وجود

... loading ...

وجود

آبیل مجھے مار۔۔۔ مودی جی پاکستان کے بعد چین سے سینگ اَڑانے لگے

جمعرات 10 نومبر 2016 آبیل مجھے مار۔۔۔ مودی جی پاکستان کے بعد چین سے سینگ اَڑانے لگے

متنازع ارونا چل پردیش میں امریکی سفیر کا دورہ کرایا گیا،اب تبت کے بدھشٹ رہنما دلائی لامہ کو دعوت دے کرچین کو تاؤ دلانے میں کوشاں
امریکی بل بوتے پر بھارت کی عالمی طاقتوں کاغنڈہ بننے کی کوشش اسے منہ کے بل گرائے گی ،بھارتی اہل دانش بھی سرکار کی منطق سے پریشان
shutterstock_119878888بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کوئی حیران کن شخصیت نہیں۔ ان کے بارے میں جوجوتوقعات اور خدشات تھے وہ عین اس کے مطابق عمل کررہے ہیں جن میں سے ایک توقع علاقے کاغنڈہ بننے کی کوشش تھی۔ ایٹمی طاقت کی حامل سپر پاورز کی طرح اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت حاصل کرکے عالمی طاقت بننے میں مکمل اورفیصلہ کن ناکامی کے بعداب بھارت یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس نے عالمی طاقتوں کے سرپر خطے میں غنڈہ گردی کرنی ہے اور اس کام کے لیے وہ کسی بھی حدتک جانے کوتیارہے ۔
تازہ ترین معاملہ بھارت کی جانب سے چین کو غصہ دلانے کی کوشش ہے کہ چندروز قبل ہی امریکی سفیر نے اکتوبر2016میں متنازع ارونا چل پردیش کے شہرتاوانگ کا دورہ کیا ہے اس متنازع علاقے کے دورہ کا مقصد واضح طورپراس متنازع خطہ پربھار ت کے تسلط کوتسلیم کرنے اورچین کے دعوے کومسترد کرنے کے مترادف ہے جس کے باعث چین نے نہ صرف سخت احتجاج کیا بلکہ ساؤتھ مارننگ پوسٹ نے اس پر بڑی دلچسپ سرخی لگائی کہ امریکی سفیر نے ایک بھارت کے قبضہ شدہ شہر کادورہ کرکے بھات کوشے جبکہ چین کو دھکا دیاہے ۔
اس سے چند روز قبل ہی بھارت نے بدھوں کے جلاوطن روحانی پیشواء دلائی لامہ کوتاوانگ میں دورہ کی دعوت دیکراروناچل پردیش آنے کی دعوت دی ہے گو یہ مجوزہ دورہ آئندہ برس مارچ میں ہونا ہے تاہم فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے 28اکتوبر کویہ کہہ کرمسترد کر دیاہے کہ اس متنازع علاقے میں دلائی لامہ کو دعوت دینے کے اقدام سے نہ صرف امن کودھچکا پہنچے گابلکہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزیدخراب ہوں گے ۔دفترخارجہ کے ترجمان نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ بھارت چین دشمنی یا کسی علیحدگی پسند قوت یافرد کواپنا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت نہ دے ۔
دلائی لامہ 1959میں چین میں تبت تنازع کے بعد فوری طور پر بھارت میں پناہ گزیں ہوگئے تھے اوراس سے قبل بھی 6بار تاوانگ کا دورہ کرچکے ہیں جس پر چین کادعویٰ ہے کہ تبت کاحصہ ہونے کی حیثیت سے یہ چین کا شہر ہے جس پربھارت ناجائز طورپرقابض ہے ۔یہ نصف صدی پرانا تنازع ہے اورچین بھارت کوغاصب تصور کرتاہے ۔
بھارت کاگمان یہ ہے کہ شاید وہ عالمی طاقتوں کی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے چین کومنہ دے سکتاہے ۔اوراس ذریعہ سے وہ نہ صرف چین سے ٹکر لینے والی عالمی طاقت کے طورپرابھر سکتاہے بلکہ اس کے نتیجے میں وہ مغربی دنیا امریکا وغیرہ سے وہ مراعات بھی لے سکتاہے جو وہ استعماری ایجنٹ کے طورپر چین سے ٹکرانے کے لیے ضروری سمجھے گا۔
بھارت کی یہ خام خیالی اسے پاک چین بلاک سے نہ صرف محاذ آرائی پر کھڑا کردے گی بلکہ اسے خطے میں تنہا بھی کرے گی کیونکہ ویسے بھی سی پیک کے خلاف بھارت کے اعتراف کو کسی نے تاحال سنجیدہ نہیں لیا۔
بھارت 1962میں چین کے ساتھ اروناچل پردیش کی ملکیت کے معاملہ پر ایک جنگ کرچکا ہے جس میں چین نے اروناچل پردیش کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیاجو اس نے بعدازاں رضاکارانہ طورپرخالی کردیے۔ ا رونا چل پردیش کا رقبہ 87000 مربع کلومیٹرجبکہ آبادی 15لاکھ ہے ۔
تبت کے خطہ میں عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں نئی نہیں ہیں، 1950میں تبت پر چین کے کنٹرول مستحکم کرنے کے بعد جنگ آزادی کے نام پر سی آئی اے نے بدھسٹ کی ملیشیاء قائم کی ، انہیں مسلح کیا اورچین کے خلاف استعمال کیا۔
دلچسپ امریہ ہے کہ تبت کے مسلمانوں کی اکثریت ’’ہوئی‘‘ نسل کے چینی باشندوں پر مشتمل ہے جو چینی زبان بولتے ہیں اور انہوں نے سیاسی جدوجہد میں ہمیشہ چین کاساتھ دیاہے جس کے باعث بدھسٹ تبتیوں سے ان کے تعلقات خراب رہے جبکہ تبتی علاقے سے ایک مختصرحصہ کبھی مسلمانوں پر بھی مشتمل ہے جو اپنے آپ کو کشمیری یابرلی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ خود مسلمانوں کے آپس کے تعلقات بھی اچھے نہیں کیونکہ سیاسی طورپر دونوں مختلف قوتوں کے حمایتی ہیں کہ ایک موقع پر بعض مسلمانوں نے خصوصا جو اروناچل پردیش میں رہ گئے بھارت سے یہ کہہ کرشہریت کاتقاضہ کیا کہ چونکہ وہ کشمیری النسل ہیں لہذا انہیں بھارتی شہریت دی جائے جو کہ دے دی گئی ۔
اروناچل پردیش اورتبت کا خطہ چونکہ برماسے مشترکہ سرحد رکھتاہے اوریہ مسلمانوں کا چین کی جانب جھکاؤ اورحمایت اور خود اکثریت کا چینی النسل ہونا ،برمامیں بدھسٹوں اور مسلمانوں کی کشیدگی کی ایک وجہ ہے۔
ایسا محسوس ہوتاہے کہ بھارت نے خطے کی سپر طاقت بننے میں ناکامی کے بعد عالمی طاقتوں کے آلہ کار غنڈا بننے کے کردار کوتبدیل کرلیاہے اور اسی بناپر وہ پاکستان اورچین سے سینگ لڑانے پرتُل گیاہے ۔جس کی تازہ مثال چین سے کشیدگی ہے ۔
اورصرف یہی نہیں حالیہ چند مہینوں میں ساؤتھ چائناسمندر کی ملکیت کے معاملہ پرجہاں چین کی ویتنام ،فلپائن اورجاپان سمیت کئی ملکوں سے کشیدگی ہے، اس قضیہ میں بھی بھارت نے اپنا گھٹیا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف عالمی ثالثی عدالت میں چین کے خلاف موقف اختیار کیا بلکہ ساوتھ چائنا سمندر کے مسئلہ پر بھارت نے ویتنام ، جاپان اورفلپائن وغیرہ سے الگ الگ اتحاد کرکے چین کے خلاف عملاًایک مورچہ بنانے کی کوشش کی ہے جسے چین نے نہایت باریک بینی اورتشویش سے دیکھا ہے، ایسا نہیں ہے کہ چین خاموش بیٹھا بلکہ چین نے جہاں ماضی میں بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت کی کوششوں کوناکام بنایا وہیں اس نے برکس کانفرنس میں بھی بھات کی ایک نہ چلنے دی ۔
اب خودبھارت میں بھی چین کے ساتھ سینگ لڑانے کی مودی سرکار کی کوششوں پر سخت تنقید شروع ہوچکی ہے کہ بلاوجہ محض سیاسی مفادات کے حصول کے لیے چین جیسے پڑوسی سے جوبھارت کے دشمن پاکستان کا زبردست حامی اوردوست بھی ، اس سے ٹکر لینا بھارت کی بھلائی نہیں تاہم مودی اس طرح کی کسی بھی عقل کی بات سننے کوتیار نہیں ہے اوررفتہ رفتہ ہر طرف مورچے کھول رہاہے جوخود بھارت کی برداشت سے باہر ہوگا۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر