وجود

... loading ...

وجود

آبیل مجھے مار۔۔۔ مودی جی پاکستان کے بعد چین سے سینگ اَڑانے لگے

جمعرات 10 نومبر 2016 آبیل مجھے مار۔۔۔ مودی جی پاکستان کے بعد چین سے سینگ اَڑانے لگے

متنازع ارونا چل پردیش میں امریکی سفیر کا دورہ کرایا گیا،اب تبت کے بدھشٹ رہنما دلائی لامہ کو دعوت دے کرچین کو تاؤ دلانے میں کوشاں
امریکی بل بوتے پر بھارت کی عالمی طاقتوں کاغنڈہ بننے کی کوشش اسے منہ کے بل گرائے گی ،بھارتی اہل دانش بھی سرکار کی منطق سے پریشان
shutterstock_119878888بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کوئی حیران کن شخصیت نہیں۔ ان کے بارے میں جوجوتوقعات اور خدشات تھے وہ عین اس کے مطابق عمل کررہے ہیں جن میں سے ایک توقع علاقے کاغنڈہ بننے کی کوشش تھی۔ ایٹمی طاقت کی حامل سپر پاورز کی طرح اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت حاصل کرکے عالمی طاقت بننے میں مکمل اورفیصلہ کن ناکامی کے بعداب بھارت یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس نے عالمی طاقتوں کے سرپر خطے میں غنڈہ گردی کرنی ہے اور اس کام کے لیے وہ کسی بھی حدتک جانے کوتیارہے ۔
تازہ ترین معاملہ بھارت کی جانب سے چین کو غصہ دلانے کی کوشش ہے کہ چندروز قبل ہی امریکی سفیر نے اکتوبر2016میں متنازع ارونا چل پردیش کے شہرتاوانگ کا دورہ کیا ہے اس متنازع علاقے کے دورہ کا مقصد واضح طورپراس متنازع خطہ پربھار ت کے تسلط کوتسلیم کرنے اورچین کے دعوے کومسترد کرنے کے مترادف ہے جس کے باعث چین نے نہ صرف سخت احتجاج کیا بلکہ ساؤتھ مارننگ پوسٹ نے اس پر بڑی دلچسپ سرخی لگائی کہ امریکی سفیر نے ایک بھارت کے قبضہ شدہ شہر کادورہ کرکے بھات کوشے جبکہ چین کو دھکا دیاہے ۔
اس سے چند روز قبل ہی بھارت نے بدھوں کے جلاوطن روحانی پیشواء دلائی لامہ کوتاوانگ میں دورہ کی دعوت دیکراروناچل پردیش آنے کی دعوت دی ہے گو یہ مجوزہ دورہ آئندہ برس مارچ میں ہونا ہے تاہم فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے 28اکتوبر کویہ کہہ کرمسترد کر دیاہے کہ اس متنازع علاقے میں دلائی لامہ کو دعوت دینے کے اقدام سے نہ صرف امن کودھچکا پہنچے گابلکہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزیدخراب ہوں گے ۔دفترخارجہ کے ترجمان نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ بھارت چین دشمنی یا کسی علیحدگی پسند قوت یافرد کواپنا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت نہ دے ۔
دلائی لامہ 1959میں چین میں تبت تنازع کے بعد فوری طور پر بھارت میں پناہ گزیں ہوگئے تھے اوراس سے قبل بھی 6بار تاوانگ کا دورہ کرچکے ہیں جس پر چین کادعویٰ ہے کہ تبت کاحصہ ہونے کی حیثیت سے یہ چین کا شہر ہے جس پربھارت ناجائز طورپرقابض ہے ۔یہ نصف صدی پرانا تنازع ہے اورچین بھارت کوغاصب تصور کرتاہے ۔
بھارت کاگمان یہ ہے کہ شاید وہ عالمی طاقتوں کی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے چین کومنہ دے سکتاہے ۔اوراس ذریعہ سے وہ نہ صرف چین سے ٹکر لینے والی عالمی طاقت کے طورپرابھر سکتاہے بلکہ اس کے نتیجے میں وہ مغربی دنیا امریکا وغیرہ سے وہ مراعات بھی لے سکتاہے جو وہ استعماری ایجنٹ کے طورپر چین سے ٹکرانے کے لیے ضروری سمجھے گا۔
بھارت کی یہ خام خیالی اسے پاک چین بلاک سے نہ صرف محاذ آرائی پر کھڑا کردے گی بلکہ اسے خطے میں تنہا بھی کرے گی کیونکہ ویسے بھی سی پیک کے خلاف بھارت کے اعتراف کو کسی نے تاحال سنجیدہ نہیں لیا۔
بھارت 1962میں چین کے ساتھ اروناچل پردیش کی ملکیت کے معاملہ پر ایک جنگ کرچکا ہے جس میں چین نے اروناچل پردیش کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیاجو اس نے بعدازاں رضاکارانہ طورپرخالی کردیے۔ ا رونا چل پردیش کا رقبہ 87000 مربع کلومیٹرجبکہ آبادی 15لاکھ ہے ۔
تبت کے خطہ میں عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں نئی نہیں ہیں، 1950میں تبت پر چین کے کنٹرول مستحکم کرنے کے بعد جنگ آزادی کے نام پر سی آئی اے نے بدھسٹ کی ملیشیاء قائم کی ، انہیں مسلح کیا اورچین کے خلاف استعمال کیا۔
دلچسپ امریہ ہے کہ تبت کے مسلمانوں کی اکثریت ’’ہوئی‘‘ نسل کے چینی باشندوں پر مشتمل ہے جو چینی زبان بولتے ہیں اور انہوں نے سیاسی جدوجہد میں ہمیشہ چین کاساتھ دیاہے جس کے باعث بدھسٹ تبتیوں سے ان کے تعلقات خراب رہے جبکہ تبتی علاقے سے ایک مختصرحصہ کبھی مسلمانوں پر بھی مشتمل ہے جو اپنے آپ کو کشمیری یابرلی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ خود مسلمانوں کے آپس کے تعلقات بھی اچھے نہیں کیونکہ سیاسی طورپر دونوں مختلف قوتوں کے حمایتی ہیں کہ ایک موقع پر بعض مسلمانوں نے خصوصا جو اروناچل پردیش میں رہ گئے بھارت سے یہ کہہ کرشہریت کاتقاضہ کیا کہ چونکہ وہ کشمیری النسل ہیں لہذا انہیں بھارتی شہریت دی جائے جو کہ دے دی گئی ۔
اروناچل پردیش اورتبت کا خطہ چونکہ برماسے مشترکہ سرحد رکھتاہے اوریہ مسلمانوں کا چین کی جانب جھکاؤ اورحمایت اور خود اکثریت کا چینی النسل ہونا ،برمامیں بدھسٹوں اور مسلمانوں کی کشیدگی کی ایک وجہ ہے۔
ایسا محسوس ہوتاہے کہ بھارت نے خطے کی سپر طاقت بننے میں ناکامی کے بعد عالمی طاقتوں کے آلہ کار غنڈا بننے کے کردار کوتبدیل کرلیاہے اور اسی بناپر وہ پاکستان اورچین سے سینگ لڑانے پرتُل گیاہے ۔جس کی تازہ مثال چین سے کشیدگی ہے ۔
اورصرف یہی نہیں حالیہ چند مہینوں میں ساؤتھ چائناسمندر کی ملکیت کے معاملہ پرجہاں چین کی ویتنام ،فلپائن اورجاپان سمیت کئی ملکوں سے کشیدگی ہے، اس قضیہ میں بھی بھارت نے اپنا گھٹیا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف عالمی ثالثی عدالت میں چین کے خلاف موقف اختیار کیا بلکہ ساوتھ چائنا سمندر کے مسئلہ پر بھارت نے ویتنام ، جاپان اورفلپائن وغیرہ سے الگ الگ اتحاد کرکے چین کے خلاف عملاًایک مورچہ بنانے کی کوشش کی ہے جسے چین نے نہایت باریک بینی اورتشویش سے دیکھا ہے، ایسا نہیں ہے کہ چین خاموش بیٹھا بلکہ چین نے جہاں ماضی میں بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت کی کوششوں کوناکام بنایا وہیں اس نے برکس کانفرنس میں بھی بھات کی ایک نہ چلنے دی ۔
اب خودبھارت میں بھی چین کے ساتھ سینگ لڑانے کی مودی سرکار کی کوششوں پر سخت تنقید شروع ہوچکی ہے کہ بلاوجہ محض سیاسی مفادات کے حصول کے لیے چین جیسے پڑوسی سے جوبھارت کے دشمن پاکستان کا زبردست حامی اوردوست بھی ، اس سے ٹکر لینا بھارت کی بھلائی نہیں تاہم مودی اس طرح کی کسی بھی عقل کی بات سننے کوتیار نہیں ہے اوررفتہ رفتہ ہر طرف مورچے کھول رہاہے جوخود بھارت کی برداشت سے باہر ہوگا۔


متعلقہ خبریں


اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر