وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

متحدہ لندن کی کمزوررابطہ کمیٹی، الطاف حسین نیا کھیل کھیلنے کے لیے تیار

پیر 17 اکتوبر 2016 متحدہ لندن کی کمزوررابطہ کمیٹی، الطاف حسین نیا کھیل کھیلنے کے لیے تیار

* ایم کیوایم لندن کی پریس کانفرنس میں ایک بھی منتخب رکن اسمبلی شریک نہیں ہوا، زیادہ تر ناموں سے کارکنان بھی ناواقف
*ٌایم کیوایم پاکستان کے اکثر رہنما الطاف حسین کے بغیر اسی ایم کیوایم کے اندر سیاست کی راہ نکالنے کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں
ffre-2-650x362ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین لندن میں منی لانڈرنگ مقدمے سے پراسرا ر نجات طور پر نجات حاصل کرچکے ہیں۔ جس کے بعد اب وہ کراچی میں ایک نئے کھیل کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔اگرچہ ایک نئی رابطہ کمیٹی کا اعلان ابھی بہت دھیمے انداز سے ہوا ہے۔ مگر یہ ایک آغاز ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خود ایم کیوایم پاکستان کاردِ عمل دیکھا جارہا ہے۔ یہی نہیں یہ خود ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کے لیے بھی کراچی کے اُن پانیوں کا اندازہ لگانے کا ایک موقع ہو گا جس میں یہ ابھی تک تیرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہرطرف سے خطرات میں گھرے ایم کیوایم پاکستان کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار تو الطاف حسین کو منہا کرکے ایک نئی ایم کیوایم کی کامیابی کے حوالے سے پرامید ہو چکے ہیں۔ مگر ایم کیوایم لندن کے حوالے سے یہ واضح نہیں کہ وہ اس کھیل میں کتنا آگے جا کر کھیلنے کو تیار ہے۔ ایم کیوایم لندن نے جو پتے نئی رابطہ کمیٹی کے نام پر کھیلے ہیں ، وہ اُس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ایم کیوایم لندن کی رابطہ کمیٹی میں جن ناموں کا اعلان کیا گیا ہے اُن میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف، ساتھی اسحاق ،امجد اللہ خان، کنور خالد یونس، اشرف نور، اکرم راجپوٹ، اسماعیل ستارہ ، ادریس علوی اور مومن خان شامل کیے گئے ہیں۔جبکہ لندن سے اس رابطہ کمیٹی کی رونق بڑھانے کے لیے ندیم احسان، واسع جلیل اور مصطفی عزیز آبادی کے ناموں کو شامل کیا گیا ہے۔ان میں سے بیشتر نام وہ ہیں جنہیں خود ایم کیوایم کے اندر بھی زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ڈاکٹر حسن ظفر عارف کراچی میں کچھ زیادہ اچھی شہرت کے حامل نہیں۔ اُنہیں مرحوم ڈاکٹر عبدالوہاب نے اُن کی بعض سرگرمیوں پر آئی بی اے سے نکال باہر کیا تھا۔ وہ تعلیمی پس منظر میں بھی کچھ زیادہ خوشگوار تاریخ نہیں رکھتے۔ پریس کانفرنس میں بھی وہ اپنے کھلے گریبان کے ساتھ ایک ایسے انداز میں دکھائی دے رہے تھے کہ جیسے کوئی پہلوان اکھاڑے میں اُترتا ہے۔ ایم کیوایم لندن کی رابطہ کمیٹی میں تین ارکان تو وہ ہیں جو چند ماہ پہلے ہی ایم کیوایم میں شامل ہوئے تھے۔ حسن ظفر عارف ، ساتھی اسحاق اور مومن خان مومن کے ناموں پر بچی کھچی ایم کیوایم کے اُن خاموش لوگوں کے بھی تحفظات ہیں جو ابھی ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے اور بالواسطہ یا بلاواسطہ لندن رابطوں میں الطاف حسین سے اپنی وفاداریوں کا اظہار کرتے رہے۔ اس رابطہ کمیٹی کو عبوری رابطہ کمیٹی قرار دے کر خود لندن نے بھی اس پر کھلا اعتماد ظاہر نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ وفاداریاں بدلنے کا موسم ہے۔ اور کون کب کہاں پر ہوتا ہے، اس کے متعلق قطعی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ ایک انتہائی اہم ذریعے نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا کہ ایم کیوایم لندن میں وہ لوگ شامل ہوئے جو اپنی اہمیت اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں بڑھا کر اپنے مقام بنانے کی فکر میں غلطاں ہیں۔ اس سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ ایم کیوایم کسی بھی طرح اپنی اس پریس کانفرنس میں ایک بھی منتخب ایم این اے یا ایم پی اے کو شامل نہیں کرسکی۔ جس نے ایم کیوایم لندن کے کراچی میں رابطوں کی کمزوری کو پوری طرح بے نقاب کیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ کم ازکم حالیہ دنوں میں لندن سے ہونے والی اپیلوں کی کراچی میں کچھ زیادہ شنوائی نہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار کے نازک کردار اور ایم کیوایم پاکستان کے مستقبل کی جمع تفریق بھی ضروری ہے۔ یہ بات اب کوئی پوشیدہ نہیں رہی کہ 22؍ اگست کے بعد منظرعام پر آنے والی ایم کیوایم پاکستان پر کوئی بھی یہ اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا کہ وہ الطاف حسین کے کردار کو حقیقی طور پر جماعت سے خارج کرچکی ہے یا پھر وہ الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف تقریر کے بعد یہ سمجھ رہی تھی کہ ابھی الطاف حسین کے بغیر موجودہ جماعت کو سنبھالا جائے ، بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے پاکستان میں موجود رہنما الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر اور نعرے بازی کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تیور بھانپ چکے تھے۔ اور یہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ہوا کارخ کس طرف ہے؟اس کے باوجود وہ بار بار کے فوج کے بدلتے کردار کا تاریخی تجربہ رکھنے کے باعث یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ بدلے ہوئے ہوا کا رخ دوبارہ بھی بدل سکتا ہے۔ چنانچہ ایم کیوایم پاکستان نے انتہائی خاموشی سے لندن میں ایک خاموش رابطہ بھی رکھا ہوا تھا۔ جس کا اعتراف خود عامر خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ کر کیا کہ الطاف حسین کی 22؍ اگست کی تقریر اور ایم کیوایم پاکستان کے قیام کے باوجود وہ لندن قیادت سے چار دن تک مسلسل رابطے میں رہے۔ ا س کامطلب یہ ہوا کہ وہ الطاف حسین سے فاصلے کی ضرور ت پر خود الطاف حسین کو قائل کرنے میں کامیاب رہے تھے اور ایک حکمت عملی کے تحت اس بھاری پتھر کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ شاید اسی لیے الطاف حسین نے ابتدا میں کوئی بڑا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ اور کراچی میں ایم کیوایم کے حلقوں میں اسے ایک کھیل سمجھا جارہا تھا۔ اور اس سوچے سمجھے کھیل کی دلیل یہ دی جارہی تھی کہ عامر خان خاموش کیوں ہیں؟ وہ اس ضمن میں کوئی بات کیوں نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ عامر خان نے ابتدائی چند دنوں تک جو خاموشی اختیار کیے رکھی تھی ، وہ بلاوجہ تو نہیں تھی۔ ایم کیوایم پاکستان کو بھی یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا تھا کہ اب ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کی سیاست کے لیے کراچی میں گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں جنرل راحیل شریف کی میعاد کے اختتام کی خواہش پالنے والوں کو یہ یقین دلادیا گیا کہ پاک فوج کی سربراہی کوئی بھی کرے، جرنیل تبدیل ہوگا، پالیسی نہیں۔ ا س امر کا یقین ہونے کے بعد ایم کیوایم پاکستان کے اکثر رہنماؤں کو یہ شرح صدر ہونے لگا کہ اب الطاف حسین کے بغیر کم سے کم تقسیم میں اسی ایم کیوایم کے اندر سیاست کی راہ نکالنا ہی مفید ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اب ایم کیوایم پاکستان الطاف حسین کے بغیر ایک سیاسی راہ کی طرف چل پڑی ہے۔ جس میں ایک مستقل خطرہ خود الطاف حسین کی اپنی زبان میں اُن کے ’’متھا گھومنے‘‘ کا ہے۔ کیا وہ ایم کیوایم پاکستان کے تمام رہنماؤں کے حوالے سے اپنا متھا گھما چکے ہیں؟ یا وہ فی الحال جن کے ناموں کے اخراج کا اعلان کررہے ہیں، وہی اُن کے غیض وغضب اور سب وشتم کا نشانہ ہوں گے؟ ابھی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ مگر باخبر ذرائع تصدیق کررہے ہیں کہ الطاف حسین کی اعلان کردہ لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی اُن کی کمزور پچ ہے، الطاف حسین کی مضبوط پچ ’’کچھ اور ‘‘ہے۔ جہاں اگر اُن کا کچھ دم خم اگر باقی بچا ہے تو وہ اس کا اب استعما ل کریں گے۔ کیونکہ ہر گزرتا دن اُن پر ایم کیوایم کے کارکنان کا اعتبار کم کرتا جارہا ہے۔ اور ایم کیوایم پاکستان ہرگزرتے دن طاقت ور حلقوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہورہی ہے کہ وہ کھیل کو اپنے ہاتھ میں لینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتائج کچھ بھی برآمد ہو، عام لوگ کراچی کے امن کو اس کھیل سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ جسے عزیزآباد کے مکینوں نے اب تک سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی مظاہرین کیخلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی وجود - بدھ 03 جون 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں بڑی تعداد میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مسلح افواج تعینات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن میں بے امنی انتہائی ذلت آمیز ہے، لاقانونیت اور تشدد کے خاتمے کے لیے فوج کو متحرک کیا جائے گا، بطور صدر میری پہلی اور سب سے بڑی ذمہ داری امریکا اور اس کے شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوٹ مار، جلاو ٔگھیراؤ کو روکنے کے لیے ہزاروں فوجی تعینات کر رہا ہوں...

ٹرمپ کی مظاہرین کیخلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی

ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے کمزور پڑنے کے دعوے مسترد کر دیے وجود - بدھ 03 جون 2020

عالمی ادارہ صحت نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا ہے کہ کورونا وائرس اپنی طاقت کھو رہا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اٹلی میں ایک سینئر ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ وائرس اب کم جان لیوا ہو گیا ہے ۔ پروفیسر البرٹو زنگریلو جو کہ سین رافائل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ کے سربراہ ہیں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس اب کلینیکلی موجود نہیں ہے ۔تاہم کئی سائنسدانوں جن میں ڈبلیو ایچ او کے ماہرین بھی شامل ہیں کا کہنا تھا کہ اس خیال کے کوئء شواہد موجود نہیں ہیں...

ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے کمزور پڑنے کے دعوے مسترد کر دیے

سیاہ فام شہری کا قتل،بطوراحتجاج فیس بک نے اپنا لوگو سیاہ کر دیا وجود - بدھ 03 جون 2020

امریکا میں پولیس کی حراست میں سیاہ فام شخص کی ہلاکت پر فسادات کا سلسلہ جاری ہے جب کہ احتجاج میں فیس بک سمیت کئی کمپنیاں بھی شریک ہو گئیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیس بک نے سیاہ فام شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئی اپنا لوگو سیاہ کر دیا جب کہ کمپنی کے بانی نے اس حوالے سے ایک طویل مضمون بھی تحریر کیا ۔فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اپنی طویل پوسٹ میں کہا کہ ہم سیاہ فارم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان تمام کے ساتھ بھی جو انصاف کیلئے کام کر رہے ہیں جارج فلوئیڈ، بریونا ٹیلر، احمود آر...

سیاہ فام شہری کا قتل،بطوراحتجاج فیس بک نے اپنا لوگو سیاہ کر دیا

انہیں سانس لینے دیں، ایران کا امریکا سے عوام پر تشدد روکنے کا مطالبہ وجود - بدھ 03 جون 2020

ایران نے امریکا میں جاری احتجاج کی لہر میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہیکہ وہ اپنے عوام پر تشدد بند کرے ۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ امریکا پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر احتجاج کرنے والے اپنے ہی لوگوں پر تشدد کو بند کرے ۔انہوں نے امریکی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ریاست کے جبر پر دنیا نے آپ کی چیخ پکار سن لی ہے ، دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے ۔ترجمان نے امریکی حکام اور پولیس کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ...

انہیں سانس لینے دیں، ایران کا امریکا سے عوام پر تشدد روکنے کا مطالبہ

امارات ائیرلائن کو سابقہ مقامات پر پروازوں کی بحالی میں چار سال لگیں گے وجود - بدھ 03 جون 2020

دبئی کی قومی فضائی کمپنی امارات ائیرلائن کے سبکدوش ہونیوالے صدر ٹِم کلارک نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ ان کی فضائی کمپنی کو اپنے تمام سابقہ مقامات اور نیٹ ورک پر پروازوں کی بحالی میں کم سے کم چار سال لگیں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹِم کلارک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں چارسال تک ہم چیزوں کو معمول پر آتا ہوا دیکھ سکیں گے ۔امید ہے کہ تب تک امارات اپنے نیٹ ورک پر پروازیں چلا رہی ہوگی اور پہلے کی طرح کامیاب ہوچکی ہوگی۔ٹِم کلارک نے کہا کہ ہوابازی کی صنعت آیندہ سال ...

امارات ائیرلائن کو سابقہ مقامات پر پروازوں کی بحالی میں چار سال لگیں گے

باراک اوباما کی امریکا میں پرتشدد احتجاج کی شدید مذمت وجود - بدھ 03 جون 2020

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے پیر کے روز ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں تشدد کے استعمال کی مذمت کی تاہم اصلاحات کے خواہاں پرامن مظاہرین کے اقدامات کی تعریف کی ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اوباما نے آن لائن میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ مظاہرین کی اکثریت پر امن ہے لیکن ایک مٹھی بھر عناصر لوگوں اور اصلاحات کے لیے پرامن احتجاج کرنے والوں کے لیے خطرہ ہیں۔ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے قبل دو بار امریکا کے صدر رہنے والے ڈیمو...

باراک اوباما کی امریکا میں پرتشدد احتجاج کی شدید مذمت

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور دو وزرا کا کرونا کا شکار ہونے کا شبہ وجود - بدھ 03 جون 2020

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور ان کی حکومت کیدو وزرا کے کرونا کیمریض سے میل جول کی وجہ سے خود کرونا کی وبا کا شکار ہونے کا شبہ ہے جس کیبعد انہیں الگ تھلگ کیا جاسکتا ہے ۔اسرائیل کے ٹی وی نے بتایا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر میں کام کرنے والے ایک ملازم کو کرونا وائرس کا انفکشن ہوا تھا۔ اس کا طبی معائنہ کیا گیا جس پر وہ کرونا کا مصدقہ مریض نکلا۔ طبی تحقیقات کے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ ملازم وزیراعظم کے دفتر میں ڈیوٹی پر تھا۔ حکام اس بات کی چھان بین کررہے ہیں کہ آیا کر...

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور دو وزرا کا کرونا کا شکار ہونے کا شبہ

امریکا، کرفیو کے باوجود سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج وجود - منگل 02 جون 2020

امریکا کے کئی شہروں میں کرفیو اور پابندیوں کے باوجود پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج اور ریلیاں نکالی گئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سیاٹل سے نیو یارک تک ہزاروں افراد نے مارچ کیا، مظاہرین رکاوٹیں اور جنگلے گرا کر وائٹ ہاوس کے قریب پہنچ گئے ۔ امریکی دارالحکومت میں رات کا کرفیو لگادیا گیا۔واشنگٹن ڈی سی میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کر فیو رہے گا۔ ہفتے کی رات پولیس پر حملے ، ہنگاموں، جلاوگھیراو کے بعد 15 ریاستوں میں نیشنل گارڈز کا گشت جاری ہے ۔پرتشدد مظا...

امریکا، کرفیو کے باوجود سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج

کورونا وائرس اب پہلے جیسا جان لیوا نہیں رہا، اطالوی ڈاکٹروں کا دعویٰ وجود - منگل 02 جون 2020

اٹلی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے کورونا وائرس اب اتنا جان لیوا نہیں رہا جتنا عالمی وبا کے آغاز پر تھا۔مییا رپورٹ کے مطابق میلان کے سان ریفایلی ہاسپٹل کے سربراہ ڈاکٹر البرٹو زینگریلو نے ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ طبی لحاظ سے یہ وائرس اب اٹلی میں موجود نہیں۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ 10 دن کے دوران سواب ٹیسٹوں میں جو وائرل لوڈ دیکھا گیا وہ ایک یا 2 ماہ قبل کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔انہوں نے اطالوی حکومت پر لاک ڈاؤن کی پابندیاں اٹھانے...

کورونا وائرس اب پہلے جیسا جان لیوا نہیں رہا، اطالوی ڈاکٹروں کا دعویٰ

کورونا کے مریضوں کو کئی ماہ تک سانس کے مسائل ہوسکتے ہیں، تحقیق وجود - منگل 02 جون 2020

کورونا وائرس کے مریضوں کو صحتیابی کے بعد کئی ماہ تک بہت زیادہ تھکاوٹ اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ایک مقالے میں بتائی۔برطانوی حکومت کے سائنٹیفک ایڈوائزری گروپ آن ایمرجنسیز کی جانب سے جاری مقالے میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ وائرس طویل المعیاد بنیادوں پر طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے ۔سائنسدانوں نے 7 مئی کو ملاقات کرکے کورونا وائرس سے منسلک متعدد پیچیدگیوں بشمول فالج، گردوں کے امراض اور اعضا کے ا...

کورونا کے مریضوں کو کئی ماہ تک سانس کے مسائل ہوسکتے ہیں، تحقیق

امریکی ریاستوں کے گورنر تخریب کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں، ٹرمپ وجود - منگل 02 جون 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب ریاستی گورنرز پر زور دیا کہ وہ تشدد اور تخریب کاری کے مرتکب عناصر سے سختی سے نمٹیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹرپر پوسٹ کردہ متعدد ٹویٹس میں انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے پرتشدد اور خونی مظاہروں کی روک تھام کے لیے نیشنل گارڈ کو طلب کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ انتشار پسندوں کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ تخریب کاروں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا جائے ۔ ان کا ک...

امریکی ریاستوں کے گورنر تخریب کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں، ٹرمپ

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت وجود - اتوار 31 مئی 2020

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ دو ماہ سے بند مسجد بنوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کی اجازت دیدی۔سعودی میڈیا کے مطابق مسجد نبوی میں 31 مئی سے عام نمازیوں کے داخلے کی اجازت ہوگی اور خادمین الحرمین الشریفین نے اس فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔سعودی حکام کے مطابق احتیاطی تدابیرکے ساتھ مسجد نبوی کو عام نمازیوں کے لیے کھولنے کے احکامات دئیے گئے ۔ مسجد نبوی میں 40 فیصد نمازیوں کو ابتدائی دنوں میں داخلے کی اجازت ہو گی اور حکام کی جانب س...

مسجد نبویؐ کوعام نمازیوں کیلئے کھولنے کی اجازت