وجود

... loading ...

وجود

آبیل مجھے مار۔۔۔ مودی جی پاکستان کے بعد چین سے سینگ اَڑانے لگے

جمعرات 10 نومبر 2016 آبیل مجھے مار۔۔۔ مودی جی پاکستان کے بعد چین سے سینگ اَڑانے لگے

متنازع ارونا چل پردیش میں امریکی سفیر کا دورہ کرایا گیا،اب تبت کے بدھشٹ رہنما دلائی لامہ کو دعوت دے کرچین کو تاؤ دلانے میں کوشاں
امریکی بل بوتے پر بھارت کی عالمی طاقتوں کاغنڈہ بننے کی کوشش اسے منہ کے بل گرائے گی ،بھارتی اہل دانش بھی سرکار کی منطق سے پریشان
shutterstock_119878888بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کوئی حیران کن شخصیت نہیں۔ ان کے بارے میں جوجوتوقعات اور خدشات تھے وہ عین اس کے مطابق عمل کررہے ہیں جن میں سے ایک توقع علاقے کاغنڈہ بننے کی کوشش تھی۔ ایٹمی طاقت کی حامل سپر پاورز کی طرح اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت حاصل کرکے عالمی طاقت بننے میں مکمل اورفیصلہ کن ناکامی کے بعداب بھارت یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس نے عالمی طاقتوں کے سرپر خطے میں غنڈہ گردی کرنی ہے اور اس کام کے لیے وہ کسی بھی حدتک جانے کوتیارہے ۔
تازہ ترین معاملہ بھارت کی جانب سے چین کو غصہ دلانے کی کوشش ہے کہ چندروز قبل ہی امریکی سفیر نے اکتوبر2016میں متنازع ارونا چل پردیش کے شہرتاوانگ کا دورہ کیا ہے اس متنازع علاقے کے دورہ کا مقصد واضح طورپراس متنازع خطہ پربھار ت کے تسلط کوتسلیم کرنے اورچین کے دعوے کومسترد کرنے کے مترادف ہے جس کے باعث چین نے نہ صرف سخت احتجاج کیا بلکہ ساؤتھ مارننگ پوسٹ نے اس پر بڑی دلچسپ سرخی لگائی کہ امریکی سفیر نے ایک بھارت کے قبضہ شدہ شہر کادورہ کرکے بھات کوشے جبکہ چین کو دھکا دیاہے ۔
اس سے چند روز قبل ہی بھارت نے بدھوں کے جلاوطن روحانی پیشواء دلائی لامہ کوتاوانگ میں دورہ کی دعوت دیکراروناچل پردیش آنے کی دعوت دی ہے گو یہ مجوزہ دورہ آئندہ برس مارچ میں ہونا ہے تاہم فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے 28اکتوبر کویہ کہہ کرمسترد کر دیاہے کہ اس متنازع علاقے میں دلائی لامہ کو دعوت دینے کے اقدام سے نہ صرف امن کودھچکا پہنچے گابلکہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزیدخراب ہوں گے ۔دفترخارجہ کے ترجمان نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ بھارت چین دشمنی یا کسی علیحدگی پسند قوت یافرد کواپنا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت نہ دے ۔
دلائی لامہ 1959میں چین میں تبت تنازع کے بعد فوری طور پر بھارت میں پناہ گزیں ہوگئے تھے اوراس سے قبل بھی 6بار تاوانگ کا دورہ کرچکے ہیں جس پر چین کادعویٰ ہے کہ تبت کاحصہ ہونے کی حیثیت سے یہ چین کا شہر ہے جس پربھارت ناجائز طورپرقابض ہے ۔یہ نصف صدی پرانا تنازع ہے اورچین بھارت کوغاصب تصور کرتاہے ۔
بھارت کاگمان یہ ہے کہ شاید وہ عالمی طاقتوں کی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے چین کومنہ دے سکتاہے ۔اوراس ذریعہ سے وہ نہ صرف چین سے ٹکر لینے والی عالمی طاقت کے طورپرابھر سکتاہے بلکہ اس کے نتیجے میں وہ مغربی دنیا امریکا وغیرہ سے وہ مراعات بھی لے سکتاہے جو وہ استعماری ایجنٹ کے طورپر چین سے ٹکرانے کے لیے ضروری سمجھے گا۔
بھارت کی یہ خام خیالی اسے پاک چین بلاک سے نہ صرف محاذ آرائی پر کھڑا کردے گی بلکہ اسے خطے میں تنہا بھی کرے گی کیونکہ ویسے بھی سی پیک کے خلاف بھارت کے اعتراف کو کسی نے تاحال سنجیدہ نہیں لیا۔
بھارت 1962میں چین کے ساتھ اروناچل پردیش کی ملکیت کے معاملہ پر ایک جنگ کرچکا ہے جس میں چین نے اروناچل پردیش کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیاجو اس نے بعدازاں رضاکارانہ طورپرخالی کردیے۔ ا رونا چل پردیش کا رقبہ 87000 مربع کلومیٹرجبکہ آبادی 15لاکھ ہے ۔
تبت کے خطہ میں عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں نئی نہیں ہیں، 1950میں تبت پر چین کے کنٹرول مستحکم کرنے کے بعد جنگ آزادی کے نام پر سی آئی اے نے بدھسٹ کی ملیشیاء قائم کی ، انہیں مسلح کیا اورچین کے خلاف استعمال کیا۔
دلچسپ امریہ ہے کہ تبت کے مسلمانوں کی اکثریت ’’ہوئی‘‘ نسل کے چینی باشندوں پر مشتمل ہے جو چینی زبان بولتے ہیں اور انہوں نے سیاسی جدوجہد میں ہمیشہ چین کاساتھ دیاہے جس کے باعث بدھسٹ تبتیوں سے ان کے تعلقات خراب رہے جبکہ تبتی علاقے سے ایک مختصرحصہ کبھی مسلمانوں پر بھی مشتمل ہے جو اپنے آپ کو کشمیری یابرلی قرار دیتے ہیں۔چنانچہ خود مسلمانوں کے آپس کے تعلقات بھی اچھے نہیں کیونکہ سیاسی طورپر دونوں مختلف قوتوں کے حمایتی ہیں کہ ایک موقع پر بعض مسلمانوں نے خصوصا جو اروناچل پردیش میں رہ گئے بھارت سے یہ کہہ کرشہریت کاتقاضہ کیا کہ چونکہ وہ کشمیری النسل ہیں لہذا انہیں بھارتی شہریت دی جائے جو کہ دے دی گئی ۔
اروناچل پردیش اورتبت کا خطہ چونکہ برماسے مشترکہ سرحد رکھتاہے اوریہ مسلمانوں کا چین کی جانب جھکاؤ اورحمایت اور خود اکثریت کا چینی النسل ہونا ،برمامیں بدھسٹوں اور مسلمانوں کی کشیدگی کی ایک وجہ ہے۔
ایسا محسوس ہوتاہے کہ بھارت نے خطے کی سپر طاقت بننے میں ناکامی کے بعد عالمی طاقتوں کے آلہ کار غنڈا بننے کے کردار کوتبدیل کرلیاہے اور اسی بناپر وہ پاکستان اورچین سے سینگ لڑانے پرتُل گیاہے ۔جس کی تازہ مثال چین سے کشیدگی ہے ۔
اورصرف یہی نہیں حالیہ چند مہینوں میں ساؤتھ چائناسمندر کی ملکیت کے معاملہ پرجہاں چین کی ویتنام ،فلپائن اورجاپان سمیت کئی ملکوں سے کشیدگی ہے، اس قضیہ میں بھی بھارت نے اپنا گھٹیا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف عالمی ثالثی عدالت میں چین کے خلاف موقف اختیار کیا بلکہ ساوتھ چائنا سمندر کے مسئلہ پر بھارت نے ویتنام ، جاپان اورفلپائن وغیرہ سے الگ الگ اتحاد کرکے چین کے خلاف عملاًایک مورچہ بنانے کی کوشش کی ہے جسے چین نے نہایت باریک بینی اورتشویش سے دیکھا ہے، ایسا نہیں ہے کہ چین خاموش بیٹھا بلکہ چین نے جہاں ماضی میں بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی مستقل رکنیت کی کوششوں کوناکام بنایا وہیں اس نے برکس کانفرنس میں بھی بھات کی ایک نہ چلنے دی ۔
اب خودبھارت میں بھی چین کے ساتھ سینگ لڑانے کی مودی سرکار کی کوششوں پر سخت تنقید شروع ہوچکی ہے کہ بلاوجہ محض سیاسی مفادات کے حصول کے لیے چین جیسے پڑوسی سے جوبھارت کے دشمن پاکستان کا زبردست حامی اوردوست بھی ، اس سے ٹکر لینا بھارت کی بھلائی نہیں تاہم مودی اس طرح کی کسی بھی عقل کی بات سننے کوتیار نہیں ہے اوررفتہ رفتہ ہر طرف مورچے کھول رہاہے جوخود بھارت کی برداشت سے باہر ہوگا۔


متعلقہ خبریں


اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

مضامین
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے! وجود پیر 15 جون 2026
انصاف کوآواز دو انصاف کہاں ہے!

خود شناسی سے خدا شناسی تک وجود پیر 15 جون 2026
خود شناسی سے خدا شناسی تک

بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ وجود اتوار 14 جون 2026
بھارتی مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ

غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار وجود اتوار 14 جون 2026
غربت،مایوسی اور حکومتی اعدادوشمار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر