وجود

... loading ...

وجود

میڈیا پر تبصروں کا طوفان ۔۔ جنرل قمر باجوہ کیسے آرمی چیف ثابت ہونگے ۔۔۔!

پیر 28 نومبر 2016 میڈیا پر تبصروں کا طوفان ۔۔ جنرل قمر باجوہ کیسے آرمی چیف ثابت ہونگے ۔۔۔!

جنرل راحیل نے جو مقبولیت حاصل کی اور جس طرح مختلف محاذوں پر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ساکھ بنائی ،اس میں جنرل باجوہ کو کافی وقت لگ سکتا ہے
جنرل باجوہ ان میں سے نہیں جو مسلسل سول حکومت کے معاملات میں مداخلت کریں اورمیڈیا کو استعمال کریں، باجوہ اپنے پیشرو کے مقابلے میں کافی ریزرو رہنے والے جنرل ہیں،تجزیہ کار
جنرل باجوہ فوری فیصلہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنرل راحیل اور جنرل باجوہ کے درمیان یہ قدر بھی مشترک پائی جاتی ہے
کشمیر اور شمالی علاقوں میں تعیناتی کا وسیع تجربہ رکھنے کے باوجود کہا جاتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ دہشت گردی کو پاکستان کے لیے ہندوستان سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں
ss1-768x384
جنرل قمرباجوہ کی فوجی سربراہ کے تقرری کے اعلان سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں غیر معمولی تجسس کا سبب بنا ہوا ایک اہم مرحلہ طے پا گیا جس کے بعد میڈیا پر ہر جانب جنرل باجوہ کے اقدامات یامحدودات پر زور وشور سے تبصرے جاری ہیں۔یہ تو طے شدہ ہے کہ جنرل باجوہ کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا ہو گا-
26 نومبرکو ہونے والے اس اہم اعلان کے ساتھ ہی جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ جنرل جاوید قمر باجوہ اور جنرل زبیر محمود 29 نومبر سے یہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے-
جرمنی سے تعلق رکھنے والے خبر رساں ادارے کے تبصرہ نگار کے مطابق سب سے پہلے تویہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس عہدے سے سبکدوش ہونے والے جنرل راحیل شریف نے ملک اور عوام میں جو مقبولیت حاصل کی اور جس طرح انہوں نے بیک وقت مختلف محاذوں پر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ساکھ بنائی ،اس سطح پر پہنچنے کے لیے جنرل باجوہ کو ابھی کافی وقت لگ سکتا ہے-
جنرل راحیل شریف کی مقبولیت کا اعتراف عالمی میڈیا نے بھی کیا اور مختلف مغربی اخباروں نے بھی تحریر کیا کہ جنرل راحیل شریف پاکستان کے مقبول ترین آرمی سربراہوں میں سے ایک رہے ہیں۔ ساتھ ہی انکی تصویریں اور خدمات کے تذکرے سوشل میڈیا پر بہت فعال انداز میں نظر آتے رہے- یہاں تک کہ بھارت کے مشہور ترین روزناموں نے بھی یہ کہا ہے کہ راحیل شریف پاکستان کے غیر معمولی عوامی مقبولیت کے حامل آرمی چیف رہے ہیں-
اب دیکھنا یہ ہے کہ جنرل باجوہ کس حد تک عوام اور قوم کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے شہرت اور مقبولیت کی اس منزل پر پہنچ پائیں گے، جس پر ان کے پیش رو پہنچے تھے۔
16 بلوچ رجمنٹ سے اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کرنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ لائن آف کنٹرول اور شورش زدہ شمالی علاقوں میں فوج کی کمانڈ کی ذمہ داری نبھا چکے ہیں، اس لیے ان سے امید یہی کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی کے حوالے سے دو اہم ترین معاملات، یعنی پاک بھارت سرحد لائن آف کنٹرول پر مسلسل جاری کشیدگی اور پاکستان کے شورش زدہ شمالی علاقہ جات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری مہم پر وہ خاص توجہ مرکوز رکھیں گے۔
ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے فوجی امور کے تجزیہ کار اور ماہر ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود نے کہا کہ جنرل باجوہ ان میں سے نہیں جو مسلسل سول حکومت کے معاملات میں مداخلت کریں اورمیڈیا کو استعمال کریں۔ باجوہ اپنے پیشرو کے مقابلے میں کافی ریزرو رہنے والے جنرل ہیں-
ذرائع ابلاغ سے اس قسم کی خبریں بھی مل رہی ہیں کہ جنرل باجوہ کے وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں- بین الاقوامی میڈیا میں زیادہ تر یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی بری فوج کے نئے سربراہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، خاص طور سے پاکستان اور افغانستان میں فعال عسکریت پسند گروپوں کے خلاف راحیل شریف سے زیادہ سخت گیر موقف اختیار کریں گے-
کینیڈا اور امریکا کے دفاعی کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے والے جنرل باجوہ کو خارجہ پالیسی کا بھی بہت خیال رکھنا ہوگا، خاص طور سے پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات کا، جس کا دار ومدار تاریخی طور پر پاکستانی فوج کی قیادت کے واشنگٹن انتظامیہ کے ساتھ راہ و رسم پر منحصر ہوتا ہے-
جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی کیریر کا آغاز 16 بلوچ رجمنٹ میں اکتوبر 1980 میں کیا تھا۔ وہ کینڈا اور امریکہ کے دفاعی کالج اور یونیورسٹیوں سے پڑھ چکے ہیں۔ جنرل قمر باجوہ کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (ٹورنٹو)، نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹیری (کیلی فورنیا) اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔
وہ کوئٹہ میں انفینٹری اسکول میں انسٹرکٹر کے طور پر فراض سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں۔جنرل باجوہ راولپنڈی کی انتہائی اہم سمجھی جانے والی 10 ویں کور کو بھی کمانڈ کرچکے ہیں۔
نئی تعیناتی سے قبل وہ جی ایچ کیو میں جنرل ٹرینگ اور ایولوشن کے انسپکٹر جنرل تھے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں اْن تربیتی مشقوں کی خود نگرانی کی جو لائن آف کنٹرول کے اطراف کشیدگی کی وجہ سے کی جا رہی تھیں۔ اِن مشقوں کا معائنہ موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل نے خود کیا تھا۔
دوسری جانب یہ خبر بھی گرم ہے کہ بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ بھی پاکستان کے نامزد چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کے معترف نکلے۔اور ساتھ ہی بھارتی حکام کو احتیاط کا مشورہ بھی دے دیا۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے آپریشنز میں جنرل باجوہ کی کارکردگی انتہائی پیشہ وارانہ اور نمایاں تھی۔یاد رہے کہ کہ لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں جو وہاں ڈویژن کمانڈر تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک فوجی افسر کا طرز عمل بین الاقوامی ماحول میں مختلف ہوتا ہے جبکہ اپنے ملک میں ان کے کام کرنے کا طریقہ الگ ہوتا ہے، وہاں اسے اپنے قومی مفادات کا تابع رہنا ہوتا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ بھارت کو تھوڑا صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور محتاط رہنا چاہیے۔
جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ جنرل باجوہ بھارت کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں اندازہ ہے کہ سرحد کے دونوں جانب کس طرح کے حالات اور علاقے موجود ہیں۔
ایک اور بھارتی فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنرل باجوہ لائن آف کنٹرول میں آپریشنز کی نوعیت اور پیچیدگیوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور انہوں نے اپنے کیریئر میں وسیع طور پر کشمیر کو ہینڈل کیا۔
کشمیر اور شمالی علاقوں میں تعیناتی کا وسیع تجربہ رکھنے کے باوجود کہا جاتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ دہشت گردی کو پاکستان کے لیے ہندوستان سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔
ادھرایک دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق نئے آرمی چیف کا سوشل میڈیا پر کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جنرل قمر باجوہ سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹس جعلی ہیں، نئے آرمی چیف کا فیس بک، ٹوئٹر اور دیگر سوشل سائٹس پر کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے تھے جو کہ نئے فوجی سربراہ سے منسوب کیے جا رہے تھے، تاہم اب آئی ایس پی آر کی جانب سے باقاعدہ تصدیق بھی ہو گئی ہے کہ ان اکاؤنٹس میں سے کوئی بھی حقیقی نہیں ہے۔
دوسری جانب وکی پیڈیا نے بھی اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا صفحہ کچھ دنوں کے لیے بند کردیا گیا ہے۔وکی پیڈیا کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعلق صفحے پر منتشر معلومات کو روکنے اور مصدقہ معلومات یکجا کرنے تک صفحہ بند رہے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے ایک تبصرہ نگار کے مطابق نئے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے پیش رو جنرل راحیل شریف میں ذاتی اور پیشہ وارانہ لحاظ سے کئی باتیں مشترک ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں میں جنرل راحیل ہی کی طرح کھلے ڈلے افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور انہی کی طرح فوج کی تربیت اور مہارت میں اضافے کے ہر وقت خواہشمند رہتے ہیں۔
جنرل جاوید قمر باجوہ کے بارے میں ان کے ساتھ ماضی میں کام کرنے والے بعض افسروں کا خیال ہے کہ ان کے ساتھ کسی بھی وقت کسی بھی موضوع پر بے تکلف گفتگو کی جا سکتی ہے۔ ان کی یہ خوبی انھیں اپنے ساتھیوں میں مقبول اور ممتاز بناتی ہے۔
پاکستانی فوج کے سینئر افسر عام طور پر اپنے آپ کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر رکھنے کی جستجو میں سیاسی معاملات پر گفتگو کرنے سے عموماً اپنے قریبی دوستوں کے علاوہ نجی محفلوں میں بھی پرہیز ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن جنرل قمر باجوہ اس معاملے میں مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ کام کر نے والے بعض افسروں کا کہنا ہے کہ وہ نا صرف سیاسی معاملات پر پختہ رائے رکھتے ہیں بلکہ اس کا اظہار کرنے سے بھی نہیں گھبراتے۔ یوں وہ ایک کھلے ڈلے بے تکلف شخص کے طور پر اپنے ملنے والوں کو متاثر کرتے ہیں۔
جنرل باجوہ فوری فیصلہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں، جنرل راحیل اور جنرل باجوہ کے درمیان یہ قدر بھی مشترک پائی جاتی ہے۔ جنرل راحیل نے شمالی وزیرستان میں کئی برس سے التوا میں پڑے فوجی آپریشن کو شروع کر کے اور 2014 میں عمران خان کے دھرنے کے موقع پر فیصلہ کن کردار ادا کر کے اس صلاحیت کو منوایا تھا۔
جنرل راحیل ہی کی طرح جنرل باجوہ بھی فوج کی تربیت کے معاملات میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں اور گزشتہ سالوں میں انھوں نے اس سلسلے میں فوج کی تربیتی برانچ کے سربراہ کے طور اہم کردار کیا ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر