وجود

... loading ...

وجود

متحدہ لندن کی کمزوررابطہ کمیٹی، الطاف حسین نیا کھیل کھیلنے کے لیے تیار

پیر 17 اکتوبر 2016 متحدہ لندن کی کمزوررابطہ کمیٹی، الطاف حسین نیا کھیل کھیلنے کے لیے تیار

* ایم کیوایم لندن کی پریس کانفرنس میں ایک بھی منتخب رکن اسمبلی شریک نہیں ہوا، زیادہ تر ناموں سے کارکنان بھی ناواقف
*ٌایم کیوایم پاکستان کے اکثر رہنما الطاف حسین کے بغیر اسی ایم کیوایم کے اندر سیاست کی راہ نکالنے کو زیادہ مفید سمجھتے ہیں
ffre-2-650x362ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین لندن میں منی لانڈرنگ مقدمے سے پراسرا ر نجات طور پر نجات حاصل کرچکے ہیں۔ جس کے بعد اب وہ کراچی میں ایک نئے کھیل کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔اگرچہ ایک نئی رابطہ کمیٹی کا اعلان ابھی بہت دھیمے انداز سے ہوا ہے۔ مگر یہ ایک آغاز ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خود ایم کیوایم پاکستان کاردِ عمل دیکھا جارہا ہے۔ یہی نہیں یہ خود ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کے لیے بھی کراچی کے اُن پانیوں کا اندازہ لگانے کا ایک موقع ہو گا جس میں یہ ابھی تک تیرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہرطرف سے خطرات میں گھرے ایم کیوایم پاکستان کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار تو الطاف حسین کو منہا کرکے ایک نئی ایم کیوایم کی کامیابی کے حوالے سے پرامید ہو چکے ہیں۔ مگر ایم کیوایم لندن کے حوالے سے یہ واضح نہیں کہ وہ اس کھیل میں کتنا آگے جا کر کھیلنے کو تیار ہے۔ ایم کیوایم لندن نے جو پتے نئی رابطہ کمیٹی کے نام پر کھیلے ہیں ، وہ اُس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔ایم کیوایم لندن کی رابطہ کمیٹی میں جن ناموں کا اعلان کیا گیا ہے اُن میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف، ساتھی اسحاق ،امجد اللہ خان، کنور خالد یونس، اشرف نور، اکرم راجپوٹ، اسماعیل ستارہ ، ادریس علوی اور مومن خان شامل کیے گئے ہیں۔جبکہ لندن سے اس رابطہ کمیٹی کی رونق بڑھانے کے لیے ندیم احسان، واسع جلیل اور مصطفی عزیز آبادی کے ناموں کو شامل کیا گیا ہے۔ان میں سے بیشتر نام وہ ہیں جنہیں خود ایم کیوایم کے اندر بھی زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ڈاکٹر حسن ظفر عارف کراچی میں کچھ زیادہ اچھی شہرت کے حامل نہیں۔ اُنہیں مرحوم ڈاکٹر عبدالوہاب نے اُن کی بعض سرگرمیوں پر آئی بی اے سے نکال باہر کیا تھا۔ وہ تعلیمی پس منظر میں بھی کچھ زیادہ خوشگوار تاریخ نہیں رکھتے۔ پریس کانفرنس میں بھی وہ اپنے کھلے گریبان کے ساتھ ایک ایسے انداز میں دکھائی دے رہے تھے کہ جیسے کوئی پہلوان اکھاڑے میں اُترتا ہے۔ ایم کیوایم لندن کی رابطہ کمیٹی میں تین ارکان تو وہ ہیں جو چند ماہ پہلے ہی ایم کیوایم میں شامل ہوئے تھے۔ حسن ظفر عارف ، ساتھی اسحاق اور مومن خان مومن کے ناموں پر بچی کھچی ایم کیوایم کے اُن خاموش لوگوں کے بھی تحفظات ہیں جو ابھی ایم کیوایم پاکستان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے اور بالواسطہ یا بلاواسطہ لندن رابطوں میں الطاف حسین سے اپنی وفاداریوں کا اظہار کرتے رہے۔ اس رابطہ کمیٹی کو عبوری رابطہ کمیٹی قرار دے کر خود لندن نے بھی اس پر کھلا اعتماد ظاہر نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ وفاداریاں بدلنے کا موسم ہے۔ اور کون کب کہاں پر ہوتا ہے، اس کے متعلق قطعی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ ایک انتہائی اہم ذریعے نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا کہ ایم کیوایم لندن میں وہ لوگ شامل ہوئے جو اپنی اہمیت اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں بڑھا کر اپنے مقام بنانے کی فکر میں غلطاں ہیں۔ اس سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ ایم کیوایم کسی بھی طرح اپنی اس پریس کانفرنس میں ایک بھی منتخب ایم این اے یا ایم پی اے کو شامل نہیں کرسکی۔ جس نے ایم کیوایم لندن کے کراچی میں رابطوں کی کمزوری کو پوری طرح بے نقاب کیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ کم ازکم حالیہ دنوں میں لندن سے ہونے والی اپیلوں کی کراچی میں کچھ زیادہ شنوائی نہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار کے نازک کردار اور ایم کیوایم پاکستان کے مستقبل کی جمع تفریق بھی ضروری ہے۔ یہ بات اب کوئی پوشیدہ نہیں رہی کہ 22؍ اگست کے بعد منظرعام پر آنے والی ایم کیوایم پاکستان پر کوئی بھی یہ اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا کہ وہ الطاف حسین کے کردار کو حقیقی طور پر جماعت سے خارج کرچکی ہے یا پھر وہ الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف تقریر کے بعد یہ سمجھ رہی تھی کہ ابھی الطاف حسین کے بغیر موجودہ جماعت کو سنبھالا جائے ، بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے پاکستان میں موجود رہنما الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر اور نعرے بازی کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تیور بھانپ چکے تھے۔ اور یہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ ہوا کارخ کس طرف ہے؟اس کے باوجود وہ بار بار کے فوج کے بدلتے کردار کا تاریخی تجربہ رکھنے کے باعث یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ بدلے ہوئے ہوا کا رخ دوبارہ بھی بدل سکتا ہے۔ چنانچہ ایم کیوایم پاکستان نے انتہائی خاموشی سے لندن میں ایک خاموش رابطہ بھی رکھا ہوا تھا۔ جس کا اعتراف خود عامر خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ کہہ کر کیا کہ الطاف حسین کی 22؍ اگست کی تقریر اور ایم کیوایم پاکستان کے قیام کے باوجود وہ لندن قیادت سے چار دن تک مسلسل رابطے میں رہے۔ ا س کامطلب یہ ہوا کہ وہ الطاف حسین سے فاصلے کی ضرور ت پر خود الطاف حسین کو قائل کرنے میں کامیاب رہے تھے اور ایک حکمت عملی کے تحت اس بھاری پتھر کو اُٹھائے ہوئے تھے۔ شاید اسی لیے الطاف حسین نے ابتدا میں کوئی بڑا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ اور کراچی میں ایم کیوایم کے حلقوں میں اسے ایک کھیل سمجھا جارہا تھا۔ اور اس سوچے سمجھے کھیل کی دلیل یہ دی جارہی تھی کہ عامر خان خاموش کیوں ہیں؟ وہ اس ضمن میں کوئی بات کیوں نہیں کرتے۔ ظاہر ہے کہ عامر خان نے ابتدائی چند دنوں تک جو خاموشی اختیار کیے رکھی تھی ، وہ بلاوجہ تو نہیں تھی۔ ایم کیوایم پاکستان کو بھی یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا تھا کہ اب ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کی سیاست کے لیے کراچی میں گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں جنرل راحیل شریف کی میعاد کے اختتام کی خواہش پالنے والوں کو یہ یقین دلادیا گیا کہ پاک فوج کی سربراہی کوئی بھی کرے، جرنیل تبدیل ہوگا، پالیسی نہیں۔ ا س امر کا یقین ہونے کے بعد ایم کیوایم پاکستان کے اکثر رہنماؤں کو یہ شرح صدر ہونے لگا کہ اب الطاف حسین کے بغیر کم سے کم تقسیم میں اسی ایم کیوایم کے اندر سیاست کی راہ نکالنا ہی مفید ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اب ایم کیوایم پاکستان الطاف حسین کے بغیر ایک سیاسی راہ کی طرف چل پڑی ہے۔ جس میں ایک مستقل خطرہ خود الطاف حسین کی اپنی زبان میں اُن کے ’’متھا گھومنے‘‘ کا ہے۔ کیا وہ ایم کیوایم پاکستان کے تمام رہنماؤں کے حوالے سے اپنا متھا گھما چکے ہیں؟ یا وہ فی الحال جن کے ناموں کے اخراج کا اعلان کررہے ہیں، وہی اُن کے غیض وغضب اور سب وشتم کا نشانہ ہوں گے؟ ابھی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ مگر باخبر ذرائع تصدیق کررہے ہیں کہ الطاف حسین کی اعلان کردہ لندن کی عبوری رابطہ کمیٹی اُن کی کمزور پچ ہے، الطاف حسین کی مضبوط پچ ’’کچھ اور ‘‘ہے۔ جہاں اگر اُن کا کچھ دم خم اگر باقی بچا ہے تو وہ اس کا اب استعما ل کریں گے۔ کیونکہ ہر گزرتا دن اُن پر ایم کیوایم کے کارکنان کا اعتبار کم کرتا جارہا ہے۔ اور ایم کیوایم پاکستان ہرگزرتے دن طاقت ور حلقوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہورہی ہے کہ وہ کھیل کو اپنے ہاتھ میں لینے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتائج کچھ بھی برآمد ہو، عام لوگ کراچی کے امن کو اس کھیل سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ جسے عزیزآباد کے مکینوں نے اب تک سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر