... loading ...
افغانستان کی مالی امداد کے لیے برسلز اجلاس میں 70ممالک اور 30 بین الاقوامی امدادی اداروں کے نمائندے شریک ہوں گے
افغانستان کو مزید امداد دینے کے وعدوں کاانحصار اصلاحات اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اقدامات پر ہوگا، امریکی حکام

افغانستان کی حکومت ان دنوں شدید معاشی مشکلات کاشکار ہے اور صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب افغان حکومت کو نہ صرف یہ کہ سرکاری اہلکاروں کوتنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مشکلات کا سامنا ہے بلکہ صورت حال اس حد تک خراب ہوچکی ہے کہ افغان نیشنل آرمی کے اہلکاروں کو کئی کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں ،جس کی وجہ سے وہ شدید مالی مشکلات کاشکار ہیں اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا اسلحہ اور چیک پوسٹیں اپنے دشمن طالبان کو فروخت کرنے اور طالبان کے تیار کردہ خود کش بمباروں کو خود اپنی گاڑیوں میں بٹھاکر ان کے مقررہ اہداف تک پہنچانے پر مجبور ہوگئے ہیں،عالمی برادری کو افغان حکومت کو درپیش اس سنگین مالی کا بحران کا کسی حد تک اندازہ ہوچکاہے یہی وجہ ہے کہ اب اگلے ہفتے افغانستان کی مالی امداد کے لیے ڈونر کانفرنس منعقد کرنے کافیصلہ کیا گیاہے۔ افغانستان اوریورپی یونین برسلز میں 4۔5 نومبرکو ڈونرز کانفرنس کی میزبانی کریں گے جس میں معاونت کرنے والے ملکوں اور اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔توقع ہے آئندہ ہفتے ہونے والی اس بین الااقوامی کانفرنس میں افغانستان کے لیے 3ارب ڈالر کی سالانہ امداد کا وعدہ کیا جاسکتا ہے۔
اس کانفرنس کامقصد افغانستان میں پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات کی حمایت کا حصول ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس کانفرنس میں 70ملکوں اور 30بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔یہ کانفرنس ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب افغانستان میں امریکی اور بین الااقوامی افواج کی تعداد میں نمایاں کمی ہو چکی ہے۔ اس کا ایک بڑا مقصد کابل حکومت کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے۔
امریکا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والی بین الااقوامی کانفرنس میں متوقع طور پر افغانستان کے لیے تین ارب ڈالر کی سالانہ امداد کا وعدہ کیا جاسکتا ہے تاہم یہ رقم غیر مشروط نہیں ہوگی بلکہ اس رقم کی فراہمی کا انحصار اصلاحات اور انسداد بد عنوانی کے اقدامات پر ہوگا۔ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکاکے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن نے واشنگٹن فورم میں بتایاکہ امریکی حکومت افغانستان کے لیے 2020 تک امریکی اعانت کو موجودہ سطح یا اس کے قریب قریب برقرار رکھنے کے لیے کانگریس سے رجوع کرے گی۔رچرڈ اولسن نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاونت کی فراہمی کا انحصار افغان حکومت کی طرف سے انسداد بدعنوانی اور دیگر اصلاحات کی طرف پیش رفت پر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ افغان حکومت ڈونرز کی معاونت پر انحصار کم کرتے ہوئے معاشی نمو کے لیے وسط مدتی منصوبوں کا اعلان کرے گی۔
قبل ازیں رواں ماہ امریکی سینیٹرز نے متنبہ کیا تھا کہ بدعنوانی کے معاملے سے نمٹنے میں ناکامی کی صورت میں وہ امریکاکی طرف سے افغانستان میں خرچ کیے جانے والے اربوں ڈالر فراہم کرنے کے بارے میں نظر ثانی کر سکتے ہیں۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ امریکاسمیت افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے دیگر ممالک کو اس بات پر تشویش ہے کہ ان کی جانب سے افغانستان کو اصلاح احوال اور اپنے عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے فراہم کی جانے والی اربوں ڈالر مالیت کی امداد اس کے اصل مقاصد پر خرچ نہیں کی جارہی ہے ،رواں ماہ امریکاکے افغانستان کے لیے انسپکٹر جنرل کی طرف سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں واشنگٹن کی طرف سے بغیر کسی نگرانی کے عمل کے اربوں ڈالر کی امداد کی فراہمی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اور کہا گیا کہ یہ بات بدعنوانی کا باعث بنتی ہے اور یہ صورت حال امریکی مشن پر اثر انداز ہوتی ہے۔
امریکاہر سال افغانستان میں پانچ ارب ڈالر خرچ کرتا ہے جن میں تقریباً چار ارب دفاع اور قومی سلامتی جب کہ ایک ارب غیر فوجی معاونت کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں جب کہ اس کے علاوہ ایک بڑی رقم امریکی فوجیوں اور وہاں تعینات کنٹریکٹرز کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکاکے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن کاکہنا ہے کہ (معاونت کا) مقصد یہ ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز کو مضبوط اور اداروں کو مستحکم بنایا جائے تاکہ طالبان عسکریت پسندوں کو بتدریج شکست دی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ 8 نومبر کے امریکی صدارتی انتخابات کے بعد آنے والی نئی انتظامیہ کے تحت بھی دونوں جماعتوں کا اتفاق رائے اس حوالے سے برقرار رہے گا۔
افغانستان کو عالمی برادری کی جانب سے دی جانے والی امداد کی رقم سے خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آنے اور اس رقم کے بدعنوانی یادہشت گردی کی نذر ہوجانیکا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ افغانستان میں موجودہ حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں 2012 میں سوا دو ارب ڈالر سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے تھے۔ اس وقت ان علاقوں پر افغان حکومت کا کنٹرول تھا، لیکن بعد میں یہ ظاہر کیاگیا کہ یہ پروگرام عسکریت پسندوں کا نشانہ بن گیا۔اس طرح مختلف ممالک سے افغانستان میں ترقی کے لیے دی جانے والی سوا دو ارب ڈالرکی خطیر رقم ضائع ہوگئی۔امریکی حکومت کی نگرانی سے متعلق ایک ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے شروع کیے گیے دو درجن سے زیادہ منصوبے جن کی مالیت 2 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق خصوصی انسپکٹر جنرل SIGAR کی جانب سے ہفتے کوجاری ہونے والی رپورٹ میں ناکامیوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقوم سے جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیر نومیں مدد کا ذمہ دار ہے۔بین الاقوامی ترقی کے امریکی ادارے یوایس ایڈ کا آڈٹ 2012 میں ملکی استحکام کے لیے شروع کیے گئے پروگراموں کی نگرانی اور اہداف کے اثرات پر مبنی تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شورش پسندوں نے ان علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں کے پروگراموں کو اپنا نشانہ بنایا جہاں اس وقت افغان حکومت کا کنٹرول تھا اور یوایس ایڈ کو وہاں اپنے منصوبوں کی نگرانی اور عمل درآمد کے سلسلے میں مسلسل مشکلات کا سامنا رہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مقامات کا صحیح طور پر تعین نہ کیا جا سکا جہاں یوایس ایڈ نے تعمیر نو کے پراجیکٹ شروع کیے تھے، کیونکہ اس بارے میں دستیاب معلومات درست نہیں تھیں اس لیے ان کی تصدیق کا کام نہیں کیا جا سکا۔آڈٹ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہغلط معلومات کی موجودگی میں یہ تعین کرنا دشوار ہے کہ ترقیاتی کام کس جگہ اور کب شروع کیے گئے تھے اس سے ظاہرہوتاہے کہ یہ رقم خوردبرد کی جاچکی ہے۔
مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...
پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...
محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...
شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...
چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...
عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...
سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...
رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...
وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...
لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...
مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...
صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...