وجود

... loading ...

وجود

کشمیر کی زمین پر تو بھارت کا قبضہ ہے ‘کشمیریوں پر نہیں،بھارتی صحافی

منگل 25 اکتوبر 2016 کشمیر کی زمین پر تو بھارت کا قبضہ ہے ‘کشمیریوں پر نہیں،بھارتی صحافی

کشمیر کے بارے میں معلومات اور خبریں حکومتی عہدیداران مسخ کردیتے ہیں،بھارتی نظام کے خلاف 80 سالہ شخص سے 6 سالہ بچے تک کے سینے میں تکلیف دہ جارحیت موجود ہے
کچھ صحافی اراکین پارلیمان کی پٹی آنکھوں پر چڑھا کر صحافی کا حقیقی کردار فراموش کردیتے ہیں اوربھارت کی سالمیت اورقومی یکجہتی سے کھیلنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ،بھارتی وزیر اعظم کیلیے کھلا خط
rising-kashmir
بھارتی صحافی ستوش بھاٹیہ نے مقبوضہ کشمیر کے 4روزہ دورے کے بعد بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کے نام ایک کھلا خط روزنامہ’رائزنگ کشمیر’ میں شائع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘اگرچہ کشمیر کی سرزمین تو بھارتی حکومت کے قبضے میں ہے مگر کشمیری عوام بھارت کے ساتھ نہیں ہیں’۔اس صحافی نے مقبوضہ کشمیر کے چار روزہ دورے کے حقائق اس خط میں بیان کیے ہیں، جس میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال، کشمیری عوام کا غصہ اور بھارت خصوصاً مودی سرکار کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو غلط طریقے سے سنبھالنے کی کوشش وغیرہ جیسے حقائق کی طرف بھارتی وزیراعظم کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے ۔ بھارتی صحافی ستوش بھاٹیہ کی جانب سے لکھے گئے اس کھلے خط کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔
*ہر کشمیری میں جارحیت اور تلخی
ستوش بھاٹیہ نے لکھا ہے کہ میں یہ حقیقت بتانا چاہتا ہوں کہ بھارتی نظام کے خلاف لوگوں کے اندر تکلیف دہ جارحیت موجود ہے چاہے وہ 80 سالہ شخص ہو یا 6 سالہ بچہ۔یہ جارحیت اور تلخی نامنظوری کے احساس کے ساتھ ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان سے بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں جو ان کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کے درد اور جارحیت نے اب ایسی انتہاپسندی کا روپ لے لیا ہے کہ اب وہ ہاتھوں میں پتھر لے کر کھڑے ہوتے ہیں اور اتنے بڑے نظام سے ٹکرانے کے لیے تیار ہیں، کوئی بھی نتیجہ انہیں روک نہیں سکتا۔ ستوش بھاٹیہ نے لکھا ہے کہ میں سمجھتاہوں کہ یہ صورتحال ہمیں تباہ کن ‘قتل عام’ کی صورتحال کی جانب لے جاسکتی ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ وہ کشمیری جو ہاتھ میں پتھر نہ اٹھاتا ہو، اپنے دل میں ضرور پتھر رکھتا ہے۔ اس تحریک نے بڑے پیمانے کی عوامی تحریک کا روپ بالکل ویسے ہی دھار لیا ہے جیسے 1942 کی تحریک یا جے پی موومنٹ جس میں لیڈروں سے زیادہ عوام کا ہاتھ تھا۔ستوش بھاٹیہ نے لکھا ہے کہ جن لوگوں نے 2014 کے انتخابات میں ووٹ ڈالے تھے، آج ان میں سے کوئی بھی اسی حکومت کی حمایت میں ہمدردی کا ایک لفظ کہنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
*پاکستانی پرچم وہاں کیوں لہرائے جاتے ہیں؟
ستوش بھاٹیہ نے لکھا ہے کہ عزت مآب وزیراعظم کچھ لوگوں نے آپ کو یقین دلا رکھا ہے کہ کشمیر کا ہر ایک شہری پاکستانی ہے، مگر دیانتدارانہ بات تو یہ ہے کہ ہم وہاں کسی ایک شخص کو بھی تلاش نہیں کرسکے جو پاکستان کی تعریف کررہا ہو۔وہاں ہر درخت، ہر موبائل ٹاور پر پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں، ہم نے لوگوں سے اس بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا ‘ بھارتی پاکستان سے نفرت کرتے ہیں، تو انہیں چھیڑنے کے لیے ہم پاکستانی پرچم لہراتے ہیں’۔حیرت انگیز طور پر میں کسی ایسے شخص کو تلاش نہیں کرسکا جس نے کہا ہو کہ وہ پاکستان جانا چاہتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کی خراب صورتحال سے واقف ہیں۔ میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی کشمیریوں کوبھارتیوں پر پتھراؤکے لیے متاثر نہیں کرتا، اس کا ’’کریڈٹ ‘‘ہمارے اپنے سسٹم کو جاتا ہے۔
ستوش بھاٹیہ نے لکھا ہے کہ میرے پاس آپ کے لیے ایک سوال ہے مودی جی! کیا پاکستان جو مالی لحاظ سے کمزور ملک ہے، روزانہ ہر پتھراؤکرنے والے نوجوان کو 500 روپے دے سکتا ہے؟ اور کیا آپ واقعی ہمیں یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ بھارتی نظام اتنا بے بس یا ناکارہ ہے کہ وہ کسی بھی ایک شخص کو گرفتار نہیں کرسکتا جو کشمیر کے نوجوانوں کو 500۔ 500 روپے تقسیم کرتا ہو؟کیا پاکستان اتنا مضبوط ملک ہے کہ وہ ساٹھ لاکھ کشمیریوں کو بھارت کے خلاف آواز بلند کرنے اور لڑنے کے لیے تیار کرسکتا ہے؟ یہ ایک مذاق سے کم نہیں اور کشمیری بھی ہمارا مذاق اڑاتے ہیں۔
*کشمیر کی اطلاعات کو مسخ کرنا
ستوش بھاٹیہ لکھتے ہیں کہ میں اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں کہ آپ کو کشمیر کے بارے میں جو معلومات اور خبریں موصول ہوتی ہیں وہ غیر واضح اور سچی نہیں ہوتیں کیونکہ انہیں حکومتی عہدیداران مسخ کردیتے ہیں۔سرکاری عہدیداران کا پیش کردہ نکتہ نظر کشمیر کی حقیقی صورتحال بیان نہیں کرتا، مجھے یقین ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی تیکنیک یا طریق ہو جس سے آپ براہ راست کشمیریوں کی بات سن سکیں اور رابطہ کرسکیں تو آپ انہیں کبھی نظر انداز نہیں کریں گے۔کشمیری ان ٹی وی چینلز کے ناموں کا حوالہ دیتے ہیں جو ملک میں فرقہ واریت کے پھیلاؤ اور مبالغہ آرائی کرتے ہیں۔ میں سمجھتاہوں کہ میرے کچھ صحافی ساتھی اراکین پارلیمان کی پٹی آنکھوں پر چڑھا کر صحافی کا حقیقی کردار فراموش کردیتے ہیں اور ہمارے ملک کے اتحاد اور سالمیت سے کھیلنے سے ہچکچاتے نہیں۔
*مخالفانہ آوازیں ‘مارنا’، ایک غلط پالیسی
ستوش بھاٹیہ نے لکھا ہے کہ ہمارے فوجی عہدیدار اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ذہنوں میں ایک خطرناک غلط فہمی یہ پروان چڑھ رہی ہے کہ اگر کوئی کشمیر کے موجودہ نظام کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو اسے دبا کر مار دینا چاہیے، مگر یہ ایک انتہائی غلط پالیسی ہے۔جہاں تک میرا فہم ہے، یہاں کوئی ایسی چیز نہیں جسے ‘ علیحدگی پسند تحریک’ کہا جاسکے، درحقیقت یہ کشمیر کے ہر عام شہری کا انقلاب ہے جہاں اسی سال کے شخص سے لے کر چھ سال کی عمر تک کے بچے تک آزادی کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ گزشتہ ستر سال کے دوران ہم نے دانستہ اور سنگین غلطیاں کی ہیں جنھوں نے کشمیری عوام کو ہمارے خلاف کردیا ہے۔
*جمہوریت نہیں، بس قتل عام
ستوش بھاٹیہ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اس دن سے پہلے جب آپ وزیراعظم بنے تھے، کسی بھی سابقہ حکومت نے کشمیریوں کو یقین دہانی نہیں کرائی تھی کہ کشمیر بھارت کا ویسا ہی حصہ ہے جیسے دیگر ریاستیں۔ لیکن 1952 کے بعد پیدا ہونے والی ایک پوری نسل نے جمہوریت کا ایک دن بھی نہیں دیکھا اور اسے جمہوریت کا کوئی تجربہ نہیں ہوا۔انہوں نے بس فوج، نیم فوجی دستے، گولیاں، گنیں، لاشیں، اجتماعی قبریں، گمشدہ افراد، تشدد اور اجتماعی زیادتیوں کو ہی دیکھا ہے۔کشمیری عوام سوچتے ہیں کہ آخر کیوں وہ ایک نارمل زندگی کے حقدار نہیں جیسے بھارت کی دیگر ریاستوں کے باسیوں کو حاصل ہے، کیا وہ اپنی زندگیاں گنوں، گولیوں، پیلیٹ اور روزانہ کے قتل عام کے خوف میں گزاریں گے؟


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر