... loading ...
قرض کا حصول اوربانڈز، فنڈز اور بلز کا اجرا کسی بھی حکومت کی جانب سے جاریہ اخراجات کی تکمیل اور معیشت کو قابو میں رکھنے کے لیے زرمبادلے کے ذخائر کوایک خاص حد پر رکھنے کے لیے مالیاتی ترکیبیں ہوتی ہیں،موجودہ حکومت نے گزشتہ دنوں یہ اعلان کرکے کہ ملکی معیشت اتنی مستحکم ہوچکی اور ہمارے پاس زرمبادلہ کے اتنے وافر ذخائر ہیں کہ اب ہم آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیں گے ۔لیکن آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہنے کی خوشکن خبر سنانے کے ساتھ ہی حکومت نے سکوک بانڈز جاری کرکے قرض کے حصول کا ایک( آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضوںکے مقابلے میں )کہیں زیادہ مہنگا طریقہ اختیار کرلیا۔حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے سکوک بانڈز نہ صرف یہ کہ آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کیے جانے والے قرضوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہیں بلکہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت نے سکوک بانڈز ملک کے ایک قومی اثاثے یعنی موٹروے جسے نواز شریف اپنی حکومت کے عظیم کارنامے کے طورپر پیش کرتے ہیں ،کوگروی رکھ کر جاری کیے ہیں۔
سکوک بانڈز جاری کرنے کاسبب ملک کی برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی مسلسل کمی بتایاگیاہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد لاہور موٹروے جو کہ ایم۔2 کہلاتی ہے کے عوض بین الاقوامی منڈی سے زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے سکوک بانڈز کے اجرا کی منظوری دی گئی ۔اسلام آباد میں ستمبر کے آخر میں 4دن کے دوران اقتصادی کمیٹی کا یہ چوتھا اجلاس تھا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کوسکوک بانڈز کی مدت اور قیمت کا تعین کرنے کے بڑے بڑے فیصلے کرنے کامکمل اختیار دیاگیا۔ بین الاقوامی منڈی میں ان بانڈز کو پرکشش بنانے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فنانس ڈویژن کی جانب سے دی گئی اس تجویز کی بھی منظوری دیدی جس کے تحت ان بانڈز کو ہر طرح کی ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے مستثنیٰ کردیاگیاہے۔
مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت برسراقتدار آنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کیاتھا کہ ان کی حکومت قرض کاکشکول توڑ دے گی اورملک کو خودکفیل بنا کر اپنے پیروں پر کھڑا کردے گی،لیکن کشکول توڑنے کے بجائے اس حکومت نے قرضوں کے حصول کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں ۔اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 30جون 2016 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کا بوجھ 22 کھرب 459 ارب روپے تک پہنچ چکاتھا جبکہ اس سے ایک سال قبل یعنی 30 جون 2015 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کی مجموعی رقم 19 کھرب 846 ارب روپے تھی یعنی ایک سال کے دوران حکومت نے اس ملک پر قرضوں کے بوجھ میں 2 کھرب 61 ارب روپے کااضافہ کردیا۔ اس حکومت نے مارکیٹ میں سب سے اونچی شرح سود کے بانڈز جاری کیے ۔ اس حکومت نے ملکی بینکوں سےپورے نجی شعبے کی جانب سے لیے جانے والے مجموعی قرضوں سے بھی زیادہ قرض حاصل کیاہواہے۔ اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ ملکی اثاثے گروی رکھ کر حاصل کیے قرضوں کی رقم سے حکومت کی ان شاہ خرچیوں پر ہونے والے بھاری اور ناقابل برداشت اخراجات کا بوجھ عوام کیسے برداشت کریں گے ؟
اس بات کی وضاحت حکومت اور خاص طورپر ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہی بہتر طورپر کرسکتے ہیں کہ یہ کس طرح کی ترقی ہے جس میں عوام پر قرضوں کا بوجھ بڑھتاہی چلاجارہاہے،اور اس وقت جبکہ پوری دنیا میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں زبردست کمی کا رجحان ہے ہمارے ملک میں قیمتوں میں اضافے کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کا بنیادی سبب کیا ہے؟ کیاحکومت تعلیم ،صحت یا ماحولیات کے شعبوں پر زیادہ خرچ کررہی ہے؟کیا عوام کو بہتر اور اعلیٰ تعلیم کی بہت کم خرچ پر سہولتیں مہیا کرنے کاکوئی نظام وضع کیاگیاہے؟کیا سرمایہ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر کچھ خرچ کیاجارہاہے؟لیکن ایسا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس غیر ترقیاتی اخراجات میں بے محابہ اضافہ ہوتاجارہا ہے۔خاص طورپر صوابدیدی فنڈز کے استعمال کا سلسلہ دراز ہوگیاہے، غیر ملکی دوروں پر بڑی ٹیموں پربھاری اخراجات کیے جارہے ہیں، وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں کے لیے نہ صرف یہ کہ قومی ایئر لائن جس کی حالت پہلے ہی اتنی ناگفتہ بہ ہے ،کہ اس کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے رقم باقی نہیں بچی ہے ،اس کے طیاروں پر لاکھوں روپے خرچ کرکے تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ اور احباب زیادہ آرام کے ساتھ سفر کرسکیں اور عوام کی آنکھوں میں یہ دھول جھونکی جاسکے کہ وزیر اعظم پی آئی اے کی عام پرواز سے سفر کررہے ہیں۔بیرون ملک وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کی پرتعیش رہائش گاہوں کی موجودگی میں وزیر اعظم اور ان کے احباب کے قیام کا اہتمام مہنگے ترین ہوٹلوں میں کیاجاتاہے اور قومی خزانے سے بھاری کرائے ادا کیے جارہے ہیں۔حکومت کے ان اللّے تللّوں پر ہونے والے تمام اخراجات کا بوجھ اس ملک کے غریب او ر کم وسیلہ عوام پر بھاری ٹیکسوں ، پیٹرول ،ڈیزل اورگیس پر بھاری لیویز کی صورت میں لاد دیاجاتاہے۔
ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے اور کشکول توڑنے کا دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم کی جانب سے قومی خزانے کے بے دریغ استعمال کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ وزیر اعظم جب اپنے دل کی مبینہ تکلیف کاعلاج کرانے لندن گئے تو اسپتال سے فارغ کیے جانے کے بعد انھوںنے اپنی لندن کی قیام گاہ کو اپنا کیمپ آفس بنالیااور امور مملکت وحکومت وہیں سے انجام دینے کا فیصلہ کیا ، اس فیصلے کے تحت پاکستان میں ان کے عملے کے بیشتر ارکان کو لندن طلب کرلیاگیااور ان کے سفر اور قیام وطعام کے بھاری اخراجات بھی قومی خزانے سے ادا کیے گئے ۔وزیر اعظم جب وطن واپس آئے تو ان کے لیے پی آئی اے کے طیارے میں ردوبدل کرکے اس میں باقاعدہ بیڈ روم بنایاگیا تاکہ وزیر اعظم دوران سفر استراحت فرماسکیں اور ان کی فیملی اور عملے کے 27ارکان بھی سرکاری خرچ پر وطن واپس آئے،وزیر اعظم کے ذاتی حیثیت میں بھی سفر کو سرکاری سفر یعنی سرکاری غیر ملکی دوروںمیں تبدیل کردیاجاتاہے اوراس طرح ان کے اہل خانہ کی تفریح کاسامان پیدا کردیاجاتاہے۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے وزیر اعظم کے دورے پر کم وبیش 50کروڑ روپے خرچ کیے گئے،وزیر اعظم اپنے اس دورے میں اعلیٰ سرکاری افسران اوران کے اہل خانہ کے علاوہ من پسندکاسہ لیس صحافیوں کی ایک ٹیم کے علاوہ اپنی پوتی کو بھی اپنے ساتھ لے جانا نہیں بھولے تھے جسے انھوں نے جنرل اسمبلی میں بھی اپنے ساتھ وفد کے ارکان کی نشستوں پر بٹھایاہواتھا۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی صدر بارک اوباما کی اہلیہ مشال اوباما اسمبلی کی گیلری میں بیٹھ سکتی ہیں تو وزیر اعظم کی پوتی کو وہاں کیوں نہیں بٹھایاگیا۔
پاکستان میں وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی تمام ذاتی املاک کو کیمپ آفسوں کانام دے کر اس کے تمام اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے جارہے ہیں۔ایک اور المیہ یہ ہے کہ وزیراعظم اپنے تمام غیر ملکی دوروں میں لندن میں قیام کو ضروری سمجھتے ہیں اس طرح وہ سرکاری اخراجات پر اپنے ذاتی معاملات نمٹالیتے ہیں۔وزیر اعظم کی جانب سے سرکاری خزانے کے بے دریغ استعمال کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ نواز شریف نے جاتی امرا میں اپنی ذاتی قیام گاہ کی حفاظت کے نام پر کم وبیش ساڑھے 4کیلومیٹر طویل ایک دیوار تعمیر کرائی اور اس دیوار کی تعمیر کے نام پر قومی خزانے سے 70کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔جبکہ جاتی امرا میں نواز شریف کے خاندان کے 40افراد کی سیکورٹی کے لیے 2 ہزار 752 اہلکار تعینات کیے گئے ہیںیعنی ہر فرد کی سیکورٹی پر اوسطاً40 اہلکار تعینات ہیںجبکہ لاہور میں 555 افراد کی حفاظت کے لیے صرف ایک پولیس اہلکار کا اوسط بنتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران شریف فیملی کی سیکورٹی پر قومی خزانے سے8ارب 50کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔یہ تمام اخراجات خفیہ صوابدیدی فنڈ سے کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب خود نواز شریف کے شہر لاہور،دارالحکومت اسلام آباد اور ملتان کے 70 فیصد افراد پانی کے صاف پانی سے محروم ہیں اور آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں،اور ڈاکٹروں، اساتذہ اور کاشتکاروں کو اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرنے اور پولیس کی لاٹھیاں کھانے پر مجبور ہونا پڑ رہاہے۔
اس صورتحال سے ظاہرہوتاہے کہ ہمارے حکمراں غیر ملکی قرضوں پر منافع یاسود کی ادائیگی کے لیے ملک کے بینکوں اور دیگرمالیاتی اداروں اور ذرائع سے بھاری شرح سود پر قرض حاصل کررہے ہیں جبکہ غیر ممالک سے حاصل کیے جانے والے قرضو ں کی رقم کا بڑا حصہ حکمرانوں کی عیاشیوں پر ضائع کیا جارہاہے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...