وجود

... loading ...

وجود

کِس میں کتنا ہے دَم ۔۔ بھارت امریکا قربتوں پرروس وچین کی کڑی نگاہیں

اتوار 13 نومبر 2016 کِس میں کتنا ہے دَم ۔۔ بھارت امریکا قربتوں پرروس وچین کی کڑی نگاہیں

امریکا بھارت کو خطے کا چوکیداربناناچاہتا ہے جس میں حالیہ امریکی انتخابات کے بعد اضافہ متوقع ہے ،لیکن کیا مودی سرکارمیں پاکستان و چین سے ٹکرانے کا دَم ہے ،تجزیہ کاروں کا جواب نہیں میں ہے
پاکستان کی ٹرمپ کو مبارکباداور کشمیر ثالثی کے وعدے یاد دلانے سے کام نہیں چلے گابلکہ امریکی کانگریسی ارکان کے درمیان بھرپور لابنگ کرکیپاکستان کی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے
usa-pakistanبھارت اور امریکا کے درمیان غیر معمولی طورپر بڑھتے ہوئے تعلقات کو پوری دنیا میں محسوس کیاگیاہے، خاص طورپر روس اور عوامی جمہوریہ چین نے اس کاسنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیاہے جس کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ روس نے جو گزشتہ 70سال کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات میں قدرے دوری برقرار رکھے ہوئے تھا ،پہلی مرتبہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی مشقوں میں شرکت کی، یہی نہیں بلکہ پاکستان کو اس کی ضرورت کا دفاعی سازوسامان فراہم کرنے اور پاکستان میں سرمایہ کاری پر بھی رضامندی کااظہار کیا۔
بھارت اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے پس منظر کاجائزہ لیاجائے تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ ان تعلقات کا بنیادی سبب بھارت اور امریکا کے رہنماؤں میں بڑھتاہوا عدم تحفظ کااحساس ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امریکا اس خطے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ سے خائف ہے، جبکہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد اب اسے اپنے یورپی اتحادیوں پر بھی بھروسہ نہیں رہا ہے، اس لیے وہ بھارت کو اپنے مضبوط حلیف کی حیثیت سے اس خطے میں ابھارنا چاہتاہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اسے چین کے خلاف استعمال کرکے چین کی دفاعی طاقت کو نقصان پہنچایاجاسکے۔تاہم سفارتی حلقوں کاخیال ہے کہ امریکا کا یہ تصور خیال خام ہے کہ وہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرسکے گا، کیونکہ بھارت کی تمامتر جنگی تیاریوں کا مقصد اس خطے میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور وہ چین کے ساتھ جنگ کی نہ تو صلاحیت رکھتاہے اور نہ ہی بھارت کے جنگی منصوبہ ساز اس قدر بے وقوف ہیں کہ وہ چین کے ساتھ محاذ آرائی کرکے اپنی فوجی طاقت کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنے قائم کردہ بھرم کو پاش پاش کرنے پر تیار ہوجائیں۔
بھارت کو ایشیا میں چین کے مقابل کھڑاکرنے کی امریکا کی یہ خواہش ڈھکی چھپی نہیں ہے بلکہ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس اور خارجہ امور سے متعلق رکن کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ایڈ رائس نے اس خواہش کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہاتھا کہ امریکا بھارت سے ایشیا میں اہم کام لینا چاہتاہے۔امریکا ایک طرف بھارت کو چین کے خلاف متوازی قوت کے طورپر کھڑا کرنا چاہتاہے اور دوسری طرف بھارت سے ایشیا میں اپنے مفادات کی نگرانی کا کام بھی لینا چاہتاہے۔بھارتی رہنما امریکا کی اس خواہش سے لاعلم نہیں ہیں لیکن وہ امریکی رہنماؤں کی اس خواہش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا سے زیادہ سے زیادہ جدید اسلحہ کے ساتھ ہی اقتصادی امدا د بھی بٹورنے کی کوشش کررہے ہیں اوراس طرح امریکا سے طویل المیعاد بنیادوں پر فوائد حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت کو اپنے ان مقاصد میں مزید بڑی کامیابیوں کی توقع ہے۔لیکن جیسا کہ اوپر لکھاہے کہ اس کے باوجود اس خطے میں امریکا کی نگرانی میں امریکی رہنماؤں خاص طورپر امریکا کے فوجی منصوبہ سازوں کے تیار کردہ منصوبوں کے مطابق کردار کی ادائیگی کی صلاحیت اور وقت پڑنے پر بھارتی رہنماؤں کی جانب سے مطلوبہ کردار کی ادائیگی پر ایک سوالیہ نشان لگا رہے گا۔
روس سے حاصل کردہ اسلحہ کے انبار اور اب امریکا سے حاصل ہونے والے جدید ہتھیاروں کے بل پر بھارت اپنے پڑوسی ممالک پر اپنی توسیع پسندانہ پالیسی مسلط کرنے کی کوششوں پر عمل پیرا نظر آتاہے ۔پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر مسلسل چھیڑ چھاڑ سے اس کے ان توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور نشاندہی ہوتی ہے اور اب پوری امن پسند دنیا بھی بھارت کی اس مذموم خواہش کو سمجھنے لگی ہے یہی وجہ ہے کہ سفارتی محاذ پر بھارت کی مسلسل چیخ وپکار کے باوجود خود امریکا بھی بھارت کی پاکستان مخالف پالیسیوں کی حمایت میں ایک لفظ بھی کہنے کو تیار نہیں ہوا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی انسانیت سوز کارروائیوں کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ اسے یہ کارروائیاں بند کر کے افہام وتفہیم کی فضا قائم کرنے کی تلقین کی ہے۔
ماضی میں امریکا اس خطے میں مفادات کے تحفظ اور دفاع کیلیے پاکستان پر انحصار کرتاتھا کیونکہ پاکستان جس طرح امریکا کومدد پہنچاسکتاتھا اور اس نے افغانستان میں روسی مداخلت کے وقت جس کا عملی مظاہرہ بھی کیا وہ بھارت نہیں کرسکتاتھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ تمام ملکوں کی حکمت عملیاں تبدیل ہوتی ہیں اور اب پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی بنیاد پر امریکا زیادہ دنوں اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلیے پاکستان پر انحصار کرنے کوتیار نہیں ہے بلکہ وہ اسے عملی طورپر قابل عمل بھی تصور نہیں کرتا، دوسری طرف اب بھارت بھی ماضی کی طرح کسی بھی ملک کے ساتھ فوجی وابستگی کا معاہدہ نہ کرنے کی پالیسی کو نظر انداز کرچکا ہے اور اب وہ اس خطے میں اپنی بادشاہت قائم کرنے کیلیے سب کچھ کر گزرنے کیلیے تیار نظر آتاہے ،یہی وجہ ہے کہ اب امریکی رہنماؤں نے بھارت کی طرف خصوصی دوستی کا ہاتھ بڑھانا ضروری تصور کیاہے ، اس طرح امریکا کا خیال ہے کہ وہ ایک طرف پاکستان کو چین کے ساتھ گہری دوستی اور وابستگی کا مزہ چکھاسکتاہے اور دوسری طرف چین کے خلاف بھارت کو موثر طورپر استعمال کرسکتاہے کیونکہ چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے ہیں اوردونوں ملکوں کے درمیان سرحدی امور سمیت کئی اہم معاملات میں شدید اختلافات موجود ہیں۔
یہ ضرور ہے کہ امریکا نے حالیہ برسوں کے دوران بھارت کو انتہائی خصوصی اہمیت دینا شروع کردی ہے جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے بھارت کے ساتھ مل کر فوری کارروائیوں کیلیے ایک خصوصی شعبہ تشکیل دیا ہے جس کانام ہی انڈین ریپڈ ری ایکشن سیل رکھاگیاہے۔بھارت اورامریکا کے درمیان گزشتہ 66 سال سے موجود خصوصی اور قریبی تعلقات کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بھارت گزشتہ 66سال سے امریکا سے سب سے زیادہ اقتصادی پارٹنر ملک رہاہے۔حال ہی میں امریکی سینیٹ کی مسلح افواج سے متعلق کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے امریکی فوج کے بحرالکاہل کے علاقے کے سربراہ ایڈمرل ہیری نے برملا یہ اعتراف کیاتھا کہ امریکا کیلیے بھارت میں شاندار مواقع موجود ہیں۔
دوسری جانب 1950 سے پاکستان کے امریکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور پاکستان نے امریکا کو جب بھی ضرورت پڑی ہے ہر طرح کی مدد فراہم کی ہے یہاں تک کہ اس کو فوجی کارروائیوں کیلیے اپنی سرزمین کو پلیٹ فارم کے طورپر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی گریز نہیں کیاہے لیکن اس کے باوجود پاکستان اور امریکا کے تعلقات ہمیشہ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں ، اب نریندرا مودی کی حکومت پاک امریکا تعلقات میں پیداہونے والے تناؤ کو مکمل طورپر اپنے مفادات کیلیے استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے اور بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی رہی ہے جس کا اندازہ پاکستان اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں اور بھارت اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت سے لگایاجاسکتاہے۔
اب جبکہ ڈونلڈ امریکا کے صدر کاعہدہ سنبھالنے کیلیے تیار ہیں پاک امریکا تعلقات کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی ہونے اور امریکی پالیسیوں میں پاکستان کی جگہ بھارت کو زیادہ اہمیت دیے جانے کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتاکیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ صدر بننے کے بعد بھارت کے ساتھ دوستی کو زیادہ اہمیت دیں گے اور امریکا بھارت کا زیادہ گہرا دوست بن جائے گا،ہمارے منصوبہ اور پالیسی سازوں کو اس صورت حال پر توجہ دینی چاہئے اور انھیں یہ جان لینا چاہئے کہ وزیر اعظم کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد کے پیغام یا انھیں کشمیر کامنصفانہ حل نکالنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر یا وعدے یاد دلانے سے پاکستان امریکا کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا اس کے لیے امریکی حلقوں خاص طورپر ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریسی ارکان کے درمیان بھرپور لابنگ کرنے اور انھیں اس خطے میں پاکستان کی اہمیت کا احساس دلانے کے ساتھ ہی امریکا کیلیے پاکستان کی ماضی کی خدمات کا احساس دلانے کی بھی ضرورت ہے جب تک ایسا نہیں کیاجاتا اس وقت تک پاک امریکا تعلقات میں موجود تناؤ کی موجودہ کیفیت نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوگی بلکہ بھارتی سازشوں اور لابنگ کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ہوتے جانے کے خدشات کو بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔بدقسمتی سے پاکستان اس وقت ایک ایساملک ہے جس کے پاس کوئی کل وقتی وزیر خارجہ بھی نہیں ہے اور امورخارجہ مشیروں اور وزیر اعظم کے معاونین کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم کواس بات کااحساس کرنا چاہئے کہ اس وقت دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں اور تبدیلی کی اس لہر میں اپنی اہمیت برقرار رکھنے کیلیے پوری دنیا کواپنی اہمیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے اور یہ کام ایک کل وقتی اور واقعی باصلاحیت اور امور خارجہ پر دسترس رکھنے والا وزیر خارجہ ہی کرسکتاہے اس لیے وزیر اعظم کو وقت ضائع کیے بغیر وزیر خارجہ کا تقرر کرنا چاہئے تاکہ ملکی معاملات عالمی سطح پر احسن طریقہ سے چلائے جاسکیں اور مختلف عالمی واقعات اورحالات اور تنازعات پر پاکستان کے موقف کو بھر پور طریقے سے پیش کیاجاسکے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر