... loading ...

ابھی پاناما لیکس کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھا بھی نہ تھا کہ ’’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘‘ (آئی سی آئی جے) نے اس اسکینڈل کی اگلی قسط چھاپ دی، جس میں دنیا بھر کی ایسی شخصیات کے ناموں کے انکشاف کیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے ملک میں عائد ٹیکسوں سے بچنے کے لیے جزائر بہاماس میں آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔ ان شخصیات میں 150 سے زائد پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں جبکہ 70 سے زائد پاکستانی آف شور کمپنیوں کے وہاں رجسٹرڈ ہونے کا پتہ چلا ہے۔
بہاماس، ریاست ہائے متحدہ امریکا کے جنوب میں واقع 700 چھوٹے بڑے جزائر کا مجموعہ ہے، جن میں سے متعدد جزائر کا رقبہ ایک مربع میل سے بھی کم ہے۔ اس آزاد ریاست کو اس کے صاف وشفاف نیلگوں پانیوں اور سفید ریتیلے ساحلوں کے سبب سیاحوں کی جنت سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ انکشافات سے یہ بھی پتہ چلا کہ یہ ریاست صرف سیاحوں کی ہی نہیں بلکہ ٹیکس چوروں کے لیے بھی ’’جنت ارضی‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس ریاست کے رازدارانہ قوانین اور غیرملکی حکومتوں کے ساتھ معلومات کے تبادلے سے گریز کے باعث اسے Caribbean Curtain بھی کہا جاتا ہے۔
پاکستان میں تو ابھی گزشتہ چھ ماہ سے پاناما میں رجسٹرڈ آف شور کمپنیوں کی ہی تحقیقات نہیں ہوسکی تھی کہ بہاماس لیکس نے اس اسکینڈل کو ازسرنو تازہ کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بہاماس لیکس میں جن پاکستانیوں کے نام شامل ہیں، ان میں پرویز مشرف دور حکومت کے وزیر صحت محمد نصیر خان کے صاحبزادے جبران خان، جماعت اسلام کے رہنما اور سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمد، کنسٹرکشن انڈسٹری کی اہم شخصیت محسن ابوبکر شیخانی، سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کی سابق اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی موجودہ اہلیہ تہمینہ درانی (مینڈا سائیں فیم) کی والدہ ثمینہ درانی اور معروف منی چینجر الطاف خانانی کے صاحبزادے عبید الطاف خانانی بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پروفیسر خورشید احمد نے ٹیکس چوری اور بہاماس میں آف شور کمپنی بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ’’آئی سی آئی جے‘‘ کی جانب سے کیے جانے والے الزامات کے مطابق بہاماس میں بیشتر آف شور کمپنیاں 1990ء سے 2011ء کے درمیان رجسٹرڈ کرائی گئی تھیں۔ مذکورہ ادارے نے اس بارے میں جو دستاویزات جاری کی ہیں، ان کے مطابق 150 سے زائد پاکستانیوں نے بہاماس میں آف شور کمپنیاں بنائی ہوئی ہیں۔ 1990ء سے 2016ء تک بہاماس میں رجسٹرڈ کرائی جانے والی آف شور کمپنیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار بتائی جاتی ہے۔
’’آئی سی آئی جے‘‘ کی جانب سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ انکشافات سے بہاماس میں قائم آف شور کمپنیوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ ’’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس‘‘ نے بہاماس لیکس کے حوالے سے جو ڈیٹا دنیا بھر میں اپنے میڈیا پارٹنرز کے ساتھ شیئر کیا ہے، وہ اصل میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کے ایک اخبار Süddeutsche Zeitung نے حاصل کیا تھا۔
بیشتر پاکستانی آف شور کمپنیاں چونکہ 1990ء کی دہائی میں رجسٹرڈ کرائی گئی تھیں، اس لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکے گا، چاہے ان کمپنیوں نے ٹیکس ہی کیوں نہ بچایا ہو۔ انکم ٹیکس قوانین کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو، فائلرز کے خلاف صرف پانچ سال پرانے ٹیکس چوری کے مقدمات اور نان فائلرز کے خلاف دس سال تک پرانے ٹیکس بچانے کے کیسز ہی کھول سکتا ہے جبکہ بہاماس لیکس میں منکشف ہونے والے کیسز تقریباً دو دہائیاں پرانے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں ’’آئی سی آئی جے‘‘ نے پاناما کی ایک لاء فرم ’’موسیک فونسیکا‘‘ سے متعلق ایسی دستاویزات جاری کی تھیں، جن سے پتہ چلا تھا کہ دنیا بھر کے ہزاروں افراد نے اپنے ملکوں میں ٹیکس بچانے کے لیے مذکورہ لاء فرم کی مدد سے پاناما میں آف شور کمپنیاں قائم کی ہوئی ہیں۔ اس فہرست میں 600 کے لگ بھگ پاکستانیوں کے نام شامل تھے، جن میں سے محض 444 کو ایف بی آر نے تاحال شناخت کیا ہے۔ ان میں سے 150 افراد پاکستان میں 600 کمپنیوں کے مالک ہیں۔ تاہم حکومت اور متعلقہ ٹیکس ادارے اب تک ان لوگوں کے خلاف کوئی موثر تادیبی کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
گزشتہ منگل کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاناما لیکس کا ایشو بھی اٹھایا گیا تھا، تاہم اس میں متعلقہ سرکاری اداروں نے پاناما گیٹس اسکینڈل کی تحقیقات کرنے کی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے سے انکار کردیا۔ مبصرین کو حیرت اس بات پر ہوئی کہ ایک طرف تو حکومت پاکستان پاناما لیکس اسکینڈل کے تحقیقات میں ہر طرح کے روڑے اٹکانے پر کمربستہ رہی ہے۔ کبھی ’’ٹی او آرز‘‘ کے مسئلے پر اپوزیشن کے ساتھ سینگ پھنسائے گئے تو کبھی کسی اور بہانے اس کی تفتیش کی راہیں مسدود کرنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن جیسے ہی بہاماس لیکس کا اسکینڈل سامنے آیا تو وزیراعظم نواز شریف کے سمدھی اور وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فوراً ہی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اس معاملے کی جامع جانچ پڑتال کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے یہ حکم گزشتہ دنوں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ ہارون اختر کے ساتھ ملاقات کے موقع پر جاری کیا۔ وزیر موصوف نے اس بار صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایات دے ڈالیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کسی بھی شخص کے ساتھ کوئی امتیاز نہ برتا جائے اور متعلقہ قوانین کی روشنی میں اس معاملے کی جامع تحقیقات فوری طور پر شروع کردی جائیں۔
پاناما لیکس کی تحقیقات کے مقابلے میں بہاماس لیکس کی تفتیش کے معاملے میں وزیر خزانہ کی ان پھرتیوں کی وجہ شاید یہ ہے کہ تازہ لیکس میں حکومت کی کسی اہم شخصیت یا حکمراں خاندان کے کسی فرد کا نام نہیں آیا ہے۔ جہاں تک پاناما لیکس کی تحقیقات کا تعلق ہے کہ اس بارے میں انکشاف کے لگ بھگ چار مہینے کے بعد فیڈرل بیورو آف ریونیو کو یہ توفیق ہوسکی تھی کہ وہ 250 کے لگ بھگ پاکستانیوں کو انکوائری کے لیے نوٹس جاری کرسکے جبکہ بہاماس لیکس کے منظرعام پر آنے کے ایک دن بعد ہی وفاقی وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کو اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ انہوں نے جن اداروں کو یہ حکم دیا ہے یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان…… یہ سبھی پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ موجودہ متعلقہ قوانین کے تحت ان لیکس کی تحقیقات نہیں کی جاسکتیں……!
پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...
متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...
جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...
پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...
اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...
2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...
قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...
ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...
ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...
فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...