وجود

... loading ...

وجود

دنیا کے 90 فیصد افراد آلودہ فضا میں جینے پر مجبور

بدھ 05 اکتوبر 2016 دنیا کے 90 فیصد افراد آلودہ فضا میں جینے پر مجبور

pollution

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق دنیا میں ہر10میں سے9 افراد آلودہ فضا میں سانس لے رہے ہیں۔’دنیا کی 92 فیصد آبادی فضائی آلودگی سے متاثر‘ ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ آلودگی دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ ہے اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں صرف سنہ 2012 میں 70 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ ایک اور تحقیقی رپورٹ کے مطابق ہر سال کم وبیش 30 لاکھ اموات فضائی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے بقول دنیا کی 92 فیصد آبادی ایسے مقامات پر رہتی ہے جہاں کی فضا آلودہ ہے جس کے باعث لوگوں کو عارضہ قلب، کینسر اور پھیپھڑوں کا سرطان ہونے کا خطرہ ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں ہر تین میں سے دو اموات ان بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں اور غریب ممالک میں دن بہ دن صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جان لیوا فضائی آلودگی پاکستان میں ہر سال 59 ہزار سے زائد اموات کا باعث بن رہی ہے۔یہ انکشاف عالمی ادارہ صحت نے دنیا کے فضائی آلودگی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں کیا۔ عالمی ادارے کی فہرست میں فضائی آلودگی کے حوالے سے چین کو سب سے بدترین ملک قرار دیا گیا ہے جہاں ہر سال 10 لاکھ سے زائد اموات ہورہی ہیں۔چین کے بعد 6 لاکھ اموات کے ساتھ بھارت دوسرے، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار اموات کے ساتھ روس تیسرے نمبر پر ہے۔184 ممالک کی فہرست میں پاکستان فضائی آلودگی کے حوالے سے چوتھا بدترین ملک قرار دیا گیا ہے جہاں اس کے نتیجے میں ہر سال 59 ہزار 241 ہلاکتیں ہورہی ہیں۔مجموعی طور پر ایک لاکھ پاکستانیوں میں سے 33 افراد فضائی آلودگی کے نتیجے میں ہلاک ہورہے ہیں۔عالمی ادارہ اس سے قبل یہ انتباہ جاری کرچکا ہے کہ گاڑیوں، پاور پلانٹس اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والا زہریلا مواد ہر سال دنیا بھر میں 30 لاکھ سے زائد اموات کا باعث بنتا ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ملکوں کے لحاظ سے درجہ بندی کی ہے۔پاکستان کے بعد یوکرائن اس حوالے سے پانچویں نمبر پر ہے۔عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ممالک کو بہتر ڈیٹا کے باعث اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ ان کے کتنے زیادہ شہری فضائی آلودگی کے نتیجے میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔اس کے مطابق عالمی سطح پر فضائی آلودگی عوامی صحت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور اس کی سطح میں کمی لاکر بڑی تعداد میں زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے۔

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو حاملہ خواتین آلودہ فضا میں رہتی ہیں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے دوسرے بچوں کی نسبت کم وزن ہوتے ہیں۔’انوائرمنٹل ہیلتھ پرسپیکٹیو‘ نامی ادارے نے یہ نتائج نو ممالک میں تیس لاکھ سے زائد نوزائیدہ بچوں کے جائزے کے بعد اخذ کیے ہیں۔تحقیق سے پتا چلا کہ جن بچوں کا جنم آلودہ فضا والے علاقوں میں ہوا ہے، پیدائش کے وقت ان کا وزن اوسط سے کم تھا۔محققین کا کہنا ہے کہ پیدا ہونے والے بچے پر فضائی آلودگی کا اثر کم ہی دیکھا گیا ہے اس لیے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔تاہم ان کے مطابق پیدائش کے وقت جن بچوں کا وزن کم ہوتا ہے انہیں مستقبل میں صحت سے متعلق مسائل کا سامنا رہتا ہے جیسا کہ انہیں ذیابیطس اور دل کی بیماری ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔اس تحقیقی ٹیم کے رکن اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو کے پروفیسر ٹریسی وڈروف کا کہنا ہے ’اہم بات یہ ہے کہ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فضائی آلودگی کا عام طور پر اثر دنیا کے ہر انسان پر پڑتا ہے‘۔

لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے پروفیسر ٹونی فلیچر نے کہا کہ ’اس تحقیق کی دریافت واضح ہے۔ حالانکہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فضائی آلودگی کا ہر بچے پر برابر اثر نہیں ہوتا ہے اس لیے والدین کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ادھر برطانیہ میں ماحولیات سے متعلق محکمے کا کہنا ہے کہ اگرچہ برطانیہ میں فضائی آلودگی کم ہے لیکن ابھی برطانیہ کے شہروں میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ فضائی آلودگی سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جاسکے۔

عالمی ادارہ صحت نے فضائی آلودگی کو دنیا میں صحتِ عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق گھروں کے اندر ایندھن جلانے سے اندر کی فضا بھی آلودہ ہوتی ہے اور دنیا بھر میں ہر نو اموات میں سے ایک کی وجہ فضائی آلودگی ہوتی ہے۔ان ہلاکتوں میں سے بیشتر جنوبی اور مشرقی ایشیا کے غریب اور متوسط درجے کے ممالک میں ہوئیں اور نصف سے زیادہ اموات لکڑی اور کوئلے کے چولہوں سے اٹھنے والے دھوئیں کی وجہ سے ہوئیں۔تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ مکانات کے اندر کھانا پکانے کے عمل کے دوران اٹھنے والے دھویں سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر صرف کھانا پکانے کے لیے محفوظ چولہے ہی فراہم کر دیے جائیں تو دنیا میں لاکھوں افراد کی جانیں بچ سکتی ہیں۔دنیا میں 2012 میں 43 لاکھ اموات گھروں کے اندر کی فضا کی آلودگی خصوصاً ایشیا میں لکڑیاں جلا کر یا کوئلوں پر کھانا پکانے کے دوران اٹھنے والے دھویں کی وجہ سے ہوئیں جبکہ بیرونی فضا میں آلودگی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 37 لاکھ کے لگ بھگ رہی جن میں سے 90 فیصد کے قریب ترقی پذیر ممالک میں تھے۔

سال دو ہزار بارہ کے دوران ماحول میں موجود ان گیسوں کی سطح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جو گلوبل وارمنگ یعنی عالمی حدت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ورلڈ میٹریولوجیکل آرگنائزیشن یعنی ڈبلیو ایم او کے مطابق فضا میں سی او ٹو (CO2) کی سطح میں گزشتہ ایک دہائی کی عمومی شرح کے مقابلے میں سنہ دو ہزار بارہ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔

فضا میں موجود میتھین گیس اور نائیٹرس آکسائیڈ نے بھی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ان دیگر گیسوں کی وجہ سے ہمارا موسمیاتی نظام انیس سو نوے کے بعد سے ایک تہائی تک تبدیل ہوا ہے۔ڈبلیو ایم او کی سالانہ رپورٹ میں صرف فضائی آلودگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس جائزے میں زمین پر موجود تابکاری کے اثرات شامل نہیں۔کاربن ڈائی آکسائیڈ سب سے اہم گیس ہے جس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انسانوں کی سرگرمیوں کے باعث خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا نصف حصہ فضا میں باقی رہتا ہے جبکہ باقی پودے، درخت، زمین اور سمندر جذب کر لیتے ہیں۔1750ء سے اب تک سی او ٹو کی عمومی شرح میں ایک سو اکتالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ڈبلیو ایم او کے مطابق سنہ دو ہزار بارہ میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح تین سو ترانوے اعشاریہ ایک پی پی ایم تھی جو سنہ دو ہزار گیارہ کے مقابلے دو اعشاریہ دو پی پی ایم زیادہ ہے۔

فضا میں میتھین گیس کی سطح میں بھی اضافہ ہوا ہے جو سنہ دو ہزار بارہ میں ایک ہزار آٹھ سو انیس پی پی بی رہی۔ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ میتھین میں اضافے کی وجہ کیا ہے۔ آیا یہ انسانوں کی سرگرمیوں جیسے کہ مویشی پالنا، کوڑا کرکٹ جلانا ہے یا قدرتی عناصر جیسے دلدلی علاقے وغیرہ۔ان کا خیال ہے کہ گیس کا زیادہ اخراج منطقہ حارہ اور شمالی وسطی کرہ سے ہوا ہے۔فضا میں نائیٹرس آکسائیڈ کے اخراج میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، دو ہزار بارہ میں یہ سطح تین سو پچیس اعشاریہ ایک پی پی بی ریکارڈ کیا گیا جو صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں ایک سو بیس فیصد زیادہ ہے۔نائیٹرس آکسائیڈ گیس کے مجتمع ہونے کی سطح اگرچہ سی او ٹو کے مقابلے میں بہت کم ہے لیکن یہ دو سو اٹھانوے گنا زیادہ حدت پیدا کرتی ہے۔ اور یہ اوزون لیئر کی تباہی میں بھی کردار اد کر رہی ہے۔

حالیہ تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ گیسوں کے اخراج میں شاید کچھ کمی آئے لیکن ان کے مجتمع ہونے کا عمل جاری ہے اور یہ ماحول پر اپنا اثر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں سال تک تو چھوڑیں گی۔

ایک تحقیق کے مطابق فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج اس قدر زیادہ ہے کہ ماحولیات کی تبدیلی کو روکا نہیں جا سکتا اور یہ مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔سائنس کے عالمی جریدے ’نیچر کلائمٹ چینج‘ میں شائع شدہ تحقیق کے نتائج کے مطابق عالمی درجہ حرارت کو صنعتی انقلاب کے زمانے سے قبل کی سطح کے قریب رکھنا اب ناممکن ہے۔اس تحقیق میں شامل کیے گئے اعدادو شمار کے مطابق سنہ دوہزار بارہ میں عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج پینتیس اعشاریہ چھ ارب ٹن تھا جو کہ دوہزارگیارہ سے دو اعشاریہ چھ فی صد زیادہ ہے۔ اگر ان اعدادوشمار کا موازنہ انیس سو نوے کی سطح سے کیا جائے تو یہ اضافہ اٹھاون فی صد زیادہ ہے۔اس تحقیق سے متعلقہ اعدادوشمار سائنس کے ایک اور جریدے ’ارتھ سسٹم سائنس ڈیٹا ڈسکشن‘ میں شائع کیے گئے ہیں۔

دوحہ میں اقوام متحدہ کی کانفرنس میں کئی چھوٹے ممالک نے کہا ہے کہ دو سینٹی گریڈ اضافے سے کم سطح پر بھی کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج ہمارے مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی میں موسمیات کی تبدیلی پر تحقیق کرنے والے شعبے ٹنڈال سنٹر کی ڈائریکٹر کورن لے کیوری نے کہا ہے کہ ’دوحہ میں کانفرنس کے بعد بھی ان اعدادوشمار کا اجرا اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج میں مستقل اضافہ ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کوئی بھی سائنسدانوں کی بات نہیں سن رہا۔‘

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بیرونی فضائی آلودگی چین اور بھارت جیسے ممالک کے لیے بڑا مسئلہ ہے جہاں تیزی سے صنعت کاری ہو رہی ہے۔کنگز کالج لندن کے ماحولیاتی تحقیقاتی گروپ کے ڈائریکٹر فرینک کیلی کا کہنا ہے کہ ’ہم سب کو سانس لینا ہوتا ہے اس لیے ہم اس آلودگی سے بچ نہیں سکتے۔‘ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے سانس کے ساتھ ہمارے پھیپھڑوں میں ایسے ننھے ننھے ذرات چلے جاتے ہیں جو بیماری کا باعث بنتے ہیں۔ سائنسدانوں کے خیال میں فضائی آلودگی دل کی سوجن کی وجہ بھی بنتی ہے جس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کے فضائی آلودگی سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ اس کے مہلک ترین اجزا کی نشاندہی کی جائے۔

امپیریئل کالج لندن کے ماجد عزتی کا کہنا ہے کہ ’ہم نہیں جانتے کہ صحارا کے صحرا کی گَرد اتنی ہی خطرناک ہے جتنا کہ ایندھن یا کوئلے کا دھواں۔فرینک کیلی کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے چہرہ ڈھانپنے والے ماسک یا نقاب کا بھی دیرپا فائدہ نہیں۔ ’اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماسک پہن کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم آلودہ فضا میں سانس لینے کے لیے تیار ہیں جبکہ ہمیں آلودگی ختم کرنے کے لیے اپنے طرزِ زندگی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

ترکمانستان وہ ملک ہے جہاں فضائی آلودگی کے باعث ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ایسے پہلے پانچ ممالک میں تاجکستان، ازبکستان، افغانستان اور مصر بھی شامل ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے وابستہ ڈاکٹر کارلس ڈورا کاکہناہے کہ ’مجموعی صورتحال یہ ہے کہ امیر ممالک میں فضا کو صاف کرنے میں کافی بہتری آ رہی ہے جبکہ غریب ممالک میں حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔‘ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ذرائع نقل وحمل اور کچرے کی آلودگی اور دوبارہ قابلِ استعمال توانائی کے استعمال سے فضائی آلودگی کم کی جا سکتی ہے۔

ایک اطلاع کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جس سے گلی، محلے سے لے کر آپ کے گھر تک میں آلودگی کی آسانی سے پیمائش ہو سکے گی۔اس سافٹ ویئر کی مکمل تفصیلات ماحولیاتی سائنس اور ٹیکنالوجی نامی مجلّے میں چھپی ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ اس سافٹ ویئر کی مدد سے اس علاقے کی تلاش آسان ہو جائے گی جہاں سے سب سے زیادہ کاربن گیس کا اخراج ہو رہا ہوگا۔ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس نظام کو ہیسٹ کا‘ کا نام دیا ہے۔ یوں ملکی سطح پر آلودگی کا ڈیٹا تیار ہو سکتا ہے جس سے متعلقہ علاقے میں آلودگی کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں گے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان بڑے شہروں کے لیے یہ نظام خاص طور پر کارآمد ہے جو آلودگی کے مسئلے سے متاثر ہیں اور اس پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ یہ سسٹم نہ صرف اخراج کا پتہ چلا کر پیمائش کرے گا بلکہ اس کے اثرات کے بارے میں بھی آگاہی دے گا۔


متعلقہ خبریں


پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر