... loading ...
’’نمل شہر علم ‘‘ پنجاب کے ایک دور اُفتادہ علاقے میانوالی میں کوہستان نمک کے طویل پہاڑی سلسلہ کے سب سے اُونچے پہاڑ’’ڈھک‘‘ کی ڈھلوان اور ایک خوبصورت جھیل نمل کے کنارے عمران خان نے آج سے پانچ سال پہلے آباد کیا تھا ۔ اس عظیم الشان منصوبے کے پہلے پڑاؤکے طور پر یہاں نمل کالج قائم کیا گیاتھا ۔ جس کا الحاق برطانیہ کی یونیورسٹی آف بریڈ فورڈ کے ساتھ ہے ۔ ایک پسماندہ علاقے میں قائم اس جامعہ میں ملک کے ترقی یافتہ علاقوں سے طالب علموں کی بڑی تعداد حصولِ علم کے لیے آتی ہے ۔ عمران خان نے اس منصوبے کو کیسے شروع کیا ۔ تعمیر کے مراحل میں کن مشکلات کا انہیں سامنا کرنا پڑا اور اس منصوبے کے مستقبل کے بارے میں وہ کیا خیالات رکھتے ہیں یہ جاننے کے لیے ان سے ہونے والی گفتگو نذرِ قارئین کی جارہی ہے ۔
جرأت :۔آپ کا نام کبھی کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا ،آپ نے کرکٹ کھیلی ، بامِ عروج تک پہنچے، سماجی خدمت میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسا منصوبہ آپ کے کریڈٹ پر ہے ۔ شوکت خانم ہسپتال پشاور بھی فنکشنل ہو چُکا ہے ۔ کراچی میں بھی اس منصوبے پر کام جاری ہے لیکن ساتھ ہی آپ نے نمل یونیورسٹی جیسا عظیم تعلیمی منصوبہ بھی شروع کر دیا ہے ۔۔۔ تعلیم کے شعبے میں اپنے مشن کے بارے میں ہمارے قارئین کو کچھ بتایئے گا ۔
عمران خان :۔ تعلیم مسلمانوں کا زیور ہے ۔ علم کا حصول مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے ۔ ہمارے ہاں اب تعلیمی پسماندگی بہت زیادہ ہے ۔ ہمارا نظام ِ تعلیم دنیا بھر میں بد ترین بن چُکا ہے ۔ انگریز جب یہاں سے گیا تو وہ بہترین تعلیمی ادارے چھوڑ کر گیا تھا ۔ جن دنوں میں زیر تعلیم تھا تو میں دیکھتا تھا کہ ہماری یونیورسٹیوں میں دور دور سے طالب علم پڑھنے کے لیے آتے تھے ۔ ایچی سن کالج میں ملائیشیاء کے شہزادے پڑھا کرتے تھے ۔ پھر ہمارے ہاں تعلیمی اداروں کی تباہی کا دور شروع ہو گیا ۔ سرکاری تعلیمی ادارے تباہ کر دیے گئے ۔ ایک وقت میں ہمارے ہاں تین قسم کے نظام ہائے تعلیم رائج ہیں ۔ اردو میڈیم ۔ انگلش میڈیم اور مدرسے ۔۔۔سرکاری تعلیمی اداروں کی تباہی کے نتیجے میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا قیام ایک پُر کشش کاروبار بن چُکا ہے ۔ ہمارے تعلیمی نظام کی خامیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہیں اس صورتحال کے بھیانک نتائج سے نبر د آزما ہونے کے لیے ہمیں ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہمارے ہاں اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔
اس صورتحال پر ملک کے دیگر دردمندوں کی طرح مجھے بھی پریشانی تھی ۔ میں جب 2002 ء کے عام انتخابات میں میانوالی سے قومی اسمبلی کا رکن بنا تو میں دیکھا کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کا کتنا فقدان ہے ۔ لہذا اسی وقت میں نے اس بارے میں کچھ کرنے کے لیے سوچنا شروع کیا ۔
جرأت :۔ نمل یونیورسٹی کے قیام کے ابتدائی مراحل آپ نے کیسے طے کیے ، روشنی کے اس سفر میں دوسروں کے لیے کیا انسپائریشن موجود ہے؟
عمران خان :۔ پہلے پہلے میں اپنے حلقہ انتخاب( میانوالی ) میں شدید بے روزگاری سے پریشان ہوا ۔ دیہی علاقوں میں بے روزگاری کے مسئلے کی نوعیت اس وجہ سے بھی سنگین ہو جاتی تھی کہ نوجوان جرائم اور منشیات کی جانب مائل ہو رہے تھے ۔ شروع میں میں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک ٹیکنیکل کالج قائم کروں ۔انہی دنوں کی بات ہے کہ برطانیا کی بریڈ فورڈ یونیورسٹی نے مجھے چانسلر کے منصب کی پیش کش کی ۔ اس موقع سے میں نے فائدہ اُٹھانے کا سوچا ۔ ساتھ ہی میں نے فیصلہ کیا کہ کالج کے ساتھ ساتھ ایک یونیورسٹی بنادوں ۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے جب علاقے کے لوگوں سے بات کی تو انہوں نے انتہائی فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمین مفت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس صورتحال نے میرے جذبے کے لیے مہمیز کا کام دیا ۔ میں نے کالج کے منصوبے کو وسیع ترکرنے کا ارادہ کیا ۔۔۔۔ صرف ایک کالج ہی کیوں ؟؟؟؟ ایک سرسبز و شاداب اور خود انحصار شہرِ علم ہی کیوں نہیں ۔۔۔؟
اللہ پاک کا نام لے کر ہم نے تعمیر کا آغاز کر دیا ۔ ابتداء میں خاصی مشکلات تھیں ۔ شوکت خانم کے منصوبے بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے، میں نے اپنی جدوجہد کو مزید تیز اور ان تھک بنایا ، نمل شہرعلم ِ کے لیے فنڈ زیزنگ شروع کر دی ۔ لوگوں نے دل کھول کر تعاون کیا ۔ 2007ء میں طلبہ کی پہلی کھیپ اس ادارے میں داخل ہوئی ۔2012 ء میں ان کی تعلیم مکمل ہوئی میرے لیے خوشی کی انتہاء نہ تھی کہ میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں طالبعلموں کے ہاتھوں میں بریڈ فورڈ کی ڈگریاں تھیں ۔ یہ سلسلہ دن بدن آگے بڑھ رہا ہے ۔ نمل یونیورسٹی کا چوتھا سالانہ کانووکیشن منعقد ہو رہا ہے ۔۔۔ماہرین اور کاریگروں کی کمی کی وجہ سے نمل کے فارغ التحصیل طلبہ کو فوراً ملازمت مل جاتی ہے ۔
جرأت:۔ نمل شہر علم کے خواب کو آپ کی زندگی میں خاصی اہمیت حاصل ہے، آپ سیاست بھی کر رہے ہیں ۔ شوکت خانم کے منصوبے بھی کمال کامیابی سے چل رہے ہیں اور نمل یونیورسٹی کا سفر بھی جاری ہے ۔ سب میں توازن کیسے قائم رکھتے ہیں ؟
عمران خان :۔دیکھے سیاست میرا مشن ہے جبکہ تعلیم میرا جنون ہے ۔ میں میانوالی میں نمل کے مقام پر ایک ’’شہر علم ‘‘ قائم کرنا چاہتا ہوں ۔ ابتدائی طور پر یہ ایک ارب روپے کی لاگت کا منصوبہ ہے ۔ جہاں پر ایک پرائمری سکو ل سے لے کر یونیورسٹی تک ہر قسم کے تعلیمی ادارے ہوں گے ۔ ٹیکنیکل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہاں پر گزشتہ سال بزنس کالج کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے ۔
ساتھ ساتھ میں نمل جھیل کے کنارے ایک خوبصورت ٹیکنالوجی پارک کا خواب بھی دیکھتا ہوں ۔ پہاڑوں کے پیچھے سکیسر کے مقام پر انگریزوں نے ایک سیر گاہ بنائی تھی ۔ میری آرزو ہے کہ نمل یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے میں موسم گرما کا ایک صحت افزاء مقام تعمیر کروں ۔
جرأت:۔ نمل یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں آپ کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟؟
عمران خان :۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مشکلات تو ہر کام میں ہوتی ہیں، مقصد جتنا بڑا ہوگا مشکلات اور آزمائشیں بھی اُسی قدر ہوں گی ۔ نیکی کے کام میں، انسانیت کے فلاح کے منصوبوں میں سب سے بڑی مدد اللہ پاک کی طرف سے آتی ہے ۔ جب اُس کی مخلوق کی بھلائی کا کام کیا جائے تو اُس کی خاص رحمت شاملِ حال ہو جاتی ہے ۔ شوکت خانم جیسا ادارہ قائم کرنا مشکل ہی نہیں بظاہر نا ممکن نظر آتا تھا لیکن اللہ پاک کے کرم سے ممکن ہوا ۔ نمل نالج سٹی کا پہلا قدم ہم نے اللہ پاک کا نام لے کر اُٹھا یا تھا تب بہت مشکلات تھیں، مخیر اور اہلِ دل کی جانب سے تعاون کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔پھر دردِ دل رکھنے والوں نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ۔
ایک بات جس کی وجہ سے مجھے اپنی قوم پر ہمیشہ فخر رہا ہے کہ پاکستانی قوم دنیا میں سب زیادہ دل کھول کر عطیات دیتی ہے ۔ ملک اور اندرونِ ملک سے مجھے ہمیشہ بھر پور عطیات ملے ہیں ۔ مجھے پاکستان کے لوگوں نے کبھی مایوس نہیں کیا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی جیسے بڑے منصوبے کامیابی سے چل رہے ہیں ۔
لیکن مقامی سیاستدانوں کی جانب سے اس منصوبے کی مزاحمت اور مخالفت بھی ہوئی ہے ۔ جتنی رُکاوٹیں وہ کھڑی کر سکتے تھے انہوں نے کی۔ جیسے ہی میں نے یہ منصوبہ اپنے لوگوں کے سامنے رکھا،10 کلومیٹر دور صوبائی حکومت نے ایک کالج کی تعمیر شروع کر دی جو خطیر سرمائے کی لاگت سے بھی اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکا ۔ محکمہ ریونیو نے تین سال تک یونیورسٹی کے لیے خریدی جانے والی اراضی کا انتقال نہیں کیا جس کی وجہ سے ہاسٹل سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر میں غیر ضروری تاخیر ہوئی ۔
جرأت :۔نمل یونیورسٹی کی کارکردگی سے آپ کہاں تک مطمئن ہیں ؟؟
عمران خان :۔ آپ اطمینان کی بات کر رہے ہیں ،مجھے اس عظیم الشان ادارے اور اس سے وابستہ تمام افراد پر فخر ہے، ان خواتین و حضرات کے لیے میں ہمیشہ سپاس گزار رہوں گا جنہوں نے اپنی کمائی اور دولت کا حصہ اس نیک کام میں صرف کیا ہے ۔
اس وقت اس ادارے میں 90 فی صد طلبہ مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں جس میں سے 75 فی صد کا تعلق ملک کے پسماندہ و درماندہ علاقوں سے ہوتا ہے ۔ نمل یونیورسٹی کے تیسرے کانووکیشن میں بریڈ فورڈ کی ڈگریاں حاصل کرنے والے طلباء میں وزیرستان جیسے پسماندہ ،رزمک جیسے دوردراز ، لاہور اور فیصل آباد جیسے ترقی یافتہ علاقوں کے طالب علم بھی شامل تھے ۔ ابھی 17 دسمبر 2016 ء کو کامیاب طلبہ کا نیا بیچ سامنے آئے گا ۔ میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے کہ پہلے میرے ضلع میانوالی سے لوگ پڑھنے کے لیے لاہور اور دیگر ترقی یافتہ علاقوں کا رُخ کیا کرتے تھے اور اب ترقی یافتہ علاقوں سے لوگ حصولِ علم کے لیے میانوالی کا رُخ کر رہے ہیں ۔
اس دارے کی فیکلٹی میں زیادہ تر تعداد پی ایچ ڈی ہے ۔ نمل شہر علم میرا جنون ہے، میرے پاکستانی بھائی اس مقصد کے لیے مجھے دل کھول کر امداد دے رہے ہیں ۔ اس ادارے کی کامیابی نیک نیتی خلوص اور اعتماد کی مرہونِ منت ہے ۔ مجھے اپنے اللہ کی رحمت پر پورا یقین اور بھروسہ ہے۔ ان شاء اللہ میری اور میرے ساتھیوں کی کاوشیں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی اور نمل شہر علم (Namal Knowlodge City ) کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا
کسی شرپسند کو ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے قیام تک دہشتگردوں کیخلاف جنگ پوری قومی قوت اور بھرپور عزم کیساتھ جاری رہے گی شہداء اور غازی اس قوم کا دائمی فخر ہیں،سید عاصم منیرکاجی ایچ کیو میں فوجی اعزازات کی تقریب سے خطاب،50 اف...
اسپن وام میں سکیورٹی فورسزکا آپریشن،زیر زمین بنکر، سرنگیں، بارودی جال بچھا رکھا تھا خارجی سرغنہ عمر عرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت پ...
چینی بھائیوں کیلئے اعلیٰ ترین پیمانے کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے شہبازشریف کا پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر پیغام ، مبارکباد پیش وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ سی پیک نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی تعاون ...
اپنے تمام ایم پی ایز کو ہر شہر میں احتجاج کی ہدایت کرتا ہوں، ہمارا رویہ آنے والے منگل کو مزید سخت ہوگا، پورا پاکستان دیکھے گا پی ٹی آئی ایک مٹھی ہو کر میدان میں نکل رہی ہے،وزیراعلیٰ پولیس نے اسلام آباد میں منتخب نمائندوں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی،وقت نے ثابت کر دیا سائفر معامل...
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے متعلقہ افسران کو بلا کر ہدایات دے دیں مجھے یقین دلایا ہے کہ مقدمات عید کے بعد لگ جائیں گے، سلمان اکرم راجا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان کے مقدمات عید کے بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلم...
نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای اوز، پارٹی بوائز، سیاستدان، بیوروکریٹ شامل ہیں شوبز کی بیشتر شخصیات کے نام، نمبرز اور گھر کے پتے حاصل کرلیے گئے ہیں ،ذرائع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں۔نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای ا...
متحدہ قومی موومنٹ قیادت کی شہباز شریف سے ملاقات ،کسی بھی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی،ذرائع آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف پر بات کی،کراچی پیکیج اور کے فور پر گفتگو کی، اندرونی کہانی سامنے آگئیں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ...
پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی پیشرفت روکنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، عوام کی ثابت قدم حمایت سے مسلح افواج دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ و...
انکوائری کے دوران عدالت میںپیشی کے وقت پنکی کو موبائل فون دینے کا انکشاف سیکیورٹی میں کئی خامیاں سامنے آئیں ، ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں،رپورٹ کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پ...
نظم و ضبط، قیادت اور پیشہ ورانہ تربیت کی درخشاں روایات کا امین ہے،شہباز شریف ایران، امریکا جنگ نے خطے کو غیریقینی صورتحال، معاشی چیلنجز سے دوچار کر دیا،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، جو ہماری خودمختاری کے نگہبان ہیں۔کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئ...
سکیورٹی فورسز کا خورج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع شیوا میں کامیاب کارروائی انڈین ا سپانسرڈشرپسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ، اسلحہ ، گولہ بارود برآمد،آئی ایس پی آر سکیورٹی فورسز کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 22 خوارج جہنم واصل ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئ...
امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...