وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

قرضوں کے لیے ملکی اثاثے گروی 

جمعه 07 اکتوبر 2016 قرضوں کے لیے ملکی اثاثے گروی 

sukukقرض کا حصول اوربانڈز، فنڈز اور بلز کا اجرا کسی بھی حکومت کی جانب سے جاریہ اخراجات کی تکمیل اور معیشت کو قابو میں رکھنے کے لیے زرمبادلے کے ذخائر کوایک خاص حد پر رکھنے کے لیے مالیاتی ترکیبیں ہوتی ہیں،موجودہ حکومت نے گزشتہ دنوں یہ اعلان کرکے کہ ملکی معیشت اتنی مستحکم ہوچکی اور ہمارے پاس زرمبادلہ کے اتنے وافر ذخائر ہیں کہ اب ہم آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیں گے ۔لیکن آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہنے کی خوشکن خبر سنانے کے ساتھ ہی حکومت نے سکوک بانڈز جاری کرکے قرض کے حصول کا ایک( آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضوںکے مقابلے میں )کہیں زیادہ مہنگا طریقہ اختیار کرلیا۔حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے سکوک بانڈز نہ صرف یہ کہ آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کیے جانے والے قرضوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہیں بلکہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت نے سکوک بانڈز ملک کے ایک قومی اثاثے یعنی موٹروے جسے نواز شریف اپنی حکومت کے عظیم کارنامے کے طورپر پیش کرتے ہیں ،کوگروی رکھ کر جاری کیے ہیں۔
سکوک بانڈز جاری کرنے کاسبب ملک کی برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی مسلسل کمی بتایاگیاہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد لاہور موٹروے جو کہ ایم۔2 کہلاتی ہے کے عوض بین الاقوامی منڈی سے زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے سکوک بانڈز کے اجرا کی منظوری دی گئی ۔اسلام آباد میں ستمبر کے آخر میں 4دن کے دوران اقتصادی کمیٹی کا یہ چوتھا اجلاس تھا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کوسکوک بانڈز کی مدت اور قیمت کا تعین کرنے کے بڑے بڑے فیصلے کرنے کامکمل اختیار دیاگیا۔ بین الاقوامی منڈی میں ان بانڈز کو پرکشش بنانے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فنانس ڈویژن کی جانب سے دی گئی اس تجویز کی بھی منظوری دیدی جس کے تحت ان بانڈز کو ہر طرح کی ڈیوٹی اور ٹیکسوں سے مستثنیٰ کردیاگیاہے۔
مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت برسراقتدار آنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کیاتھا کہ ان کی حکومت قرض کاکشکول توڑ دے گی اورملک کو خودکفیل بنا کر اپنے پیروں پر کھڑا کردے گی،لیکن کشکول توڑنے کے بجائے اس حکومت نے قرضوں کے حصول کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں ۔اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 30جون 2016 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کا بوجھ 22 کھرب 459 ارب روپے تک پہنچ چکاتھا جبکہ اس سے ایک سال قبل یعنی 30 جون 2015 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کی مجموعی رقم 19 کھرب 846 ارب روپے تھی یعنی ایک سال کے دوران حکومت نے اس ملک پر قرضوں کے بوجھ میں 2 کھرب 61 ارب روپے کااضافہ کردیا۔ اس حکومت نے مارکیٹ میں سب سے اونچی شرح سود کے بانڈز جاری کیے ۔ اس حکومت نے ملکی بینکوں سےپورے نجی شعبے کی جانب سے لیے جانے والے مجموعی قرضوں سے بھی زیادہ قرض حاصل کیاہواہے۔ اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ ملکی اثاثے گروی رکھ کر حاصل کیے قرضوں کی رقم سے حکومت کی ان شاہ خرچیوں پر ہونے والے بھاری اور ناقابل برداشت اخراجات کا بوجھ عوام کیسے برداشت کریں گے ؟
اس بات کی وضاحت حکومت اور خاص طورپر ہمارے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہی بہتر طورپر کرسکتے ہیں کہ یہ کس طرح کی ترقی ہے جس میں عوام پر قرضوں کا بوجھ بڑھتاہی چلاجارہاہے،اور اس وقت جبکہ پوری دنیا میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں زبردست کمی کا رجحان ہے ہمارے ملک میں قیمتوں میں اضافے کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول کا بنیادی سبب کیا ہے؟ کیاحکومت تعلیم ،صحت یا ماحولیات کے شعبوں پر زیادہ خرچ کررہی ہے؟کیا عوام کو بہتر اور اعلیٰ تعلیم کی بہت کم خرچ پر سہولتیں مہیا کرنے کاکوئی نظام وضع کیاگیاہے؟کیا سرمایہ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر کچھ خرچ کیاجارہاہے؟لیکن ایسا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس غیر ترقیاتی اخراجات میں بے محابہ اضافہ ہوتاجارہا ہے۔خاص طورپر صوابدیدی فنڈز کے استعمال کا سلسلہ دراز ہوگیاہے، غیر ملکی دوروں پر بڑی ٹیموں پربھاری اخراجات کیے جارہے ہیں، وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں کے لیے نہ صرف یہ کہ قومی ایئر لائن جس کی حالت پہلے ہی اتنی ناگفتہ بہ ہے ،کہ اس کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے رقم باقی نہیں بچی ہے ،اس کے طیاروں پر لاکھوں روپے خرچ کرکے تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ اور احباب زیادہ آرام کے ساتھ سفر کرسکیں اور عوام کی آنکھوں میں یہ دھول جھونکی جاسکے کہ وزیر اعظم پی آئی اے کی عام پرواز سے سفر کررہے ہیں۔بیرون ملک وزیر اعظم اور ان کے بیٹوں کی پرتعیش رہائش گاہوں کی موجودگی میں وزیر اعظم اور ان کے احباب کے قیام کا اہتمام مہنگے ترین ہوٹلوں میں کیاجاتاہے اور قومی خزانے سے بھاری کرائے ادا کیے جارہے ہیں۔حکومت کے ان اللّے تللّوں پر ہونے والے تمام اخراجات کا بوجھ اس ملک کے غریب او ر کم وسیلہ عوام پر بھاری ٹیکسوں ، پیٹرول ،ڈیزل اورگیس پر بھاری لیویز کی صورت میں لاد دیاجاتاہے۔
ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے اور کشکول توڑنے کا دعویٰ کرنے والے وزیر اعظم کی جانب سے قومی خزانے کے بے دریغ استعمال کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ وزیر اعظم جب اپنے دل کی مبینہ تکلیف کاعلاج کرانے لندن گئے تو اسپتال سے فارغ کیے جانے کے بعد انھوںنے اپنی لندن کی قیام گاہ کو اپنا کیمپ آفس بنالیااور امور مملکت وحکومت وہیں سے انجام دینے کا فیصلہ کیا ، اس فیصلے کے تحت پاکستان میں ان کے عملے کے بیشتر ارکان کو لندن طلب کرلیاگیااور ان کے سفر اور قیام وطعام کے بھاری اخراجات بھی قومی خزانے سے ادا کیے گئے ۔وزیر اعظم جب وطن واپس آئے تو ان کے لیے پی آئی اے کے طیارے میں ردوبدل کرکے اس میں باقاعدہ بیڈ روم بنایاگیا تاکہ وزیر اعظم دوران سفر استراحت فرماسکیں اور ان کی فیملی اور عملے کے 27ارکان بھی سرکاری خرچ پر وطن واپس آئے،وزیر اعظم کے ذاتی حیثیت میں بھی سفر کو سرکاری سفر یعنی سرکاری غیر ملکی دوروںمیں تبدیل کردیاجاتاہے اوراس طرح ان کے اہل خانہ کی تفریح کاسامان پیدا کردیاجاتاہے۔گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے وزیر اعظم کے دورے پر کم وبیش 50کروڑ روپے خرچ کیے گئے،وزیر اعظم اپنے اس دورے میں اعلیٰ سرکاری افسران اوران کے اہل خانہ کے علاوہ من پسندکاسہ لیس صحافیوں کی ایک ٹیم کے علاوہ اپنی پوتی کو بھی اپنے ساتھ لے جانا نہیں بھولے تھے جسے انھوں نے جنرل اسمبلی میں بھی اپنے ساتھ وفد کے ارکان کی نشستوں پر بٹھایاہواتھا۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی صدر بارک اوباما کی اہلیہ مشال اوباما اسمبلی کی گیلری میں بیٹھ سکتی ہیں تو وزیر اعظم کی پوتی کو وہاں کیوں نہیں بٹھایاگیا۔
پاکستان میں وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی تمام ذاتی املاک کو کیمپ آفسوں کانام دے کر اس کے تمام اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے جارہے ہیں۔ایک اور المیہ یہ ہے کہ وزیراعظم اپنے تمام غیر ملکی دوروں میں لندن میں قیام کو ضروری سمجھتے ہیں اس طرح وہ سرکاری اخراجات پر اپنے ذاتی معاملات نمٹالیتے ہیں۔وزیر اعظم کی جانب سے سرکاری خزانے کے بے دریغ استعمال کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ نواز شریف نے جاتی امرا میں اپنی ذاتی قیام گاہ کی حفاظت کے نام پر کم وبیش ساڑھے 4کیلومیٹر طویل ایک دیوار تعمیر کرائی اور اس دیوار کی تعمیر کے نام پر قومی خزانے سے 70کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔جبکہ جاتی امرا میں نواز شریف کے خاندان کے 40افراد کی سیکورٹی کے لیے 2 ہزار 752 اہلکار تعینات کیے گئے ہیںیعنی ہر فرد کی سیکورٹی پر اوسطاً40 اہلکار تعینات ہیںجبکہ لاہور میں 555 افراد کی حفاظت کے لیے صرف ایک پولیس اہلکار کا اوسط بنتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران شریف فیملی کی سیکورٹی پر قومی خزانے سے8ارب 50کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔یہ تمام اخراجات خفیہ صوابدیدی فنڈ سے کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب خود نواز شریف کے شہر لاہور،دارالحکومت اسلام آباد اور ملتان کے 70 فیصد افراد پانی کے صاف پانی سے محروم ہیں اور آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں،اور ڈاکٹروں، اساتذہ اور کاشتکاروں کو اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرنے اور پولیس کی لاٹھیاں کھانے پر مجبور ہونا پڑ رہاہے۔
اس صورتحال سے ظاہرہوتاہے کہ ہمارے حکمراں غیر ملکی قرضوں پر منافع یاسود کی ادائیگی کے لیے ملک کے بینکوں اور دیگرمالیاتی اداروں اور ذرائع سے بھاری شرح سود پر قرض حاصل کررہے ہیں جبکہ غیر ممالک سے حاصل کیے جانے والے قرضو ں کی رقم کا بڑا حصہ حکمرانوں کی عیاشیوں پر ضائع کیا جارہاہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

امریکا نے عالمی ادارہ صحت سے باضابطہ طورپر دست بردار ہونے کیلئے نوٹس سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کو پہنچا دیا جس کی تصدیق وائٹ ہاوس نے کردی ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ دست برداری کے لئے ایک سال پہلے نوٹس دیا جاتا ہے ۔ اس لئے امریکا 6 جولائی 2021 تک ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل میں الزام لگایا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کورونا وائرس کے پھیلاو سے متعلق بروقت اور شفاف معلومات دینے م...

امریکا نے ڈبلیو ایچ او سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے کا نوٹس جمع کرادیا

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

سعودی عرب کی مشرقی گورنری الاحسا کو مملکت میں پھلوں اور سبزیوں کی ٹوکری قرار دے دیاگیا۔عرب ٹی وی کے مطابق الاحسا کی زرعی پیداوار پورے ملک میں پسند کی جاتی ہے ۔ شدید گرمی کے باوجود الاحسا میں انواع واقسام کے پھل اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان میں زرد تربوزم سیاہ توت، کھجور، انجیر، سبز لیمن اور ان گنت سبزیاں کاشت کی جاتی اور پورے ملک میں سپلائی کی جاتی ہیں۔الاحسا گورنری میں کاشت کی جانے والی سبزیاں اور پھل اپنے اعلی معیار کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ مقامی بازاروں میں الاحسا میں ک...

سعوی عرب،الاحسا رنگا رنگ اور خوش ذائقہ پھلوں اور سبزیوں کا مرکزقرار

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

اقوام متحدہ کی تفتیش کار اگنس کالامارڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم سے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی شدید مذمت کی ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق کالا مارڈ نے کہا کہ گذشتہ جنوری میں عراق میں امریکی فوج کی کارروائی کے دوران ایرانی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور نو دیگر افراد کی ہلاکت ایک غیرقانونی اقدام اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔کالامارڈ نے مزید کہا کہ امریکا بغداد ہوائی اڈے سے نکلنے والے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قافلے پر حملے جواز پ...

اقوام متحدہ کی تفتیش کار کی ٹرمپ پر تنقید، قاسم سلیمانی کے قتل کی مذمت

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات وجود - جمعرات 09 جولائی 2020

ملائیشیا کی پولیس نے کہا ہے کہ وہ الجزیرہ نیوز چینل کے صحافیوں کو غیرقانونی تارکین وطن کی گرفتاری سے متعلق ایک دستاویزی فلم تیار کرنے کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کریں گے ۔ حکام نے الجزیرہ ٹی وی کی اس دستاویزی فلم کو ملائشیا کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا ہے ۔مہاتیر محمد کے وزارت عظمی کے عہدے سے استعفے کے بعد ملائیشیا اور قطر کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی ہے ۔خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ الجزیرہ کہ متنازع دستاویزی فلم غیر قانونی تارکین وطن کی کوالالمپور می...

مہاجرین کی گرفتاری کے تنازع پرملائیشیا کی الجزیرہ ٹی وی سے تحقیقات

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار