... loading ...
سیاسی گرفتاریوں سے بیرون ملک کیاپیغام جائے گا؟بھارتی رہنما حکومت کی ان کارروائیوں کو مقبوضہ کشمیر میں اپنی سفاکیوں کاجواز بنا کر پیش کرسکتے ہیں
پاکستان ان دنوں چومکھی لڑائی کی صورت حال سے دوچار ہے ایک طرف بھارت ہے جو ہر قیمت پر پاکستان کوجنگ کی دلدل میں گھسیٹ کرپاکستان کی اقتصادی ترقی کے ثمرات کو ملیامیٹ کرنے کی کوشش کررہاہے اور پاکستان کو اشتعال دلانے کیلیے مسلسل سرحدی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے ۔کبھی بھارتی فوجی کشمیر میں کنٹرول لائن پر فائرنگ کاسلسلہ شروع کردیتے ہیں اور کبھی ورکنگ بانڈری کے قریب موجود پاکستانی دیہات کے غریب باشندوں کونشانہ بنایاجاتاہے۔دوسری جانب دہشت گرد اور انتہا پسند ہیں ،پاک فوج کے ہاتھوں شکست کھاکر تتر بتر ہوجانے کے باجود وہ اپنی طاقت کا احساس دلانے کیلیے کمزور اہداف پرحملے کرتے رہتے ہیں اور موقع ملتے ہی وار کرکے ہنستے کھیلتے معصوم لوگوں کو خون میں نہلادیتے ہیں ،تیسری جانب ملک کے اندر موجود بیرونی این جی اوزاپنا وجود منوانے اور حکومت کو سودے بازی پر مجبور کرنے کے لیے موقع ملتے ہی کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑدیتی ہیں اور پھر حکومت کی پوری مشینری اس حوالے سے صفائی پیش کرنے میں لگ جاتی ہے ، چوتھی جانب ملک کی سیاسی پارٹیاں ہیں جو حکمرانوں کی کمزوریوں،کوتاہیوں اور ارباب اختیار کی مبینہ کرپشن کو بنیاد بناکر حکومت کاتختہ الٹنے کے درپے نظر آتی ہیں۔
ایسی صورت میں حکومت عجیب مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے کیونکہ اس صورتحال سے بیرون ملک موجود ہمارے دشمن اور خاص طورپر بھارت فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے اور پاکستان کو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی آماجگاہ اور پناہ گاہ ثابت کرکے پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ بگاڑنے کی کوشش میں لگاہواہے اورتشویش کی بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کو گزشتہ 3سال کی حکمرانی کے دوران اپنی صفوں میں کوئی ایساموزوں شخص نہیں مل سکا جو ملک کے وزیر خارجہ کے فرائض انجام دے سکے اور موجودہ مشیر خارجہ عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے ہیں جہاں ان سے کسی فعال کردار کی توقع نہیں کی جاسکتی اس لئے عالمی برادری میں پاکستان کے خلاف دشمنوں کی جانب سے کئے جانے والے منفی اوربے بنیادپروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینا ممکن نہیں رہا۔
ایک طرف ملک اس نازک صورت حال کاشکار ہے دوسری طرف سیاسی جماعتیں حکومت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے چلتا کرنے کے درپے نظر آتی ہیں،جس کی وجہ سے ملک انتہائی غیر یقینی صورتحال کاشکار ہوگیاہے۔موجودہ سیاسی فضا کودیکھتے ہوئے بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ اگلے چند دن موجودہ حکومت کے لیے ہی نہیں بلکہ ملک کے لئے بھی انتہائی اہم ثابت ہونگے اور آنے والے چند دنوں کے اندر ہی ملک کانیاسیاسی منظر اس ملک کے مستقبل کاتعین کرے گا۔
اس وقت ملک میں احتجاج ، دھرنوں اور مظاہروں میں اگرچہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف،ڈاکٹر طاہرالقادری کی عوامی تحریک اور ان کی ہم نوا چند دیگر چھوٹی پارٹیاں ہی پیش پیش نظر آتی ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی نے بڑی حد تک اپنے آپ کو ان سے دور رکھا ہے لیکن وہ کھل کر نواز شریف اور حکومت کی حمایت بھی نہیں کررہے ہیں بلکہ اپنے ذومعنی بیانات کے ذریعے نواز شریف کو مطمئن کرتی نظر آتی ہیں،تاہم تحریک انصاف اور ان کی ہم نوا جماعتوں کے احتجاج اور دھرنوں میں ساتھ نہ دینے کے باجوود بظاہر غیر جانبدار نظر آنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی پاناما لیکس اور بدعنوانی اور سرکاری خزانے کی لوٹ مار کے الزامات کو نہ صرف یہ کہ درست تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان الزامات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرنے میں تحریک انصاف اور اس کی ہم نوا جماعتوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں بجز جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے جو نواز شریف پر پاناما پیپرز اور دیگر ذرائع سے افشا ہونے والے بدعنوانی کے الزامات کی یہ کہہ کر پردہ پوشی کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ یہ الزامات عاید کرنے والے کون سے پارسا ہیں ، گویا مولانا فضل الرحمان یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کے رفقا پر بدعنوانی اور قومی خزانے کی لوٹ مار کے الزامات تو صحیح ہیں لیکن ان سے جواب مانگنے اور احتساب کرنے کاحق کسی ایسے شخص کو نہیں دیا جاسکتا جس کا دامن بھی بقول ان کے آلودہ یاداغدار ہے۔ یعنی بالفاظ دیگر مولانا فضل الرحمان یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کے رفقا مسٹر کلین اور پارسا نہیں ہیں ،ان کے دامن آلودہ ہیں لیکن بقول ان کے ان کو سنگسار کرنے کیلیے پہلا پتھروہ اٹھائے جو گنہگار نہ ہو۔مولانا فضل الرحمان کی جانب سے نواز شریف کی یہ حمایت یا ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی پردہ پوشی بلاوجہ نہیں ہے بلکہ اس میں بھی مولانا کا اپنا مفاد پوشیدہ ہے ،مولانا یہ جانتے ہیں کہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے کشمیر کے حوالے سے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کافریضہ انجام دینے کے نام پر وہ سرکاری خزانے سے جوکروڑوں روپے وصول کرچکے ہیں اب اگر نواز شریف کی حکومت ختم ہوتی ہے یا کمزور پڑتی ہے تو کشمیر کمیٹی کے حسابات کا آڈٹ کرانے اور سرکاری خزانے سے حاصل کردہ رقم غلط طورپر خرچ کرنے کا الزام ان پر بھی لگ سکتاہے جس سے ان کابظاہر صاف وشفاف دامن بھی آلودہ نظر آنے لگے گا جو ان کی مذہبی شخصیت اور سیاسی حیثیت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوگا۔
وزیر اعظم نواز شریف ان کے ٹیلنٹڈ بھائی شہباز شریف ان کی فیملی کے دیگر ارکان اور ان کے رفقا اپوزیشن کی جانب سے شروع کی جانے والی الزامات کی مہم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس صورتحال کے تدارک کے لیے دھونس ، دھمکی ،لالچ اور خوشامد سمیت ہرحربہ استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے ظاہرہوتا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے شروع کی جانے والی اس حکومت مخالف مہم نے نواز شریف اور ان کے رفقا کو بوکھلا کررکھ دیاہے اور اب وہ بوکھلاہٹ میں ایسے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں جس سے ان کوفائدہ پہنچنے کے بجائے الٹا مزید نقصان پہنچے گا اور اپوزیشن کو ان کے خلاف پروگنڈا کرنے کا ہتھیار مل جائے گا، گزشتہ چند دنوں کے دوران اپوزیشن کو نیچا دکھانے اور اسے مظاہروں اور احتجاجی سیاست سے روکنے کے لیے حکومت نے جو منفی ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں ان میں شیخ رشید کو لال حویلی خالی کرنے کانوٹس اور پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن پر پولیس کادھاوا شامل ہے۔ فرض کرلیاجائے کہ حکومت کے قول کے مطابق شیخ رشید نے حکومت کی چند مرلہ زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے تو بھی ان کے خلا ف کارروائی کایہ وقت مناسب نہیں تھا کیونکہ اس وقت جبکہ وہ عمران خان کے ساتھ حکومت کے خلاف دھرنا سیاست میں شریک ہیں،اس طرح کی کارروائی کو انتقامی کارروائی ہی تصور کیا جائے گا۔اسی طرح تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی قرار دے کر شرکا کوتتر بتر کرنے کی کوشش ، نہتے نوجوانوں پر اندھادھند لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کو سیاسی انتقام نہیں تو اور کیانا م دیاجائے ۔
اور کیا اس طرح کی کارروائیوں کو حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کے سوا کوئی اور نام دیاجاسکتاہے؟کیا نواز شریف اور ان کو اس طرح کی کارروائیوں کامشورہ دینے والے ان کے مشیروں اور رفقا نے کبھی یہ سوچا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے پاکستان کی موجودہ حکومت اور ملک میں جمہوریت کے حوالے سے بیرون ملک کیاپیغام جائے گا اور پاکستان میں موجود غیر ملکی سفیر اس حوالے سے اپنے ملکوں کو کیارپورٹ بھیجیں گے۔ نواز شریف تیسری مرتبہ اس ملک کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ہیں ۔اس طویل دور حکمرانی سے ان کے اندر سیاسی بلوغیت پیدا ہوجانا چاہئے تھی ۔لیکن افسوس ان کے کسی عمل اور قول میں اس کاشائبہ بھی نظر نہیں آتا۔وزیر اعظم نواز شریف کو ٹھنڈے دل سے اس پوری صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ طاقت کے بے محابہ استعمال سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا اور کسی کامنہ بند نہیں کیاجاسکتا۔ اس طرز عمل سے نہ صرف یہ کہ ان کے لیے دشواریوں میں اضافہ ہوگا بلکہ بیرون ملک بھی ملک کی ساکھ مجروح ہوگی اور دشمن ممالک خاص طورپر بھارتی رہنما پاکستان میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں پر پولیس کے تشدد ان کی گرفتاریوں اور نظر بندیوں کومقبوضہ کشمیر میں اپنی سفاکی کا جواز بنا کر پیش کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...
منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...
ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...
اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...
ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...
پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...
متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...
جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...
پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...
اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...
2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...
قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...