... loading ...
انٹونیو گیٹریز کے حق میں سلامتی کونسل کے 15 مستقل ارکان میں سے 13 نے ووٹ دئے، 2ارکان غیر حاضر رہے،کوئی ووٹ ان کے خلاف نہیں پڑا
پرتگال کے سابق وزیر اعظم، 10 سال تک اقوام متحدہ کے ایک اہم عہدے کے سربراہ رہے، رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور پر عملدرآمدکے لیے پرعزم

جنرل اسمبلی نے گزشتہ دنوں اپنے اجلاس میں پرتگال کے سابق وزیراعظم انٹونیو گیٹریز کوبان کی مون کی جگہ اگلے 5سال کیلیے اقوام متحدہ کانیا سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا۔وہ اگلے سال جنوری میں اپنے عہدے کاحلف اٹھائیں گے اوراس عالمی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے فرائض کی ادائیگی شروع کردیں گے۔اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کیلیے مختلف نام زیر غور تھے اورسلامتی کونسل جولائی سے مختلف ناموں پر اتفاق رائے کے لیے اپنے مستقل ارکان کے درمیان رائے شماری کرارہی تھی جس کے بعد سلامتی کونسل نے انٹونیو گیٹریز کانام تجویز کیا جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں منظوری دے دی گئی۔سلامتی کونسل میں انٹونیو گیٹریز کے حق میں کونسل کے 15 مستقل ارکان میں سے 13 نے ووٹ دئے جبکہ دو ارکان غیر حاضر رہے اس طرح ان کے خلاف کوئی ووٹ نہیں پڑا۔
انٹونیو گیٹریزاقوام متحدہ کے لیے نئے نہیں ہیں،وہ 2005سے2015 تک 10 سال اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ اچھی ابلاغی صلاحیت کے مالک تصور کیے جاتے ہیں اوروہ اپنی مادری پرتگالی زبان کے علاوہ اقوام متحدہ کی 5 میں سے3 سرکاری زبانیں انگریزی، فرانسیسی اورہسپانوی بڑی روانی سے بول سکتے ہیں۔ ان کی اس لسانی صلاحیت نے اقوام متحدہ کے اس اہم عہدے پر ان کے انتخاب میں اہم کردار ادا کیاکیونکہ وہ جن 4زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں وہ اقوام کی سلامتی کونسل کے 9موجودہ ارکان کی سرکاری زبانوں میں شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے اس اہم عہدے پر انٹونیو گیٹریز کے انتخاب میں رواں سال اقوام متحدہ کی 71 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اختیار کئے گئے انتخابی طریقہ کار نے بھی اہم کردار ادا کیا۔اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کاانتخاب خفیہ طریقے سے سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان ہی کرتے تھے لیکن اس طریقہ کار پر کافی عرصے سے یہ اعتراض کیاجارہاتھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جیسے اہم عہدے پر سلامتی کونسل کے تمام مستقل ارکان کو بھی اعتماد میں نہ لیاجانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے ،ان اعتراضات اوربڑے پیمانے پر کی جانے والی تنقید کی وجہ سے اس سال سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ خط میں سلامتی کونسل کے تمام ارکان کو نئے سیکریٹری جنرل کے لیے نام تجویز کرنے کی دعوت دی گئی تھی اور پھر موصولہ ناموں میں سے کسی ایک نام پر اتفاق رائے کے لیے تمام امیدواروں کی صلاحیتوں، اس کے کیریئر اور سابقہ خدمات کو مدنظر رکھ کر بار بار رائے شماری کے ذریعے ایک نام پر اتفاق رائے کاطریقہ کار اپنایاگیا۔
طریقہ کار کے مطابق جغرافیائی اعتبار سے باری کے لحاظ سے اس سال سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے مشرقی یورپ کو ترجیح دینے اور اس اہم عہدے کے لیے خواتین کانام تجویز کرنے کا بھی مشورہ دیا گیاتھاکیونکہ اس سے قبل 8 سیکریٹری جنرل مرد تھے، اس طرح سلامتی کونسل کے ارکان کو رواں سال اس عہدے کے لیے موزوں خواتین کی نامزدگی کااختیار بھی حاصل تھا۔اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رکن ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر13 نام آئے تھے جن میں7 خواتین کے نام بھی شامل تھے۔جنرل اسمبلی کے 193 ارکان نے مختلف اجلاسوں کے دوران ان ناموں پر غور شروع کیا،نئے سیکریٹری جنرل کے نام پر غور کایہ سلسلہ اپریل سے شروع ہواجو جولائی تک جاری رہا او ر اس مقصد کے لیے جنرل اسمبلی کے ارکان کے متعدد اجلاس ہوئے۔اس دوران سلامتی کونسل کے ارکان نے مجوزہ عہدیداروں سے فرداً فرداً ملاقاتیں کرکے ان کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے علا وہ ان کے خیالات اور ارادوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ۔اس پورے عمل کے دوران انٹونیو گیٹریز وہ واحد امیدوار تھے جو سلامتی کونسل کے 9ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے، نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کامرحلہ کتنا دشوار تھا اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ انٹونیو گیٹریز کے نام پر اتفاق کے بعد روس کے نمائندے ویٹالی چرکن نے اس کابرملا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کامرحلہ انتہائی دشوار دقت طلب تھا۔ انھوں نے کہا کہ روس چاہتاتھاکہ نئے سیکریٹری جنرل مشرقی یورپ سے ہو اور وہ خاتون ہو لیکن بالآخر ہم تمام امیدواروں میں سے ایک بہترین شخصیت کاانتخاب کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
نئے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے انٹونیو گیٹریز کاانتخاب اس اعتبار سے زیادہ خوش آئند ہے کہ یہ انتخاب اتفاق رائے سے کیاگیا اور اس انتخابی عمل میں سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان کو شامل کیا گیا۔ انتخاب کاعمل خفیہ نہیں رکھاگیا اور اسے براہ راست تمام ارکان کو ووٹ کاحق دے کر شفاف بنایاگیا۔
جنوری2017 میں نئے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی نومنتخب سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریز کو دنیا کو درپیش بعض سنگین چیلنجوں کاسامنا کرناپڑے گاجن میں شام میں جاری طویل لڑائی، دہشت گردی،پناہ گزین، جنوبی کوریا، کشمیر ، فلسطین،ماحولیات اور اقوام متحدہ کے طریقہ کار میں اصلاحات جیسے دیرینہ مسائل شامل ہیں۔انٹونیو گیٹریز ایک ایسے وقت اس عالمی ادارے کے سربراہ منتخب کیے گئے ہیں جبکہ پوری دنیا عملی طورپر بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے اور دنیا کے ہر خطے میں انسانی زندگی گوناگوں خطرات سے دوچار ہے۔
انٹونیو گیٹریز کا پہلا امتحان خود اپنی کابینہ کاانتخاب ہوگا ،کابینہ کے انتخاب میں انھیں نہ صرف یہ کہ متعلقہ ارکان کی صلاحیتوں کوپرکھنا ہوگا بلکہ اس میں صنفی توازن پر بھی توجہ مرکوز رکھنا ہوگی اور خواتین کو بھی اہم عہدوں میں مساوی تعداد میں شریک کرنے کی کوشش کرنا ہوگی کیونکہ وہ اپنی کابینہ میں جتنے بہتر لوگوں کاانتخاب کریں گے، ان کاکام اتنا ہی زیادہ آسان ہوجائے گا،نومنتخب سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریز چونکہ 10 سال تک اقوام متحدہ کے ایک اہم عہدے کے سربراہ رہے ہیں اس لیے وہ اس ادارے سے منسلک لوگوں اور ان کی صلاحیتوں سے کماحقہ واقف ہیں، اس لیے اب کابینہ کے انتخاب میں انھیں زیادہ مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔
اقوام متحدہ جیسے اہم عالمی ادارے کاسربراہ منتخب ہونے کے بعد خودانٹونیو گیٹریز نے اس بات کااعتراف کیاہے کہ اس ادارے کے سیکریٹری جنرل کو بہت منکسرالمزاج ،بردبار ہونا چاہیے ۔کسی بھی ملک یاقومیت کے خلاف اس کے دل یاذہن میں کوئی منفی خیال یارجحان نہیں ہوناچاہیے اور اسے انتہائی دیانتداری اور غیر جانبداری کے ساتھ اس عالمی ادارے کے تمام رکن ممالک کے مفادات کاتحفظ اور نگہبانی کرنی چاہیے اوراسے ایک مصالحت کار کی حیثیت سے منصفانہ کردار اداکرناچاہیے۔انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ اس عہدے کاتقاضہ ہے کہ اس پر فائز شخص امن کاپیغامبر بنے،انھوں نے کہا کہ میری کوششوں کی کامیابی کاانحصار اس ادارے کے تمام رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور پر پوری طرح عملدرآمد پر ہوگا۔
اگر نومنتخب سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریز اپنے اس قول پر قائم رہتے ہیں اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک خاص طورپر بڑی طاقتیں ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرتی رہیں تو وہ اس ادارے کے انتہائی موثر اورفعال سیکریٹری جنرل ثابت ہوسکتے ہیں اور دنیا کو درپیش دیرینہ تنازعات جن میں سے کچھ کا ذکر اوپر کیاگیاہے حل کرانے اور اس طرح اس دنیا کو جنگ اور تباہکاری کے مہیب بادلوں سے نکال کر امن کاگہوارہ بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...