وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ کا نسل پرستوں سے اظہارِ لاتعلقی ،مسلمانوں کی بے چینی دور نہیں کرسکا

پیر 28 نومبر 2016 ٹرمپ کا نسل پرستوں سے اظہارِ لاتعلقی ،مسلمانوں کی بے چینی دور نہیں کرسکا

trump_transition_team_c0-217-5204-3251_s885x516
میں ان کی مذمت کرتا ہوں،میں انھیں مسترد کرتا ہوں،میں اس تنظیم کو تقویت نہیں دوں گا، جس میں نیو نازی، سفید قوم پرست اور یہود دشمن شامل ہیں،ٹرمپ کانیویارک ٹائمز کو انٹرویو
مسلمانوں کی کڑی نگرانی کا خطرہ،خودکار پولنگ نظام کے ذریعے کی جانے والی کالز میں مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہیں تو ایک دبا کر اس کی تصدیق کریں،مسلم کمیونٹی میں ہراس

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان کالز کی وجہ سے بعض مسلمان پریشان ہیںاور وہ سمجھ رہے ہیں کہ نو منتخب امریکی صدر اپنی صدارتی مہم کے دوران امریکی مسلمانوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے کیے گئے وعدے یا دھمکی کی تکمیل کرنے والے ہیں ۔ جبکہ یہ فون کالز درحقیقت امریکی مسلمانوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ایک غیرمنافع بخش ادارے ایمرج یو ایس اے کی جانب سے ایک سروے کے لیے کی جارہی ہیں۔ورجینیا میں اس ادارے کی ڈائریکٹر سارا کے مطابق ان کے ادارے نے 8 نومبر کے بعد سے مسلمانوں کے تجربات اور نظریات جاننے کے لیے ان کالز کا سلسلہ شروع کیا۔سارا کا کہنا ہے کہ انہیں کالز ریسیو کرنے والے متعدد افرادکو یقین دہانی کرانی پڑی کہ یہ فون کال ایمرج یو ایس اے ادارے کی جانب سے شروع کیے جانے والے پول کے سلسلے میں کی گئی ہیں اور کوئی مسلمان مخالف گروپ ادارے کا نام استعمال کرکے یہ معلومات حاصل نہیں کررہا

نومنتخب امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نسل پرست ‘آلٹ رائٹ’ گروپ سے لاتعلقی ظاہر کی ہے جس نے ان کی جیت کی خوشی نازی سیلوٹ کر کے منائی تھی۔ تاہم ان کے سابقہ اور صدر منتخب ہونے کے بعد ان کے حوالے سے سامنے آنے والے بعض بیانات کی وجہ سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں میں پیدا ہونے والی بے چینی اور اضطراب دور نہیں ہوسکاہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ میں ان کی مذمت کرتا ہوں،میں انھیں مسترد کرتا ہوں۔انھوں نے کہا کہ وہ اس تنظیم کو تقویت نہیں دیں گے، جس میں نیو نازی، سفید قوم پرست اور یہود دشمن شامل ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی میں آلٹ رائٹ گروپ کے حامیوں کو ٹرمپ کی حمایت میں ‘ہیل ٹرمپ کے نعرے بلند کرتے ہوئے فلمایا گیا تھا۔یاد رہے کہ ہٹلر کی حمایت میں ہیل ہٹلر کے نعرے بلند کیے جاتے تھے۔اس ویڈیو میں آلٹ رائٹ تحریک کے سربراہ رچرڈا سپینسر نے کہا کہ امریکا سفید لوگوں کی ملکیت ہے، جو سورج کی اولاد ہیں۔ انھوں نے اس تحریک کے مخالفین کو اس سیارے کی سب سے نفرت انگیز مخلوق قرار دیا۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ٹرمپ کی فتح سے سفید فام نسل پرستوں کو شہ ملے گی۔تاہم نیویارک ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں ٹرمپ نے اپنے چیف پالیسی ساز اور برائٹ بارٹ نیوز کے سابق سربراہ اسٹیو بینن کی حمایت کرتے ہوئے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ ان کی کٹر قدامت پسند ویب سائٹ سفید فام نسل پرست تحریک سے تعلق رکھتی ہے۔انھوں نے نیویارک ٹائمز کو بتایا: برائٹ بارٹ محض ایک اخبار ہے۔ وہ ایسے ہی خبریں نشر کرتے ہیں جیسے آپ کرتے ہیں۔ اگر میں سمجھتا کہ وہ نسل پرست ہیں یا آلٹ رائٹ ہیں یا اس قسم کی کوئی بھی چیز ہیں تو میں ان کی خدمات حاصل کرنے کے بارے میں کبھی نہ سوچتا۔اس انٹرویو میں ٹرمپ نے کئی موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن قائم کرنے میں مدد دے سکتے ہیںتاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو دنیا میں قوم ساز کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے ۔انھوں نے دعویٰ کیاکہ رپبلکن رہنما مچ میک کونل اور پال رائن اب مجھ سے پیار کرتے ہیں ۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ میں اپنا کاروبار اور ملک دونوں کو بغیر مفادات کے ٹکرائو کے چلا سکتا ہوں ۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انسانی سرگرمیوں اور ماحول کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ کی ترجمان نے کہا تھا کہ وہ اپنی حریف ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تحقیقات پر زور نہیں دیں گے۔
دوسری جانب ایک اور اطلاع کے مطابق خودکار پولنگ کالزنے امریکی مسلمانوں کو ایک نئے تذبذب میں مبتلا کردیا ہے ،خود کار پولنگ کے تحت موصول ہونے والی ان کالز سے امریکی مسلمانوں کے سر پر کڑی نگرانی کا خطرہ منڈلانے لگاہے ، اورامریکی مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ٹرمپ برسراقتدار آنے کے بعد اسی طرح ان کی نگرانی شروع کراسکتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق خودکار پولنگ نظام کے ذریعے کی جانے والی کالز میں مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہیں تو ڈائل پیڈ پہ ایک نمبر دبا کر اس کی تصدیق کریں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ان کالز کی وجہ سے بعض مسلمان پریشان ہیںاور وہ سمجھ رہے ہیں کہ نو منتخب امریکی صدر اپنی صدارتی مہم کے دوران امریکی مسلمانوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے والے ہیں۔ جبکہ یہ فون کالز درحقیقت امریکی مسلمانوں کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ایک غیرمنافع بخش ادارے ایمرج یو ایس اے کی جانب سے ایک سروے کے لیے کی جارہی ہیں۔ورجینیا میں اس ادارے کی ڈائریکٹر سارا کے مطابق ان کے ادارے نے 8 نومبر کے بعد سے مسلمانوں کے تجربات اور نظریات جاننے کے لیے ان کالز کا سلسلہ شروع کیا۔سارا کا کہنا ہے کہ انہیں کالز ریسیو کرنے والے متعدد افرادکو یقین دہانی کرانی پڑی کہ یہ فون کال ایمرج یو ایس اے ادارے کی جانب سے شروع کیے جانے والے پول کے سلسلے میں کی گئی ہیں اور کوئی مسلمان مخالف گروپ ادارے کا نام استعمال کرکے یہ معلومات حاصل نہیں کررہا۔
ڈائریکٹر ایمرج یو ایس اے کے مطابق، ’لوگوں میں پائے جانے والے خوف کی وجہ سے ہمارا سارا کام متاثر ہورہا ہے‘۔امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد سے امریکا میں مقیم مسلمان کشمکش میں مبتلا ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حامی کی جانب سے رجسٹریشن کے لیے ان کیمپوں کی مثال دی گئی جہاں جاپانی امریکیوں کو دوسری جنگ عظیم کے دوران قید میں رکھا گیا تھا۔قومی سیکورٹی کے مشیر کے لیے ٹرمپ کے منتخب رہنما مائیکل فلن نے ایک حالیہ ویڈیو میں اسلام کو دنیا میں موجود ایک ارب 70 کروڑ لوگوں کے جسم میں کینسر کی مانندقرار دیاتھا اور کہاتھا کہ اسے کاٹ کر پھینکنا ضروری ہے۔22 نومبر کو کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز نے اپنے فیس بک اور ٹوئٹر اکائونٹس پہ امریکی مسلمانوں کو موصول ہونے والی خودکار شناختی کالز سے متعلق سوال کیا۔ اسی دوران دیگر امریکی مسلمانوں نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس کے ذریعے ان کالز پر تشویش کا اظہار کیا۔ایک ریسیور نے فیس بک پر لکھا کہ ’مجھے اندازہ نہیں کہ یہ کوئی فراڈ ہے یا حقیقت لیکن میں اس بارے میں رپورٹ کرچکا ہوں اور اگر آپ کو بھی ایسی فون کال موصول ہوتی ہے تو اسے رپورٹ کریں۔
ایک طرف امریکا میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ذہنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے مختلف خیالات ابھر رہے ہیں دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ ان تمام چیزوں سے لاپروا نظر آتے ہیں اور انھوں نے اقتدار سنبھالنے کیلئے ابتدائی تیاریوں کے طورپر اپنی ٹیم کی تیاری شروع کردی ہے ‘امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ کی پہلی خواتین اراکین کا اعلان کر دیا ہے۔انھوں نے ریاست جنوبی کیرولائنا کی گورنر نکی ہیلی کو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جبکہ بیٹسی ڈیوس کو وزیرِ تعلیم نامزد کیا ہے۔دونوں خواتین ڈونلڈ ٹرمپ کی شدید ناقدین رہ چکی ہیں۔ ان کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی دوڑکی ابتدا میں ان کے حریف بین کارسن نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ انھیں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز کیا جائے گا۔فیس بک پر بین کارسن کا کہنا تھا کہ ‘امریکا کو عظیم بنانے میں میرے کردار کے بارے میں ایک اہم اعلان آنے والا ہے۔مڈونلڈ ٹرمپ بھی گزشتہ روز ٹوئٹر پر کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکی محکمہ ہائوسنگ اور شہری ترقی کے لیے بین کارسن کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ 20 جنوری کو عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد بھی ضروری نہیں کہ وہ اپنے کاروبار سے رابطہ منقطع کر دیں۔منتخب صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک سینیٹر نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں ایوان میں ایک قرارداد پیش کرنے جا رہے ہیں۔ سینیٹر کے مطابق ان کی اس قرارداد میں مسٹر ٹرمپ سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ یہ ثابت کرنے کے لیے اپنے تمام اثاثوں سے علیحدہ ہو جائیں کہ وہ اپنی صدارت کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔اگرچہ امریکی قانون میں ضروری نہیں کہ صدر اپنے کاروباری مفادات سے لا تعلق ہو جائے، تاہم ماضی میں روایت یہی رہی ہے کہ صدر اپنے کاروباری لین دین سے الگ ہو جاتے ہیں۔اپنے تازہ ترین بیان میں نومنتخب صدر نے انتہائی دائیں بازو کے ان کارکنوں سے بھی ایک دفعہ پھر لاتعلقی ظاہر کی ہے جنھوں نے رواں ہفتے مسٹر ٹرمپ اور انتخابات میں ان کی فتح کو ہٹلر کے حامیوں کی طرز پر سلام پیش کیا تھا۔ امریکا میں تھینکس گِونگ کی سالانہ چھٹی گزارنے منتخب صدر ریاست فلوریڈا گئے۔گذشتہ دنوں سے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی وہ ٹیم منتخب کرنے میں مصروف ہیں جو دورِ صدارت میں وائٹ ہاوٗس میں ان کی معاونت کرے گی۔امریکی فوج کے مشہور جرنیلوں میں سے ایک، جنرل ڈیوڈ پیٹریئس نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اگر انھیں منتخب کیا گیا تو وہ بخوشی صدر ٹرمپ کی ٹیم میں شامل ہو جائیں گے۔روزنامہ نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں بہترین انداز میں اپنی کاروباری ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی بہترین انداز میں چلا سکتا ہوں۔ میرا خیال تھا اس کے لیے آپ کو کوئی ٹرسٹ وغیرہ بنانا پڑتا ہے، لیکن آپ کو اس کی ضرورت نہیں۔‘تاہم مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی دونوں ذمہ داریوں سے الگ الگ عہدہ برا ہونے کے لیے کوئی بندوبست کریں گے۔جہاں تک ڈیموکریٹ سینیٹر بین کارڈن کا تعلق ہے، ان کی خواہش ہے کہ صدر کی سرکاری ذمہ داریاں اور ان کی کاروباری مصروفیات ایک دوسرے سے باقاعدہ الگ رہیں گی۔سینیٹر بین کارڈن اس سلسلے میں آئندہ ہفتے ایک قرارداد پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں منتخب صدر سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ آئین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک ایسا ٹرسٹ بنائیں جو کاروبار کو ان کے سرکاری عہدے سے الگ رکھے تا کہ ان کے کاروباری مفادات ان کی اپنی سرکاری حیثیت سے نہ ٹکرائیں۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر