وجود

... loading ...

وجود

40لاکھ نوجوان بے روزگار، 24 لاکھ زیر تعلیم نوجوانوں کامستقبل بھی سوالیہ نشان

جمعرات 20 اکتوبر 2016 40لاکھ نوجوان بے روزگار، 24 لاکھ زیر تعلیم نوجوانوں کامستقبل بھی سوالیہ نشان

ان میں کم وبیش 20 فیصد گریجویٹ یا ماسٹر ڈگری رکھنے والے نوجوان شامل ہیں۔
روزگارسے مایوس نوجوان جرائم پیشہ افراد و دہشت گرد مافیا کے آسان ہدف ہوتے ہیں

unemployment-3_5

پاکستان کے اعدادوشمار سے متعلق بیور و نے گزشتہ دنوں ملک میں دستیاب لیبر فورس کے بارے میں اعدادوشمار شائع کیے ہیں ، شماریات بیورو یہ کام بڑی باقاعدگی سے ہر سال انجام دیتاہے اور اب تک اس حوالے سے اس کی کم وبیش33 رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں ، ان سروے رپورٹوں سے ملک کے پالیسی سازوں اور ہمارے حکمرانوں میں ملک میں دستیاب لیبر فورس اور ان کو حاصل ملازمتوں کے مواقع کے حقائق جاننے کا موقع ملتاہے اور انھیں ملک میں بیروزگاری کی شرح کابھی اندازہ ہوجاتاہے۔
بیورو شماریات نے 2014-15 کی جو سروے رپورٹ جاری کی ہے وہ نمونے کے طورپر ملک کے مختلف حصوں کے 42 ہزار108گھرانوں سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر نکالے گئے اوسط کی شرح سے مرتب کیے گئے ہیں۔
شماریات بیورو کی رپورٹ کے مطابق ملک کی لیبر فورس میں 2012-13 اور2014-15 کے دوران مجموعی طورپر اوسطاً ساڑھے 6لاکھ نفوس کااضافہ ہواجبکہ 2007-08اور 2012-13 کے دوران لیبر فورس میں شامل ہونے والے نفوس کی تعداد 13 لاکھ تھی اس سے ظاہرہوا کہ گزشتہ برسوں کے دوران لیبر مارکیٹ کی حالت بد سے بدتر ہوئی ہے اور بیروزگاری کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ان اعدادوشمار سے حکومت کی جانب سے گزشتہ دوسال کی حکمرانی کے دوران ملک میں نمایاں معاشی ترقی کے دعووں کی حقیقت پر بھی سوال اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اس حوالے سے سب سے زیادہ ہولناک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ملازمت کے متلاشی لوگوں کی بڑی تعداد نے ملازمت کے حصول کیلیے برسوں دھکے کھانے اور ناکامی کامنہ دیکھنے کے بعد مایوس ہوکر ملازمت کی تلاش کا سلسلہ ہی ترک کردیا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق اس وقت کم وبیش 6 کروڑ 20 لاکھ افراد ملک کی لیبر فورس میں شامل ہیں اور اس حوالے سے ایک دل خوشکن بات یہ ہے کہ ملک کی لیبر فورس میں شامل ہونے والوں میں15 سے34 سال عمر کے نوجوانوں کی اکثریت ہے اوران کاتناسب اب 50 فیصد سے تجاوز کرچکاہے، تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک کی موجودہ لیبر فورس میں مردوں کی شرح 76 فیصد اورخواتین کی شرح 24 فیصد ہے،اس لیبر فورس میں 70 فیصد ورکرز کاتعلق دیہی اور30فیصد کاشہری علاقوں سے ہے۔
بیوروشماریات کی رپورٹ کے مطابق 2007-08 اور2012-13 کے دوران ملک میں مجموعی طورپر سالانہ ملازمتوں کے 11 لاکھ مواقع پیداہوئے یعنی اس مدت کے دوران ہر سال 11 لاکھ افراد کو نئی ملازمتوں کے حصول کاموقع ملا جبکہ2013-14 اور2014-15 کے دوران نئی ملازمتوں کے سالانہ صرف 7 لاکھ 5 ہزار مواقع پیداہوئے اور یہ مواقع بھی غیر رسمی اور غیرروایتی شعبوں میں پیدا ہوئے جہاں حالات کار انتہائی خراب اور نامساعد ہوتے ہیں۔
ملازمتو ں کے مواقع میں اس کمی کے مختلف اسباب بیان کیے جاتے ہیں ان میں سرفہرست ملک کی برآمدات اور خاص طورپر ٹیکسٹائل اور ایس ایم ایز کے شعبے میں ہونے والی بتدریج کمی ، دوسرے ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کمی کی وجہ سے تعمیراتی سرگرمیوں میں پیداہونے والا ٹہراؤ،تیسرے سرکاری اداروں کے خسارے میں جانے اور شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے شعبوں میں عدم توسیع کی وجہ سے سرکاری شعبوں میں نئی ملازمتوں کے مواقع کاسلسلہ کم وبیش بند ہوجانا ہے ۔ مثال کے طورپر اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ملک میں تدریسی شعبے میں اساتذہ کی ملازمتوں کے مواقع میں سالانہ صرف ایک فیصد کا اضافہ نظر آتاہے۔اس طرح اگرچہ شماریات بیورو کے اندازوں کے مطابق ملک میں بیروزگاری کی شرح صرف 6 فیصد بتائی گئی ہے جبکہ درحقیقت یہ شرح 8 فیصد سے بھی زیادہ ہے کیونکہ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیاہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے ملازمتوں کے حصول کی کوششوں میں ناکامی کے بعد ملازمتوں کی کوششیں ہی ترک کردی ہیں اور خاموشی سے بیروزگاری کا غم جھیل رہے ہیں۔اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ دیہی علاقوں میں بیروزگاری کی شرح شہروں کے مقابلے میں کم ہے ،کیونکہ شہروں میں بیروزگاری کی شرح11فیصد اور دیہی علاقوں میں 7 فیصدریکارڈ کی گئی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک میں کم وبیش24 لاکھ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ملازمتوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں،اور انھیں حصول تعلیم کے بعد اپنا مستقبل تاریک نظر آتاہے۔اس وقت بڑھتی ہوئی بیروزگاری کا ایک پریشان کن پہلو یہ ہے کہ ملک میں موجود بیروزگاروں میں کم وبیش 20 فیصد گریجویٹ یا ماسٹر ڈگری رکھنے والے نوجوان شامل ہیں۔اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ ہمارے ملک کا ہر پانچواں تعلیم یافتہ نوجوان بیروزگاری کاعذاب جھیلنے پر مجبور ہے۔جبکہ 10 سال قبل تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بیروزگاری کی شرح صرف 5 فیصد تھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ ایک عشرے کے دوران ملک میں اعلیٰ تعلیم کے نجی اداروں کی تعداد میں 12 فیصد تک اضافہ ہوا لیکن حکومت ان اداروں سے تعلیم حاصل کرکے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق ملازمتوں کی فراہمی کیلیے مناسب منصوبہ بندی کرنے میں ناکام رہی۔
بیروزگاری کے حوالے سے سب سے زیادہ پریشان کن پہلو یہ ہے کہ اس وقت ملک میں 15سے29 سال عمر کے کم وبیش40لاکھ تعلیم یافتہ افراد بیکار پڑے ہوئے ہیں یہ نوجوان اب نہ تو مزید تعلیم حاصل کرنے پر توجہ دینے کو تیار ہیں اور نہ ہی ملازمت کی تلاش کیلیے باہر نکلتے ہیں۔یہ نوجوان اس اعتبار سے زیادہ خطرناک ہیں کہ انھیں کوئی بھی انتہاپسندی یاجرائم کی دنیا میں قدم رکھنے کی ترغیب دے کر انھیں جرائم اور دہشت گردی کی دلدل میں بآسانی پھنسا سکتاہے۔اس حوالے سے یہ امر بھی غابل غورہے کہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کوروزگار کی فراہمی کیلیے شروع کیاجانے والا یوتھ امپلائمنٹ پروگرام بھی مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں بوجوہ ناکام ثابت ہواہے۔
حکومت کوملک کے نوجوانوں اور خاص طورپر تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بیروزگاری کی اس صورتحال سے نمٹنے اور نوجوانوں کوان کی صلاحیتوں کے مطابق روزگار کی فراہمی یقینی بنانے کیلیے حکمت عملی تیار کرنا چاہیے ،ا س حوالے سے ملک اور خاص طورپر شہروں اور دیہات کے پسماندہ علاقوں میں پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنر سکھانے کے ایسے ادارے قائم کرنے چاہئیں جہاں نوجوانوں کو بلامعاوضہ اور بلاکسی تفریق اور سفارش کے مختلف ہنر سیکھنے کے مواقع مل سکیں اور نوجوان صرف تعلیمی ڈگریوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایسے ہنر بھی سیکھ لیں جن کے ذریعے روزگار کا حصول نسبتاً آسان ہوجاتاہے یا جن کے ذریعے وہ ’’خود روزگاری‘‘ کے اصول کے تحت اپنا کام شروع کرسکتے ہوں۔اس حوالے سے حکومت بڑی پیداواری صنعتوں کو ایسے ہنر مند نوجوانوں کو اپنا کام شروع کرنے میں مدد دینے پر اس طرح آمادہ کرسکتی ہے کہ یہ صنعتیں ہنر مند نوجوانوں کو اپنی ضرورت کے پرزہ جات تیار کرنے کیلیے چھوٹے چھوٹے کم لاگت کے یونٹ لگانے کیلیے سرمایہ یاضروری مشینری فراہم کریں جن کی مالیت عموماً چند ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہوتی اور پھر اپنی ضرورت کے پرزہ جات ان سے خرید کر آسان اقساط میں اپنا فراہم کردہ سرمایہ واپس حاصل کرلیں اس طرح ہنر مند نوجوانوں کو ملازمت کے حصول کیلیے دھکے کھانے سے بھی نجات مل جائے گی اور متعلقہ صنعتوں کو اپنی ضرورت کے پرزہ جات اور دوسری اشیا بآسانی حاصل ہوسکیں گی ، اس کیلیے حکومت کو اپنی جانب سے کسی فنڈنگ کی ضرورت بھی نہیں ہوگی اور نوجوانوں کو بینکوں سے قرضوں کے حصول کیلیے سفارشوں کی تلاش میں سرگرداں ہونے کاعذاب بھی برداشت نہیں کرناہوگا۔اس طریقہ کار پر عمل کی صورت میں نہ صرف یہ کہ ملک میں نوجوان پیشہ ورانہ تربیت اور ہنر سیکھنے کی جانب راغب ہوکر خود اپنا روزگار حاصل کرنے کے قابل ہوسکیں گے بلکہ وہ اپنے ساتھ علاقے کے درجنوں بیروزگاروں کوبھی ان کی صلاحیت اور محنت کے اعتبار سے روزگار فراہم کرسکیں گے۔
امید کی جاتی ہے کہ ارباب اختیار اس حوالے سے کوئی قابل عمل پالیسی تیار کرنے اور ملک کے بیروزگار خاص طورپر تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانوں کو بہتر روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے اور اس طرح نوجوانوں میں پائی جانے والی مایوسی کاخاتمہ کریں گے جو ملک کی سلامتی اور یکجہتی کیلیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

  ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

مضامین
آخری گواہی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
آخری گواہی

جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن وجود جمعرات 26 مارچ 2026
جلوت و خلوت : بندے کی زندگی کا روحانی توازن

مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی وجود جمعرات 26 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں نماز عید پر پابندی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر