وجود

... loading ...

وجود

 مالی بحران ,افغان آرمی طالبان کے ہاتھوں ’’از خود گرفتار ‘‘ہونے لگی

جمعه 21 اکتوبر 2016  مالی بحران ,افغان آرمی طالبان کے ہاتھوں ’’از خود گرفتار ‘‘ہونے لگی

بروقت تنخواہوں اور راشن کی فراہمی میں افغان حکومت کی ناکامی کے سبب افغان فوجیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے
دوسری بڑی وجہ افغان فوج میں موجودہ افغان حکومت اور امریکی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت بھی ہے

Non Commissioned Officers of the Afghan National Army, recite the oath ceremony of the first term bridmals, July 15th, at the Gazi Military Training Center, Kabul, Afghanistan. Gazi Military Training Center was established February 2, 2010, by Turkish Armed Forces, Afghan National Army Training and Doctrine Command's, and NATO's Training Mission-Afghanistan. (U.S. Air Force Photo by Staff Sgt. Bradley Lail) (Released)
افغانستان سے ملنے والی خبروں سے یہ انکشاف ہواہے کہ افغان فوج کو بروقت تنخواہوں اور راشن وغیرہ کی فراہمی میں افغان حکومت کی ناکامی کے سبب افغان فوجیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور اب انھوں نے اپنی مشکلات حل کرنے کے لیے اپنا اسلحہ اور یہاں تک کہ چیک پوسٹ تک طالبان اور دوسرے جنگجو گروپوں کے ہاتھوں فروخت کرنا شروع کردی ہے، یہ خبریں بے بنیاد نہیں ہیں بلکہ اس کی تصدیق خود افغانستان کے صوبہ قندوز سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے اس بیان سے ہوتی ہے جس میں انھوں نے افغانستان کی موجودہ مخلوط حکومت پر داعش اور طالبان کے جنگجو گروپوں کی مدد کرنے کاالزام عاید کیاہے۔ افغان ارکان پارلیمنٹ نے الزام عاید کیاہے کہ افغان فوج کے کمانڈر جنگجوؤں اور طالبان کو نہ مالی مدد فراہم کررہے ہیں بلکہ انھیں اسلحہ اور پناہ بھی فراہم کررہے ہیں اور ان کے خودکش بمباروں کو ان کے بتائے ہوئے ہدف تک پہنچارہے ہیں۔افغان پارلیمنٹ کے ایوان میں کھڑے ہوکر ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو محض الزام تراشی اور حکومت کی مخالفت پر محمول نہیں کیا جاسکتا،افغان ارکان پارلیمان نے یہ بھی الزام عاید کیا کہ افغان فوج کے کمانڈر وں نے افغان فوج کی درجنوں چیک پوسٹس وہاں موجود جدید ترین اسلحہ سمیت طالبان کے حوالے کردی ہیں۔قندوز سے ایک رکن پارلیمنٹ فاطمہ عزیز نے اپنی تقریر میں افغانستان کی موجودہ حکومت کی کارکردگی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے الزام عاید کیاکہ داخلہ اور دفاع سے متعلق وزارت کے ارباب اختیار ملک کی سیکورٹی کو یقینی بنانے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔انھوں نے یہ سنگین الزام عاید کیا کہ حال ہی میں طالبان نے قندوز پر قبضہ افغان فوج سے لڑائی کے ذریعہ حاصل نہیں کیاتھا بلکہ افغان فوج اور پولیس نے یہ شہر بغیر کسی لڑائی کے رضاکارانہ طورپر طالبان کے حوالے کردیاتھا۔اس کے علاوہ معروف دفاعی تجزیہ کار جاوید کوہستانی نے بھی افغان نیشنل آرمی یعنی افغان فوج پر اپنا اسلحہ طالبا ن کو فروخت کرنے کا الزام عاید کیاہے ۔جاوید کوہستانی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ افغان فوج اور سیکورٹی فورسز اور خاص طورپر مقامی پولیس میں ایسے عناصر موجود ہیں جو نہ صرف سرکاری اسلحہ اور چیک پوسٹ طالبان کو فروخت کردیتے ہیں بلکہ طالبان کو خود اپنے آپ اور اپنے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کی بھی ترغیب دیتے ہیں تاکہ وہ ان کی رہائی کے عوض افغان حکومت سے سودے بازی کرسکیں اور اس طرح ان کی رہائی کے لیے حاصل ہونے والے زرِ تاوان میں سے انھیں حصہ ادا کرسکیں۔ایک اور رکن پارلیمنٹ میر داد نجرابی نے بھی جو پارلیمنٹ کی داخلی سیکورٹی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں اسی طرح کے الزامات عاید کیے ہیں۔قندوز کے گورنر اسد اللہ عمر خیل نے افغان فوج کے نائب سربراہ جنرل مراد علی پر احکامات پر عمل نہ کرنے کے الزامات عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قندوز سے طالبان کا صفایا کرنے اور اس شہر کوطالبان سے خالی کرانے کے حوالے سے ان کے احکامات پر عمل کرنے کے بجائے اپنی مرضی کی پالیسیوں پر عمل کرتے رہے۔ اس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ افغان فوجی کمانڈروں کی جانب سے طالبان کی حمایت اور انھیں اسلحہ فروخت کرنے اور چیک پوسٹوں پر قبضہ کرنے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد نہیں ہیں۔
اطلاعات یہ ہیں کہ رواں سال سے طالبان نے افغانستان میں ایک نئی حکمت عملی اپنائیہے ،اب وہ کسی علاقے پر قبضہ کرنے اور اپنی اسلحہ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسلحہ ڈپو پر حملہ کرنے اپنے ساتھیوں کی جان داؤ پر لگانے کے بجائے متعلقہ علاقے کے فوجی کمانڈروں سے خفیہ مذاکرات کرتے ہیں اور ان سے چیک پوسٹ اور وہاں موجود اسلحہ کاسودا طے کرتے ہیں، سودا ہوجانے کی صورت میں متعلقہ کمانڈر کسی لڑائی کے بغیر مصنوعی جھڑپ کے بعد ہتھیار ڈال کر چیک پوسٹ اور وہاں موجود اسلحہ طالبان کے حوالے کردیتے ہیں۔کہاجاتاہے کہ قندوز اور ہلمند پر قبضہ کرنے سے قبل بھی طالبان نے اسی حکمت عملی پر عمل کیاجس کی وجہ سے انھیں قندوز اور ہلمند پر کسی جانی نقصان کے بغیر قبضہ کرنے کاموقع ملا اورپھر کسی جانی نقصان کے بغیر ہی بحفاظت وہاں سے نکل جانے کی سہولت حاصل ہوگئی۔
فوجی حلقوں تک پہنچ رکھنے والے ذرائع کاکہناہے کہ افغان فوجیوں اور پولیس کی جانب سے اپنا اسلحہ طالبان کے ہاتھوں فروخت کیے جانے کے واقعات کابنیادی سبب یہ ہے کہ افغان وزارت دفاع اپنے فوجیوں کو باقاعدگی سے تنخواہیں ادا نہیں کررہی اور بعض اوقات ان کاراشن بھی انھیں بروقت فراہم نہیں کیاجاتاجس کی وجہ سے وہ اپنا اسلحہ اور چیک پوسٹس تک طالبان کے ہاتھوں فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔اس کی دوسری وجہ افغان فوج میں موجودہ افغان حکومت اور امریکی حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت ہے جس کی وجہ سے افغان فوجی اب ملک کے دفاع کی ذمہ داری انتہائی نیم دلی کے ساتھ پوری کررہے ہیں اور ان کی اس نیم دلی کا فائدہ طالبان اور حکومت مخالف جنگجو اٹھارہے ہیں۔
افغانستان کی دفاعی صورتحال خاص طورپر افغان نیشنل آرمی کی ناکامیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ افغانستان میں موجود بدانتظامی،سیاسی مداخلت ، گھوسٹ فوجیوں کی تعداد میں اضافہ،افغان فوج کی ناقص کارکردگی اور فوج سمیت ہرشعبہ زندگی میں موجود کرپشن اس کا بڑا سبب ہیں،اور یہی وہ وجوہات ہیں کہ اب افغان فوج حکمرانوں اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی جان داؤ پر لگانے کوتیار نظر نہیں آتی۔افغان فوج میں گھوسٹ فوجیوں کی موجودگی کی بازگشت8 اکتوبر کو پینٹاگون میں بھی سنائی دی تھی،اور امریکی کمانڈروں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکی کمانڈر افغان فوج میں باقاعدگی سے ڈیوٹی دینے والے اور ڈیوٹی دیے بغیر تنخواہ لینے والے فوجیوں کاپتا چلانے کی کوشش کررہی ہے اور جلد ہی یہ مسئلہ حل کرلیاجائے گا تاکہ امریکا کی جانب سے افغان فوج پر خرچ کی جانے والی رقم کے ناجائز استعما ل کو روکا جاسکے۔
افغان حکمرانوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ موجودہ صورت حال میں جبکہ خود ان کے منتخب ارکان پارلیمان بھی ایوان میں کھڑے ہوکر حقیقت احوال بتانے پر مجبور ہورہے ہوں۔افغان حکومت اپنی ناکامیاں اور خامیاں دوسروں کے سر نہیں تھوپ سکتی اور دوسروں کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دے سکتی۔
امریکا کا اسٹریٹیجک مقصد امریکی افواج کو لڑائی سے نکال کر افغانستان کی سلامتی اور سیکورٹی کی ذمہ داری افغان حکومت کے سپر د کردیناتھا گزشتہ سال سے امریکی فوجی افغانستان میں انسداد دہشت گردی اور ملک کے تحفظ کے لیے زیادہ ترافغان افواج کے تربیتی اور معاونت کے کاموں میں مصروف تھے۔لیکن طالبان کی حالیہ کارروئیوں نے خواہ اس میں انھیں کسی کی بھی حمایت حاصل رہی ہو یہ ثابت کردیا کہ امریکا اپنے مقصد میں یعنی افغان فوج کو افغانستان کی سلامتی اور سیکورٹی کا تحفظ کرنے کے قابل بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے۔طالبان کی جانب سے افغان حکومت پر زبردست دباؤ کے بعد اب افغان حکمرانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اتحادی افواج کی مدد اور تعاون کے بغیر طالبان کے چیلنج کامقابلہ کرسکتے ہیں؟ صورتحال یہ ہے کہ افغان حکومت کی انٹیلی جنس ہی نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف فضائی آپریشن کی صلاحیت اور کمانڈ اورکنٹرول کی صلاحیتوں اور ملکی دفاع اور تحفظ کے لیے ضروری صلاحیتوں میں کافی کمی ہے،اور افغان افواج کو ابھی ضروری صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے مسلسل امداد کی ضرورت ہے۔
اسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اوباما کوان کے فوجی منصوبہ سازوں نے بتایاتھا کہ خطرات بہت زیادہ ہیں اورامریکا کی واپسی کے بعد مستقبل کی صورتحال میں غیر یقینی کا عنصر بہت زیادہ ہے۔اب جبکہ افغان حکومت اور افغان فوج کی بہت سی خامیاں اورمسائل کھل کر سامنے آچکے ہیں تو افغان حکمرانوں کو چاہیے کہ اپنے محدود وسائل پاکستان جیسے مخلص پڑوسی کے خلاف محاذ آرائی پر ضائع کرنے کی بجائے
خود اپنے اوراپنے ملک کے مفاد میں اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کریں۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

مضامین
کینیڈا میں جرائم، بھارتی ملوث وجود جمعرات 09 اپریل 2026
کینیڈا میں جرائم، بھارتی ملوث

ہم جسمانی نہیں روحانی طور پر قیدی ہیں! وجود جمعرات 09 اپریل 2026
ہم جسمانی نہیں روحانی طور پر قیدی ہیں!

بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد وجود بدھ 08 اپریل 2026
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان وجود بدھ 08 اپریل 2026
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر