وجود

... loading ...

وجود

بھارتی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں لڑائی کیلیے جنگجوبھرتی کررہی ہیں

جمعه 28 اکتوبر 2016 بھارتی خفیہ ایجنسیاں بلوچستان میں لڑائی کیلیے جنگجوبھرتی کررہی ہیں

افغان نیشنل آرمی کے کمانڈرز اور ارکان پارلیمنٹ طالبان اور داعش کے جنگجوؤں کو پرتعیش گاڑیوں میں بٹھاکر ان کے مطلوبہ مقام تک پہنچاتے ہیں
موجودہ افغان حکومت کے ساتھ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کا معاہدہ ہواتھا،جس سے پاکستان کو اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوسکاraw-and-ndsٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہی دنیا اب روز بروز سکڑتی جارہی ہے اور جوں جوں دنیا سکڑ رہی ہے قوموں کے معاملات میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کاکردار بھی بڑھتا جارہاہے، جس کا اندازہ برطانیہ،امریکا، جرمنی، فرانس ،آسٹریلیا اور دوسرے یورپی اور غیر یورپی ممالک کے درمیان دہشت گردی کے حوالے سے معلومات کے تبادلے کے معاہدوں سے لگایاجاسکتاہے۔ان معاہدوں سے متذکرہ بالا تمام ممالک کو بلاشبہ نمایاں فوائد حاصل ہوئے ہیں اور دہشت گردوں کے عزائم کے حوالے سے بروقت اطلاعات اور معلومات کی ایک دوسرے کو فراہمی کے نتیجے میں دہشت گردی کے متعدد بھیانک منصوبوں کو قبل از وقت ناکام بناکر ان ملکوں کے عوام کو ان کی ہلاکت خیزی سے بچانا ممکن ہوسکاہے۔
افغانستان میں موجودہ حکومت کے قیام کے بعد پاکستان، افغانستان اور بھارت کے درمیان بھی انٹیلی جنس کی معلومات کے تبادلے کا ایک معاہدہ طے پایا تھا ، انٹیلی جنس شیئرنگ کے اس معاہدے کا مقصد طالبان اور ان کے ذیلی دھڑوں کی سرگرمیوں اور متوقع کارروائیوں کے بارے میں ایک دوسرے کو بروقت آگاہ رکھناتھا تاکہ متعلقہ ممالک اس حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے بڑے سانحات سے بچ سکیں۔لیکن پاکستان ،افغانستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اس معاہدے کاپاکستان کو اب تک نہ صرف یہ کہ کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکاہے بلکہ پاکستان کو اس کے منفی نتائج کاسامنا کرناپڑرہاہے،اور افغانستان میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی توانائیاں طالبان ، القاعدہ اور ان کی ذیلی تنظیموں کی سرگرمیوں کا پتا چلاکر ایک دوسرے کو ان سے آگاہ کرنے کا بنیادی فریضہ انجام دینے کے بجائے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردی کرانے کے لیے تربیت یافتہ دہشت گرد بھیجنے کے علاوہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کے لیے فنڈز اور اسلحہ کی فراہمی کاذریعہ بن گئی ہیں۔ افغانستان میں موجود بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں نہ صرف یہ کہ تربیت یافتہ دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل اور پاکستان میں موجود اپنے ملک دشمن ایجنٹوں کو فنڈز اور اسلحہ فراہم کررہی ہیں بلکہ وہ افغان اور مقامی دہشت گردوں کو بھی ان اہداف کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں وہ آسانی سے ضرب لگاسکتے ہوں۔اسی پر بس نہیں بلکہ یہ ایجنسیاں بعض اوقات پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے خود افغانستان میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے فنڈ اور سہولتیں فراہم کرتی ہیں اور ان واقعات کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال کر پاک افغان تعلقات میں بگاڑ پیدا کررہی ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔جس کااندازہ گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور اس کے بعد بھارت اور بھارتی رہنماؤں کے ایما پر افغان حکومت کی جانب سے پاکستان پر عاید کئے گئے الزامات سے بخوبی لگایاجاسکتاہے۔
بھارتی رہنماؤں نے کمال مہارت اور چالاکی سے افغان حکومت کوترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مدد کی فراہمی کے بعض معاہدوں کے ذریعے یہ باور کرادیا ہے کہ اس خطے میں بھارت ہی ان کا حقیقی دوست اور ہمدرد ہوسکتاہے، اور افغان رہنماؤں نے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے جال میں پھنس کر پاکستان کی جانب سے ہر آڑے وقت افغان عوام اور حکومت کی لامحدود حمایت اور امداد کو نظر انداز کرکے بھارت کی ہاں میں ہاں ملانا یعنی بھارت کی ڈگڈگی پر ناچنا شروع کردیاہے اوراس طرح افغانستان مکمل طورپر بھارت کی ایک کالونی بن کر رہ گیاہے جس کے تمام معاملات پس پردہ رہ کر بھارتی حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیاں چلارہی ہیں۔
جہاں تک انٹیلی جنس شیئرنگ یعنی خفیہ معلومات کے تبادلے کا سوال ہے تو اس کے لیے باقاعدہ ایک اسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔جس کے تحت مختلف اداروں اور ممالک سے ملنے والی اطلاعات کو جانچنے کے بعد حکومت اور ملک کے مختلف اداروں کو یہ معلومات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ بروقت اور بہتر انداز میں احتیاطی اور تدارکی اقدامات اور انتظامات کیے جاسکیں ۔بدقسمتی سے جنوبی ایشیائی ممالک میں انٹیلی جنس کاکام بھی نسلی اور لسانی خانوں میں تقسیم ہوکر رہ گیاہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ غلط فہمیاں پیداہوتی ہیں بلکہ پالیسی سازوں کے لیے مشکلات بھی پیداہوتی ہیں۔
افغانستان میں اس وقت جاری اقتدار کی کشمکش کے دوران پاکستان، افغانستان اور بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیاں بھی بلاشبہ متاثر ہوئی ہیں اوراس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ ان تینوں ممالک کے لیے نئے مسائل پیداہوئے ہیں بلکہ ان کے لیے نئے چیلنجز بھی پیداہوئے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں برسرپیکار مختلف جنگجو گروپوں کی کارروائیوں کی وجہ سے صرف افغانستان اور پاکستان ہی کو نہیں خود بھارت کو بھی خطرات لاحق ہیں جس کااظہار گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارت کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گردی کے وہ واقعات ہیں بھارت جن کا الزام پاکستان کے سر ڈالنے کی کوشش کرتا رہاہے۔افغانستان ، پاکستان اور بھارت کو اس وقت دہشت گردی اورانتہا پسندی کے جن مہیب خطرات کاسامنا ہے اس کے پیش نظر ان تینوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ ان کی روشنی میں تینوں ممالک اپنی یکجہتی اورسلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی قابل عمل حکمت عملی تیا ر کرسکتے ہیں۔
داعش اور طالبان کے طاقت پکڑنے اور ان کی جانب سے فوجی اور سول اہداف پر خودکش حملوں میں اضافے کے پیش نظرافغانستان کو پاکستان کے ساتھ ایک نئی ورکنگ ریلیشن شپ پر مجبور ہونا پڑا تھا لیکن بدقسمتی کہ افغان حکومت کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کی وجہ سے یہ کوششیں رائیگاں گئیں۔افغانستان سے غیر ملکی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان میں موجود بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں را ، راما اور این ڈی ایس اب خود اپنی حکومت کے بھی قابو میں نہیں رہی ہیں اوراپنے مفادات کیلیے افغان جنگجوؤں کی کھل کرمدد کررہی ہیں جس کے نتیجے میں یہ جنگجو خود افغانستان میں مختلف اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں اور کبھی قندوز پر قبضہ کرلیتے ہیں اورکبھی ہلمند کو اپنا ٹھکانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں،بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے جنگجو گروپوں کو بھی مالی امداد اوراسلحہ فراہم کرکے پاکستان پہنچانے کے مذموم عمل میں مصروف ہیں جس کابھانڈاپاکستان میں گرفتار کیے گئے متعدد جنگجو کرچکے ہیں۔
افغانستان میں موجود بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ان سرگرمیوں سے پتہ چلتاہے کہ بھارت افغانستان میں بیٹھ کر اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے افغانستان کو جنگجو گروپوں کی کارروائیوں اوردہشت گردی کے واقعات سے بچانے میں مدد دینے کے بجائے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے اوراپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے خود افغانستان میں بھی نسلی اور لسانی بنیادوں پر منفی پروپگنڈے کو ہوا دے رہاہے اورپاکستان کے صوبے بلوچستان میں لڑنے کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کررہاہے اور افغان انٹیلی ایجنسیاں بھارت کی تابع بن جانے کی وجہ سے اس عمل میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت کررہی ہیں۔یہی نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خود افغان نیشنل آرمی کے بعض کمانڈرز اور بعض افغان ارکان پارلیمنٹ طالبان، داعش اور دیگر برسرپیکار دہشت گردوں کو اپنی پر تعیش گاڑیوں میں بٹھاکر ان کے مطلوبہ مقامات پر پہنچانے کافریضہ بھی انجام دیتے نظر آتے ہیں۔اس کاسبب یہ ہے کہ پوری افغان قوم جس میں افغان آرمی اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں ، مسلسل جنگ کی کیفیت اور ملکی معاملات میں غیرممالک کی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے اکتاچکے ہیں اور وہ اب اس مسئلے کا کوئی ایک حل دیکھنا چاہتے ہیں خواہ یہ ان کے لیے خودکشی کے مترادف ہی کیوں نہ ہو۔


متعلقہ خبریں


ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...

کراچی میں ترقیاتی منصوبے نا اہلی و کرپشن کا شاہکار،حافظ نعیم

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید وجود - جمعه 24 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...

صیہونی فوج کا جنوبی لبنان پر حملہ، صحافی سمیت5افراد شہید

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

مضامین
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ وجود هفته 25 اپریل 2026
امریکا ٹوٹ جائے گا۔۔۔

علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح وجود هفته 25 اپریل 2026
علامہ اقبال اک فکری معمار اور روحانی مصلح

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر