وجود

... loading ...

وجود

قرضوں کے لیے ملکی اثاثے گروی 

جمعه 07 اکتوبر 2016 قرضوں کے لیے ملکی اثاثے گروی 

sukukقرض کا حصول اوربانڈز، فنڈز اور بلز کا اجرا کسی بھی حکومت کی جانب سے جاریہ اخراجات کی تکمیل اور معیشت کو قابو میں رکھنے کے لیے زرمبادلے کے ذخائر کوایک خاص حد پر رکھنے کے لیے مالیاتی ترکیبیں ہوتی ہیں،موجودہ حکومت نے گزشتہ دنوں یہ اعلان کرکے کہ ملکی معیشت اتنی مستحکم ہوچکی اور ہمارے پاس زرمبادلہ کے اتنے وافر ذخائر ہیں کہ اب ہم آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیں گے ۔لیکن آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہنے کی خوشکن خبر سنانے کے ساتھ ہی حکومت نے سکوک بانڈز جاری کرکے قرض کے حصول کا ایک( آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضوںکے مقابلے میں )کہیں زیادہ مہنگا طریقہ اختیار کرلیا۔حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے سکوک بانڈز نہ صرف یہ کہ آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کیے جانے والے قرضوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہیں بلکہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت نے سکوک بانڈز ملک کے ایک قومی اثاثے یعنی موٹروے جسے نواز شریف اپنی حکومت کے عظیم کارنامے کے طورپر پیش کرتے ہیں ،کوگروی رکھ کر جاری کیے ہیں۔
سکوک بانڈز جاری کرنے کاسبب ملک کی برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی مسلسل کمی بتایاگیاہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد لاہور موٹروے جو کہ ایم۔2 کہلاتی ہے کے عوض بین الاقوامی منڈی سے زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے سکوک بانڈز کے اجرا کی منظوری دی گئی ۔اسلام آباد میں ستمبر کے آخر میں 4دن کے دوران اقتصادی کمیٹی کا یہ چوتھا اجلاس تھا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کوسکوک بانڈز کی مدت اور قیمت کا تعین کرنے کے بڑے بڑے فیصلے کرنے کامکمل اختیار دیاگیا۔ بین الاقوامی منڈی میں ان بانڈز کو پرکشش بنانے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فنانس ڈویژن کی جانب سے دی گئی اس تجویز کی بھی منظوری دیدی جس کے تحت ان بانڈز کو ہر طرح کی ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے مستثنیٰ کردیاگیاہے۔
مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت برسراقتدار آنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کیاتھا کہ ان کی حکومت قرض کاکشکول توڑ دے گی اورملک کو خودکفیل بنا کر اپنے پیروں پر کھڑا کردے گی،لیکن کشکول توڑنے کے بجائے اس حکومت نے قرضوں کے حصول کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں ۔اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 30جون 2016 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کا بوجھ 22 کھرب 459 ارب روپے تک پہنچ چکاتھا جبکہ اس سے ایک سال قبل یعنی 30 جون 2015 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کی مجموعی رقم 19 کھرب 846 ارب روپے تھی یعنی ایک سال کے دوران حکومت نے اس ملک پر قرضوں کے بوجھ میں 2 کھرب 61 ارب روپے کااضافہ کردیا۔ اس حکومت نے مارکیٹ میں سب سے اونچی شرح سود کے بانڈز جاری کیے ۔ اس حکومت نے ملکی بینکوں سےپورے نجی شعبے کی جانب سے لیے جانے والے مجموعی قرضوں سے بھی زیادہ قرض حاصل کیاہواہے۔ اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ ملکی اثاثے گروی رکھ کر حاصل کیے قرضوں کی رقم سے حکومت کی ان شاہ خرچیوں پر ہونے والے بھاری اور ناقابل برداشت اخراجات کا بوجھ عوام کیسے برداشت کریں گے ؟
اس بات کی وضاحت حکومت اور خاص طورپر ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہی بہتر طورپر کرسکتے ہیں کہ یہ کس طرح کی ترقی ہے جس میں عوام پر قرضوں کا بوجھ بڑھتاہی چلاجارہاہے،اور اس وقت جبکہ پوری دنیا میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں زبردست کمی کا رجحان ہے ہمارے ملک میں قیمتوں میں اضافے کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کا بنیادی سبب کیا ہے؟ کیاحکومت تعلیم ،صحت یا ماحولیات کے شعبوں پر زیادہ خرچ کررہی ہے؟کیا عوام کو بہتر اور اعلیٰ تعلیم کی بہت کم خرچ پر سہولتیں مہیا کرنے کاکوئی نظام وضع کیاگیاہے؟کیا سرمایہ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر کچھ خرچ کیاجارہاہے؟لیکن ایسا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس غیر ترقیاتی اخراجات میں بے محابہ اضافہ ہوتاجارہا ہے۔خاص طورپر صوابدیدی فنڈز کے استعمال کا سلسلہ دراز ہوگیاہے، غیر ملکی دوروں پر بڑی ٹیموں پربھاری اخراجات کیے جارہے ہیں، وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں کے لیے نہ صرف یہ کہ قومی ایئر لائن جس کی حالت پہلے ہی اتنی ناگفتہ بہ ہے ،کہ اس کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے رقم باقی نہیں بچی ہے ،اس کے طیاروں پر لاکھوں روپے خرچ کرکے تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ اور احباب زیادہ آرام کے ساتھ سفر کرسکیں اور عوام کی آنکھوں میں یہ دھول جھونکی جاسکے کہ وزیر اعظم پی آئی اے کی عام پرواز سے سفر کررہے ہیں۔بیرون ملک وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کی پرتعیش رہائش گاہوں کی موجودگی میں وزیر اعظم اور ان کے احباب کے قیام کا اہتمام مہنگے ترین ہوٹلوں میں کیاجاتاہے اور قومی خزانے سے بھاری کرائے ادا کیے جارہے ہیں۔حکومت کے ان اللّے تللّوں پر ہونے والے تمام اخراجات کا بوجھ اس ملک کے غریب او ر کم وسیلہ عوام پر بھاری ٹیکسوں ، پیٹرول ،ڈیزل اورگیس پر بھاری لیویز کی صورت میں لاد دیاجاتاہے۔
ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے اور کشکول توڑنے کا دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم کی جانب سے قومی خزانے کے بے دریغ استعمال کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ وزیر اعظم جب اپنے دل کی مبینہ تکلیف کاعلاج کرانے لندن گئے تو اسپتال سے فارغ کیے جانے کے بعد انھوںنے اپنی لندن کی قیام گاہ کو اپنا کیمپ آفس بنالیااور امور مملکت وحکومت وہیں سے انجام دینے کا فیصلہ کیا ، اس فیصلے کے تحت پاکستان میں ان کے عملے کے بیشتر ارکان کو لندن طلب کرلیاگیااور ان کے سفر اور قیام وطعام کے بھاری اخراجات بھی قومی خزانے سے ادا کیے گئے ۔وزیر اعظم جب وطن واپس آئے تو ان کے لیے پی آئی اے کے طیارے میں ردوبدل کرکے اس میں باقاعدہ بیڈ روم بنایاگیا تاکہ وزیر اعظم دوران سفر استراحت فرماسکیں اور ان کی فیملی اور عملے کے 27ارکان بھی سرکاری خرچ پر وطن واپس آئے،وزیر اعظم کے ذاتی حیثیت میں بھی سفر کو سرکاری سفر یعنی سرکاری غیر ملکی دوروںمیں تبدیل کردیاجاتاہے اوراس طرح ان کے اہل خانہ کی تفریح کاسامان پیدا کردیاجاتاہے۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے وزیر اعظم کے دورے پر کم وبیش 50کروڑ روپے خرچ کیے گئے،وزیر اعظم اپنے اس دورے میں اعلیٰ سرکاری افسران اوران کے اہل خانہ کے علاوہ من پسندکاسہ لیس صحافیوں کی ایک ٹیم کے علاوہ اپنی پوتی کو بھی اپنے ساتھ لے جانا نہیں بھولے تھے جسے انھوں نے جنرل اسمبلی میں بھی اپنے ساتھ وفد کے ارکان کی نشستوں پر بٹھایاہواتھا۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی صدر بارک اوباما کی اہلیہ مشال اوباما اسمبلی کی گیلری میں بیٹھ سکتی ہیں تو وزیر اعظم کی پوتی کو وہاں کیوں نہیں بٹھایاگیا۔
پاکستان میں وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی تمام ذاتی املاک کو کیمپ آفسوں کانام دے کر اس کے تمام اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے جارہے ہیں۔ایک اور المیہ یہ ہے کہ وزیراعظم اپنے تمام غیر ملکی دوروں میں لندن میں قیام کو ضروری سمجھتے ہیں اس طرح وہ سرکاری اخراجات پر اپنے ذاتی معاملات نمٹالیتے ہیں۔وزیر اعظم کی جانب سے سرکاری خزانے کے بے دریغ استعمال کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ نواز شریف نے جاتی امرا میں اپنی ذاتی قیام گاہ کی حفاظت کے نام پر کم وبیش ساڑھے 4کیلومیٹر طویل ایک دیوار تعمیر کرائی اور اس دیوار کی تعمیر کے نام پر قومی خزانے سے 70کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔جبکہ جاتی امرا میں نواز شریف کے خاندان کے 40افراد کی سیکورٹی کے لیے 2 ہزار 752 اہلکار تعینات کیے گئے ہیںیعنی ہر فرد کی سیکورٹی پر اوسطاً40 اہلکار تعینات ہیںجبکہ لاہور میں 555 افراد کی حفاظت کے لیے صرف ایک پولیس اہلکار کا اوسط بنتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران شریف فیملی کی سیکورٹی پر قومی خزانے سے8ارب 50کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔یہ تمام اخراجات خفیہ صوابدیدی فنڈ سے کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب خود نواز شریف کے شہر لاہور،دارالحکومت اسلام آباد اور ملتان کے 70 فیصد افراد پانی کے صاف پانی سے محروم ہیں اور آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں،اور ڈاکٹروں، اساتذہ اور کاشتکاروں کو اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرنے اور پولیس کی لاٹھیاں کھانے پر مجبور ہونا پڑ رہاہے۔
اس صورتحال سے ظاہرہوتاہے کہ ہمارے حکمراں غیر ملکی قرضوں پر منافع یاسود کی ادائیگی کے لیے ملک کے بینکوں اور دیگرمالیاتی اداروں اور ذرائع سے بھاری شرح سود پر قرض حاصل کررہے ہیں جبکہ غیر ممالک سے حاصل کیے جانے والے قرضو ں کی رقم کا بڑا حصہ حکمرانوں کی عیاشیوں پر ضائع کیا جارہاہے۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر