وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

شام،فلسطین،عراق،کشمیرودیگرخطوں کی سلگتی صورتحال, نئے یو-این سیکریٹری کاامتحان

پیر 24 اکتوبر 2016 شام،فلسطین،عراق،کشمیرودیگرخطوں کی سلگتی صورتحال, نئے یو-این سیکریٹری کاامتحان

انٹونیو گیٹریز کے حق میں سلامتی کونسل کے 15 مستقل ارکان میں سے 13 نے ووٹ دئے، 2ارکان غیر حاضر رہے،کوئی ووٹ ان کے خلاف نہیں پڑا
پرتگال کے سابق وزیر اعظم، 10 سال تک اقوام متحدہ کے ایک اہم عہدے کے سربراہ رہے، رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور پر عملدرآمدکے لیے پرعزم
un-chief
جنرل اسمبلی نے گزشتہ دنوں اپنے اجلاس میں پرتگال کے سابق وزیراعظم انٹونیو گیٹریز کوبان کی مون کی جگہ اگلے 5سال کیلیے اقوام متحدہ کانیا سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا۔وہ اگلے سال جنوری میں اپنے عہدے کاحلف اٹھائیں گے اوراس عالمی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے فرائض کی ادائیگی شروع کردیں گے۔اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کیلیے مختلف نام زیر غور تھے اورسلامتی کونسل جولائی سے مختلف ناموں پر اتفاق رائے کے لیے اپنے مستقل ارکان کے درمیان رائے شماری کرارہی تھی جس کے بعد سلامتی کونسل نے انٹونیو گیٹریز کانام تجویز کیا جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں منظوری دے دی گئی۔سلامتی کونسل میں انٹونیو گیٹریز کے حق میں کونسل کے 15 مستقل ارکان میں سے 13 نے ووٹ دئے جبکہ دو ارکان غیر حاضر رہے اس طرح ان کے خلاف کوئی ووٹ نہیں پڑا۔
انٹونیو گیٹریزاقوام متحدہ کے لیے نئے نہیں ہیں،وہ 2005سے2015 تک 10 سال اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ اچھی ابلاغی صلاحیت کے مالک تصور کیے جاتے ہیں اوروہ اپنی مادری پرتگالی زبان کے علاوہ اقوام متحدہ کی 5 میں سے3 سرکاری زبانیں انگریزی، فرانسیسی اورہسپانوی بڑی روانی سے بول سکتے ہیں۔ ان کی اس لسانی صلاحیت نے اقوام متحدہ کے اس اہم عہدے پر ان کے انتخاب میں اہم کردار ادا کیاکیونکہ وہ جن 4زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں وہ اقوام کی سلامتی کونسل کے 9موجودہ ارکان کی سرکاری زبانوں میں شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے اس اہم عہدے پر انٹونیو گیٹریز کے انتخاب میں رواں سال اقوام متحدہ کی 71 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اختیار کئے گئے انتخابی طریقہ کار نے بھی اہم کردار ادا کیا۔اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کاانتخاب خفیہ طریقے سے سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان ہی کرتے تھے لیکن اس طریقہ کار پر کافی عرصے سے یہ اعتراض کیاجارہاتھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جیسے اہم عہدے پر سلامتی کونسل کے تمام مستقل ارکان کو بھی اعتماد میں نہ لیاجانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے ،ان اعتراضات اوربڑے پیمانے پر کی جانے والی تنقید کی وجہ سے اس سال سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ خط میں سلامتی کونسل کے تمام ارکان کو نئے سیکریٹری جنرل کے لیے نام تجویز کرنے کی دعوت دی گئی تھی اور پھر موصولہ ناموں میں سے کسی ایک نام پر اتفاق رائے کے لیے تمام امیدواروں کی صلاحیتوں، اس کے کیریئر اور سابقہ خدمات کو مدنظر رکھ کر بار بار رائے شماری کے ذریعے ایک نام پر اتفاق رائے کاطریقہ کار اپنایاگیا۔
طریقہ کار کے مطابق جغرافیائی اعتبار سے باری کے لحاظ سے اس سال سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے مشرقی یورپ کو ترجیح دینے اور اس اہم عہدے کے لیے خواتین کانام تجویز کرنے کا بھی مشورہ دیا گیاتھاکیونکہ اس سے قبل 8 سیکریٹری جنرل مرد تھے، اس طرح سلامتی کونسل کے ارکان کو رواں سال اس عہدے کے لیے موزوں خواتین کی نامزدگی کااختیار بھی حاصل تھا۔اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رکن ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر13 نام آئے تھے جن میں7 خواتین کے نام بھی شامل تھے۔جنرل اسمبلی کے 193 ارکان نے مختلف اجلاسوں کے دوران ان ناموں پر غور شروع کیا،نئے سیکریٹری جنرل کے نام پر غور کایہ سلسلہ اپریل سے شروع ہواجو جولائی تک جاری رہا او ر اس مقصد کے لیے جنرل اسمبلی کے ارکان کے متعدد اجلاس ہوئے۔اس دوران سلامتی کونسل کے ارکان نے مجوزہ عہدیداروں سے فرداً فرداً ملاقاتیں کرکے ان کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے علا وہ ان کے خیالات اور ارادوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ۔اس پورے عمل کے دوران انٹونیو گیٹریز وہ واحد امیدوار تھے جو سلامتی کونسل کے 9ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے، نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کامرحلہ کتنا دشوار تھا اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ انٹونیو گیٹریز کے نام پر اتفاق کے بعد روس کے نمائندے ویٹالی چرکن نے اس کابرملا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کامرحلہ انتہائی دشوار دقت طلب تھا۔ انھوں نے کہا کہ روس چاہتاتھاکہ نئے سیکریٹری جنرل مشرقی یورپ سے ہو اور وہ خاتون ہو لیکن بالآخر ہم تمام امیدواروں میں سے ایک بہترین شخصیت کاانتخاب کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
نئے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے انٹونیو گیٹریز کاانتخاب اس اعتبار سے زیادہ خوش آئند ہے کہ یہ انتخاب اتفاق رائے سے کیاگیا اور اس انتخابی عمل میں سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان کو شامل کیا گیا۔ انتخاب کاعمل خفیہ نہیں رکھاگیا اور اسے براہ راست تمام ارکان کو ووٹ کاحق دے کر شفاف بنایاگیا۔
جنوری2017 میں نئے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی نومنتخب سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریز کو دنیا کو درپیش بعض سنگین چیلنجوں کاسامنا کرناپڑے گاجن میں شام میں جاری طویل لڑائی، دہشت گردی،پناہ گزین، جنوبی کوریا، کشمیر ، فلسطین،ماحولیات اور اقوام متحدہ کے طریقہ کار میں اصلاحات جیسے دیرینہ مسائل شامل ہیں۔انٹونیو گیٹریز ایک ایسے وقت اس عالمی ادارے کے سربراہ منتخب کیے گئے ہیں جبکہ پوری دنیا عملی طورپر بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے اور دنیا کے ہر خطے میں انسانی زندگی گوناگوں خطرات سے دوچار ہے۔
انٹونیو گیٹریز کا پہلا امتحان خود اپنی کابینہ کاانتخاب ہوگا ،کابینہ کے انتخاب میں انھیں نہ صرف یہ کہ متعلقہ ارکان کی صلاحیتوں کوپرکھنا ہوگا بلکہ اس میں صنفی توازن پر بھی توجہ مرکوز رکھنا ہوگی اور خواتین کو بھی اہم عہدوں میں مساوی تعداد میں شریک کرنے کی کوشش کرنا ہوگی کیونکہ وہ اپنی کابینہ میں جتنے بہتر لوگوں کاانتخاب کریں گے، ان کاکام اتنا ہی زیادہ آسان ہوجائے گا،نومنتخب سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریز چونکہ 10 سال تک اقوام متحدہ کے ایک اہم عہدے کے سربراہ رہے ہیں اس لیے وہ اس ادارے سے منسلک لوگوں اور ان کی صلاحیتوں سے کماحقہ واقف ہیں، اس لیے اب کابینہ کے انتخاب میں انھیں زیادہ مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔
اقوام متحدہ جیسے اہم عالمی ادارے کاسربراہ منتخب ہونے کے بعد خودانٹونیو گیٹریز نے اس بات کااعتراف کیاہے کہ اس ادارے کے سیکریٹری جنرل کو بہت منکسرالمزاج ،بردبار ہونا چاہیے ۔کسی بھی ملک یاقومیت کے خلاف اس کے دل یاذہن میں کوئی منفی خیال یارجحان نہیں ہوناچاہیے اور اسے انتہائی دیانتداری اور غیر جانبداری کے ساتھ اس عالمی ادارے کے تمام رکن ممالک کے مفادات کاتحفظ اور نگہبانی کرنی چاہیے اوراسے ایک مصالحت کار کی حیثیت سے منصفانہ کردار اداکرناچاہیے۔انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ اس عہدے کاتقاضہ ہے کہ اس پر فائز شخص امن کاپیغامبر بنے،انھوں نے کہا کہ میری کوششوں کی کامیابی کاانحصار اس ادارے کے تمام رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور پر پوری طرح عملدرآمد پر ہوگا۔
اگر نومنتخب سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریز اپنے اس قول پر قائم رہتے ہیں اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک خاص طورپر بڑی طاقتیں ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرتی رہیں تو وہ اس ادارے کے انتہائی موثر اورفعال سیکریٹری جنرل ثابت ہوسکتے ہیں اور دنیا کو درپیش دیرینہ تنازعات جن میں سے کچھ کا ذکر اوپر کیاگیاہے حل کرانے اور اس طرح اس دنیا کو جنگ اور تباہکاری کے مہیب بادلوں سے نکال کر امن کاگہوارہ بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارت نے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کا اعتراف کر لیا وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

جنت نظیر وادی کو بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا۔ 109روز سے جاری کرفیو اور لاک ڈائون کے دوران بھارتی درندے کشمیری بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ہزاروں افراد کی گرفتاری کا بھارت نے خود اعتراف کر لیا۔ عالمی تنظیموں کی رپورٹس نے بھی مودی سرکار کی فسطائیت کا پردہ چاک کر دیا۔مقبوضہ وادی میں زندگی آج بھی قید ہے ، مسلسل لاک ڈائون کے باعث حالات انتہائی خراب ہیں، 109 روز سے جاری بربریت بھی حوصلے پست نہ کر سکی، مظالم کے باوجود کشمیریوں کا عزم جوان ہے ۔بھارت کے وزیر مملکت برائے دا...

بھارت نے ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کا اعتراف کر لیا

ناروے میں اسلام مخالف ریلی ، توہین قرآن کی جسارت کرنے والے ملعون پر حملہ وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

ناروے میں اسلام مخالف ریلی میں توہین قرآن کی جسارت کرنے والے ملعون شخص پر مسلم نوجوانوں نے حملہ کردیا۔ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں قرآن کی توہین کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے ۔ اسلام مخالف تنظیم (سیان)کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس میں قرآن کی شدید بے حرمتی کی گئی۔ لیکن ناروے کی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور تنظیم کے سربراہ لارس تھورسن کو روکنے کی کوئی کوشش نہ کی۔قرآن کی توہین کو وہاں موجود مسلمان نوجوان برداشت نہ کرسکے اور سبق سکھانے کے لیے اس پر حملہ کردیا۔ پہلے ایک نوجوان ر...

ناروے میں اسلام مخالف ریلی ، توہین قرآن کی جسارت کرنے والے ملعون پر حملہ

ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتے ، دفاع کیلئے ہر پل تیار ہیں،شاہ سلمان وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے کہاہے کہ ریاض تہران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا مگر اپنے دفاع کرنے کے لئے ہر پل تیار ہے ۔شوریٰ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی برداری ایران کے میزائل اور ایٹمی پروگرام کو روکنے میں کردار ادا کرے ، اپنا دفاع کے لئے انتہائی اقدام اٹھانے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہیں کی جائے گی۔شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں ایرانی اسلحہ استعمال ہوا، عالمی برادری ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کوروکنے میں کردار ادا کرے ۔سعودی ...

ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتے ، دفاع کیلئے ہر پل تیار ہیں،شاہ سلمان

ملکہ الزبتھ کے چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو کا شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

ملکہ الزبتھ کے چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو نے اپنی شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق برطانوی ملکہ نے ڈیوک آف یارک کو ان کی سرکاری خدمات سے سبکدوش ہونے کی اجازت دے دی، اس بات کی تصدیق شہزادہ اینڈریو کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی ہوئی جس میں انہوں نے بچوں سے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کا معاملہ منظر عام پر آنے سے متعلق بتایا۔شہزادہ اینڈریو برطانوی ملکہ الزبتھ کے دوسرے بیٹے اور برطانیہ کے تخت و تاج کے امیدواروں ...

ملکہ الزبتھ کے چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو کا شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی کا اعلان

سب سے زیادہ تارکین وطن بچے امریکا میں قید ہیں، اقوام متحدہ وجود - جمعرات 21 نومبر 2019

اقوام متحدہ کی رپورٹ آزادی سے محروم کر دئیے گئے بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کا عالمی جائزہ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ تارکین وطن بچے امریکی جیلوں میں قید ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں امریکی جیلوں میں ایک لاکھ سے زائد تارکین وطن بچوں کے قید ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے جبکہ ان بچوں کے والدین بھی کسی نہ کسی جیل میں قید ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ہے ۔انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے عال...

سب سے زیادہ تارکین وطن بچے امریکا میں قید ہیں، اقوام متحدہ

بابری مسجد کیس میں فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان وجود - منگل 19 نومبر 2019

بھارت میں ایک مسلم گروپ نے ایودھیا میں بابری مسجد کی زمین ہندوں کو دیے جانے سے متعلق حالیہ فیصلے کے خلاف ملکی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق دانشوروں اور مختلف تنظیموں کے گروپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک رکن سید قاسم الیاس نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں واضح خامیاں ہیں۔ اس سلسلے میں مرکزی مسلم فریق سنی وقف بورڈ نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے اسے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بابری مسجد کیس میں فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان

حکومت سازی میں عرب قانون سازوں کی حمایت خطرناک ہے، اسرائیلی وزیراعظم وجود - منگل 19 نومبر 2019

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے سیاسی حریف بینی گینٹس نے عرب قانون سازوں کی حمایت سے حکومت قائم کی، تو یہ ممکنہ پیش رفت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں یہ تنبیہ کی۔ اسرائیلی میں ستمبر میں ہوئے انتخابات کے بعد سے مختلف سیاسی جماعتیں حکومت سازی کی کوششوں میں ہیں تاہم اب تک کوئی بھی سیاسی اتحاد مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکا۔ مرکزی امیدوار نیتن یاہو اور گین...

حکومت سازی میں عرب قانون سازوں کی حمایت خطرناک ہے، اسرائیلی وزیراعظم

مواخذے کی کارروائی، صدر ٹرمپ کے خلاف ایک اور گواہی ریکارڈ وجود - منگل 19 نومبر 2019

امریکا کے قومی سلامتی ادارے کے سابق اہلکار ٹِم موریسن نے کہاہے کہ یورپی یونین میں امریکی سفیر سونڈ لینڈ نے انہیں بتایا تھا کہ وہ یوکرین معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر عمل پیرا تھے۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹم موریسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سونڈ لینڈ نے بتایا تھا کہ یوکرین کے لیے امریکی امداد مشروط ہے اور اس کی شرط یہ ہے کہ یوکرین سابق صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کا ا...

مواخذے کی کارروائی، صدر ٹرمپ کے خلاف ایک اور گواہی ریکارڈ

نوسالہ بیلجیئن بچہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کے لیے تیار وجود - منگل 19 نومبر 2019

ایک نو سالہ بیلجیئن جس کی ماں ڈچ نسل سے اس وقت گریجوایشن کررہا ہے۔ عن قریب وہ اپنے اس مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرلے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق نو سالہ لوران سایمنز کے والد بیلجئین سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ والد ڈنمارک سے ہیں۔ لوران نیدرلینڈس کی یونیورسٹی آف آئندھوون میں الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا ہے۔ اگرچہ اس عمر کے کسی بچے کا اس تعلیمی مرحلے تک پہنچنا آسان نہیں مگر یہ اس نے اسے حقیقت ہے۔یونیورسٹی کے عملے اور انتظامیہ کا کہنا تھاکہ بچہ غ...

نوسالہ بیلجیئن بچہ الیکٹریکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کے لیے تیار

سابق ایرانی بادشاہ کے بیٹے کی حکومت مخالف احتجاج کی حمایت وجود - منگل 19 نومبر 2019

ایران کے سابق باد شاہ کے صاحب زادے رضا پہلوی نے اپنے ایک صوتی پیغام میں ملک میں حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاج کی تحریک کی مکمل حمایت کردی،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایران انٹرنیشنل عریبک ویب سائٹ کے ٹویٹر اکائونٹ پر نشرہوا ۔رضا پہلوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاج ملک میں قومی یکجہتی کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔

سابق ایرانی بادشاہ کے بیٹے کی حکومت مخالف احتجاج کی حمایت

60 ارکان پارلیمنٹ کا صدر حسن روحانی سے باز پرس کا مطالبہ وجود - منگل 19 نومبر 2019

60 ایرانی قانون سازوں نے ایران کے درجنوں شہروں میں مظاہروں کے پس منظر میں صدر حسن روحانی سے باز پرس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان نے صدر حسن روحانی پر ملک کا انتظام وانصرام چلانے میں ناکامی اور نا اہلی کا الزام عائد کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر حسن روحانی اور ان کی حکومت اپنے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کررہی ہے۔

60 ارکان پارلیمنٹ کا صدر حسن روحانی سے باز پرس کا مطالبہ

ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں وجود - اتوار 17 نومبر 2019

ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی، مظاہرین اور پولیس جھڑپوں کے دوران متعد افراد زخمی ہو گئے ۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمہوریت کے حامی صبح ہی سڑکوں پر آ گئے اورحکومت مخالف مظاہرہ کیا، سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیل پھینکے تو مظاہرین نے بھی پٹرول بم سے پولیس کو ضرب لگائی، نوجوانوں نے آنسو گیس سے بچنے کے لیے ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھے تھے ، انہوں اپنے دفاع کے لیے چھتریاں بھی اٹھا رکھی تھیں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین پٹ...

ہانگ کانگ ،حکومت مخالف مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں