وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

متحدہ لندن کی کمزوررابطہ کمیٹی، الطاف حسین نیا کھیل کھیلنے کے لیے تیار

پیر 17 اکتوبر 2016 متحدہ لندن کی کمزوررابطہ کمیٹی، الطاف حسین نیا کھیل کھیلنے کے لیے تیار

* ایم کیوایم لندن کی پریس کانفرنس میں ایک بھی منتخب رکن اسمبلی شریک نہیں ہوا، زیادہ تر ناموں سے کارکنان بھی ناواقف
*ٌایم کیوایم پاکستان کے اکثر رہنما الطاف حسین کے بغیر اسی ایم کیوایم کے اندر سیاست کی راہ نکالنے کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں
ffre-2-650x362ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین لندن میں منی لانڈرنگ مقدمے سے پراسرا ر نجات طور پر نجات حاصل کرچکے ہیں۔ جس کے بعد اب وہ کراچی میں ایک نئے کھیل کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔اگرچہ ایک نئی رابطہ کمیٹی کا اعلان ابھی بہت دھیمے انداز سے ہوا ہے۔ مگر یہ ایک آغاز ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خود ایم کیوایم پاکستان کاردِ عمل دیکھا جارہا ہے۔ یہی نہیں یہ خود ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کے لیے بھی کراچی کے اُن پانیوں کا اندازہ لگانے کا ایک موقع ہو گا جس میں یہ ابھی تک تیرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہرطرف سے خطرات میں گھرے ایم کیوایم پاکستان کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار تو الطاف حسین کو منہا کرکے ایک نئی ایم کیوایم کی کامیابی کے حوالے سے پرامید ہو چکے ہیں۔ مگر ایم کیوایم لندن کے حوالے سے یہ واضح نہیں کہ وہ اس کھیل میں کتنا آگے جا کر کھیلنے کو تیار ہے۔ ایم کیوایم لندن نے جو پتے نئی رابطہ کمیٹی کے نام پر کھیلے ہیں ، وہ اُس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ایم کیوایم لندن کی رابطہ کمیٹی میں جن ناموں کا اعلان کیا گیا ہے اُن میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف، ساتھی اسحاق ،امجد اللہ خان، کنور خالد یونس، اشرف نور، اکرم راجپوٹ، اسماعیل ستارہ ، ادریس علوی اور مومن خان شامل کیے گئے ہیں۔جبکہ لندن سے اس رابطہ کمیٹی کی رونق بڑھانے کے لیے ندیم احسان، واسع جلیل اور مصطفی عزیز آبادی کے ناموں کو شامل کیا گیا ہے۔ان میں سے بیشتر نام وہ ہیں جنہیں خود ایم کیوایم کے اندر بھی زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ڈاکٹر حسن ظفر عارف کراچی میں کچھ زیادہ اچھی شہرت کے حامل نہیں۔ اُنہیں مرحوم ڈاکٹر عبدالوہاب نے اُن کی بعض سرگرمیوں پر آئی بی اے سے نکال باہر کیا تھا۔ وہ تعلیمی پس منظر میں بھی کچھ زیادہ خوشگوار تاریخ نہیں رکھتے۔ پریس کانفرنس میں بھی وہ اپنے کھلے گریبان کے ساتھ ایک ایسے انداز میں دکھائی دے رہے تھے کہ جیسے کوئی پہلوان اکھاڑے میں اُترتا ہے۔ ایم کیوایم لندن کی رابطہ کمیٹی میں تین ارکان تو وہ ہیں جو چند ماہ پہلے ہی ایم کیوایم میں شامل ہوئے تھے۔ حسن ظفر عارف ، ساتھی اسحاق اور مومن خان مومن کے ناموں پر بچی کھچی ایم کیوایم کے اُن خاموش لوگوں کے بھی تحفظات ہیں جو ابھی ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے اور بالواسطہ یا بلاواسطہ لندن رابطوں میں الطاف حسین سے اپنی وفاداریوں کا اظہار کرتے رہے۔ اس رابطہ کمیٹی کو عبوری رابطہ کمیٹی قرار دے کر خود لندن نے بھی اس پر کھلا اعتماد ظاہر نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ وفاداریاں بدلنے کا موسم ہے۔ اور کون کب کہاں پر ہوتا ہے، اس کے متعلق قطعی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ ایک انتہائی اہم ذریعے نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا کہ ایم کیوایم لندن میں وہ لوگ شامل ہوئے جو اپنی اہمیت اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں بڑھا کر اپنے مقام بنانے کی فکر میں غلطاں ہیں۔ اس سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ ایم کیوایم کسی بھی طرح اپنی اس پریس کانفرنس میں ایک بھی منتخب ایم این اے یا ایم پی اے کو شامل نہیں کرسکی۔ جس نے ایم کیوایم لندن کے کراچی میں رابطوں کی کمزوری کو پوری طرح بے نقاب کیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ کم ازکم حالیہ دنوں میں لندن سے ہونے والی اپیلوں کی کراچی میں کچھ زیادہ شنوائی نہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار کے نازک کردار اور ایم کیوایم پاکستان کے مستقبل کی جمع تفریق بھی ضروری ہے۔ یہ بات اب کوئی پوشیدہ نہیں رہی کہ 22؍ اگست کے بعد منظرعام پر آنے والی ایم کیوایم پاکستان پر کوئی بھی یہ اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا کہ وہ الطاف حسین کے کردار کو حقیقی طور پر جماعت سے خارج کرچکی ہے یا پھر وہ الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف تقریر کے بعد یہ سمجھ رہی تھی کہ ابھی الطاف حسین کے بغیر موجودہ جماعت کو سنبھالا جائے ، بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے پاکستان میں موجود رہنما الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر اور نعرے بازی کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تیور بھانپ چکے تھے۔ اور یہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ہوا کارخ کس طرف ہے؟اس کے باوجود وہ بار بار کے فوج کے بدلتے کردار کا تاریخی تجربہ رکھنے کے باعث یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ بدلے ہوئے ہوا کا رخ دوبارہ بھی بدل سکتا ہے۔ چنانچہ ایم کیوایم پاکستان نے انتہائی خاموشی سے لندن میں ایک خاموش رابطہ بھی رکھا ہوا تھا۔ جس کا اعتراف خود عامر خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ کر کیا کہ الطاف حسین کی 22؍ اگست کی تقریر اور ایم کیوایم پاکستان کے قیام کے باوجود وہ لندن قیادت سے چار دن تک مسلسل رابطے میں رہے۔ ا س کامطلب یہ ہوا کہ وہ الطاف حسین سے فاصلے کی ضرور ت پر خود الطاف حسین کو قائل کرنے میں کامیاب رہے تھے اور ایک حکمت عملی کے تحت اس بھاری پتھر کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ شاید اسی لیے الطاف حسین نے ابتدا میں کوئی بڑا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ اور کراچی میں ایم کیوایم کے حلقوں میں اسے ایک کھیل سمجھا جارہا تھا۔ اور اس سوچے سمجھے کھیل کی دلیل یہ دی جارہی تھی کہ عامر خان خاموش کیوں ہیں؟ وہ اس ضمن میں کوئی بات کیوں نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ عامر خان نے ابتدائی چند دنوں تک جو خاموشی اختیار کیے رکھی تھی ، وہ بلاوجہ تو نہیں تھی۔ ایم کیوایم پاکستان کو بھی یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا تھا کہ اب ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کی سیاست کے لیے کراچی میں گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں جنرل راحیل شریف کی میعاد کے اختتام کی خواہش پالنے والوں کو یہ یقین دلادیا گیا کہ پاک فوج کی سربراہی کوئی بھی کرے، جرنیل تبدیل ہوگا، پالیسی نہیں۔ ا س امر کا یقین ہونے کے بعد ایم کیوایم پاکستان کے اکثر رہنماؤں کو یہ شرح صدر ہونے لگا کہ اب الطاف حسین کے بغیر کم سے کم تقسیم میں اسی ایم کیوایم کے اندر سیاست کی راہ نکالنا ہی مفید ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اب ایم کیوایم پاکستان الطاف حسین کے بغیر ایک سیاسی راہ کی طرف چل پڑی ہے۔ جس میں ایک مستقل خطرہ خود الطاف حسین کی اپنی زبان میں اُن کے ’’متھا گھومنے‘‘ کا ہے۔ کیا وہ ایم کیوایم پاکستان کے تمام رہنماؤں کے حوالے سے اپنا متھا گھما چکے ہیں؟ یا وہ فی الحال جن کے ناموں کے اخراج کا اعلان کررہے ہیں، وہی اُن کے غیض وغضب اور سب وشتم کا نشانہ ہوں گے؟ ابھی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ مگر باخبر ذرائع تصدیق کررہے ہیں کہ الطاف حسین کی اعلان کردہ لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی اُن کی کمزور پچ ہے، الطاف حسین کی مضبوط پچ ’’کچھ اور ‘‘ہے۔ جہاں اگر اُن کا کچھ دم خم اگر باقی بچا ہے تو وہ اس کا اب استعما ل کریں گے۔ کیونکہ ہر گزرتا دن اُن پر ایم کیوایم کے کارکنان کا اعتبار کم کرتا جارہا ہے۔ اور ایم کیوایم پاکستان ہرگزرتے دن طاقت ور حلقوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہورہی ہے کہ وہ کھیل کو اپنے ہاتھ میں لینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتائج کچھ بھی برآمد ہو، عام لوگ کراچی کے امن کو اس کھیل سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ جسے عزیزآباد کے مکینوں نے اب تک سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔


متعلقہ خبریں


گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

گلشن اقبال مسکن چورنگی دھماکے کے متاثرین کو تاحال کوئی معاوضہ اور متبادل جگہ فراہم نہیں کی جاسکی جب کہ عمارت بھی منہدم کردی گئی ہے ۔گلشن اقبال مسکن چورنگی پر واقع عمارت اللہ نور اپارٹمنٹس میں 21 اکتوبر بروز بدھ کو ہونے والے دھماکے کے متاثرین کو تاحال حکومت کی جانب سے کوئی معاوضہ اور رہائش گاہ فراہم نہیں کی گئی، عمارت کے متاثرہ حصے کے اطراف ٹیپ لگا کر سیل کیا ہوا ہے جسکی وجہ سے عمارت سے متصل قائم ایک ریسٹورانٹ اور کیفے بھی گزشتہ ایک ہفتے سے بند پڑا ہے ۔عمارت کے متاثرہ خاندانوں...

گلشن دھماکے کے متاثرین گھر اور معاوضے سے محروم؛ عمارت بھی منہدم کردی گئی

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پاکستان کا فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غور وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غورشروع کردیا ہے ،حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے ،کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و ستم کے باعث پاکستان بھارت سے مذاکرات نہیں کرسکتا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فرانس سے اپنے سفیر کو مشاورت کیلئے بلوانا پڑا تو بلائیں گے اور پارلیمنٹ سے رہنمائی لیں گے ۔حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں بھا...

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر پاکستان کا فرانس سے سفیر واپس بلانے پر غور

مودی حکومت کا یوم سیاہ پر کشمیریوں پر ایک اورحملہ وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں یوم سیاہ کے موقع پر ایک اور کشمیری مخالف اقدام اٹھاتے ہوئے منگل کوزمین سے متعلق قانون کو نوٹیفائی کردیااور اب مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ میں کوئی بھی غیر مقامی شہری زمین خرید سکتا ہے ۔تاہم اس میں ذرعی زمین شامل نہیں ہے ۔ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں جاری حکمنامے کو مرکز کے زیر انتظام جموں کشمیر اور لداخ ری آرگنازیشن 2020کے نام سے موسوم کیا جائے گا ۔یہ اس سلسلے میں پاس کئے گئے قوانین کا تیسر...

مودی حکومت کا یوم سیاہ پر کشمیریوں پر ایک اورحملہ

27 اکتوبر تحریک حق خود ارادیت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ،مشال ملک وجود - بدھ 28 اکتوبر 2020

کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز کشمیریوں کو قتل، قید اور ان کی املاک تباہ کر رہی ہے ۔ اپنے بیان میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا کہ 27 اکتوبر تحریک حق خود ارادیت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ، بھارتی فوج نے 70 سال سے کشمیر میں لاشوں کا انبار لگا رکھا ہے ۔مشال ملک نے کہا کہ بھارتی فورسز کشمیریوں کو قتل اور قید اور ان کی املاک تباہ کر رہی ہے ، کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ کب تک چلے گا؟ بہت جلد بھارت اور دنیا کشمیر...

27 اکتوبر تحریک حق خود ارادیت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے ،مشال ملک

بھارت کی پاکستان،چین کو گیدڑ بھبکیاں وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

بھارت نیو انڈیا کے بیانیے کی آڑ میں پاکستان اور چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی دھمکیوں پر اتر آیا ہے۔ چین سے مار کھانے والے بھارتی حکمران بڑی بڑھکیں مارنے لگے، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کہتے ہیں کہ جنگ اس ملک لے کر جا سکتے ہیں جہاں سے خطرہ سر اٹھا رہا ہو گا ، انہوں نے جارحیت کی دھمکیوں کو بھارت کے نئے بیانئے سے جوڑ دیا۔ بھارتی مشیر قومی سلامتی اجیت دوول نے نئی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اپنی زمین کے ساتھ ساتھ غیرملکی زمین پر بھی جاکر لڑیں گے، چین سے حالیہ ہزیمت اٹھا...

بھارت کی پاکستان،چین کو گیدڑ بھبکیاں

سڈنی میں شدت پسند شخص کا مسجد پر حملہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں نامعلوم شخص نے ترک مسجد پرحملہ کر کے مسجد کی ایک لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی املاک کو نقصان پہنچایا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم شخص نے مسجد کے اندر داخل ہو کر اسکی کھڑکیاں اور فانوس توڑ دیئے، پولیس نے حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا جسے عدالت میں پیش کیاجائیگا۔آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ایک شخص اوبرن گیلی پولی مسجد میں داخل ہوا اور فائرہائیڈرنٹ اور ویکیوم کلینر کے ذریعے مسجد کی املاک کو نقصان پہنچایا۔مسجد ترجمان کا کہنا تھا کہ مسجد میں اس وق...

سڈنی میں شدت پسند شخص کا مسجد پر حملہ

کورونا کیلئے جمع عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

کورونا وائرس کے انسداد کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے جمع ہونے والے 4.84 ارب کے عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اس حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش کی گئیں جس میں حکومت نے اعتراف کیا کہ کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 4ارب 84 کروڑ 24 لاکھ 26 ہزار 121 روپے کی عطیات جمع ہوئے۔ جس میں سے بیرون ملک سے 1 ارب 6 کروڑ 34 لاکھ 8 ہزار 414 روپے اور اندرون ملک سے 3 ارب 78 کروڑ20 لاکھ 77 ہزار 707 روپے کے عطیات موصول ہوئے۔ارک...

کورونا کیلئے جمع عطیات میں سے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کا انکشاف

مسلمانوں کی بائیکاٹ مہم سے فرانسیسی صدر پریشان وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے گھٹنے ٹیک دئیے،فرانس نے خلیجی ممالک سے بائیکاٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور فرانسیسی حکومت کے اسلام مخالف رویئے پر مشرق وسطی کے کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم چلائی جارہی ہے۔سوشل میڈیا پر بائیکاٹ فرنچ پروڈکٹس اوربائیکاٹ فرانس کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کی مہم کے بعد کویت کی مارکیٹوں سے فرانسیسی مصنوعات ...

مسلمانوں کی بائیکاٹ مہم سے فرانسیسی صدر پریشان

سندھ میں پھر فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے کا خدشہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2020

سندھ میں پھر فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے کا خدشہ پیدا ہوگیاہے اور محکمہ زراعت نے ٹڈی دل کے حملے کا نیا الرٹ جاری کردیاہے۔بتایا جاتا ہے کہ زیریں سندھ,بلوچستان کیساحلی علاقوں میں ٹڈی دل دوبارہ حملہ آور ہوسکتی ہے ۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے ٹڈی دل کے حملے کے پیش نظرہنگامی سروے اور اسپرے کی تجویز دی ہے ۔آئندہ چند روز میں بھارتی گجرات اور راجھستان سے آنیوالی ہواوں کیساتھ ٹڈی دل حملہ آور ہونے کا خدشہ ہے ۔سندھ کے جنوبی علاقوں میں بھی ٹڈی دل کے اثرات ...

سندھ میں پھر فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے کا خدشہ

122سالہ اپنی مشترکہ سرزمین پرپاسپورٹ اور ویزے لیکر آنا جانا قبول نہیں، محمود خان اچکزئی وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ 122سالہ اپنی مشترکہ سرزمین پرپاسپورٹ اور ویزے لیکر آنا جانا قبول نہیں اگر مجبور کیا گیا تو بارڈر کے دونوں طرف کے پشتون باڑ کو اکھاڑ دیں گے ہم کمزورہیں لیکن بے غیرت نہیں کہ آپ کے ڈھول پراتن کریں اگر ہمارا ڈھول بجا تو پوری دنیا کے کان پھٹ جائیں گے ،پی ڈی ایم سے گلہ کیا جاتا ہے کہ ہم غدار ہیں لیکن آج تک نہ ہمارے اکابرین اور نہ ہی کسی کارکن نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگایا پاکستان کانظریہ پشتون ،بلوچ ،سندھی کا مقرو...

122سالہ اپنی مشترکہ سرزمین پرپاسپورٹ اور ویزے لیکر آنا جانا قبول نہیں، محمود خان اچکزئی

کوئٹہ ،موٹرسائیکل بم دھماکے میں 3افراد شہید،ایک زخمی وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

کوئٹہ میں موٹرسائیکل بم دھماکے میں 3افراد شہیدجبکہ ایک زخمی ہوگیادھماکے سے متعددگاڑیوںاوردکانوں کو نقصان پہنچا۔تفصیلات کے مطابق اتوا ر کو کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں نامعلوم افراد نے موٹرسائیکل میں بم نصب کرکے موٹرسائیکل سڑک کنارے کھڑی کر رکھی تھی بم زوردار دھماکے سے پھٹنے کے نتیجے میں 3افراد شاہ نواز ولد امیر بخش،خیر اللہ ولد جمال خان،حاجی آزاد خان ولد مہراب خان جاں بحق جبکہ حاجی شاہ ولد امام شاہ زخمی ہوگیانعشوں اورزخمی کو فوری طور پرسول ہسپتال پہنچادیا گیا جہاں نعشیں ضروری...

کوئٹہ ،موٹرسائیکل بم دھماکے میں 3افراد شہید،ایک زخمی

نیپرا نے بحریہ ٹاؤن کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس منسوخ کردیا وجود - پیر 26 اکتوبر 2020

نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کو بجلی کی ترسیل (ڈسٹری بیوشن) کا لائسنس منسوخ کردیا۔نیپرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایت پر منسوخ کیا گیا۔علاوہ ازیں نوٹی فکیشن میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو 24 اکتوبر 2010 کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس جاری کیا گیا تھا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 2012 میں پٹیشن دائر کی گئی۔نوٹی فکیشن ...

نیپرا نے بحریہ ٹاؤن کو بجلی کی ترسیل کا لائسنس منسوخ کردیا