... loading ...
یہ شاندار بات ہے کہ آپ نے مختصر سفر کے دوران مستحکم معاشی پوزیشن حاصل کرلی،کرسٹین لغرادکا وزیر اعظم سے مکالمہ
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹرنے شرح نمو میں اگلے سال مزید کمی ہونے کے خدشات کابھی اظہار کردیا
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لغرادگزشتہ دنوں پاکستان کے دورے پرآئیں اور انھوں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات میں معاشی میدان میں حکومتی کارکردگی کو سراہا۔ ملاقات کے فوری بعدوزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آئی ایم ایف چیف کرسٹین لغراد نے کہا کہ مالیاتی اعتبار سے پاکستان کی پوزیشن پہلے سے بہتر ہے اور وہ یقیناً معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔
آئی ایم ایف کے کسی سربراہ کا طویل عرصے بعد پاکستان کا دورہ ہے ، نواز شریف سے ملاقات میں کرسٹین لغراد نے مختصر وقت میں ملک کو مختلف چیلنجز سے نکالنے اور اقتصادی استحکام کے حصول کے لیے وزیر اعظم کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ ’یہ انتہائی شاندار بات ہے کہ آپ نے اپنے مختصر سفر کے دوران بہتر اور مستحکم معاشی پوزیشن حاصل کرلی‘۔آئی ایم چیف نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل دنیا بھر میں پاکستان کی ساکھ کیلیے مثبت ہے کیوں کہ اسے اعتباراور استحکام کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔
آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے کہا کہ پاکستان میں معاشی شرح نمو میں بتدریج اضافہ ہوا، مالی خسارہ کم ہوا اور افراط زر میں بھی مسلسل کمی ہورہی ہے۔انہوں نے پاکستان کے مستحکم ہوتے ہوئے سماجی تحفظ، ٹیکس اصلاحات اور انتظامی اصلاحات کو بھی سراہا۔اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کے تعاون کی تعریف کی اور کہا کہ موجودہ حکومت نے جامع اصلاحاتی ایجنڈے کو جاری رکھتے ہوئے معاشی استحکام حاصل کیا۔انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی، معیشت اور توانائی بحران جیسے مسائل سے کامیابی سے نمٹ رہے ہیں جو کہ ہمیں گزشتہ حکومتوں سے ورثے میں ملے تھے‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’ہم نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس ختم کردیے اور ملک سے دہشت گردی کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اب بھی دو لاکھ فوجی جوان ملک کے شمالی حصے میں تعینات ہیں‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 24 ہزار سے زائد انسانی جانوں کی قربانی دینی پڑی جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو بھی 100 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
واضح رہے کہ ستمبر کے آخر میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت کا 12 واں اور آخری جائزہ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد قرض کی تقریباً 10 کروڑ 21 لاکھ ڈالر کی آخری قسط جاری کردی تھی۔4 ستمبر 2013 کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پاکستان کے لیے تقریباً 6.15 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی تھی جس کی مدت 36 ماہ رکھی گئی تھی۔اس توسیعی فنڈ سہولت کا مقصد پاکستان کے معاشی اصلاحات پروگرام کو سہارا دینا تھا تاکہ وہ جامع نمو حاصل کرسکے۔اس سلسلے میں پاکستان کو پہلی قسط کے 54 کروڑ 45 لاکھ ڈالر 2013 میں ہی مل گئے تھے جب کہ اس کے بعد کی قسطیں وقتاً فوقتاً سہ ماہی جائزوں کی تکمیل کے بعد جاری کی جاتی رہیں۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آئی ایم ایف چیف کرسٹین لغراد نے کہا کہ مالیاتی اعتبار سے پاکستان کی پوزیشن پہلے سے بہتر ہے اور وہ یقیناً معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کی سربراہ نے وزیراعظم پریہ بھی واضح کردیا کہ پاکستان کی معاشی بحالی کے آثار کے باوجود گزشتہ پانچ برس سے پاکستان کی شرح نمو صرف 3 فیصد رہی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق اگلے سال شرح نمو میں اضافے کے بجائے کمی ہوگی اور یہ ڈھائی فیصد ہوجائے گی ۔
جہاں تک پاکستان کی معاشی صورتحال کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران ملکی معیشت میں بحالی کے آثار پیداہوئے ہیں لیکن معیشت کی یہ بحالی چین کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری خاص طورپر سی پیک منصوبوں پر کام کے آغاز کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے بصورت دیگر ہماری وزارت خزانہ اور وزارت صنعت کی جانب سے اب تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جاسکاہے جسے ملکی معیشت کی بحالی اور استحکام کا پیش خیمہ قرار دیاجائے ،حقیقت یہ ہے کہ برسہا برس سے ہم ایک گومگوکی کیفیت میں ہیں۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرگیا پاکستان آئی ایم ایف کی مدد سے مشکل صورت حال سے چھٹکارا پاتا آرہا ہے۔اور بار بار غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے کی اس روش نے ملک کے اندرغلط ترغیبات کوجنم دیا ہے حتیٰ کہ اس کی شکل ہی بگڑ گئی ہے۔ ملکی معیشت کی اصل صورتحال کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ کچھ عرصہ پہلے ایک بینکار سے بات چیت کے دوران جب پوچھا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ بینکوں کی جانب سے نجی شعبہ کو دیے جانے والے قرضوں کی سطح اتنی کم ہو گئی ہے تو ان کاجواب تھا کہ نجی شعبے سے قرضے کی درخواست ہی نہیں آتی۔لیکن جب انھیں بتایا گیا کہ تاجر توکچھ اور ہی کہہ رہے تھے وہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ بینک انہیں اب قرضے دینا ہی نہیں چاہتے کیونکہ گورنمنٹ کو قرض دیکر وہ اپنے پیسہ کوزیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے، انہوں نے جواب میں کہا اور پھر تفصیل سے بتایا کہ نجی افراد سے قرضے واپس لینے میں بینکوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انھوں نے شکوہ کیا کہ نجی شعبے کے صنعتکار اور تاجر قرضے واپس نہ کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ہمیں علم ہوتا ہے کہ ان کے پاس پیسے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ انکار کرتے ہیں اوراس کی بجائے ہمیں وہ چیز دیتے ہیں جو قرضے کی ضمانت کے طورپر رکھی جاتی ہے( Collateral) جو ہم نہیں چاہتے۔جب ان سے براہ راست سوال کیا گیا کہ بینک کس صورت میں نجی شعبے کودوبارہ قرضے دینے کی سوچ سکتا ہے؟ ان کا جواب تھا جب معیشت دوبارہ ترقی کریگی ۔اور یہ کب ہوگا ؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں دس دس سال کا چکر چلتا ہے۔ دس سال تک ہماری معیشت ترقی کرتی ہے اور اس کے بعد اس میں کمی آتی ہے۔ اس کے بعد معیشت دوبارہ سنبھلتی ہے۔ فی الحال ہماری معیشت سست روی کا شکار ہے۔ لیکن غیر ملکی زرمبادلہ ملے گا تواس میں پھرسے لازماً تیزی آئیگی اور ہم پھر سے کام میں لگ جائینگے ۔جب ان سے سوال کیاگیا کہ قرضوں کی واپسی کا کیا ہوگا جس کا ذکرابھی آپ کر رہے تھے؟اس پر انھوں نے جواب دیا کہ پھر اس سے ہمیں فرق نہیں پڑے گا۔ مختلف تاجروں نے بھی بات چیت کے دوران اسی” دس سالہ چکر” کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی وہ محض اپنا وقت گزار رہے ہیں، نہ تو وہ کوئی نیا کاروبار شروع کر رہے ہیں اور نہ ہی اپنے بزنس کو پھیلارہے ہیں۔ وہ اس وقت تک سرمایہ کاری بھی نہیں کرینگے جب تک کہ انہیں یقین نہ ہوجائے کہ ترقی کی ہوا چل پڑی ہے۔ تب ہی تو وہ موقع آتا ہے جب آپ کی قسمت کھلتی ہے۔
آئی ایم ایف کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں افراط زر میں اضافہ ہورہاہے۔ لیکن اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار اس کے برعکس ہیں ،اس حوالے سے ایک بات اٹل معلوم ہوتی ہے کہ اب ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اپنی ہر تقریر اور بات چیت میں پاکستانی معیشت کے حوالے سے آئی ایم ایف کی سربراہ کی جانب سے پاکستانی اقدامات کی تعریف اور معیشت کی بہتری کے اعتراف کا ذکر ضرور کریں گے اور اس طرح عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ موجودہ حکومت نے ملک کی معیشت کو مضبوط کردیاہے، اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ عوام کو یہ بتانے کی زحمت نہیں کریں گے کہ انھوں نے زرمبادلہ کے ذخائر کا ڈھول پیٹنے کیلیے ملک کو گزشتہ 3سال کے دوران 24 ارب کے مزید قرض میں جکڑ دیاہے، جبکہ ملکی ساکھ اتنی خراب ہوچکی ہے کہ اب ملکی بینک بھی حکومت کو طویل المیعاد بنیادوں پر قرض دینے کو تیار نظر نہیں آتے۔
شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز ...
یاد رکھیںوقت نکلتا جا رہا ہے، ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو جہنم برسادیں گے، ٹرمپکا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں بیان امریکی صدر کے جھنجھلاہٹ کی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، کیلیفورنیااور اوکلاہوما سمیت دیگر ...
15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ...
حادثات واقعات میں 4 افراد لاپتا ہو گئے،2448 گھروں کو نقصان پہنچا بعض مکانات منہدم ،مختلف مقامات پر سینکڑوں مال مویشی ہلاک،افغان میڈیا حالیہ بارشوں اور قدرتی آفات کے باعث افغانستان میں 61 افراد جاں بحق جبکہ 116 افراد ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں 4 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔بارشو...
جدید سرویلینس اور سپیڈ چیک کرنے کے کیمرے، سولر پلیٹس، لائٹس اور پولز کچے کے ڈاکوؤں نے چوری کرلیے موٹر وے ایم 5 بدانتظامی کا شکار ، پولیس کا عملہ پرانی طرز پر اسپیڈ کیمرے سڑک کنارے رکھ کر جرمانے کرنے لگا صوبہ سندھ میں سکھر ملتان موٹر وے پر 200 کلو میٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ...
مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا ایران پر مسلط غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، چیئرمین کا جلسے سے خطاب چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ ...
ملک بھر میں توانائی کی بچت کیلئے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز صوبائی حکومتیں کی چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت جاری ، ذرائع وزارتِ توانائی نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا۔ وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتیں چی...
اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...
پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...
باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...
جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...
افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...