وجود

... loading ...

وجود

قوم کی محبت جنرل راحیل شریف کا اصل ورثہ ہے

منگل 29 نومبر 2016 قوم کی محبت جنرل راحیل شریف کا اصل ورثہ ہے

جنرل راحیل شریف پاکستانی عوام کے دلوں سے محبت سمیٹ کر روانہ تو ہوگئے مگر دلوں میں ہمیشہ موجود رہیں گے قوم ان سے مزید خدمات کی منتظر

5718d99a7d743

پروفیسر ڈاکٹر عبدالجبار خان

سپہ سالارافواج پاکستان جنرل راحیل شریف۔۔۔۔۔۔ کیا گذشتہ تین سال میں قیادت کا حق ادا کر پائے ہیں؟ کیا ملک پاکستان ایک غیر یقینی صورت حال سے اب باہر آچکا ہے؟ کیا پاکستان کی اساس ایک مستحکم پاکستان کو  ۲۱ ویں صدی میں دیکھ رہی ہے؟ کیا دہشت گردی کا عفریت پاکستان سے ختم  ہوگیا ہے؟ کیا بلوچستان ، خیبر پختونخواہ ، کراچی اور مختلف علاقوں میں یہ چیلنج اب بھی موجود ہے۔؟

5718d99d4fef4

29جون کے بعد نئی قیادت ان تمام چیلنج کا مقابلہ اُسی طرح کر سکے گی ؟کیا 20کروڑ عوام سکھ کی نیند سو سکیںگے؟ اور لائن آف کنڑول سمیت دشمنان پاکستان کے عزائم کو خاک میں ملا سکے گے؟

یہ بڑے سوال پاکستانی باشعور عوام کے ذھنوں میں پھر آموجود ہوئے ہیں۔ نئی قیادت اور بلاشبہ پاکستان میں ایک جیوری عمل کے استحکام اور پاکستان میںاورجمہوری عمل کے استحکام اور پاکستان میں اور اس کے مغربی و مشرقی سرحدوں اور اندرون پاکستان کئے گئے لوزامات کو مربوط اور زیادہ بہتر نہ صیحح کم ازکم اس سطح پر لے کر چلنے کی صلاحیت ضرور رکھے گی جو کہ قوم تین سال قبل مایوسی کی کیفیت سے نکال کر نئی امید، مستحکم پاکستان ، چینی اقتصادی منصوبہ(CPEC) اور اندرون ملک معاشی منصوبہ سازی اور زیر عمل منصوبہ جات کو تیزی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچنے میں مدد دے گی۔ بیرون ملک، پڑوسیوں اور اندوران پاکستان بہت سے مسائل کا ذکر کرنا یہاں بے جا نہ ہوگا۔

پہلے ہم بلوچستان کی بات کرلیتے ہیں جہاں کے دو سپوتوں نے کپوتوں کا کردار ادا کر تے ہوئے دشمن بھارت میں نہ صرف شہریت حاصل کر رکھی ہے بلکہ وہ بھارتی ایجنسی را کے ایجنٹوں کا کردار کُھلے عام ادا کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ابھی تک کوئی فیصلہ سازی تو کیا اس کے لیے غورو خوض کر نا بھی گوارا نہیں کیا۔ بھارتی رہنما گاندھی کی سمادی پر ’’ عقیدت و احترام‘‘ کا منظر یقینا کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل اطمینان قرار نہیں دیا جاسکتا۔بلوچستان میں یہ چیلنج ابھی موجود ہے۔ موجودہ قیادت جنرل راحیل اور جنرل عامر ریاض جبکہ سابق کور کمانڈر جنرل ناصر نے بھر پور وسائل کے ساتھ سیاسی اور غیر سیاسی محاذ پر اس صورت حال کا مقابلہ کیا اور گوادر بندر گاہ کے منصوبے کو نہ صرف آپریشنل کرنے میں بھر پور کردار ادا کیا بلکہ عوام کو نئی اقتصادی فلاح و بہبود کی نئی صبح امید سے روشناس کیا۔ یقینا یہ کہہ سکتے ہیں کہ نیا سپہ سالا ملک کے اندر اور باہر مسائل کے حل کے لیے کم از کم اپنے سابق سربراہ کی پالیسیوں کو جاری رکھ سکے گا اور اگر زیادہ دلیرانہ انداز اپنایا گیا تو زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔

553

بلوچستان اور کے پی کے میں جو مسائل ہیں ان میں امن و امان ، دہشت گردی، غیر ملکی مداخلت، بھارتی جاسوسسی کا نیٹ ورک جس کی قیادت بھارتی فوجی افسر کلبھوشن یادیو نے کر دیا تھا جبکہ کراچی میں سیاسی جماعتوں میں موجود ’’ عدم استحکام پاکستان‘‘ کے ایجنڈے اپنے پروگرام پر عمل پیرا تھے۔ فوج  نے تمام صوبوں میں مربوط انداز میں بھرپور منصوبہ سازی کے ساتھ مطلوبہ نتائج حاصل کیے ہیں۔

ویسے تو جنرل راحیل شریف نے بحیثیت سربراہ پاک فوج 14جون 2014کو  ضرب عضب کا آغاز کیا جوکہ وزیر ستان کے وفاقی قبائلی علاقہ میں شرپسندوں کے خلاف تھا تاہم بعدازاں دہ دہشت  گردی کے خلاف فوجی ایکشن پلان سیاسی حکومت نے بنایا جو بھر پور طور پر زیر عمل نہ آ سکا ۔غیر ملکی مفادات کے خلاف راحیل شریف نے جس طرح دہشت گردی کی بیخ کنی کرنے میں ایک قائدانہ کردار ادا کیا ہے  وہ ناقابل فراموش ہے۔

کراچی کی صورت حال میں ایک واضح تبدیلی یہاں کے عوام کی رائے ہے۔ پاکستان کے کثیر القومی مختلف زبانیں بولنے والے تعلیم یافتہ افراد اب سے پہلے سے زیادہ مطمئن ہیں اور بلاشبہ کاروباری مرکز کے  عوامی اور سیاسی نمائندے ، کاروباری شخصیات کا ایک غیر معمولی اعتماد جنرل راحیل اور افواج پاکستان پر اعتماد کا مظہر ہے۔ دو روز قبل جنرل راحیل شریف نے کراچی کے ممتاز تاجروں اور صنعتکاروں سے پاکستان، بھارت، کشمیر سمیت کراچی میں دہشت گردی جیسے موضوعات پر بھرپور بات چیتکی جس میں ایک واضح اشارہ تھا’’ کراچی میں اب دہشت گردی کی بیماری کا خاتمہ ہو چکا اور آئندہ دہشت گرد اس شہر میں جگہ نہیں پا سکیں گیــ۔ یہ وہ وعدہ ہے جو آرمی سربراہ نے عوام سے کیا ہے ایسی صورت حال میں صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور مرکز میں مسلم لیگ نواز کی حکومت پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ پر بھر پور عمل کریں اور کرائیں۔ کرپشن کے خلاف بھی افواج پاکستان کا کردار نمایاں رہا ہے اور ایک وقت پاکستان کے عوام نے یہ بھی دیکھا کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ کو بھی فوج کی پالیسی سے اختلاف ہوا اور وہ انتہائی قابل اعتراض اور غیر آئینی تقریر کے بعد پاکستان سے خود ساختہ جلاوطنی کے مجبور ہوگئے۔ قومی اور پاکستان کے وسیع تر مفادات کا تقاضہ یہ ہے کہ بھر پور رابطہ ، یک جہتی اور مربوط انداز میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کردار ادا کیا جائے۔ سیاسی حکومتوں کے ساتھ تعاون اور جمہوری اقدار کے تحفظ میں فوج کے کردار کو سراہنے کی ضرورت تھی اور آج بھی ہے۔

کراچی کے غیر یقینی حالات سے نہ صرف سرمایہ کاری نے دوسرے ممالک میں جگہ بنائی بلکہ معاشی اور اقتصادی میدان میں  پاکستان کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ صوبہ کی حکومت نے اسی جانب اپنی توجہ بھرپور طورپر ادا کی ہوتی تو بڑی حد تک مقامی اور ’’درآمد شدہ‘‘ دہشت گردوں سے مقابلہ کیا جاتا جبکہ پولیس کی فورس میں بھی کئی بھیڑوں کا صفایا کیا جاسکتا تھا۔ فوج اور رینجرز فورس ہمیشہ کے لیے کردار ادا نہیں کر سکتی تاہم اب تک جوکچھ بھی نتائج حاصل ہوتے ان کی بنیادی وجہ رینجرز اور فورسزکی مربوط منصوبہ بندی اور پولیس کا بھرپور تعاون  تھا۔

اندرون پنچاب یعنی جنوبی پنچاب میں بھی “COMBING” آپشن سے فائدہ مند نتائج حاصل ہوں گے جن سے دہشت گردوں میں پاکستان کی رٹ قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔ اس کا سہرا یقینا جنرل راحیل شریف اور اُن کی ٹیم کو جاتا ہے ۔ سرل المیڈا جیسے واقعات کا انسداد بھی ضروری میں کیے ہے کہ ایسے واقعہ نے حکومت اور ملک کو بدنام کیا ہے۔ بحیثیت پاکستانی قوم اس ضرورت کی متقاضی ہے کہ بھارت اور بھارت نواز دشمنوں کی نشاندہی ہو اور بھرپورانداز میں ان کے خلاف کاروائی اس مقصد کے ساتھ ہو کہ ان کی مکمل بیخ کُنی کی جائے۔ ایسے عناصر خواہ وہ انڈیا اور افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان مخالف ایجنڈے  پر کار فرما ہوں۔ افواج پاکستان اور سپہ سالا رکا کردار بلاشبہ تاریخ کا حصہ اور قابل ستائش رہے گا۔

دنیا کے بہترین فوجی کمانڈوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے جنرل راحیل شریف بھی یقینا خود بھی یہی چاہ رہے ہوں گے کہ ان کی ذاتی مفادات اور ہمراہیوں کی بھر پور شب روز کی قربانیاں ضائع نہ ہونے دی جائیں۔ یہ ایک قابل عمل سوچ ہے۔ نہ صرف نئی قیادت بلکہ پوری قوم اور سیاسی حکمرانوں کے لیے بھی ایک چیلنج ہے ۔ قیادت یقینا ایک شخصیت کا خاص جوہر ہوتا ہے لیکن اگر مشترکہ ، مخلص کاوشیں اور یک مقصدی ہو تو منزل کا حصول آسان ہوجاتا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جبکہ ازلی دشمن بھارت اور انتہا پسند بی جے پی (BJP)، مہاسبھا کی ہندوتوا برسر اقتدار ہوں اور کشمیر جیسیمقبوضہ علاقے میں صبح شام پاکستان جوانوں اور شہریوں پر حملہ آور ہوں ۔ ایسے میں نئی قیادت ، سیاسی حکومت، شہری اور سیاسی و فوجی اداروں کی ذمہ داریاں زیادہ ہوجاتی ہیںانہی جگہ بنانے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ پاکستانی قوم اپنے ادارں اور سیاسی حکمرانوں سے بجا طور پر اُمید رکھتی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کا عمل بھر پور طور پر جاری رہے گا اور اس میں کسی بھی قسم کی مصلحت یا سیاسی شعبدہ بازی برداشت نہیں جا سکتی ۔ پاکستان ایسی مصلحت کا متحمل نہیں ہوسکتا !

الفاظ اور معانی میں تفاوت نہیں لیکن

مُلا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور


متعلقہ خبریں


پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

مضامین
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو! وجود جمعه 20 مارچ 2026
ٹرمپ کیوں کر پاگل نہ ہو!

''را''کے خلاف امریکی پابندی وجود جمعه 20 مارچ 2026
''را''کے خلاف امریکی پابندی

امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی وجود جمعه 20 مارچ 2026
امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر