وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ کے بیانات سے یورپ خوفزدہ

جمعه 28 اکتوبر 2016 ٹرمپ کے بیانات سے یورپ خوفزدہ

خارجہ امور،اقتصادیات،نیٹوکی ذمے داریوں سے امریکا کے ہاتھ کھینچنے اور یورپی یونین ٹوٹنے کی پیشگوئیوں نے یورپ کو تشویش میں مبتلا کردیا
ہلیری کی شام پالیسی سے تیسری جنگ عظیم چھِڑسکتی ہے ،ٹرمپ۔شام کے اوپر نو فلائی زون اورروس مخالف پالیسی پر ہلیری پر تنقید
trum-n-heleryجوں جوں امریکی انتخابات قریب آتے جارہے ہیں امریکا کے صدارتی امیدواروں کے درمیان الفاظ کی جنگ بھی تیز ہوتی جارہی ہے خاص طورپر ڈونلڈ ٹرمپ کے لہجے میں تلخی بڑھتی جارہی ہے اور اب انھوں اپنی مدمقابل ہلیری کلنٹن کے ساتھ ہی خود اپنی جماعت کے رہنماؤں کو بھی ہدف تنقیدبنانا شروع کردیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں ٹرمپ نیشنل ڈورل گولف ریزورٹ میں ایک خبررساں ادارے کو بتایا کہ ہلیری کلنٹن کی شام کے بارے میں خارجہ پالیسی سے تیسری جنگِ عظیم شروع ہو سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا کو شامی صدر بشار الاسد کو استعفیٰ دینے پر قائل کرنے کی بجائے شدت پسند تنظیمداعشکو شکست دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے ۔ہلیری کلنٹن نے شام کے اوپر نو فلائی زون قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کے بارے میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے روس کے ساتھ تنازع ہو سکتا ہے۔ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت رپبلکن پارٹی کے رہنماؤں کو بھی ہدفِ تنقید بنایا کہ وہ ان کے پیچھے کھڑے نہیں ہو رہے۔ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں ٹرمپ نیشنل ڈورل گولف ریزورٹ میں خبررساں ادارے کو بتایاکہ ‘اگر آپ نے شام کے بارے میں ہلیری کلنٹن کی سنی تو اس کا نتیجہ جنگِ عظیم سوم کی شکل میں نکلے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ امریکا صرف شام سے نہیں بلکہ روس اور ایران سے بھی لڑ رہاہے۔روس ایٹمی طاقت ہے۔ کچھ ایسے ملکوں کے مقابلے میں جہاں خالی خولی باتیں بنائی جاتی ہیں، روس ایسا ملک ہے جہاں ایٹمی ہتھیار کام کرتے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہلیری کلنٹن روسی صدر ولادی میر پوتن پر کڑی تنقید کرنے کے بعد ان سے بات نہیں کر پائیں گی۔ وہ اس شخص سے کیسے بات چیت کر پائیں گی جس کو انھوں نے بدی کا روپ بنا کر پیش کیا۔امریکا کے اعلیٰ ترین فوجی افسر جنرل جوزف ڈنفرڈ بھی شام میں نو فلائی زون قائم کرنے کے خلاف ہیں۔ٹرمپ کی یہ تنبیہ اس کے بعد آئی ہے جب پچھلے ہفتے کانگریس کی ایک سماعت کے دوران چیئرمن جوائنٹ چیفس میرین جنرل جوزف ڈنفرڈ نے قانون سازوں کو بتایا تھا کہ شام میں نو فلائی زون کا مطلب روس سے جنگ ہو سکتا ہے۔20 اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ مباحثے کے دوران کلنٹن نے کہا تھا: ‘نو فلائی زون کے قیام سے زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے۔ٹرمپ نے میڈیا کو بھی ہدفِ تنقید بنایا اور کہا کہ پریس سے تعلق رکھنے والے بعض لوگ ان کے خلاف متحد ہو گئے ہیں اور انتخابات میں دھاندلی کی سازش کر رہے ہیں۔انھوں نے اپنی جماعت کی قیادت کے بارے میں کہا: ‘لوگ اس پارٹی کی قیادت سے بہت برہم ہیں، کیوں کہ اگر ہمیں اوپر کی حمایت حاصل ہو تو ہم یہ انتخابات سو فیصد جیت سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم اس کے بغیر بھی جیت جائیں گے۔
ڈونلڈکاکہناہے کہ ‘اگر آپ نے شام کے بارے میں ہلیری کلنٹن کی سنی تو اس کا نتیجہ جنگِ عظیم سوم کی شکل میں نکلے گا۔ٹرمپ نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب انتخابات میں صرف دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور ان کی ٹیم متعدد خواتین کی جانب سے دست درازی کے الزامات سے نبرد آزما ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں ٹرمپ کلنٹن سے خاصے پیچھے ہیں۔
دوسری جانب یورپی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو اتحاد کے بیانات سے پریشان ہیںیورپ کو ہمیشہ ہی امریکا کے صدارتی انتخاب میں دلچسپی رہی ہے۔ یورپ کے لیے امریکا سے تعلقات کی بہت اہمیت ہے۔ لیکن اس بار کا امریکی صدارتی مقابلہ پچھلے مقابلوں کی نسبت بہت مختلف ہے۔ایسے وقت میں جب امریکی صدراتی مہم انتہائی نچلے درجے پر پہنچ چکی ہے اور یورپی اس مہم کو دلچسپی اور خوف سے دیکھ رہے ہیں۔رپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح کے خیالات کا اظہار کر کے اپنی صدراتی مہم اتنی آگے لے جا چکے ہیں، اس طرح کے خیالات یورپ کے کچھ حصوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسٹیبلشمنٹ مخالف نعرے بازی، عالمگیریت کی مخالفت اور تارکین وطن کے بارے میں تلخی ایسے موضوعات ہیں جن کو یورپ میں بھی پذیرائی حاصل ہے۔ البتہ یورپی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان خیالات کو بہت ہی عمومی سطح پر لے جا چکے ہیں۔اگر یورپی لوگوں کوامریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے ہوتے تو ہلیری کلنٹن بہت آسانی سے یہ مقابلہ جیت جاتیں۔ یورپ انتخابی نعروں سے ہی نہیں بعض اہم معاملات پر بھی پریشان ہے۔مشرقی یورپ کو ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو اتحاد اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے بارے میں خیالات سے پریشانی لاحق ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں یہ موضوع بار بار سامنے آرہا ہے کہ امریکاکے دوست ممالک امریکاپر ضرورت سے زیادہ تکیہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے سارے واجبات امریکاادا کرے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کا ایک نکتہ یہ بھی ہے اگر امریکا کے دوست ممالک نے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں دلچسپی ظاہر نہ کی تو امریکا اتحاد سے نکل بھی سکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ یورپی یونین کو نشانہ بنا رہے ہیں اور انھوں نے نہ صرف برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے بلکہ وہ یہ پیشنگوئی بھی کر رہے ہیں کہ یورپی یونین ٹوٹ جائے گی۔لیکن یورپ جس سے حقیقی طور پر پریشان ہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ہے جس میں کہتے ہیں کہ امریکا نیٹو معاہدے کے تحت اپنے ذمہ داریوں کو شاید پورا نہ کرے۔ یورپی اتحاد ڈونلڈ کے خارجی امور کے بارے میں غیر متوقع اعلانات سے بھی پریشان ہے۔ٹرمپ کے برعکس ہلیری کلنٹن ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ سابق وزیر خارجہ، اور بطور خاتون اول ہلیری کلنٹن کے دنیا کے بارے میں خیالات میں یورپی یونین کے ساتھ امریکی اتحاد بہت اہمیت کا حامل ہے۔ہلیری کلنٹن اپنے یورپی اتحادیوں سے مشترکہ دفاع میں مزید اپنا حصہ ڈالنے پر تو زور دیتی رہیں گی اور ان کا روس کے بارے میں سخت گیر موقف ایک مختلف قسم کا چیلنج ہو گا۔اس کا امکان موجود ہیں کہ ہلیری کلنٹن صدر اوباما کی ‘ایشیا محور’ کی خارجہ پالیسی کو مزید آگے لے کر چلیں کیونکہ انھوں نے خود بھی بطور وزیر خارجہ اس پالیسی کی تیاری میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایشیا محور کی پالیسی اپنی جگہ لیکن ہلیری کلنٹن یورپ کے ساتھ اپنے پرانے مراسم کو جاری رکھیں گی جس پر یورپ ان کا شکرگزار ہو گا۔ہیلری کلنٹن کے یورپی رہنماؤں سے قریبی تعلقات ہیں۔وائٹ ہاؤس میں نیا صدر آنے کے بعد جس پالیسی پر سب سے زیادہ توجہ ہوگی وہ ہے آزادانہ تجارت کی پالیسی۔ ڈونلڈ ٹرمپ سرحدوں پر دیواریں بنانے اور فری تجارت پر قدغنیں لگانے کے اعلانات کر رہے ہیں۔ ہلیری کلنٹن دوہری مصیبت میں گھری ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات ہیں اور دوسری جانب برنی سینڈرز کے۔ شاید اسی وجہ سے ہلیری کلنٹن نے بھی آزادانہ تجارت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔یورپ کے لیے آزادانہ تجارت انتہائی اہمیت رکھتی ہے اور خصوصاً جب ٹرانس ایٹلانٹک تجارتی معاہدے کے لیے بات چیت آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔ یورپ میں اس معاہدے کی مخالفت کافی پرانی اور منظم ہے۔یورپی ممالک اس مفروضے پر تکیہ کیے ہوئے ہیں کہ ہلیری کلنٹن بالآخر جیت جائیں گی لیکن بہت سوں کو اس پر زیادہ یقین نہیں ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح نیٹو اتحاد کے لیے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔اگر ڈونلڈ ٹرمپ ہار بھی جاتے ہیں تو یورپ کی توجہ اس بات پر رہے گی کہ ان کی شعلہ بیانیاں امریکی سیاسی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں۔


متعلقہ خبریں


امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر