وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

معاشی استحکام کا پول کھل گیا, حکومت مقامی بینکوں سے 100 ارب قرضے لینے میں ناکام

منگل 25 اکتوبر 2016 معاشی استحکام کا پول کھل گیا, حکومت مقامی بینکوں سے 100 ارب قرضے لینے میں ناکام

پیشکشوں میں 20سالہ مدت کے قرض کیلیے کسی بینک نے دلچسپی نہیں لی،بیشتر اظہار دلچسپی صرف3سال کیلیے بھیجی گئی
بینکوں کی پاکستان انوسٹمنٹ بانڈ میں سرمایہ کاری پر عدم دلچسپی،وفاق کو تمام پیشکشیں منسوخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا
boi-logo3اسٹیٹ بینک کے ذرائع سے حاصل کردہ خبروں کے مطابق وفاقی حکومت انوسٹمنٹ بانڈ کی فروخت کے ذریعے پاکستانی بینکوں سے مزید 100 ارب روپے قرض حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے،کیونکہ کوئی پاکستانی بینک اب حکومت کو کم شرح سود پر طویل المیعاد قرض دینے کو تیار نہیں ۔ اسٹیٹ بینک ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی بینکوں کی جانب سے پاکستان انوسٹمنٹ بانڈ میں سرمایہ کاری میں کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہ کیے جانے کی وجہ سے وفاقی حکومت کو بانڈ کی فروخت کے لیے طلب کردہ تمام پیشکشوں کے جواب میں موصول ہونے والی تمام پیشکشیں منسوخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ بینکوں نے حکومت کی طلب کردہ پیشکشوں پر بہت ہی محتاط ردعمل کااظہار کیا اور جو پیشکشیں جمع کرائیں وہ بینکوں کی جانب سے حکومت کو دیے جانے والے سابقہ قرضوں سے زیادہ شرح منافع یعنی3-15 بنیاد پر جمع کرائی گئیں تھیں۔ اس کے علاوہ بینکوں نے جس مالیت کے بانڈ ز کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی وہ حکومت کی مطلوبہ رقم حکومت کے مقرر کردہ ہدف سے کم مالیت کی اور حکومت کی توقع سے زیادہ شرح منافع کی تھیں،یعنی اگر حکومت تمام پیشکشیں قبول بھی کرلیتی تو بھی حکومت کو مطلوبہ100ارب روپے کا قرض نہیں مل سکتاتھا۔ایسی صورت میں حکومت کے پاس ان پیشکشوں کومسترد کرنے اور پاکستان سرمایہ کاری بانڈز کے ذریعہ قرض نہ لینے کا فیصلہ کرنے کے سوا کوئی چارا کار نہیں تھا۔
تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ حکومت نے زیادہ شرح منافع پر بینکوں سے قرض نہ لینے کافیصلہ کرکے ایک اچھا فیصلہ کیاہے لیکن اب سوال یہ بھی پیداہوتاہے کہ اگر حکومت کو واقعی امور مملکت چلانے کے لیے رقم کی اشد ضرورت ہے تو اب وہ ضرورت کس ذریعے سے پوری کی جائے گی، کیا اس کے لیے دوبارہ سرمایہ کاری کی عالمی منڈی سے رجوع کرکے ملک کو مزید غیر ملکی قرضوں میں جکڑنے کی کوشش کی جائے گی ؟یہ ایسا سوال ہے جو وزارت خزانہ کی جانب سے گزشتہ 3سال کے دوران مختلف ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے لیے جانے والے بے تحاشہ قرضوں کی وجہ سے انتہائی اہمیت رکھتاہے ، اگر حکومت اب مزید غیر ملکی قرض حاصل کرتی ہے جس کی شرح پہلے ہی ہماری جی ڈی پی کی مقررہ شرح سے بہت زیادہ تجاوز کرچکی ہے تو اس کی واپس ادائیگی کے لیے ہمیں کیاکرنا پڑے گا اور پاکستان کے عوام کو مزید کتنے اور کس طرح کے ٹیکسوں میں جکڑنے کی کوشش کی جائے گی۔یہ بات واضح ہے کہ حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے اپنی آمدنی بڑھانا ہوگی اور آمدنی میں اضافے کا آسان حکومتی حربہ عوام کو مزید ٹیکسوں میں جکڑنے کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔
اسٹیٹ بینک کاکہناہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت کوپاکستان انوسٹمنٹ بانڈز کی خریداری کے لیے مختلف بینکوں سے جو پیشکشیں موصول ہوئی تھیں وہ اس سے پہلے ان بانڈز کی نیلامی کی شرح منافع سے زیادہ کی تھیں،اس کے علاوہ اگر ان تمام پیشکشوں کو منظور کربھی لیاجاتاتو بھی حکومت کو مطلوبہ 100 ارب روپے نہیں مل سکتے تھے۔ذرائع کے مطابق حکومت کو جو پیشکشیں موصول ہوئیں ان میں سے چند 3 سال کی مدت کے لیے قرض پر 6.19 فیصد کی بنیاد پر تھیں۔جبکہ دوسری پیشکشیں موجودہ شرح سے بہت زیادہ شرح منافع کی تھیں۔حکومت کو 5 سال کی مدت کے لیے جو پیشکشیں موصول ہوئیں وہ 6.80 فیصد کے شرح منافع کی تھیں جبکہ اس سے قبل 5 سال کی مدت کے لیے نیلام کیے جانے والے بانڈز پر شرح منافع6.70 فیصد تھا۔
حکومت کے اعلان کے مطابق اسٹیٹ بینک پاکستان نے وفاقی حکومت کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے3-5-10- اور20 سال کی مدت کے قرض کے لیے یہ پیشکشیں طلب کی تھیں لیکن پاکستانی بینکوں نے بوجوہ ان پیشکشوں میں زیادہ دلچسپی کااظہار نہیں کیا اور اسٹیٹ بینک کو3-5- اور10 سال کی مدت کے لیے مطلوبہ100 ارب روپے کی بجائے مجموعی طورپر صرف73 ارب 72 کروڑ50 لاکھ روپے مالیت کے بانڈز کی خریداری کی پیشکشیں موصول ہوئیں۔جن کے عوض مدت کی تکمیل پر حکومت کو 75 ارب 20 لاکھ کی خطیر رقم ادا کرناپڑتی۔یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے کسی بھی بینک نے حکومت کو 20 سال کی مدت کے لیے قرض کی فراہمی کے لیے بانڈز کی خریداری میں کوئی دلچسپی ظاہرنہیں کی اور حکومت کو 20 سال کی مدت کے لیے بانڈز کی خریداری کی ایک بھی پیشکش موصول نہیں ہوئی۔زیادہ تر پیشکشیں 3 سالہ مدت کے لیے تھیں یعنی بینک حکومت کو طویل المیعاد قرض دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے یا زیادہ مدت کے لیے قرض دینے کوتیار نہیں تھے۔حکومت کو مجموعی طورپر موصول ہونے والی73 ارب 72 کروڑ50 لاکھ روپے مالیت کے بانڈز کی خریداری کی پیشکشوں میں سے 3 سال کی مدت کے لیے موصول ہونے والی پیشکشوں کی مالیت 62 ارب 15 کروڑ روپے تھی۔ 5سال کی مدت کے لیے موصول ہونے والی پیشکشوں کی مالیت9 ارب 65 کروڑ اور 10 سال کی مدت کے لیے موصول ہونے والی پیشکشوں کی مالیت صرف ایک ارب 92 کروڑ50 لاکھ روپے تھی۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ وفاقی حکومت ایک ماہ قبل ہی یعنی 21 ستمبر 2016 کو پاکستانی بینکوں سے 3-5- اور10 سال کی مدت کے لیے بانڈز کی فروخت کے ذریعے بالترتیب 6.1970- 6.7010 اور7.7995 فیصد شرح سود پر 219 ارب 15 کروڑ20 لاکھ روپے قرض حاصل کرچکی ہے۔یہاںیہ بات بھی دلچسپ اور قابل غورہے کہ گزشتہ ماہ بھی یعنی ستمبر میں بھی حکومت نے قرض کے حصول کا ہدف 100 ارب ہی مقرر کیاتھا لیکن اسے توقع سے دگنی سے بھی زیادہ رقم حاصل ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود حکومت نے اسے قرض کے حصول کاآسان ذریعہ تصور کرتے ہوئے دوبارہ بانڈز کی فروخت کااعلان کردیا تھا۔
حکومت کو ملکی بینکوں سے مطلوبہ قرض نہ ملنے کی اس صورت حال سے اندازہ ہوتاہے کہ ملکی بینکوں کے پاس بھی اب اضافی سرمایہ کی کمی ہورہی ہے اور وہ طویل المیعاد قرضوں میں اپنی رقم پھنسانے کے بجائے عام لوگوں ،تاجروں اور صنعتکاروں کونسبتاً زیادہ شرح منافع اور کم مدت کے لیے قرض فراہم کرکے زیادہ منافع کمانا چاہتے ہیں۔
ایک ایسے وقت جب ملک کی برآمدات میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جارہی ہے اور تجارتی خسارہ تیزی سے بڑھتاجارہاہے حکومت کی جانب سے قرض پر قرض کے حصول کا یہ طریقہ کار کسی بھی طورپر مناسب معلوم نہیں ہوتا، وزارت خزانہ کے ارباب اختیار خاص طورپر وزیر خزانہ کافرض ہے کہ وہ حکومت کے غیر ضروری اخراجات پر قدغن عاید کریں اور ترقیاتی اخراجات کی رقم بھی غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے
منتقل کرنے کاسلسلہ روکنے کے لیے مثبت اقدام کریں اور حکومت کی آمدنی اور خرچ میں توازن قائم کرنے کے لیے مناسب اقدام کریں۔


متعلقہ خبریں


کنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازیکنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازی وجود - هفته 14 دسمبر 2019

کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے خلاف سیکڑوں افراد نے وسطی لندن میں احتجاجی مظاہرہ کیا، انہوں نے وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف نعرے بازی کی۔برطانیا میں پارلیمانی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی جیت کے خلاف سیکڑوں افراد لندن کی سڑکوں پر نکل آئے ، مظاہرین نے بورس جانسن میرے وزیراعظم نہیں اور بورس آئوٹ کے نعرے لگائے ، بینرز تھامے مظاہرین نے مختلف سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی، وزیراعظم بورس جانسن کی پارٹی نے گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں وا...

کنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازیکنزرویٹو پارٹی کی جیت کیخلاف سیکڑوں افراد کا احتجاج، بورس کیخلاف نعرے بازی

عراق میں امریکی مفادات کو گزند پہنچانے کی قیمت ایران ادا کرے گا، پومپیو وجود - هفته 14 دسمبر 2019

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطی بالخصوص عراق میں واشنگٹن کے مفادات اور تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی قیمت ایران کو چکانا ہوگی کیونکہ حالیہ دنوں کے دوران عراق میں ہمارے فوجی اڈوں پر میزائل اور راکٹ حملوں کے پیچھے ایرانی وفادار ملیشیائوں کا ہاتھ ہے ۔امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس موقع کو ایران کویقین دہانی کرکے بہتر موقع سمجھتے ہیں اور اسے یاد دلاتے ہیں کہ ایران یا اس کے کسی وفادار ایجنٹ نے امریکا یا اس کے اتحادیوں میں س...

عراق میں امریکی مفادات کو گزند پہنچانے کی قیمت ایران ادا کرے گا، پومپیو

جرمنی ،راکیلئے کشمیریوں کی جاسوسی کرنیوالے بھارتی جوڑے کو 18سال قید کا حکم وجود - هفته 14 دسمبر 2019

جرمنی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی'' را ''کے لیے کشمیریوں اور سکھوں کی جاسوسی کرنے والے جوڑے 50سالہ منموہن سنگھ اور 51سالہ کنول جیت کو بالتریب 18سال قید اور 180دن کی تنخواہ کا جرمانہ عائد کردیا گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمنی میں فرینکفرٹ کی ایک عدالت نے کشمیریوں اور سکھوں کی جاسوسی کرنے پر دو بھارتی شہریوں کو سزائیں سنائی ہیں۔ دونوں شہری میاں بیوی ہیں اور کافی عرصے سے جرمنی میں مقیم تھے ۔ یہ جوڑا جرمنی میں قیام پذیر دیگر کشمیریوں اور سکھوں کی معلومات اور سرگرمیوں ...

جرمنی ،راکیلئے کشمیریوں کی جاسوسی کرنیوالے بھارتی جوڑے کو 18سال قید کا حکم

سعودی عرب'خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ وجود - هفته 14 دسمبر 2019

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی میں خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ کیا گیاہے ۔سعودی عرب میں بھی پہلی بار خود کار طریقے سے چلنے والی نئی گاڑیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں، سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں دو بسوں سے لوکل موٹرز اور ایزی مائل کمپنیوں کے اشتراک سے اس جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ بس سروس کا آغاز کیا گیا ہے ۔کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی(کاوسٹ)کے اس اقدام سے اسمارٹ بسوں کا پروگرام نافذ ہوگیا ہے جو بہت ...

سعودی عرب'خود کار طریقے سے چلنے والی بسوں کا کا میاب تجربہ

امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

امریکی ایئر فورس نے بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ کیا ہے ، تین ماہ سے بھی کم وقت میں امریکی نیو کلیئر میزائل فورس کا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا تجربہ ہے ۔بیلسٹک میزائل کیلی فورنیا میں وینڈن برگ ایئر فورس بیس سے داغا گیا جس نے بحر الکاہل میں ہدف کو نشانہ بنایا۔امریکی حکام نے اس میزائل تجربے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ، تاہم اسے امریکی نیوکلیئر میزائل ڈیفنس سسٹم کی آپریشنل صلاحیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔واضح رہے کہ 2 اکتوبر کو بھی امریکی ایئر فورس نے بین البراعظمی بیلسٹک می...

امریکی ایئر فورس کا بیلسٹک میزائل کا ایک اور تجربہ

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

یکم نومبر کو ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اٹھنے والی احتجاجی تحریک کے دوران پولیس اور پاسداران انقلاب نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں مظاہرین جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ایران میں نومبر کے وسط میں شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پہلی ہلاکت سیرجان شہرمیں ہوئی۔ اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے احتجاج ملک کے طول وعرض میں پھیل گیا۔ حکومت نے احتجاج کا دائرہ پھیلتے دیکھا تو انٹرنیٹ پرپابندی عائد کردی اور طاقت کا استعمال بڑھا دیا۔ ایرانی حکومت ک...

ایران ، حالیہ احتجاج میں 1360 مظاہرین ہلاک، 10 ہزار گرفتار

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

بلومبرگ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا اور چین تجارتی معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے اور معاہدے کے اصول بھی وضع کرلیے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری باقی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا ایک مرحلہ باقی ہے اور وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس کی منظوری ہے ۔"بلومبرگ" کا کہنا ہے کہ اسے چین اور امریکا کیدرمیان ممکنہ سمجھوتے کے حوالے سے باخبر ذرائع کی طرف سے ا...

امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے، صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

ترکی نے امریکی سینٹ کی طرف سے آرمینی باشندوں کے قتل عام سے متعلق ایک بل کی منظوری پر سخت رد عمل ظاہرکیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینٹ کی قرارداد سے واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان تعلقات خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔خبر رساں اداروں کے مطابق انقرہ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکی سینیٹ نے آرمینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کرکے امریکا اور ترکی کے باہمی تعلقات خطرے میں ڈال دئیے ہیں۔ترکی کے ایوان صدر کے ڈائریکٹراطلاعات فخرالدین الٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی کان...

امریکی سینیٹ کی قرارداد نے امریکا ترکی تعلقات خطرے میں ڈال دیے ، انقرہ

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن وجود - جمعه 13 دسمبر 2019

اب کوئی میسجنگ یا چیٹنگ ایپ ہو یا روزمرہ کی زندگی، آپ کو بات چیت کے دوران دوسرے کی زبان نہ بھی آتی ہو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، آپ کو بس گوگل کے اس بہترین فیچر کو استعمال کرنا ہوگا۔درحقیقت گوگل کے اس فیچر کی بدولت بیشتر افراد تو کوئی دوسری زبان سیکھنے کی زحمت ہی نہیں کریں گے کیونکہ زندگی کے ہر شعبے میں مدد کے لیے گوگل ہے نا۔گوگل نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے اپنے ڈیجیٹل اسسٹنٹ میں انٹرپریٹر موڈ کو متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو آپ کے فون میں رئیل ٹائم می...

اب کسی بھی زبان میں بات کرنا گوگل اسسٹنٹ سے ممکن

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایوان نمائندگان کی آرمڈ فورس کمیٹی کو بتایا کہ ان کا ملک اپنے دفاع کو مستحکم کرنے اور اپنے اتحادیوں کو ایران کے خطرات کا مقابلہ کرنے کا اہل بنانا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران ہمارے مفادات یا افواج پر حملہ کرتا ہے تو ہم فیصلہ کن طاقت کے ساتھ جواب دیں گے ۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ واشنگٹن ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کررہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مختلف اداروں، کمپنیوں اور افراد کے خل...

ایران کو پوری طاقت سے جواب دیں گے ،امریکی وزیر دفاع

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کالج کیمپسز میں یہودیوں کی مخالفت اور اسرائیل کا بائیکاٹ روکنے کے لیے نیا صدارتی حکم نامہ جاری کردیا ہے ۔ٹرمپ کے اس متنازع اقدام کے تحت ایسے تعلیمی اداروں کی حکومتی امداد روکی جاسکے گی جو یہودی اور اسرائیل مخالف واقعات کی روک تھام میں ناکام رہیں گے ۔صدارتی حکم نامے کے تحت محکمہ تعلیم کالج کیمپس میں یہود مخالف عناصر کے خلاف براہ راست کارروائی کر سکے گا۔اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حکومت کو بحیثیت نسل، قوم یا مذہب یہودیت کی تشریح کی اجازت ہوگی ۔

ٹرمپ کا یہود مخالف بائیکاٹ روکنے کیلئے صدارتی حکم نامہ جاری

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور وجود - جمعرات 12 دسمبر 2019

امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو کم کرنے پر غور کررہا ہے ۔ جس کے لئے حکام کئی طریقہ کار کا جائزہ لے رہے ہیں۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں سے لڑنے کے لئے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کی جائیگی، تاہم انہوں نے حتمی تعداد نہیں بتائی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اختیارات ہیں۔ اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 13ہزار ہے جن میں سے 5 ہزار سیکورٹی سے متعلق آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ باقی اہلکار افغان سیکورٹی فورسز ...

امریکا کا افغانستان میں فوج کو محدود کرنے پر غور