وجود

... loading ...

وجود

معاشی استحکام کا پول کھل گیا, حکومت مقامی بینکوں سے 100 ارب قرضے لینے میں ناکام

منگل 25 اکتوبر 2016 معاشی استحکام کا پول کھل گیا, حکومت مقامی بینکوں سے 100 ارب قرضے لینے میں ناکام

پیشکشوں میں 20سالہ مدت کے قرض کیلیے کسی بینک نے دلچسپی نہیں لی،بیشتر اظہار دلچسپی صرف3سال کیلیے بھیجی گئی
بینکوں کی پاکستان انوسٹمنٹ بانڈ میں سرمایہ کاری پر عدم دلچسپی،وفاق کو تمام پیشکشیں منسوخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا
boi-logo3اسٹیٹ بینک کے ذرائع سے حاصل کردہ خبروں کے مطابق وفاقی حکومت انوسٹمنٹ بانڈ کی فروخت کے ذریعے پاکستانی بینکوں سے مزید 100 ارب روپے قرض حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے،کیونکہ کوئی پاکستانی بینک اب حکومت کو کم شرح سود پر طویل المیعاد قرض دینے کو تیار نہیں ۔ اسٹیٹ بینک ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی بینکوں کی جانب سے پاکستان انوسٹمنٹ بانڈ میں سرمایہ کاری میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہ کیے جانے کی وجہ سے وفاقی حکومت کو بانڈ کی فروخت کے لیے طلب کردہ تمام پیشکشوں کے جواب میں موصول ہونے والی تمام پیشکشیں منسوخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بینکوں نے حکومت کی طلب کردہ پیشکشوں پر بہت ہی محتاط ردعمل کااظہار کیا اور جو پیشکشیں جمع کرائیں وہ بینکوں کی جانب سے حکومت کو دیے جانے والے سابقہ قرضوں سے زیادہ شرح منافع یعنی3-15 بنیاد پر جمع کرائی گئیں تھیں۔ اس کے علاوہ بینکوں نے جس مالیت کے بانڈ ز کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی وہ حکومت کی مطلوبہ رقم حکومت کے مقرر کردہ ہدف سے کم مالیت کی اور حکومت کی توقع سے زیادہ شرح منافع کی تھیں،یعنی اگر حکومت تمام پیشکشیں قبول بھی کرلیتی تو بھی حکومت کو مطلوبہ100ارب روپے کا قرض نہیں مل سکتاتھا۔ایسی صورت میں حکومت کے پاس ان پیشکشوں کومسترد کرنے اور پاکستان سرمایہ کاری بانڈز کے ذریعہ قرض نہ لینے کا فیصلہ کرنے کے سوا کوئی چارا کار نہیں تھا۔
تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ حکومت نے زیادہ شرح منافع پر بینکوں سے قرض نہ لینے کافیصلہ کرکے ایک اچھا فیصلہ کیاہے لیکن اب سوال یہ بھی پیداہوتاہے کہ اگر حکومت کو واقعی امور مملکت چلانے کے لیے رقم کی اشد ضرورت ہے تو اب وہ ضرورت کس ذریعے سے پوری کی جائے گی، کیا اس کے لیے دوبارہ سرمایہ کاری کی عالمی منڈی سے رجوع کرکے ملک کو مزید غیر ملکی قرضوں میں جکڑنے کی کوشش کی جائے گی ؟یہ ایسا سوال ہے جو وزارت خزانہ کی جانب سے گزشتہ 3سال کے دوران مختلف ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے لیے جانے والے بے تحاشہ قرضوں کی وجہ سے انتہائی اہمیت رکھتاہے ، اگر حکومت اب مزید غیر ملکی قرض حاصل کرتی ہے جس کی شرح پہلے ہی ہماری جی ڈی پی کی مقررہ شرح سے بہت زیادہ تجاوز کرچکی ہے تو اس کی واپس ادائیگی کے لیے ہمیں کیاکرنا پڑے گا اور پاکستان کے عوام کو مزید کتنے اور کس طرح کے ٹیکسوں میں جکڑنے کی کوشش کی جائے گی۔یہ بات واضح ہے کہ حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے اپنی آمدنی بڑھانا ہوگی اور آمدنی میں اضافے کا آسان حکومتی حربہ عوام کو مزید ٹیکسوں میں جکڑنے کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔
اسٹیٹ بینک کاکہناہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت کوپاکستان انوسٹمنٹ بانڈز کی خریداری کے لیے مختلف بینکوں سے جو پیشکشیں موصول ہوئی تھیں وہ اس سے پہلے ان بانڈز کی نیلامی کی شرح منافع سے زیادہ کی تھیں،اس کے علاوہ اگر ان تمام پیشکشوں کو منظور کربھی لیاجاتاتو بھی حکومت کو مطلوبہ 100 ارب روپے نہیں مل سکتے تھے۔ذرائع کے مطابق حکومت کو جو پیشکشیں موصول ہوئیں ان میں سے چند 3 سال کی مدت کے لیے قرض پر 6.19 فیصد کی بنیاد پر تھیں۔جبکہ دوسری پیشکشیں موجودہ شرح سے بہت زیادہ شرح منافع کی تھیں۔حکومت کو 5 سال کی مدت کے لیے جو پیشکشیں موصول ہوئیں وہ 6.80 فیصد کے شرح منافع کی تھیں جبکہ اس سے قبل 5 سال کی مدت کے لیے نیلام کیے جانے والے بانڈز پر شرح منافع6.70 فیصد تھا۔
حکومت کے اعلان کے مطابق اسٹیٹ بینک پاکستان نے وفاقی حکومت کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے3-5-10- اور20 سال کی مدت کے قرض کے لیے یہ پیشکشیں طلب کی تھیں لیکن پاکستانی بینکوں نے بوجوہ ان پیشکشوں میں زیادہ دلچسپی کااظہار نہیں کیا اور اسٹیٹ بینک کو3-5- اور10 سال کی مدت کے لیے مطلوبہ100 ارب روپے کی بجائے مجموعی طورپر صرف73 ارب 72 کروڑ50 لاکھ روپے مالیت کے بانڈز کی خریداری کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔جن کے عوض مدت کی تکمیل پر حکومت کو 75 ارب 20 لاکھ کی خطیر رقم ادا کرناپڑتی۔یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی بینک نے حکومت کو 20 سال کی مدت کے لیے قرض کی فراہمی کے لیے بانڈز کی خریداری میں کوئی دلچسپی ظاہرنہیں کی اور حکومت کو 20 سال کی مدت کے لیے بانڈز کی خریداری کی ایک بھی پیشکش موصول نہیں ہوئی۔زیادہ تر پیشکشیں 3 سالہ مدت کے لیے تھیں یعنی بینک حکومت کو طویل المیعاد قرض دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے یا زیادہ مدت کے لیے قرض دینے کوتیار نہیں تھے۔حکومت کو مجموعی طورپر موصول ہونے والی73 ارب 72 کروڑ50 لاکھ روپے مالیت کے بانڈز کی خریداری کی پیشکشوں میں سے 3 سال کی مدت کے لیے موصول ہونے والی پیشکشوں کی مالیت 62 ارب 15 کروڑ روپے تھی۔ 5سال کی مدت کے لیے موصول ہونے والی پیشکشوں کی مالیت9 ارب 65 کروڑ اور 10 سال کی مدت کے لیے موصول ہونے والی پیشکشوں کی مالیت صرف ایک ارب 92 کروڑ50 لاکھ روپے تھی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ وفاقی حکومت ایک ماہ قبل ہی یعنی 21 ستمبر 2016 کو پاکستانی بینکوں سے 3-5- اور10 سال کی مدت کے لیے بانڈز کی فروخت کے ذریعے بالترتیب 6.1970- 6.7010 اور7.7995 فیصد شرح سود پر 219 ارب 15 کروڑ20 لاکھ روپے قرض حاصل کرچکی ہے۔یہاںیہ بات بھی دلچسپ اور قابل غورہے کہ گزشتہ ماہ بھی یعنی ستمبر میں بھی حکومت نے قرض کے حصول کا ہدف 100 ارب ہی مقرر کیاتھا لیکن اسے توقع سے دگنی سے بھی زیادہ رقم حاصل ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود حکومت نے اسے قرض کے حصول کاآسان ذریعہ تصور کرتے ہوئے دوبارہ بانڈز کی فروخت کااعلان کردیا تھا۔
حکومت کو ملکی بینکوں سے مطلوبہ قرض نہ ملنے کی اس صورت حال سے اندازہ ہوتاہے کہ ملکی بینکوں کے پاس بھی اب اضافی سرمایہ کی کمی ہورہی ہے اور وہ طویل المیعاد قرضوں میں اپنی رقم پھنسانے کے بجائے عام لوگوں ،تاجروں اور صنعتکاروں کونسبتاً زیادہ شرح منافع اور کم مدت کے لیے قرض فراہم کرکے زیادہ منافع کمانا چاہتے ہیں۔
ایک ایسے وقت جب ملک کی برآمدات میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جارہی ہے اور تجارتی خسارہ تیزی سے بڑھتاجارہاہے حکومت کی جانب سے قرض پر قرض کے حصول کا یہ طریقہ کار کسی بھی طورپر مناسب معلوم نہیں ہوتا، وزارت خزانہ کے ارباب اختیار خاص طورپر وزیر خزانہ کافرض ہے کہ وہ حکومت کے غیر ضروری اخراجات پر قدغن عاید کریں اور ترقیاتی اخراجات کی رقم بھی غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے
منتقل کرنے کاسلسلہ روکنے کے لیے مثبت اقدام کریں اور حکومت کی آمدنی اور خرچ میں توازن قائم کرنے کے لیے مناسب اقدام کریں۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر