وجود

... loading ...

وجود

شام،فلسطین،عراق،کشمیرودیگرخطوں کی سلگتی صورتحال, نئے یو-این سیکریٹری کاامتحان

پیر 24 اکتوبر 2016 شام،فلسطین،عراق،کشمیرودیگرخطوں کی سلگتی صورتحال, نئے یو-این سیکریٹری کاامتحان

انٹونیو گیٹریز کے حق میں سلامتی کونسل کے 15 مستقل ارکان میں سے 13 نے ووٹ دئے، 2ارکان غیر حاضر رہے،کوئی ووٹ ان کے خلاف نہیں پڑا
پرتگال کے سابق وزیر اعظم، 10 سال تک اقوام متحدہ کے ایک اہم عہدے کے سربراہ رہے، رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور پر عملدرآمدکے لیے پرعزم
un-chief
جنرل اسمبلی نے گزشتہ دنوں اپنے اجلاس میں پرتگال کے سابق وزیراعظم انٹونیو گیٹریز کوبان کی مون کی جگہ اگلے 5سال کیلیے اقوام متحدہ کانیا سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا۔وہ اگلے سال جنوری میں اپنے عہدے کاحلف اٹھائیں گے اوراس عالمی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے فرائض کی ادائیگی شروع کردیں گے۔اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کیلیے مختلف نام زیر غور تھے اورسلامتی کونسل جولائی سے مختلف ناموں پر اتفاق رائے کے لیے اپنے مستقل ارکان کے درمیان رائے شماری کرارہی تھی جس کے بعد سلامتی کونسل نے انٹونیو گیٹریز کانام تجویز کیا جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں منظوری دے دی گئی۔سلامتی کونسل میں انٹونیو گیٹریز کے حق میں کونسل کے 15 مستقل ارکان میں سے 13 نے ووٹ دئے جبکہ دو ارکان غیر حاضر رہے اس طرح ان کے خلاف کوئی ووٹ نہیں پڑا۔
انٹونیو گیٹریزاقوام متحدہ کے لیے نئے نہیں ہیں،وہ 2005سے2015 تک 10 سال اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔وہ اچھی ابلاغی صلاحیت کے مالک تصور کیے جاتے ہیں اوروہ اپنی مادری پرتگالی زبان کے علاوہ اقوام متحدہ کی 5 میں سے3 سرکاری زبانیں انگریزی، فرانسیسی اورہسپانوی بڑی روانی سے بول سکتے ہیں۔ ان کی اس لسانی صلاحیت نے اقوام متحدہ کے اس اہم عہدے پر ان کے انتخاب میں اہم کردار ادا کیاکیونکہ وہ جن 4زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں وہ اقوام کی سلامتی کونسل کے 9موجودہ ارکان کی سرکاری زبانوں میں شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے اس اہم عہدے پر انٹونیو گیٹریز کے انتخاب میں رواں سال اقوام متحدہ کی 71 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اختیار کئے گئے انتخابی طریقہ کار نے بھی اہم کردار ادا کیا۔اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کاانتخاب خفیہ طریقے سے سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان ہی کرتے تھے لیکن اس طریقہ کار پر کافی عرصے سے یہ اعتراض کیاجارہاتھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جیسے اہم عہدے پر سلامتی کونسل کے تمام مستقل ارکان کو بھی اعتماد میں نہ لیاجانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے ،ان اعتراضات اوربڑے پیمانے پر کی جانے والی تنقید کی وجہ سے اس سال سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ خط میں سلامتی کونسل کے تمام ارکان کو نئے سیکریٹری جنرل کے لیے نام تجویز کرنے کی دعوت دی گئی تھی اور پھر موصولہ ناموں میں سے کسی ایک نام پر اتفاق رائے کے لیے تمام امیدواروں کی صلاحیتوں، اس کے کیریئر اور سابقہ خدمات کو مدنظر رکھ کر بار بار رائے شماری کے ذریعے ایک نام پر اتفاق رائے کاطریقہ کار اپنایاگیا۔
طریقہ کار کے مطابق جغرافیائی اعتبار سے باری کے لحاظ سے اس سال سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے مشرقی یورپ کو ترجیح دینے اور اس اہم عہدے کے لیے خواتین کانام تجویز کرنے کا بھی مشورہ دیا گیاتھاکیونکہ اس سے قبل 8 سیکریٹری جنرل مرد تھے، اس طرح سلامتی کونسل کے ارکان کو رواں سال اس عہدے کے لیے موزوں خواتین کی نامزدگی کااختیار بھی حاصل تھا۔اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رکن ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر13 نام آئے تھے جن میں7 خواتین کے نام بھی شامل تھے۔جنرل اسمبلی کے 193 ارکان نے مختلف اجلاسوں کے دوران ان ناموں پر غور شروع کیا،نئے سیکریٹری جنرل کے نام پر غور کایہ سلسلہ اپریل سے شروع ہواجو جولائی تک جاری رہا او ر اس مقصد کے لیے جنرل اسمبلی کے ارکان کے متعدد اجلاس ہوئے۔اس دوران سلامتی کونسل کے ارکان نے مجوزہ عہدیداروں سے فرداً فرداً ملاقاتیں کرکے ان کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے علا وہ ان کے خیالات اور ارادوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ۔اس پورے عمل کے دوران انٹونیو گیٹریز وہ واحد امیدوار تھے جو سلامتی کونسل کے 9ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے، نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کامرحلہ کتنا دشوار تھا اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ انٹونیو گیٹریز کے نام پر اتفاق کے بعد روس کے نمائندے ویٹالی چرکن نے اس کابرملا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کامرحلہ انتہائی دشوار دقت طلب تھا۔ انھوں نے کہا کہ روس چاہتاتھاکہ نئے سیکریٹری جنرل مشرقی یورپ سے ہو اور وہ خاتون ہو لیکن بالآخر ہم تمام امیدواروں میں سے ایک بہترین شخصیت کاانتخاب کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
نئے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے انٹونیو گیٹریز کاانتخاب اس اعتبار سے زیادہ خوش آئند ہے کہ یہ انتخاب اتفاق رائے سے کیاگیا اور اس انتخابی عمل میں سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان کو شامل کیا گیا۔ انتخاب کاعمل خفیہ نہیں رکھاگیا اور اسے براہ راست تمام ارکان کو ووٹ کاحق دے کر شفاف بنایاگیا۔
جنوری2017 میں نئے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی نومنتخب سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریز کو دنیا کو درپیش بعض سنگین چیلنجوں کاسامنا کرناپڑے گاجن میں شام میں جاری طویل لڑائی، دہشت گردی،پناہ گزین، جنوبی کوریا، کشمیر ، فلسطین،ماحولیات اور اقوام متحدہ کے طریقہ کار میں اصلاحات جیسے دیرینہ مسائل شامل ہیں۔انٹونیو گیٹریز ایک ایسے وقت اس عالمی ادارے کے سربراہ منتخب کیے گئے ہیں جبکہ پوری دنیا عملی طورپر بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی ہے اور دنیا کے ہر خطے میں انسانی زندگی گوناگوں خطرات سے دوچار ہے۔
انٹونیو گیٹریز کا پہلا امتحان خود اپنی کابینہ کاانتخاب ہوگا ،کابینہ کے انتخاب میں انھیں نہ صرف یہ کہ متعلقہ ارکان کی صلاحیتوں کوپرکھنا ہوگا بلکہ اس میں صنفی توازن پر بھی توجہ مرکوز رکھنا ہوگی اور خواتین کو بھی اہم عہدوں میں مساوی تعداد میں شریک کرنے کی کوشش کرنا ہوگی کیونکہ وہ اپنی کابینہ میں جتنے بہتر لوگوں کاانتخاب کریں گے، ان کاکام اتنا ہی زیادہ آسان ہوجائے گا،نومنتخب سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریز چونکہ 10 سال تک اقوام متحدہ کے ایک اہم عہدے کے سربراہ رہے ہیں اس لیے وہ اس ادارے سے منسلک لوگوں اور ان کی صلاحیتوں سے کماحقہ واقف ہیں، اس لیے اب کابینہ کے انتخاب میں انھیں زیادہ مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔
اقوام متحدہ جیسے اہم عالمی ادارے کاسربراہ منتخب ہونے کے بعد خودانٹونیو گیٹریز نے اس بات کااعتراف کیاہے کہ اس ادارے کے سیکریٹری جنرل کو بہت منکسرالمزاج ،بردبار ہونا چاہیے ۔کسی بھی ملک یاقومیت کے خلاف اس کے دل یاذہن میں کوئی منفی خیال یارجحان نہیں ہوناچاہیے اور اسے انتہائی دیانتداری اور غیر جانبداری کے ساتھ اس عالمی ادارے کے تمام رکن ممالک کے مفادات کاتحفظ اور نگہبانی کرنی چاہیے اوراسے ایک مصالحت کار کی حیثیت سے منصفانہ کردار اداکرناچاہیے۔انھوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ اس عہدے کاتقاضہ ہے کہ اس پر فائز شخص امن کاپیغامبر بنے،انھوں نے کہا کہ میری کوششوں کی کامیابی کاانحصار اس ادارے کے تمام رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور پر پوری طرح عملدرآمد پر ہوگا۔
اگر نومنتخب سیکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریز اپنے اس قول پر قائم رہتے ہیں اور اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک خاص طورپر بڑی طاقتیں ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرتی رہیں تو وہ اس ادارے کے انتہائی موثر اورفعال سیکریٹری جنرل ثابت ہوسکتے ہیں اور دنیا کو درپیش دیرینہ تنازعات جن میں سے کچھ کا ذکر اوپر کیاگیاہے حل کرانے اور اس طرح اس دنیا کو جنگ اور تباہکاری کے مہیب بادلوں سے نکال کر امن کاگہوارہ بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر