وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

 مالی بحران ,افغان آرمی طالبان کے ہاتھوں ’’از خود گرفتار ‘‘ہونے لگی

جمعه 21 اکتوبر 2016  مالی بحران ,افغان آرمی طالبان کے ہاتھوں ’’از خود گرفتار ‘‘ہونے لگی

بروقت تنخواہوں اور راشن کی فراہمی میں افغان حکومت کی ناکامی کے سبب افغان فوجیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے
دوسری بڑی وجہ افغان فوج میں موجودہ افغان حکومت اور امریکی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت بھی ہے

Non Commissioned Officers of the Afghan National Army, recite the oath ceremony of the first term bridmals, July 15th, at the Gazi Military Training Center, Kabul, Afghanistan. Gazi Military Training Center was established February 2, 2010, by Turkish Armed Forces, Afghan National Army Training and Doctrine Command's, and NATO's Training Mission-Afghanistan. (U.S. Air Force Photo by Staff Sgt. Bradley Lail) (Released)
افغانستان سے ملنے والی خبروں سے یہ انکشاف ہواہے کہ افغان فوج کو بروقت تنخواہوں اور راشن وغیرہ کی فراہمی میں افغان حکومت کی ناکامی کے سبب افغان فوجیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور اب انھوں نے اپنی مشکلات حل کرنے کے لیے اپنا اسلحہ اور یہاں تک کہ چیک پوسٹ تک طالبان اور دوسرے جنگجو گروپوں کے ہاتھوں فروخت کرنا شروع کردی ہے، یہ خبریں بے بنیاد نہیں ہیں بلکہ اس کی تصدیق خود افغانستان کے صوبہ قندوز سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے اس بیان سے ہوتی ہے جس میں انھوں نے افغانستان کی موجودہ مخلوط حکومت پر داعش اور طالبان کے جنگجو گروپوں کی مدد کرنے کاالزام عاید کیاہے۔ افغان ارکان پارلیمنٹ نے الزام عاید کیاہے کہ افغان فوج کے کمانڈر جنگجوؤں اور طالبان کو نہ مالی مدد فراہم کررہے ہیں بلکہ انھیں اسلحہ اور پناہ بھی فراہم کررہے ہیں اور ان کے خودکش بمباروں کو ان کے بتائے ہوئے ہدف تک پہنچارہے ہیں۔افغان پارلیمنٹ کے ایوان میں کھڑے ہوکر ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو محض الزام تراشی اور حکومت کی مخالفت پر محمول نہیں کیا جاسکتا،افغان ارکان پارلیمان نے یہ بھی الزام عاید کیا کہ افغان فوج کے کمانڈر وں نے افغان فوج کی درجنوں چیک پوسٹس وہاں موجود جدید ترین اسلحہ سمیت طالبان کے حوالے کردی ہیں۔قندوز سے ایک رکن پارلیمنٹ فاطمہ عزیز نے اپنی تقریر میں افغانستان کی موجودہ حکومت کی کارکردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے الزام عاید کیاکہ داخلہ اور دفاع سے متعلق وزارت کے ارباب اختیار ملک کی سیکورٹی کو یقینی بنانے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔انھوں نے یہ سنگین الزام عاید کیا کہ حال ہی میں طالبان نے قندوز پر قبضہ افغان فوج سے لڑائی کے ذریعہ حاصل نہیں کیاتھا بلکہ افغان فوج اور پولیس نے یہ شہر بغیر کسی لڑائی کے رضاکارانہ طورپر طالبان کے حوالے کردیاتھا۔اس کے علاوہ معروف دفاعی تجزیہ کار جاوید کوہستانی نے بھی افغان نیشنل آرمی یعنی افغان فوج پر اپنا اسلحہ طالبا ن کو فروخت کرنے کا الزام عاید کیاہے ۔جاوید کوہستانی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ افغان فوج اور سیکورٹی فورسز اور خاص طورپر مقامی پولیس میں ایسے عناصر موجود ہیں جو نہ صرف سرکاری اسلحہ اور چیک پوسٹ طالبان کو فروخت کردیتے ہیں بلکہ طالبان کو خود اپنے آپ اور اپنے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کی بھی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ ان کی رہائی کے عوض افغان حکومت سے سودے بازی کرسکیں اور اس طرح ان کی رہائی کے لیے حاصل ہونے والے زرِ تاوان میں سے انھیں حصہ ادا کرسکیں۔ایک اور رکن پارلیمنٹ میر داد نجرابی نے بھی جو پارلیمنٹ کی داخلی سیکورٹی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں اسی طرح کے الزامات عاید کیے ہیں۔قندوز کے گورنر اسد اللہ عمر خیل نے افغان فوج کے نائب سربراہ جنرل مراد علی پر احکامات پر عمل نہ کرنے کے الزامات عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قندوز سے طالبان کا صفایا کرنے اور اس شہر کوطالبان سے خالی کرانے کے حوالے سے ان کے احکامات پر عمل کرنے کے بجائے اپنی مرضی کی پالیسیوں پر عمل کرتے رہے۔ اس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ افغان فوجی کمانڈروں کی جانب سے طالبان کی حمایت اور انھیں اسلحہ فروخت کرنے اور چیک پوسٹوں پر قبضہ کرنے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد نہیں ہیں۔
اطلاعات یہ ہیں کہ رواں سال سے طالبان نے افغانستان میں ایک نئی حکمت عملی اپنائیہے ،اب وہ کسی علاقے پر قبضہ کرنے اور اپنی اسلحہ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسلحہ ڈپو پر حملہ کرنے اپنے ساتھیوں کی جان داؤ پر لگانے کے بجائے متعلقہ علاقے کے فوجی کمانڈروں سے خفیہ مذاکرات کرتے ہیں اور ان سے چیک پوسٹ اور وہاں موجود اسلحہ کاسودا طے کرتے ہیں، سودا ہوجانے کی صورت میں متعلقہ کمانڈر کسی لڑائی کے بغیر مصنوعی جھڑپ کے بعد ہتھیار ڈال کر چیک پوسٹ اور وہاں موجود اسلحہ طالبان کے حوالے کردیتے ہیں۔کہاجاتاہے کہ قندوز اور ہلمند پر قبضہ کرنے سے قبل بھی طالبان نے اسی حکمت عملی پر عمل کیاجس کی وجہ سے انھیں قندوز اور ہلمند پر کسی جانی نقصان کے بغیر قبضہ کرنے کاموقع ملا اورپھر کسی جانی نقصان کے بغیر ہی بحفاظت وہاں سے نکل جانے کی سہولت حاصل ہوگئی۔
فوجی حلقوں تک پہنچ رکھنے والے ذرائع کاکہناہے کہ افغان فوجیوں اور پولیس کی جانب سے اپنا اسلحہ طالبان کے ہاتھوں فروخت کیے جانے کے واقعات کابنیادی سبب یہ ہے کہ افغان وزارت دفاع اپنے فوجیوں کو باقاعدگی سے تنخواہیں ادا نہیں کررہی اور بعض اوقات ان کاراشن بھی انھیں بروقت فراہم نہیں کیاجاتاجس کی وجہ سے وہ اپنا اسلحہ اور چیک پوسٹس تک طالبان کے ہاتھوں فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔اس کی دوسری وجہ افغان فوج میں موجودہ افغان حکومت اور امریکی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت ہے جس کی وجہ سے افغان فوجی اب ملک کے دفاع کی ذمہ داری انتہائی نیم دلی کے ساتھ پوری کررہے ہیں اور ان کی اس نیم دلی کا فائدہ طالبان اور حکومت مخالف جنگجو اٹھارہے ہیں۔
افغانستان کی دفاعی صورتحال خاص طورپر افغان نیشنل آرمی کی ناکامیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ افغانستان میں موجود بدانتظامی،سیاسی مداخلت ، گھوسٹ فوجیوں کی تعداد میں اضافہ،افغان فوج کی ناقص کارکردگی اور فوج سمیت ہرشعبہ زندگی میں موجود کرپشن اس کا بڑا سبب ہیں،اور یہی وہ وجوہات ہیں کہ اب افغان فوج حکمرانوں اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی جان داؤ پر لگانے کوتیار نظر نہیں آتی۔افغان فوج میں گھوسٹ فوجیوں کی موجودگی کی بازگشت8 اکتوبر کو پینٹاگون میں بھی سنائی دی تھی،اور امریکی کمانڈروں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکی کمانڈر افغان فوج میں باقاعدگی سے ڈیوٹی دینے والے اور ڈیوٹی دیے بغیر تنخواہ لینے والے فوجیوں کاپتا چلانے کی کوشش کررہی ہے اور جلد ہی یہ مسئلہ حل کرلیاجائے گا تاکہ امریکا کی جانب سے افغان فوج پر خرچ کی جانے والی رقم کے ناجائز استعما ل کو روکا جاسکے۔
افغان حکمرانوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ موجودہ صورت حال میں جبکہ خود ان کے منتخب ارکان پارلیمان بھی ایوان میں کھڑے ہوکر حقیقت احوال بتانے پر مجبور ہورہے ہوں۔افغان حکومت اپنی ناکامیاں اور خامیاں دوسروں کے سر نہیں تھوپ سکتی اور دوسروں کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دے سکتی۔
امریکا کا اسٹریٹیجک مقصد امریکی افواج کو لڑائی سے نکال کر افغانستان کی سلامتی اور سیکورٹی کی ذمہ داری افغان حکومت کے سپر د کردیناتھا گزشتہ سال سے امریکی فوجی افغانستان میں انسداد دہشت گردی اور ملک کے تحفظ کے لیے زیادہ ترافغان افواج کے تربیتی اور معاونت کے کاموں میں مصروف تھے۔لیکن طالبان کی حالیہ کارروئیوں نے خواہ اس میں انھیں کسی کی بھی حمایت حاصل رہی ہو یہ ثابت کردیا کہ امریکا اپنے مقصد میں یعنی افغان فوج کو افغانستان کی سلامتی اور سیکورٹی کا تحفظ کرنے کے قابل بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے۔طالبان کی جانب سے افغان حکومت پر زبردست دباؤ کے بعد اب افغان حکمرانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اتحادی افواج کی مدد اور تعاون کے بغیر طالبان کے چیلنج کامقابلہ کرسکتے ہیں؟ صورتحال یہ ہے کہ افغان حکومت کی انٹیلی جنس ہی نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف فضائی آپریشن کی صلاحیت اور کمانڈ اورکنٹرول کی صلاحیتوں اور ملکی دفاع اور تحفظ کے لیے ضروری صلاحیتوں میں کافی کمی ہے،اور افغان افواج کو ابھی ضروری صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے مسلسل امداد کی ضرورت ہے۔
اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اوباما کوان کے فوجی منصوبہ سازوں نے بتایاتھا کہ خطرات بہت زیادہ ہیں اورامریکا کی واپسی کے بعد مستقبل کی صورتحال میں غیر یقینی کا عنصر بہت زیادہ ہے۔اب جبکہ افغان حکومت اور افغان فوج کی بہت سی خامیاں اورمسائل کھل کر سامنے آچکے ہیں تو افغان حکمرانوں کو چاہیے کہ اپنے محدود وسائل پاکستان جیسے مخلص پڑوسی کے خلاف محاذ آرائی پر ضائع کرنے کی بجائے
خود اپنے اوراپنے ملک کے مفاد میں اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کریں۔


متعلقہ خبریں


نئی دہلی میں فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق بیگ بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ نئی دہلی کے علاقے اناج منڈی میں پیش آیا۔حکام کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات کا تاحال علم نہیں ہو سکا ہے تاہم اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آگ فیکٹری کی ورک شاپ میں لگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ صبح 5 بجے اس وقت پیش آیا جب زیادہ تر ملازمین سو رہے تھے ، واقعہ میں 43 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ریسکیو حکام کے مطا...

نئی دہلی میں فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے ، ایران نے چینی نژاد امریکی سکالر زیو وانگ جبکہ امریکا نے ایک ایرانی سائنس دان مسعود سلیمانی کو رہا کیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا یہ تبادلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں شدید تنا ئوپایا جاتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وانگ کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ قیدیوں کے معاملے پر زیاہ اہمیت دیتے ہیں۔ ایران میں قید دوسرے امریکیوں کی رہائی کے ب...

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

شمالی کوریا کا امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر مذکرات سے انکار وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

شمالی کوریا نے امریکا کے ساتھ اپنے متنازع جوہری پروگرام پر مزید بات چیت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر کِم سانگ نے کہا کہ جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق امریکا سے مزید کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ا نہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ طویل مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں۔کِم سانگ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے مستقل اور ٹھوس بات چیت کی کوشش اس کے اندرونی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور وقت بچانے کی ایک چال ہے ۔بیان میں مزید کہ...

شمالی کوریا کا امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر مذکرات سے انکار

بھارت ، ڈانس کرتے کرتے رکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

ریاست اتر پردیش میں شادی کی تقریب میں ڈانس روکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی۔ لڑکی ہسپتا ل میں زیرعلاج ہے ۔ انتہا پسند بھارتی وزیراعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور زیادتی کے واقعات میں حد درجہ اضافہ ہو گیا ہے ۔ انسانیت سوز واقعہ پیش آیا یکم دسمبر کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک گائوں میں جہاں شادی کی تقریب کے دوران اسٹیج پر ایک ڈانسرکو درندوں نے گولی اس لیے مار دی کیونکہ وہ ڈانس کرتے کرتے رک گئی تھی۔ پولیس نے کہا کہ گولی مارنے والے کی...

بھارت ، ڈانس کرتے کرتے رکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی

کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکی ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ہاؤس کی عدلیہ کمیٹی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے دفعات وضع اور مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔امریکی صدر کا یوکرین پراپنے ڈیموکریٹک سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش پر مواخذہ کیا جارہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیلوسی نے ایک نشری بیان میں کہا کہ حقائق ناقابل تردید ہیں۔صدر نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔انھوں نے اوول آفس میں ایک اہم اجلاس کو مو...

کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

بیجنگ کے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں کہاگیا ہے کہ چین میں شہری، چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف ہیں۔سروے میں شامل تقریباً 74 فیصد افراد نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی بجائے روایتی شناختی طریقوں کو استعمال کیا جانا چاہیے۔سروے میں شامل چھ ہزار سے زائد افراد کو بنیادی طور پر بائیو میٹرک ڈیٹا کے ہیک کیے جانے یا بصورت دیگر لیک ہونے کے خدشات تھے۔ ملک بھر کے سٹیشنوں، سکولوں او...

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکا کے خصوصی نمایندہ برائے ایران برائن ہْک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے ملک میں وسط نومبر کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز ایک خصوصی گفتگومیں بتایاکہ اب کہ ایران سے سچائی باہرآرہی ہے تو یہ لگ رہا ہے کہ نظام نے مظاہروں کیا آغاز کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کو ماردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا نے ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش ا...

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں اکثریت یعنی 88.5 فیصد لوگ، طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششوں کی پرزور یا کسی حد تک حمایت کرتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق 2019 کے لیے ایشیا فاؤنڈیشن کے سروے میں افغانستان بھر سے 18 سال اور اسے زیادہ کے 17 ہزار 812 مرد و خواتین نے حصہ لیا۔اس سروے کے نتائج میں یہ سامنے آیا کہ 64 فیصد جواب دہندگان سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت ممکن تھی۔علاقائی طور پر مشرقی افغانستان میں 76.9 فیصد اور جنوب مغربی حص...

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شدت پسند گروپ داعش یرغمال بنائے گئے لوگوں کو بے دردی اور بھیانک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارنے کی وجہ سے مشہور ہے مگر عراق اور شام میں اس گروپ کی شکست کے بعد لوگوں کو ذبح کرنے یا اجتماعی طور پر قتل کرنے کے واقعات تقریبا ختم ہوگئے تھے۔عرب ٹی وی کے مطابق داعش نے ایک بارپھر قیدیوں کو ذبح کرنے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کا بھیانک سلسلہ شروع کردیا ۔لیبیا میں داعش سے وابستہ گروپ نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں سرکاری ملازمین اور دیگر یرغمال بنائے گئے افراد کو بے دردی کے ساتھ موت ...

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شمال مشرقی چین میں ہیشان کاؤنٹی کی رہائشی 15 سالہ نوجوان لڑکی ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے کہ وہ دکھنے میں ایک بوڑھی خاتون کی طرح نظر آتی ہے اور اس بیماری نے اس کے روز مرہ معاملات زندگی کو بری طرح متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق 15سالہ چینی لڑکی ایک سال کی عمر سے ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس کا نام ہٹچنسن گلفورڈ پروگیرہ سینڈروم ہے اور یہ بیماری بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق شیاؤ فینگ نامی لڑکی کی بیماری کی وجہ سے اس کے چہرے پر جھریاں ...

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

امریکاکی ریاست منی سوٹا میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گرنے سے 3 فوجی ہلاک ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹیسٹ فلائٹ کے دوران حادثے سے قبل ہیلی کاپٹر کا ائیر کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ واقعہ مقامی وقت دوپہر دو بجے پیش آیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام تین فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا ملبہ کھلے میدان میں گرا اور اس کو تلاش کرنے میں دو گھنٹے کا وقت لگا۔متعلقہ حکام نے حادثے کی وجہ اور ہلاک ہونے والوں کے نام نہیں بتائے تاہم واقعہ کی تحقیقات...

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

بھارت میں لیڈی ڈاکٹر کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے چاروں ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے شہر حیدر آباد میں لیڈی ڈاکٹر سے اجتماعی زیادتی اور قتل میں ملوث چاروں ملزمان اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ پولیس ملزمان کو لاش ملنے کی جگہ پر تفتیش کے لیے لے کر گئی جہاں انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر چاروں ملزمان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔لیڈی ڈاکٹر کو اٹھائیس نومبر کو 4 افراد نے ویرانے میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا او...

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک