو رہا نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور دیگر حکام کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیاہے ۔بدھ کو عدالتِ عالیہ نے سیکریٹری داخلہ اور جیل حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی ضمنی درخواست کی سماعت کی، جس کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ستمبر میں حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک ملزمان کو رہا نہ کیا جائے ۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ م...

ڈینیئل پرل قتل، ملزمان کی رہائی کیخلاف درخواست، سیکریٹری داخلہ3فروری کو طلب

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف وجود - بدھ 20 جنوری 2021

ہ عوام واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی پلیٹ فارم بپ کی طرف راغب ہو رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں بھی اس ایپ کی ڈائون لوڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق لوگ ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق اندیشوں کے باعث فوری پیغام رسانی کی اپیلی کیشن واٹس ایپ کو ترک کر کے ترکی کے سماجی رابطہ پلیٹ فارم بِپ کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ سے زیادہ بہتر ویڈیو کال، ایک ہزار افراد تک کے چیٹنگ گروپ اور مختلف چینلوں کی رکنیت کی اجازت دینے جیسی خصوصیات کی وجہ سے ہم بِپ کو تر...

واٹس ایپ چھوڑکر ترک ایپ بپ کی جانب رغبت میں اضاف

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب وجود - بدھ 20 جنوری 2021

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے اپنا الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ۔ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں کیں۔اب ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہماری قومی عظمت سے اعتماد کے ضیاع کا ہے ،غیرملکی خبررساں ادراے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں سے بحیثیت امریکی صدر اپنا الوداعی خطاب بذریعہ یوٹیوب کیا ۔انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ فخر ہے کہ میں دہائیوں میں وہ پہلا صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگیں شروع نہیں...

ہم نے وہی کیا جو ہم کرنے آئے تھے ،ڈونلڈ ٹرمپ کا الوداعی خطاب