وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

معاشی ترقی کا اعتراف یا عوام کو ٹیکسوں میں جکڑنے پر شاباشی؟؟

بدھ 26 اکتوبر 2016 معاشی ترقی کا اعتراف یا عوام کو ٹیکسوں میں جکڑنے پر شاباشی؟؟

یہ شاندار بات ہے کہ آپ نے مختصر سفر کے دوران مستحکم معاشی پوزیشن حاصل کرلی،کرسٹین لغرادکا وزیر اعظم سے مکالمہ
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹرنے شرح نمو میں اگلے سال مزید کمی ہونے کے خدشات کابھی اظہار کردیا

PRIME MINISTER MUHAMMAD NAWAZ SHARIF SHAKES HAND WITH CHRISTINE LAGARDE, MANAGING DIRECTOR, IMF ON ARRIVAL AT PM HOUSE ON 24TH OCTOBER 2016.

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لغرادگزشتہ دنوں پاکستان کے دورے پرآئیں اور انھوں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات میں معاشی میدان میں حکومتی کارکردگی کو سراہا۔ ملاقات کے فوری بعدوزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آئی ایم ایف چیف کرسٹین لغراد نے کہا کہ مالیاتی اعتبار سے پاکستان کی پوزیشن پہلے سے بہتر ہے اور وہ یقیناً معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔
آئی ایم ایف کے کسی سربراہ کا طویل عرصے بعد پاکستان کا دورہ ہے ، نواز شریف سے ملاقات میں کرسٹین لغراد نے مختصر وقت میں ملک کو مختلف چیلنجز سے نکالنے اور اقتصادی استحکام کے حصول کے لیے وزیر اعظم کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ’یہ انتہائی شاندار بات ہے کہ آپ نے اپنے مختصر سفر کے دوران بہتر اور مستحکم معاشی پوزیشن حاصل کرلی‘۔آئی ایم چیف نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کیلیے مثبت ہے کیوں کہ اسے اعتباراور استحکام کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔
آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے کہا کہ پاکستان میں معاشی شرح نمو میں بتدریج اضافہ ہوا، مالی خسارہ کم ہوا اور افراط زر میں بھی مسلسل کمی ہورہی ہے۔انہوں نے پاکستان کے مستحکم ہوتے ہوئے سماجی تحفظ، ٹیکس اصلاحات اور انتظامی اصلاحات کو بھی سراہا۔اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کے تعاون کی تعریف کی اور کہا کہ موجودہ حکومت نے جامع اصلاحاتی ایجنڈے کو جاری رکھتے ہوئے معاشی استحکام حاصل کیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی، معیشت اور توانائی بحران جیسے مسائل سے کامیابی سے نمٹ رہے ہیں جو کہ ہمیں گزشتہ حکومتوں سے ورثے میں ملے تھے‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس ختم کردیے اور ملک سے دہشت گردی کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اب بھی دو لاکھ فوجی جوان ملک کے شمالی حصے میں تعینات ہیں‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 24 ہزار سے زائد انسانی جانوں کی قربانی دینی پڑی جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو بھی 100 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
واضح رہے کہ ستمبر کے آخر میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت کا 12 واں اور آخری جائزہ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد قرض کی تقریباً 10 کروڑ 21 لاکھ ڈالر کی آخری قسط جاری کردی تھی۔4 ستمبر 2013 کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پاکستان کے لیے تقریباً 6.15 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی تھی جس کی مدت 36 ماہ رکھی گئی تھی۔اس توسیعی فنڈ سہولت کا مقصد پاکستان کے معاشی اصلاحات پروگرام کو سہارا دینا تھا تاکہ وہ جامع نمو حاصل کرسکے۔اس سلسلے میں پاکستان کو پہلی قسط کے 54 کروڑ 45 لاکھ ڈالر 2013 میں ہی مل گئے تھے جب کہ اس کے بعد کی قسطیں وقتاً فوقتاً سہ ماہی جائزوں کی تکمیل کے بعد جاری کی جاتی رہیں۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آئی ایم ایف چیف کرسٹین لغراد نے کہا کہ مالیاتی اعتبار سے پاکستان کی پوزیشن پہلے سے بہتر ہے اور وہ یقیناً معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کی سربراہ نے وزیراعظم پریہ بھی واضح کردیا کہ پاکستان کی معاشی بحالی کے آثار کے باوجود گزشتہ پانچ برس سے پاکستان کی شرح نمو صرف 3 فیصد رہی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق اگلے سال شرح نمو میں اضافے کے بجائے کمی ہوگی اور یہ ڈھائی فیصد ہوجائے گی ۔
جہاں تک پاکستان کی معاشی صورتحال کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران ملکی معیشت میں بحالی کے آثار پیداہوئے ہیں لیکن معیشت کی یہ بحالی چین کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری خاص طورپر سی پیک منصوبوں پر کام کے آغاز کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے بصورت دیگر ہماری وزارت خزانہ اور وزارت صنعت کی جانب سے اب تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جاسکاہے جسے ملکی معیشت کی بحالی اور استحکام کا پیش خیمہ قرار دیاجائے ،حقیقت یہ ہے کہ برسہا برس سے ہم ایک گومگوکی کیفیت میں ہیں۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرگیا پاکستان آئی ایم ایف کی مدد سے مشکل صورت حال سے چھٹکارا پاتا آرہا ہے۔اور بار بار غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے کی اس روش نے ملک کے اندرغلط ترغیبات کوجنم دیا ہے حتیٰ کہ اس کی شکل ہی بگڑ گئی ہے۔ ملکی معیشت کی اصل صورتحال کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک بینکار سے بات چیت کے دوران جب پوچھا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بینکوں کی جانب سے نجی شعبہ کو دیے جانے والے قرضوں کی سطح اتنی کم ہو گئی ہے تو ان کاجواب تھا کہ نجی شعبے سے قرضے کی درخواست ہی نہیں آتی۔لیکن جب انھیں بتایا گیا کہ تاجر توکچھ اور ہی کہہ رہے تھے وہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ بینک انہیں اب قرضے دینا ہی نہیں چاہتے کیونکہ گورنمنٹ کو قرض دیکر وہ اپنے پیسہ کوزیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے، انہوں نے جواب میں کہا اور پھر تفصیل سے بتایا کہ نجی افراد سے قرضے واپس لینے میں بینکوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انھوں نے شکوہ کیا کہ نجی شعبے کے صنعتکار اور تاجر قرضے واپس نہ کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ہمیں علم ہوتا ہے کہ ان کے پاس پیسے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ انکار کرتے ہیں اوراس کی بجائے ہمیں وہ چیز دیتے ہیں جو قرضے کی ضمانت کے طورپر رکھی جاتی ہے( Collateral) جو ہم نہیں چاہتے۔جب ان سے براہ راست سوال کیا گیا کہ بینک کس صورت میں نجی شعبے کودوبارہ قرضے دینے کی سوچ سکتا ہے؟ ان کا جواب تھا جب معیشت دوبارہ ترقی کریگی ۔اور یہ کب ہوگا ؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں دس دس سال کا چکر چلتا ہے۔ دس سال تک ہماری معیشت ترقی کرتی ہے اور اس کے بعد اس میں کمی آتی ہے۔ اس کے بعد معیشت دوبارہ سنبھلتی ہے۔ فی الحال ہماری معیشت سست روی کا شکار ہے۔ لیکن غیر ملکی زرمبادلہ ملے گا تواس میں پھرسے لازماً تیزی آئیگی اور ہم پھر سے کام میں لگ جائینگے ۔جب ان سے سوال کیاگیا کہ قرضوں کی واپسی کا کیا ہوگا جس کا ذکرابھی آپ کر رہے تھے؟اس پر انھوں نے جواب دیا کہ پھر اس سے ہمیں فرق نہیں پڑے گا۔ مختلف تاجروں نے بھی بات چیت کے دوران اسی” دس سالہ چکر” کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی وہ محض اپنا وقت گزار رہے ہیں، نہ تو وہ کوئی نیا کاروبار شروع کر رہے ہیں اور نہ ہی اپنے بزنس کو پھیلارہے ہیں۔ وہ اس وقت تک سرمایہ کاری بھی نہیں کرینگے جب تک کہ انہیں یقین نہ ہوجائے کہ ترقی کی ہوا چل پڑی ہے۔ تب ہی تو وہ موقع آتا ہے جب آپ کی قسمت کھلتی ہے۔
آئی ایم ایف کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں افراط زر میں اضافہ ہورہاہے۔ لیکن اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار اس کے برعکس ہیں ،اس حوالے سے ایک بات اٹل معلوم ہوتی ہے کہ اب ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اپنی ہر تقریر اور بات چیت میں پاکستانی معیشت کے حوالے سے آئی ایم ایف کی سربراہ کی جانب سے پاکستانی اقدامات کی تعریف اور معیشت کی بہتری کے اعتراف کا ذکر ضرور کریں گے اور اس طرح عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ موجودہ حکومت نے ملک کی معیشت کو مضبوط کردیاہے، اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ عوام کو یہ بتانے کی زحمت نہیں کریں گے کہ انھوں نے زرمبادلہ کے ذخائر کا ڈھول پیٹنے کیلیے ملک کو گزشتہ 3سال کے دوران 24 ارب کے مزید قرض میں جکڑ دیاہے، جبکہ ملکی ساکھ اتنی خراب ہوچکی ہے کہ اب ملکی بینک بھی حکومت کو طویل المیعاد بنیادوں پر قرض دینے کو تیار نظر نہیں آتے۔


متعلقہ خبریں


برطانیا میں کورونا وائرس پھرسراٹھانے لگا، مزید 55افراد ہلاک وجود - پیر 10 اگست 2020

برطانیا میں کورونا وائرس سے مزید 55 افراد ہلاک ہوگئے، جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 46 ہزار سے زیادہ ہو گئیں جبکہ کورونا کے مریض 3 لاکھ 9 ہزار سے بڑھ گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں ماسک کی پابندی والے مقامات میں حجام کی دکانیں اور سنیما گھر بھی شامل ہیں، خلاف ورزی کرنے والوں پر سو پاونڈ تک کا جرمانہ ہوگا۔دوسری جانب ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے برطانوی حکومت نے محفوظ ٹرانسپورٹ کے لیے 4 کروڑ پاونڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس...

برطانیا میں کورونا وائرس پھرسراٹھانے لگا، مزید 55افراد ہلاک

جاپانی شہر ناگاساکی پر ایٹمی حملے کو 75 سال مکمل،یادگاری تقریب وجود - پیر 10 اگست 2020

جاپان کے شہر ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملے کو 75 سال ہوگئے، یادگاری تقریب میں ایٹمی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ناگاساکی شہر کے پیس پارک میں ہونے والی تقریب میں کورونا وبا کی وجہ سے محدود تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔شہر کے میئر اور حملے میں زندہ بچ جانے والوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں پر پابندیوں کیلئے مزید اقدامات کریں۔امریکا نے 9 ؍اگست 1945 کو ناگاساکی پر ایٹمی حملہ کیا تھا جس میں 74 ہز...

جاپانی شہر ناگاساکی پر ایٹمی حملے کو 75 سال مکمل،یادگاری تقریب

دبئی میں خریداری پر ایک ہفتے کیلئے ٹیکس کی چھوٹ کا اعلان وجود - پیر 10 اگست 2020

دبئی میں خریداری پر ایک ہفتے کے لیے ٹیکس کی چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے اور 13؍اگست تک گاڑیوںاور دیگر اشیاء کی خریداری پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ دبئی میں گرمیوں کا سالانہ فیسٹول 23 واں دبئی سمر سرپرائززجاری ہے۔فیسٹیول کے موقع پر ایک ہفتے کے لیے عوام اور سیاحوں کو ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق حکومتی اعلان میں کہاگیاکہ ایک ہفتے تک گاڑیوں اور دیگر اشیا کی خریداری پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس نہیں لیاجائے گا اور اس اسکیم کا اطلاق 13 اگست تک رہے گا۔فیسٹیول میں خریدارو...

دبئی میں خریداری پر ایک ہفتے کیلئے ٹیکس کی چھوٹ کا اعلان

برطانیا میں دم توڑتی بیٹی کے پاکستانی والدین پر پولیس تشددکیخلاف کارروائی وجود - پیر 10 اگست 2020

برطانیا میں دم توڑتی بیٹی کے پاکستانی ڈاکٹر والدین پر پولیس تشددکے خلاف ایسوسی ایشن آف پاکستان فزیشنز آف ناردرن یورپ نے بھی آواز اٹھادی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ اس واقعے کی انکوائری کرائی جائے اور ہیلتھ سسٹم میں ایسے انتظامات کیے جائیں جن سے آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جاسکے۔ واضح رہے کہ ایک سال قبل برطانوی اسپتال میں دم توڑتی 6 سالہ بچی زینب کے والدین ڈاکٹر ارشد اور ڈاکٹر عالیہ کو پولیس اہل کاروں نے زبردستی وارڈ سے نکالا، گھسیٹا، ان پر تشدد کیا ...

برطانیا میں دم توڑتی بیٹی کے پاکستانی والدین پر پولیس تشددکیخلاف کارروائی

بارشوں سے سیلابی صورت حال ، دادو میں ندی نالے بپھر گئے وجود - پیر 10 اگست 2020

ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی ہے ، ضلع دادو میں کیر تھر کے پہاڑی سلسلوں میں بارشوں سے ندی نالے بپھر گئے ہیں۔تحصیل جوہی کے علاقے کاچھو کے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی ، کئی دیہات متاثر اور متعدد زیر آب آگئے ہیں۔ سیلاب میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے پاک فوج اور رینجرز کے دستے جوہی پہنچ گئے ہیں، سیلاب میں پھنسے متعدد افراد کو نکال لیا گیا ہے جب کہ دیگر کو نکالنے کا کام جاری ہے ۔ڈپٹی کمشنر راجہ شاہ زمان کے مطابق ضلعی انتظامیہ...

بارشوں سے سیلابی صورت حال ، دادو میں ندی نالے بپھر گئے

لبنان مظاہرے ،بلوائیوں کا وزارت خارجہ پر قبضہ،ایک اہلکارہلاک وجود - پیر 10 اگست 2020

لبنان میں گزشتہ ہفتے بندرگاہ پر پیش آنے والے ایک خونی سانحے کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں نے حکومت کے استعفے کے لیے مظاہرے شروع ہوگئے ۔دارالحکومت میں کئی مقامات پرپولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی اور تصادم ہوا۔ پرتشدد مظاہروں میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک جب کہ پولیس سمیت 238 مظاہرین زخمی ہوگئے ۔اس دوران مظاہرین نے ملکی وزارتِ داخلہ سمیت متعدد حکومتی دفاتر پر قبضہ کر لیا۔کئی مظاہرین نے ملکی پارلیمان کی عمارت میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی۔عرب ٹی وی کے مطابق سانحہ بیروت کے بع...

لبنان مظاہرے ،بلوائیوں کا وزارت خارجہ پر قبضہ،ایک اہلکارہلاک

مریم نواز کی نیب طلبی کے نوٹس پر اپنے وکلا ء سے مشاورت وجود - اتوار 09 اگست 2020

پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز نے نیب کی جانب سے طلبی کے نوٹس پر اپنے وکلا ء سے مشاورت شروع کر دی ، لندن میں موجود والد اور بھائیوں سے بھی مشاورت کی گئی ہے ۔ نیب کی جانب سے مریم نواز کواراضی کیس میں 11اگست کو طلبی کا نوٹس ارسال کیا گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق مریم نواز کے خود پیش ہونے اور وکلاء کے ذریعے جواب بھجوانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے ۔ وکلاء کا موقف ہے کہ نیب اس سے قبل نصرت شہباز سمیت شریف خاندان کی دیگر خواتین کے طلبی کے نوٹس معطل کر چکا ہے ، نیب نے خواتین ک...

مریم نواز کی نیب طلبی کے نوٹس پر اپنے وکلا ء سے مشاورت

نیب میں پنجاب اسپورٹس بورڈ کرپشن کیس میں لیگی رہنما حنیف عباسی طلب وجود - اتوار 09 اگست 2020

قومی احتساب بیورو ( نیب ) کا ادارہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما حنیف عباسی کے خلاف بھی حرکت میں آگیا ،حنیف عباسی کو پنجاب سپورٹس بورڈ کرپشن کیس میں 17 اگست کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا ۔ذرائع کے مطابق حنیف عباسی کو 20 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے ۔حنیف عباسی اور ذوالفقار گھمن کے خلاف پنجاب سپورٹس بورڈ میں کرپشن الزامات پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے حنیف عباسی کو 17اگست کو سوالوں کے جوابات کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہونے ک...

نیب میں پنجاب اسپورٹس بورڈ کرپشن کیس میں لیگی رہنما حنیف عباسی طلب

کابل ،لویہ جرگہ کا طالبان کے400 قیدیوں کو رہاکرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 09 اگست 2020

افغان دارالحکومت کابل میں بلائے گئے لویہ جرگہ نے انسانی حقوق کی بنیاد' افغانستان کے وسیع تر مفاداورجنگ کے خاتمہ کے لئے متفقہ طورپر طالبان کے 400 قیدیوں کو رہاکرنے پر رضامندی کا اظہارکیا ہے تاہم حتمی فیصلے کا باضابطہ اعلان (آج)اتوار کے روز کیا جائے گاجس کے نتیجے میں آئندہ چند روز میں طالبان اور افغان حکومت کے مابین براہ راست مذاکرات کا عمل قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں شروع ہونے کا قوی امکان پیداہوگیاہے ۔ ہفتہ کے روز لویہ جرگہ کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے لویہ جرگہ سے اپنے...

کابل ،لویہ جرگہ کا طالبان کے400 قیدیوں کو رہاکرنے کا فیصلہ

افغان صدر پر تنقید ،لویا جرگہ میں خواتین پر تشدد، جرگہ میدان جنگ بن گیا وجود - اتوار 09 اگست 2020

افغانستان میں لویا جرگاکے نام سے مشہور افغان مشاورتی ادارہ کے اجلاس میں خواتین پر تشدد کا مشاہدہ کیا گیا جس کا بہ ظاہر سبب صدر پر تنقید بتائی جاتی ہے ۔ جرگے میں ہونے والی دھینگا مشتی کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ممبر پارلیمنٹ بلقیس روشن نے جرگے میں کابل کے تہران اور طالبان کے ساتھ تعلقات پر صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس نے اجلاس میں ایک پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ طالبان کو رائلٹی ادا نہ کرو۔ جرگے ...

افغان صدر پر تنقید ،لویا جرگہ میں خواتین پر تشدد، جرگہ میدان جنگ بن گیا

ایران میں حزب اللہ کمانڈر بیٹی سمیت قاتلانہ حملے میں ہلاک وجود - اتوار 09 اگست 2020

ایران کے ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا ایک اہم کمانڈر حبیب دائود اور اس کی بیٹی مریم کو دن دیہاڑے دارالحکومت تہران میں قتل کر دیا گیا۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ شام کو تہران کے شمال میں شاہراہ پاسداران انقلاب پر پیش آیا۔مقامی صحافیوں نے بتایا کہ حبیب دائود اور اس کی بیٹی مریم کو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ابو مہدی المہندس بلڈنگ کے سامنے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ حنملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے ۔ایران کی نیوز ایجنسی نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور...

ایران میں حزب اللہ کمانڈر بیٹی سمیت قاتلانہ حملے میں ہلاک

ہانگ کانگ معاملے پر پابندیاں، امریکی چینی تعلقات مزید گمبھیرہوگئے وجود - اتوار 09 اگست 2020

ہانگ کانگ میں بیجنگ حکومت کے کریک ڈائون کے ردعمل میں امریکا کی جانب سے سخت پابندیوں کے نفاذ پر چین نے سخت تنقید کی ہے ۔ غیرملکی ہانگ کانگ میں چین نے ایک نیا سکیورٹی قانون لاگو کیا ہے ، جس کے جواب میں امریکا نے ہانگ کانگ اور چین سے تعلق رکھنے والی متعدد اہم شخصیات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں ہانگ کانگ کی رہنماء کیری لام بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی انٹرنیٹ کمپنیوں ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو بھی امریکا میں مالی لین دین سے روکنے کا اعلان کیا تھا۔

ہانگ کانگ معاملے پر پابندیاں، امریکی چینی تعلقات مزید گمبھیرہوگئے