وجود

... loading ...

وجود

مسلمانوں سے نفرت ہالینڈ انتخابات بھی امریکا کی راہ پر گامزن

اتوار 11 دسمبر 2016 مسلمانوں سے نفرت ہالینڈ انتخابات بھی امریکا کی راہ پر گامزن


تہمینہ حیات
ہالینڈمیں ووٹرز جلد ہی نئی حکومت کا انتخاب کریں گے۔ انتخابی مہم میں مہاجرینکے مسئلے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ توقع ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی ڈچ فریڈم پارٹی جو تارکین اور خاص طورپر مسلمانوں کی مخالف تصور کی جاتی ہے چوٹی کی 3 پارٹیوں میں شامل ہو گی۔یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح، یہاں بھی تارکین وطن خاص طور سے مسلمانوں کے خلاف مہم چلی ہوئی ہے۔ ڈچ فریڈم پارٹی کے لیڈر گریٹ وائلڈرز کہتے ہیں کہ ’’ہماری تجویز ہے کہ مسلمان ملکوں سے لوگوں کا داخلہ مکمل طور سے بند کر دیا جائے کیونکہ ہالینڈ میں جو اسلام موجود ہے وہ بہت کافی ہے۔ ہم یورپ اور نیدرلینڈز کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں اور اسی لیے ہم نے یہ تجویز دی ہے‘‘۔ صرف انتہائی دائیں بازو کی سیاسی پارٹیاں ہی نہیں بلکہ پورے مغربی یورپ میں سیاسی پارٹیوں نے اسی انداز فکر کو اپنا لیا ہے۔فرانس اور بیلجیم میں ایسا قانون بنایا جا رہا ہے جس کے تحت مسلمان عورتوں کو برقع پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سوئٹزر لینڈ میں مسجدوں میں نئے مینار تعمیر کرنا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
صادق ہارڈویچی ایک ریسرچ گروپ فورم انسٹیٹیوٹ فار ملٹی کلچرل افیئرز کے چیئرمین ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان دشمن جذبات کی جڑیں حالیہ تاریخ میں پیوست ہیں ’’گلوبلائیزیشن کے اس دور میں تیزی سے آنے و الی تبدیلیوں نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آپ اس اقتصادی بحران کے اثرات ،جو امریکا میں مکانوں کے قرضوں سے شروع ہوا ،بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ یہاں روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔ ہر کوئی اپنی بقا کے لیے کوئی نہ کوئی سہارا تلاش کر رہا ہے۔ یہ وہ غیر یقینی حالات اور وہ خوف ہے جسے مسٹر گریٹ وائلڈرز نے یورپ میں اسلام کے غلبے کا نام دیا ہے‘‘۔
2008میں وائلڈرز نے ایک فلم ریلیز کی جس میں مغرب کو اسلام کے غلبے کے خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اس فلم کا نام ہے ’’فتنہ ‘‘اوراس میں قرآن سے اقتباسات لے کر انہیں دہشت گردی کے مناظر کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔ اس فلم پر کئی ملکوں میں پابندی لگا دی گئی ہے۔ نیدرلینڈمیں وائلڈرزکے خلاف نفرت پھیلانے اورامتیازی سلوک کا پرچار کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں‘‘ ۔ذولی کے قصبے میں جہاں وائلڈرز حال ہی میں اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں گئے تھے وہاں حکام نے بے گھر افراد کے لیے، جن میں سے بیشتر مسلمان ہیں، فٹ بال میچ کا انتظام کیا ۔ وائس آف امریکا کے نمائندے نے اس موقع پر ایک بے گھر فرد سے مسلمانوں کے خلاف جذبات کی لہر کے بار ے میں دریافت کیا تو جواب ملا کہ ’’یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ یہ آزاد ملک ہے اور آپ یہاں اپنی پوری زندگی گزار سکتے ہیں۔ جہاں تک وائلڈرز کا تعلق ہے تو وہ ایک کھیل کھیل رہے ہیں۔ اس قسم کی چیز یہاں نیدرلینڈز میں چل نہیں سکتی‘‘۔وائلڈرز کی مقبولیت باقی رہی تو بھی ان کے بارے میں لوگوں کے جذبات ملے جلے رہیں گے۔ مثلاً ایک شہری نے اس طرح اظہارِ خیال کیا ’’وہ لوگوں کے اندیشوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میرے خیال میں وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ خاصا احمقانہ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہالینڈ میں بہت لوگ آ چکے ہیں۔ میری رائے بھی یہی ہے کہ جو لوگ آ چکے ہیں، وہ کافی ہیں‘‘۔اگرچہ بہت سے لوگ وائلڈرز کے خیالات کو انتہا پسندی کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں، لیکن ان کی پارٹی کو بہت سے ووٹروں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور یوں مسلمانوں کے خلاف احساسات بیلٹ باکس تک پہنچ رہے ہیں۔لیکن وائلڈرز کے اسلام دشمن جذبات کو گزشتہ دنوں خود ہالینڈ کی ایک عدالت کے فیصلے نے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، عدالت نے اسلام مخالف تقریر کرنے پر ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ کو مجرم قرار دیا اگر چہ عدالت نے وائلڈرز کو کوئی سزا نہیں دی لیکن اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایک قانون ساز اور منتخب رکن پارلیمنٹ کو مجرم قرار دینابھی اس کیلئے ایک بڑی سزا ہے۔وائلڈرز کے خلاف مقدمے کے دوران شیئرپراسیکیوٹرز نے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ وائلڈرز نے خصوصی طور پر مراکش کے باشندوں کو نشانہ بنا کر تقریر کی آزادی کی حدود عبور کی ہیں۔
نیدر لینڈز کی عدالت کے جج نے اسلام مخالف قانون ساز گریٹ وائلڈرز کو نفرت پر مبنی تقریر کرنے پر مجرم ٹہراتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ قانون ساز رکن پارلیمنٹ کی تقریر سیاسی چھاپ پر مبنی لفظوں کا گورکھ دھندہ اور اظہار کی آزادی کے لیے ایک بڑا نقصان تھی۔ججوں کے پینل کے سربراہ ہینڈرک اسٹین ہوئز نے جمعے کے روز اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت انہیں کوئی سزا نہیں دے گی کیونکہ انہیں مجرم ٹھہرانا ہی جمہوری طورپر منتخب ایک قانون ساز کے لیے کا فی سزا ہے۔پراسیکیوٹرز نے جج سے استدعا کی تھی کہ ملزم کو 5300 ڈالر جرمانہ کیا جائے تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور وہ انتخابات جیتنے کیلئے اس طرح کی دلآزار تقریریں اورباتیں کرنے کی جرات نہ ہو۔
اپنے خلاف عدالت کے اس فیصلے پر ایک ٹویٹ میں وائلڈرز نے کہا ہے کہ تعصب اور مراکش کے باشندوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کا مجرم قرار دینا غیر دانش مندانہ ہے اور یہ کہ جن 3 ججوں نے یہ فیصلہ لکھا ہے وہ ان کی انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی کی مقبولیت کو ناپسند کرتے ہیں۔انہوں نے خود پر عائد کیے جانے والے الزامات مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ وہ نیدرلینڈز کے ایک معاشرتی مسئلے کی نشاندہی کرکے ایک سیاسی رہنما کے طور پر اپنا فرض نبھا رہے تھے۔
وائلڈرز کو مجرم ٹہرائے جانے سے پہلے ججوں کے پینل کی سربراہی کرنے والے جج اسٹین ہوئز نے کہا کہ’’ آزادی اظہار کی سماعت نہیں کی جا رہی جیسا کہ وائلڈرز نے اپنے مقدمے کی سماعت کے دوران دعویٰ کیا ہے‘‘۔وائلڈرز سماعت کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے۔ یہ سماعت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب قومی انتخابات میں تین مہینے باقی رہ گئے ہیں۔رائے عامہ کے جائزوں میں فریڈم پارٹی کو انتخابات کے حوالے سے معمولی برتری حاصل ہے اور اس مقدمے کی سماعت کے دوران اس کی مقبولیت بڑھی ہے۔وائلڈر کے خلاف اسی طرح نفرت آمیز تقریر کرنے کے خلاف ایک مقدمہ اس سے قبل 2011 میں دائر کیاگیاتھا لیکن اس مقدمے میں عدالت نے اسلام کے خلاف نفرت پر مبنی ایک تقریرکے الزام سے انہیں بری کر دیا تھا۔


متعلقہ خبریں


وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

مضامین
افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے ! وجود جمعرات 29 جنوری 2026
انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

آدم بو آدم بو!! وجود بدھ 28 جنوری 2026
آدم بو آدم بو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر