وجود

... loading ...

وجود

داعش کے پھیلاؤ کی ذمے دار ہلیری ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

جمعه 21 اکتوبر 2016 داعش کے پھیلاؤ کی ذمے دار ہلیری ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

لاس ویگاس میں مباحثے کے دوران ہلیری کلنٹن کی ذات کو ہدف تنقید بنانے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکی
ری پبلکن امیدوار خواتین کے ساتھ زیادتی کے الزامات پر دفاعی پوزیشن اختیار کیے رکھنے پر مجبور رہے
trump-2بعض اہم ریاستوں میں رائے عامہ کے پولز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت اس انتخاب میں اہم ریاستوں میں ہلیری کلنٹن سے کافی پیچھے ہیں۔زیادہ تر امریکی ووٹ ڈالنے کے اپنے حق کا استعمال 8 نومبر کو کریں گے۔امریکی صدارتی انتخاب سے قبل ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن اورڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ گزشتہ روز نیویڈا کے شہر لاس ویگاس میں منعقد ہوا ۔آخری مباحثے میں رپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ عراق کے شہر موصل میں جاری جنگ کے بعد حقیقی فاتح ایران ہو گا ،’ایران کو چاہیے کہ وہ ہمیں شکریے کا خط لکھے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’موصل ہمارے پاس تھا لیکن جب ہم وہاں سے آگئے، جب ہلیری نے وہاں سے سب کو بلا لیا تو ہم موصل کھو بیٹھے۔‘انھوں نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی کامیابیوں اور پھیلاؤ کی ذمہ داری ہلیری کلنٹن پر عائد کی۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی مذمت بھی کی۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی حریف ہلیری کلنٹن نے کہا کہ عراقی فورسز کی مدد کرنے والی خصوصی افواج نے انھیں ’اعتماد‘ دلایا ہے لیکن وہ اپنی افواج کو زمین پر اتارنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ’یہ امریکی مفادات میں نہیں ہے۔‘ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ دولت اسلامیہ کے لیے خود کو دوبارہ یکجا کرنے میں مشکلات کا سبب ہوگا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں دولت اسلامیہ پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔‘ہلیری کلنٹن نے اندرونی طور پر شدت پسندی کو روکنے کے لیے انٹیلی جنس کے خاص سمت میں سوچنے پر بھی زور دیا۔‘تیسرے مباحثے کی میزبانی فاکس نیوز کے صحافی کرس والس کر رہے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ آیا وہ انتخاب کے نتائج کو قبول کریں گے یا نہیں، کیونکہ وہ کئی دنوں سے کہہ رہے ہیں کہ انتخاب میں دھاندلی ہو رہی ہے۔ ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پوتن چاہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بنیں، کیوں کہ ان کی خواہش ہے کہ امریکی صدر کوئی کٹھ پتلی ہو۔اس کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘میں پوتن کو نہیں جانتا، وہ میرے بارے میں اچھی باتیں کہتے ہیں۔ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان آخری مباحثے میں اسقاط حمل، گن رائٹس اور روسی صدر ولادی میر پوتن پر بھی گرما گرم بحث ہوئی ہے۔ہلیری کلنٹن نے ہم جنس پرستوں کے حقوق برقرار رکھنے کا کہا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گن رائٹس کو محفوظ رکھنے کی بات کی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ وہ جنوبی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کروائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘یہاں کچھ برے لوگ موجود ہیں اور ہمیں ان کو نکالنا ہے۔ہیلری کلنٹن سے جب ان کی برازیلین بینک کے لیے کی جانے والے تقریر کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انھوں نے تجارت اور سرحد کو کھولنے کے حوالے سے اپنے خواب کا ذکر کیا تھا، تو ہیلری نے جواب میں کہا کہ وہ توانائی کی پالیسی کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف متعدد خواتین کی جانب سے جنسی ہراساں کرنے کے الزامات اور اس سے متعلق ایک ویڈیو جس میں وہ اپنے ایسے اقدامات کو فخر سے بیان کر رہے ہیں، کے سامنے آنے کے بعد سے انھیں مشکلات کا سامنا ہے۔
دونوں امیدواروں کے درمیان اہم مباحثیکے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کے گزشتہ 30 سال کو ‘انتہائی برے تجربے سے تشبیہ دی جس کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے اپنا اور ڈونلڈ ٹرمپ کا مکمل موازنہ کیا اور بتایا کہ وہ کہاں کہاں تھیں اور ٹرمپ کہاں تھے۔ہلیری کلنٹن نے کہا کہ جب وہ اسامہ بن لادن کے معاملے میں مدد فراہم کر رہی تھیں اس وقت ‘ڈونلڈ ٹرمپ ایک ٹی وی شو کی میزبانی کر رہے تھے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں نے اس مباحثے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر ہیلری کلنٹن کو اس مباحثے کافاتح قرار دیاہے اور کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تیسرے اور آخری مباحثے میں بھی اپنے آپ کو امریکی صدارت کے لیے موزوں امیدوار ثابت کرنے میں ناکام رہے۔جبکہ ہلیری کلنٹن نے ایک دفعہ پھر یہ ثابت کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں وہ امریکی صدارت کے لیے بہت زیادہ موزوں امیدوار ہیں،اور وہ عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ بحال اور برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اس آخری مباحثے میں کئی موضوعات پر دونوں امیدواروں کے درمیان انتہائی تحمل اور شائستگی کے ساتھ جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا لیکن جیسے ہی ہلیری کلنٹن نے وکی لیکس کے بارے میں کیے جانے والے سوال کا رخ موڑ کر ڈونلڈ ٹرمپ پر روس اور ولادی میر پوتن کے ساتھ تعلقات کا کہہ کر حملہ کیا تو ٹرمپ بھڑک اٹھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو جھوٹا کہا جس پر ہلیری نے انھیں پُتلا کہا۔جس وقت یہ دونوں رہنما ایک دوسرے کو مختلف الزامات سے نواز کر خود ایک دوسرے سے بہتر اور امریکی عوام کی فلاح وبہبود کا ضامن ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے اس وقت ان دونوں امیداروں کے طیارے لاس ویگاس ایئر پورٹ پر آمنے سامنے کھڑے تھے۔
مباحثے کے دوران جب صدر کے عہدے کے لیے موزوں امیدوار میں بعض خوبیوں کی ضرورت پر بات ہوئی اورڈونلڈ ٹرمپ سے ان پر بعض خواتین کی جانب سے جنسی طورپر ہراساں کیے جانے کے لگائے گئے الزامات کے بارے میں سوالات کیے گئے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جن خواتین نے ان پر جنسی طور پرہر اساں کرنے کے الزامات لگائے ہیں وہ صرف شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود پر عائد کیے جانے والے تازہ جنسی ہراس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزامات ان کی انتخابی مہم کو خراب کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ ‘ایسے جھوٹے الزامات عائد کرنے والے مٹھی بھر لوگوں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں ہے۔‘اس سے قبل جنوبی کیرولینا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ٹرمپ نے کہاتھاکہ یہ الزامات جھوٹ ہیں اور ان کا مقصد شہرت، پیسہ یا سیاست ہے۔جنوبی کیرولینا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھایہ الزامات کسی دعوے، سچائی، منطق اور کسی گواہ کے بغیر عاید کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا کی رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار پر مزید دو خواتین نے جنسی ہراس کے الزامات عائد کیے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی ہراس کے الزامات ایسے وقت سامنے آنا شروع ہوئے ہیں جب گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو افشا ہوئی تھی جس میں ٹرمپ کو عورتوں سے دست درازی کے بارے میں فحش کلمات ادا کرتے سنا جا سکتا ہے۔اس ویڈیو پر شدید تنقید کے بعد انھوں نے معافی مانگی تھی۔تاہم بدھ کو مزید 2 خواتین نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ٹرمپ نے بغیر اجازت ان سے دست درازی کی اور انھیں چوما۔
ادھر امریکی صدر بارک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کی منصوبہ بندی کے بارے میں الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گذشتہ روز کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بہانے بنانا بند کریں۔


متعلقہ خبریں


بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر