... loading ...

جاپان کے کوبے ایئر پورٹ کے افتتاح کو کم وبیش7 سال ہوگئے ہیں ۔اب اس ایئر پورٹ کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ یہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی جہاز اتر یا پرواز کررہا ہوتا ہے ، جبکہ متعدد طیاروں کو پرواز کے لیے باقاعدہ قطار لگا کر انتظار کرنا پڑتا ہے ۔جاپان کی شہری ہوابازی کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 3 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے گئے کوبے ایئر پورٹ پر پہلے ہی ہفتے سے یہ عالم تھا کہ اس ایئر پورٹ پر پرواز کے لیے تیار طیاروں کو اجازت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ قطار میں کھڑا ہونا پڑ اتھااور یہی نہیں بلکہ ایئر پورٹ پر اترنے والی پروازوں کی بحفاظت لینڈنگ کو یقینی بنانے کی غرض سے پرواز کے لیے تیار طیاروں کو ایک دائرے کی شکل میں کھڑا کردیا گیا تھا تاکہ ہوائی اڈے پر طیارے کے اترنے کے لیے وافر جگہ مل سکے اور اترنے کے دوران اس طیارے کی ایئر پورٹ پر کھڑے ہوئے کسی طیارے سے ٹکر نہ ہوجائے ۔
جاپان میں کوبے کا نیا ایئر پورٹ صرف 25 میل کے فاصلے پر اپنی نوعیت کا تیسرا بڑا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے ۔جاپان کے شہر اوساکا میں آسمان پر نظر ڈالی جائے تو آسمان پر لاتعداد طیارے نظر آئیں گے جن میں کچھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوں گے اور کچھ ایئر پورٹ پر اترنے یعنی لینڈنگ کے لئے سگنل کے منتظر ہوں گے ۔جاپان میں ہوائی اڈوں اور ان ہوائی اڈوں پر اترنے اور پرواز کرنے والے طیاروں کی اس بہتات کی وجہ سے شہری ہوابازی کے عالمی ماہرین اب جاپان سے گزرنے سے احتراز کرنے کامشورہ دیتے ہیں ،کیونکہ ان کے خیال میں اب جاپان میں طیاروں کی لینڈنگ اور پرواز دونوں ہی غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔یہی نہیں اب خود جاپانی حکام بھی یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ جاپان کتنے ہوائی اڈوں کی دیکھ بھال مناسب انداز میں کرسکے گا ؟
فی الوقت جاپان میں 97 ہوائی اڈے ایسے ہیں جہاں بڑے طیارے آسانی سے اترسکتے ہیں اور پرواز کرسکتے ہیں ۔جاپان میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران مندی کے رجحان کے باجودبڑی تعداد میں نئے ہوائی اڈے تعمیر کرائے گئے ہیں اور گزشتہ ایک عشرے کے دوران جتنے ہوائی اڈوں کا افتتاح کیا گیا ہے دنیا میں اس کی مثال کم ہی ملے گی۔اس عشرے کے دوران جاپان کی بلدیہ اور دیگر اداروں کے سربراہ مستقل طور پر ہوائی اڈوں کے افتتاح کے لئے فیتے کاٹتے رہے ہیں ۔جاپان میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران جن ہوائی اڈوں کا اضافہ ہوا ہے ان کی تعمیر کا منصوبہ ایک عشرہ قبل بنایا گیا تھایہ وہ زمانے تھا جب جاپانی کی معیشت عروج پر تھی ،اس طرح جاپان میں ہوائی اڈوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ۔ لیکن اس ضمن میں سب سے اہم اور خاص بات یہ ہے کہ جاپان میں ہوائی اڈوں اور فضائی ٹریفک میں نمایاں اضافے کے باوجود جاپانی عوام کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا ۔جاپان کے 12 کروڑ 60 لاکھ باشندے تیزی سے سفر کرتے رہنے کے عادی ہیں ،لیکن ہوائی اڈوں کی بہتات اور ان ہوائی اڈوں کی وجہ سے مختلف مقامات پر آمدورفت کرنے والے مسافروں کی تعداد میں نمایاں اضافے کے باوجود جاپان کے عوام کوان سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔اور جاپان میں اب بھی سفر کرنا بہت ہی مہنگا ہے جاپان میں سفر کرنے کے لئے وافر رقم کی ضرورت ہوتی ہے ۔جاپان میں کم کرائے والی کوئی ایئر لائن نہیں ہے اور کوئی ایسی ایئر لائن ان کے پاس ایسی نہیں ہے جو جاپان کی سرکاری جاپان اور آل نپن ایئر ویز کا مقابلہ کرسکے ،جاپان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں بڑی تعداد میں ایئر پورٹس کی تعمیر کا مقصد جاپان کے عوام کو سہولت بہم پہنچانا نہیں تھابلکہ اس کا مقصد مقامی سیاستدانوں کی خواہش پوری کرنا تھا جو کہ جاپان کے صحافیوں کے مطابق اپنے گھر کے پچھواڑے بھی ایک ہوائی اڈہ بنوانے کے خواہاں نظر آتے ہیں ۔جاپان میں فضائی کرایہ بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے جاپان میں لوگ ریل سے سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔کیونکہ جاپان میں ریلوے کا نظام بہت ہی شاندار اور منظم ہے ،جاپان میں ریل کے ذریعے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بین الاقوامی سفر بھی ممکن ہے ۔جس کی وجہ سے اب جاپان کی شہری ہوابازی کا شعبہ شدید مالی مشکلات کا شکار رہتا ہے ۔
انٹر نیشنل ایئرٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے ترجمان انتھونی کاکہنا ہے کہ جاپان کے سیاستداں ہر اچھی چیز کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ ایسے خیالات کو وہ ہائی جیک کرلیتے ہیں ،جاپان کی انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی کونسل کو فضائی ٹرانسپورٹ کے بارے میں 17 سالہ تجربہ ہے اس کونسل کاکہنا ہے کہ اب جاپان کی ضرورت نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر نہیں بلکہ ناریتا ایئر پورٹ کی گنجائش میں اضافہ کرنا اور اس ہوائی اڈے کو بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ ناریتا ایئر پورٹ پر بآسانی پہنچنے کے ذرائع کو ترقی دینا ہے تاکہ جاپان کا یہ 22 سالہ قدیم ایئر پورٹ اپنی سابقہ ساکھ قائم رکھ سکے کیونکہ فی الوقت یہ ہوائی اڈہ ٹوکیو کی 3 کروڑ کی آبادعی کی ضرورت پوری کررہا ہے ، اس ہوائی اڈے کی حالت بہت ہی دگرگوں ہے اور اگر اس پر توجہ نہیں دی گئی تو یہ ہوائی اڈہ اپنا وجود کھو بیٹھے گا۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ اس وقت بھی ناریتا ایئر پورٹ کوئی خاموش یا بیکار ہوائی اڈہ نہیں ہے بلکہ اس ہوائی اڈے پر بھی اترنے اور پرواز کرنے والے طیاروں کی قطار لگی رہتی ہیں۔ناریتا ایئر پورٹ پر گنجائش کی بھی کمی محسوس کی جارہی ہے لیکن ناریتا ایئر پورٹ پر گنجائش کی کمی کو جواز بناکر کوئی نیا ایئر پورٹ تعمیر کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ناریتا ایئرپورٹ کی گنجائش میں اضافہ کرکے اسے زیادہ جدید آلات سے آراستہ کرنا ہے ۔
ایک طرف ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ جاپان کو اب نئے ایئر پورٹس کی ضرورت نہیں ہے ،لیکن دولت کی ریل پیل کی وجہ سے علاقائی سطح پر ایئر پورٹ کی تعمیر کی ترغیب ملتی ہے اس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ ٹوکیو اور اوساکا کے درمیان واقع شہر نگویا کوبھی گزشتہ سال اپنا ایئر پورٹ مل گیا اور نیا کوبے ایئر پورٹ بھی اب نیا نہیں رہا کیونکہ اس سال مارچ میں کیٹاکی یوشا میں ایک نئے ایئر پورٹ کا افتتاح کیا گیا ہے ۔جبکہ شی زواکو میں بھی ایک ہوائی اڈہ زیر تعمیر جو عنقریب مکمل ہوجائے گا۔
جاپان کے کوبے ایئر پورٹ کی تعمیر کاایک سبب یہ ہے کہ کوبے سے ٹوکیو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرنا ممکن ہوگیا ہے ،اور یہ سفر جاپان کی بلٹ ٹرین کے مقابلے میں زیادہ کم قیمت اور دھوئیں سے پاک ہوتا ہے ۔نئے نگویا ایئر پورٹ کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس ہوائی اڈے سے سفر کرنے والے طیارے کے انتظار کے دوران اگر کوئی پسند آگیا تو ایئر پورٹ پر ہی موجود گرجا گھر میں ہمیشہ کے لئے شادی کے بندھن میں بندھ سکتے ہیں ۔ہوائی اڈوں کے ناقدین کاکہنا ہے کہ جاپان کو اس وقت طیاروں اور ٹرینوں کے درمیان مقابلے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یکجہتی کی ضرورت ہے تاکہ یہاں مسافروں کی بھیڑ جمع ہوسکے اور انھیں یہاں سے چھوٹے بڑے دیگر شہروں میں پہنچایا جاسکے
اس ضمن میں ایک خوش کن بات یہ ہے کہ جاپان کی حکومت نے اعلان کردیا ہے کہ شی زواکو میں زیر تعمیر ہوائی اڈہ جاپان کے چھوٹے شہروں کا آخری ہوائی اڈہ ہوگا اس کے بعد اب جاپان کے چھوٹے شہروں میں کوئی نیا ہوائی اڈہ تعمیر نہیں کیا جائے گا۔جاپان کے وزیر اعظم جونیچی رو کوزومی نے بھی نئے ایئر پورٹس کی تعمیر روکنے کی تائید کی ہے اور نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر کو عوام کی دولت کا زیاں قرار دیا ہے ۔لیکن جاپان کے ماہرین کاکہنا ہے کہ جاپان کے سیاستداں حکومت کی اس پابندی کو زیادہ دنوں تک خاطر میں نہیں لائیں گے اور کسی نہ کسی بہانے نئے ایئر پورٹس کی تعمیر شروع کرادی جائے گی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جاپان کی حکومت نئے ایئر پورٹس کی تعمیر روکنے میں کس حد کامیاب ہوتی ہے اور اس پابندی پر عمل سے جاپان کوکتنا فائدہ پہنچتا ہے ۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...