وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

متحدہ لندن کی کمزوررابطہ کمیٹی، الطاف حسین نیا کھیل کھیلنے کے لیے تیار

پیر 17 اکتوبر 2016 متحدہ لندن کی کمزوررابطہ کمیٹی، الطاف حسین نیا کھیل کھیلنے کے لیے تیار

* ایم کیوایم لندن کی پریس کانفرنس میں ایک بھی منتخب رکن اسمبلی شریک نہیں ہوا، زیادہ تر ناموں سے کارکنان بھی ناواقف
*ٌایم کیوایم پاکستان کے اکثر رہنما الطاف حسین کے بغیر اسی ایم کیوایم کے اندر سیاست کی راہ نکالنے کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں
ffre-2-650x362ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین لندن میں منی لانڈرنگ مقدمے سے پراسرا ر نجات طور پر نجات حاصل کرچکے ہیں۔ جس کے بعد اب وہ کراچی میں ایک نئے کھیل کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔اگرچہ ایک نئی رابطہ کمیٹی کا اعلان ابھی بہت دھیمے انداز سے ہوا ہے۔ مگر یہ ایک آغاز ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خود ایم کیوایم پاکستان کاردِ عمل دیکھا جارہا ہے۔ یہی نہیں یہ خود ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کے لیے بھی کراچی کے اُن پانیوں کا اندازہ لگانے کا ایک موقع ہو گا جس میں یہ ابھی تک تیرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہرطرف سے خطرات میں گھرے ایم کیوایم پاکستان کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار تو الطاف حسین کو منہا کرکے ایک نئی ایم کیوایم کی کامیابی کے حوالے سے پرامید ہو چکے ہیں۔ مگر ایم کیوایم لندن کے حوالے سے یہ واضح نہیں کہ وہ اس کھیل میں کتنا آگے جا کر کھیلنے کو تیار ہے۔ ایم کیوایم لندن نے جو پتے نئی رابطہ کمیٹی کے نام پر کھیلے ہیں ، وہ اُس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ایم کیوایم لندن کی رابطہ کمیٹی میں جن ناموں کا اعلان کیا گیا ہے اُن میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف، ساتھی اسحاق ،امجد اللہ خان، کنور خالد یونس، اشرف نور، اکرم راجپوٹ، اسماعیل ستارہ ، ادریس علوی اور مومن خان شامل کیے گئے ہیں۔جبکہ لندن سے اس رابطہ کمیٹی کی رونق بڑھانے کے لیے ندیم احسان، واسع جلیل اور مصطفی عزیز آبادی کے ناموں کو شامل کیا گیا ہے۔ان میں سے بیشتر نام وہ ہیں جنہیں خود ایم کیوایم کے اندر بھی زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ڈاکٹر حسن ظفر عارف کراچی میں کچھ زیادہ اچھی شہرت کے حامل نہیں۔ اُنہیں مرحوم ڈاکٹر عبدالوہاب نے اُن کی بعض سرگرمیوں پر آئی بی اے سے نکال باہر کیا تھا۔ وہ تعلیمی پس منظر میں بھی کچھ زیادہ خوشگوار تاریخ نہیں رکھتے۔ پریس کانفرنس میں بھی وہ اپنے کھلے گریبان کے ساتھ ایک ایسے انداز میں دکھائی دے رہے تھے کہ جیسے کوئی پہلوان اکھاڑے میں اُترتا ہے۔ ایم کیوایم لندن کی رابطہ کمیٹی میں تین ارکان تو وہ ہیں جو چند ماہ پہلے ہی ایم کیوایم میں شامل ہوئے تھے۔ حسن ظفر عارف ، ساتھی اسحاق اور مومن خان مومن کے ناموں پر بچی کھچی ایم کیوایم کے اُن خاموش لوگوں کے بھی تحفظات ہیں جو ابھی ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے اور بالواسطہ یا بلاواسطہ لندن رابطوں میں الطاف حسین سے اپنی وفاداریوں کا اظہار کرتے رہے۔ اس رابطہ کمیٹی کو عبوری رابطہ کمیٹی قرار دے کر خود لندن نے بھی اس پر کھلا اعتماد ظاہر نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ وفاداریاں بدلنے کا موسم ہے۔ اور کون کب کہاں پر ہوتا ہے، اس کے متعلق قطعی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ ایک انتہائی اہم ذریعے نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا کہ ایم کیوایم لندن میں وہ لوگ شامل ہوئے جو اپنی اہمیت اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں بڑھا کر اپنے مقام بنانے کی فکر میں غلطاں ہیں۔ اس سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ ایم کیوایم کسی بھی طرح اپنی اس پریس کانفرنس میں ایک بھی منتخب ایم این اے یا ایم پی اے کو شامل نہیں کرسکی۔ جس نے ایم کیوایم لندن کے کراچی میں رابطوں کی کمزوری کو پوری طرح بے نقاب کیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ کم ازکم حالیہ دنوں میں لندن سے ہونے والی اپیلوں کی کراچی میں کچھ زیادہ شنوائی نہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار کے نازک کردار اور ایم کیوایم پاکستان کے مستقبل کی جمع تفریق بھی ضروری ہے۔ یہ بات اب کوئی پوشیدہ نہیں رہی کہ 22؍ اگست کے بعد منظرعام پر آنے والی ایم کیوایم پاکستان پر کوئی بھی یہ اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا کہ وہ الطاف حسین کے کردار کو حقیقی طور پر جماعت سے خارج کرچکی ہے یا پھر وہ الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف تقریر کے بعد یہ سمجھ رہی تھی کہ ابھی الطاف حسین کے بغیر موجودہ جماعت کو سنبھالا جائے ، بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے پاکستان میں موجود رہنما الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر اور نعرے بازی کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تیور بھانپ چکے تھے۔ اور یہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ہوا کارخ کس طرف ہے؟اس کے باوجود وہ بار بار کے فوج کے بدلتے کردار کا تاریخی تجربہ رکھنے کے باعث یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ بدلے ہوئے ہوا کا رخ دوبارہ بھی بدل سکتا ہے۔ چنانچہ ایم کیوایم پاکستان نے انتہائی خاموشی سے لندن میں ایک خاموش رابطہ بھی رکھا ہوا تھا۔ جس کا اعتراف خود عامر خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ کر کیا کہ الطاف حسین کی 22؍ اگست کی تقریر اور ایم کیوایم پاکستان کے قیام کے باوجود وہ لندن قیادت سے چار دن تک مسلسل رابطے میں رہے۔ ا س کامطلب یہ ہوا کہ وہ الطاف حسین سے فاصلے کی ضرور ت پر خود الطاف حسین کو قائل کرنے میں کامیاب رہے تھے اور ایک حکمت عملی کے تحت اس بھاری پتھر کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ شاید اسی لیے الطاف حسین نے ابتدا میں کوئی بڑا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ اور کراچی میں ایم کیوایم کے حلقوں میں اسے ایک کھیل سمجھا جارہا تھا۔ اور اس سوچے سمجھے کھیل کی دلیل یہ دی جارہی تھی کہ عامر خان خاموش کیوں ہیں؟ وہ اس ضمن میں کوئی بات کیوں نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ عامر خان نے ابتدائی چند دنوں تک جو خاموشی اختیار کیے رکھی تھی ، وہ بلاوجہ تو نہیں تھی۔ ایم کیوایم پاکستان کو بھی یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا تھا کہ اب ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کی سیاست کے لیے کراچی میں گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں جنرل راحیل شریف کی میعاد کے اختتام کی خواہش پالنے والوں کو یہ یقین دلادیا گیا کہ پاک فوج کی سربراہی کوئی بھی کرے، جرنیل تبدیل ہوگا، پالیسی نہیں۔ ا س امر کا یقین ہونے کے بعد ایم کیوایم پاکستان کے اکثر رہنماؤں کو یہ شرح صدر ہونے لگا کہ اب الطاف حسین کے بغیر کم سے کم تقسیم میں اسی ایم کیوایم کے اندر سیاست کی راہ نکالنا ہی مفید ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اب ایم کیوایم پاکستان الطاف حسین کے بغیر ایک سیاسی راہ کی طرف چل پڑی ہے۔ جس میں ایک مستقل خطرہ خود الطاف حسین کی اپنی زبان میں اُن کے ’’متھا گھومنے‘‘ کا ہے۔ کیا وہ ایم کیوایم پاکستان کے تمام رہنماؤں کے حوالے سے اپنا متھا گھما چکے ہیں؟ یا وہ فی الحال جن کے ناموں کے اخراج کا اعلان کررہے ہیں، وہی اُن کے غیض وغضب اور سب وشتم کا نشانہ ہوں گے؟ ابھی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ مگر باخبر ذرائع تصدیق کررہے ہیں کہ الطاف حسین کی اعلان کردہ لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی اُن کی کمزور پچ ہے، الطاف حسین کی مضبوط پچ ’’کچھ اور ‘‘ہے۔ جہاں اگر اُن کا کچھ دم خم اگر باقی بچا ہے تو وہ اس کا اب استعما ل کریں گے۔ کیونکہ ہر گزرتا دن اُن پر ایم کیوایم کے کارکنان کا اعتبار کم کرتا جارہا ہے۔ اور ایم کیوایم پاکستان ہرگزرتے دن طاقت ور حلقوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہورہی ہے کہ وہ کھیل کو اپنے ہاتھ میں لینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتائج کچھ بھی برآمد ہو، عام لوگ کراچی کے امن کو اس کھیل سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ جسے عزیزآباد کے مکینوں نے اب تک سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ نے چین پر پابندیوں کے قانون پر دستخط کر دیے وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہانگ کانگ کی خود مختاری سے متعلق تنازعے میں چین کے خلاف پابندیوں کی منظوری کے قانون پر دستخط کر دیے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ اس اقدام کے بعد چین کو خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ میں عوام کے خلاف جابرانہ اقدامات کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ یہ امریکی قانون ایسے لوگوں اور اداروں کے خلاف کارروائی کی وجہ بنے گا، جو ہانگ کانگ کی آزادی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس قانون کے تحت امریکا میں ان پابندیوں سے متاثرہ افراد کی...

ٹرمپ نے چین پر پابندیوں کے قانون پر دستخط کر دیے

دوران حمل ماں سے بچے میں کورونا کی منتقلی کے پہلے کیس کی تصدیق وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

فرانس میں ڈاکٹروں نے ایسے پہلے کیس کو رپورٹ کیا ہے جس میں نومولود بچے میں کورونا وائرس پیدائش سے قبل ماں کے شکم سے منتقل ہوا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جریدے جرنل نیچر کمیونیکشن میں شائع تحقیق میں اس کیس کے بارے میں تفصیلات شائع کی گئیں۔اب تک ایسے ایسے شواہد محدود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہو کہ دوران حمل بھی کورونا وائرس سے متاثر ماں بچے میں اس بیماری کو منتقل کرسکتی ہے ،مگر انتونیو بیسلیرے ہسپتال سے تعلق رکھنے والے محققین نے تصدیق کی دوران حمل بھی ماں کے شکم میں موجود بچے میں کورو...

دوران حمل ماں سے بچے میں کورونا کی منتقلی کے پہلے کیس کی تصدیق

کورونا ویکسین انسانوں پر تجربے کے آخری مرحلے میں داخل وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

امریکی دوا ساز کمپنی موڈرنا نے کہاہے کہ ان کی تیارکردہ کورونا ویکسین 27 جولائی سے انسانوں پر تجربے کے آخری مراحل میں داخل ہو جائے گی۔ وہ اس ویکسین کو 30 ہزار افراد پر ٹیسٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس کورونا ویکیسن کے انسانوں پر تجربے کے متعلق معلومات کلینکل ٹرائلز نامی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہے سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ تجربات اکتوبر سنہ 2022 تک جاری رہے گے ۔امریکی دوا ساز ادارے موڈرنا کی جانب سے حالیہ اعلان نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں ایک تحقیق کے نتائ...

کورونا ویکسین انسانوں پر تجربے کے آخری مرحلے میں داخل

برطانیا میں کورونا خوف سے دس لاکھ افراد نے سگریٹ نوشی ترک کر دی وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

برطانیا میں سگریٹ نوشی اور صحت کے متعلق کام کرنے والے ایک فلاحی ادارے کے سروے نے کہاکہ کورونا کی وبا کے آغاز سے اب تک دس لاکھ سے زائد افراد نے سگریٹ نوشی ترک کر دی ہے ۔ان میں سے 41 فیصد افراد نے پہلے چار ماہ میں کورونا کی وبا کے خوف کے پیش نظر اس عادت کو ترک کیا۔جبکہ یونیورسٹی کالج لندن کے ایک الگ کیے جانے والے سروے کے مطابق سنہ 2007 سے لے کر اب تک کسی بھی برس کے دوران رواں برس جون میں سب سے زیادہ افراد نے سگریٹ نوشی کی عادت کو ترک کیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق حکومت نے متنبہ ...

برطانیا میں کورونا خوف سے دس لاکھ افراد نے سگریٹ نوشی ترک کر دی

سعودی عرب میں قطری چینل کا نشریاتی لائسنس منسوخ، ایک کروڑ ریال جرمانہ وجود - جمعرات 16 جولائی 2020

سعودی عرب نے قطر کے ملکیتی بی اِن اسپورٹس چینل کا مملکت میں نشریات کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کردیا ہے اور اس پراجارہ دارانہ طرزعمل اختیار کرنے پر ایک کروڑ ریال جرمانہ عائدکردیا ہے ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے مسابقت(جی اے سی) نے اس ضمن میں ایک بیان جاری کیا اورکہاکہ وہ بی ان اسپورٹس کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ قطری چینل نے 2016 میں یورپی فٹ بال چیمپیئن شپ کے میچوں کے خصوصی نشریاتی حقوق کا استحصالی انداز میں ناجائز استع...

سعودی عرب میں قطری چینل کا نشریاتی لائسنس منسوخ، ایک کروڑ ریال جرمانہ

شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، پاک فوج کے 4 جوان شہید،4دہشتگرد ہلاک وجود - پیر 13 جولائی 2020

خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 4 جوان شہید ہوگئے جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دئیے گئے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کے دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی اور سیکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں ٹھکانے میں موجود 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں سے کی فائرنگ...

شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن، پاک فوج کے 4 جوان شہید،4دہشتگرد ہلاک

اسٹیٹ بینک کے 15کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے وجود - پیر 13 جولائی 2020

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی پر 15 کمرشل بینکوں پر جرمانے عائد کر دیے گئے ۔ جرمانے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق بھی کیے گئے ۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 15 بینکوں پر قوانین کی خلاف ورزی پر 1 ارب 68 کروڑ روپے کے بھاری جرمانے کیے گئے ہیں ۔ ان بینکوں پر مارچ سے جون 2020 کے دوران جرمانے کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں پر جرمانے عوام کے سامنے لانے کا سلسلہ جولائی 2019 سے شروع کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے تمام پندرہ بینکوں کے ناموں کی...

اسٹیٹ بینک کے 15کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے

جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس دھرنے پر غور وجود - پیر 13 جولائی 2020

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اگر تین دن میں شہر میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحا ل بہتر نہیں ہوئی توگورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دھرنا اور پوری شاہراہ فیصل کو بھی بند کرسکتے ہیں،جماعت اسلامی نے ادارہ نورحق میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کردیا ہے ،بجلی کی قیمتوں میں 3روپے اضافے کا کراچی دشمن فیصلہ واپس لیا جائے ،گزشتہ 15سال کی نجکاری کا فارنزک آڈٹ کیا جائے ،کے الیکٹرک کا لائسنس فوراًمنسوخ کر کے اسے قومی تحویل میں لیا جائے اور تمام اسٹی...

جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس دھرنے پر غور

کراچی کے لیے پانی کا منصوبہ کے فورفیز ون تاخیر کا شکار وجود - پیر 13 جولائی 2020

شہر قائد کے لیے 260 ملین گیلن پانی کا منصوبہ کے فور فیز ون تاخیر کا شکار ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے کے فور منصوبے سے متعلق وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا، خط صوبائی سیکرٹری پلاننگ نے وفاقی سیکرٹری پلاننگ کو لکھا جس میں بتایا گیا ہے کہ کے فور منصوبہ خاص وجوہات اور ڈیزائن کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے ۔خط کے متن کے مطابق منصوبہ ساز کمپنی نیسپاک مسئلے کے حل کے لیے رابطے میں ہے ، سندھ حکومت نے کمپنی کو ڈیزائن کے ازسر نو جائزہ لینے کا کہا تھا۔سندھ حکومت نے موقف اختیار کیا کہ نیسپا...

کراچی کے لیے پانی کا منصوبہ کے فورفیز ون تاخیر کا شکار

واپسی نہ کرتے تو ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا،مریم نواز وجود - پیر 13 جولائی 2020

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہاہے کہ انتقام کو دیکھتے ہوئے بھی ہم اگر آج کے دن، دو سال پہلے واپسی کا کٹھن فیصلہ نہ کرتے تو آج ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا۔ نواز شریف کو سزا سنائے جانے کے بعد 13 جولائی 2018 کو وطن واپسی کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے مریم نواز نے کہاکہ جب میری والدہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھیں اور ووٹ اپنی عزت کی جنگ لڑرہاتھا عین اس وقت سزاسنانے کے پیچھے جو مقاصد تھے وہ آج سب پہ عیاں ہوچکے ہیں۔نہ قوم جان سکتی کہ کیسے بے گناہ نواشریف کو دباؤ...

واپسی نہ کرتے تو ایک جج اپنے جرم کا اعتراف نہ کرتا،مریم نواز

ایتھوپین ایئرلائن نے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تحقیقات شروع کردیں وجود - پیر 13 جولائی 2020

امریکا، یوکے اور یورپی یونین کے بعد ایتھوپین ائر لائن نے بھی 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے سول ایوی ایشن سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ذرائع کے مطابق پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کے معاملے پر ایتھوپین ائرلائن نے فضائی بیڑے میں شامل جہازوں کو آپریٹ کرنے والے 5 پاکستانی پائلٹس کی اسناد اور لائسنسز سے متعلق کوائف طلب کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ وضاحت ایتھوپین سفارت خانے نے وزارت خارجہ کے توسط سے بذریعہ فیکس طلب کی ہے۔ فیکس کے متن کے مطابق پاکستانی پائلٹوں کے مشتبہ لائسنسز ک...

ایتھوپین ایئرلائن نے 5 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس کی تحقیقات شروع کردیں

دوحہ معاہدے پر عملدر آمد ہونا بہت اہم ہے ، ترجمان افغان طالبان وجود - پیر 13 جولائی 2020

ترجمان افغان طالبان کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے پرعملدر آمداور بین الافغان مذاکرات کاشروع ہونا بہت اہم ہے ۔افغان طالبان نے کہا کہ اگرکوئی پہلے جنگ کاخاتمہ اور پھرمذاکرات چاہتاہے تو یہ غیر منطقی بات ہے ۔ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ جنگ اس لیے جاری ہے کیونکہ اسکے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی حل نہیں ہے ۔افغان طالبان نے کہا کہ غیرذمہ دارانہ بیانات اور الزامات مسئلے کوحل نہیں کرسکتے ۔ ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی اور بین الافغان مذاکرات ہی مسئلے کا منطقی حل ہیں۔

دوحہ معاہدے پر عملدر آمد ہونا بہت اہم ہے ، ترجمان افغان طالبان